اَلصَّحَابَةُ كُلُّهُمْ عُدُوْلٌ

0
185

از : عبدالقادر فيضان بن إسماعيل باقوی ، جامعہ آبادی ، بھٹکلی .

پہلی قسط

پوری امت مسلمہ سَلَف وخَلَف اس بات پر جمع ہوئی کہ تمام صحابۂ کرام عادل ہیں ، ان کی شان میں گستاخی کرنا ، انہیں گالی گلوچ دینا ، طعن وتشنیع کرنا ، تبرابازی کرنا ، ان کی اہانت کرنا ، اور ان کے خلاف ہتک آمیز جملوں کا استعمال کرنا حرام ہے ۔ اسی پر کتاب ، سنت ، آثار صحابہ ، اقوال تابعین وعلماء ، ائمہ مجتہدین اور محدثین تاکید وتائید کرتے ہیں .

اللہ عزوجل نے انھیں اپنی رضامندی کی شہادت ان الفاظ میں دی ہے ” رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُمْ وَرَضُوْا عَنْهُ ، وَاَعَدَّ لَهُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِيْ تَحْتَهَا الْاَنْهَارُ خَالِدِيْنَ فِيْهَآ اَبَدًا ، ذَالِكَ الْفَوْزُ الْعَظِيْمَ “. اللہ اُن سے راضی ہوا اور وہ اُس سے راضی ہوئے ، اور اس نے ان کے لئے ایسے ( گھنے ) باغات تیار کر رکھے ہیں جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں ، جن میں وہ ہمیشہ رہیں گے ، ( یقیناً ) یہ تو عظیم کامیابی ہے . ( التوبہ/100 ) اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ” اَللّٰهُ ! اَللّٰهُ ! اَصْحَابِیْ ” اور ” اَلصَّحَابَةُ كُلُّهُمْ عُدُوْلْ ” کے زرین الفاظ کے ذریعہ ان پر مہر عدالت ثبت کی ہے . ( اس کے باوجود بھی اگر کوئی ان نفوس مقدسہ پر تبرابازی کرکے ان کی شان میں گستاخی کرتا ہے تو اس کو اپنے آخرت کے انجام کی فکر ضرور کرنی چاہئے )

مفسر محدث وفقیہ امام ابو محمد حسین بن مسعود بن محمد بن فراء بغوی رحمہ اللہ ( متوفی/516 ) اپنی مشہور فقہی کتاب ” التھذیب ” میں لکھتے ہیں کہ ” اہل ھواء اور بِدَعْ کی شہادت کو قبول کیا جائے گا ، جیسے معتزلہ اور رافضہ ( اہل سنت والجماعت سے ہٹے ہوئے دو فرقے ) وغیرہم کی ، اس لئے کہ اُن میں سے بعض وہ ہے جو جھوٹ بولنے کو کفر سمجھتا ہے ، اس لئے کہ وہ یہ ارادہ کرتا ہے کہ جھوٹ تو خطابیہ ہی کہتے ہیں ، یہ وہ قوم ہے جو جھوٹ کو کفر سمجھتی ہے ، بسا اوقات کسی شخص سے وہ ایسی بات سنتا ہے جو اعتقاد میں اس کے موافق ہوتی ہے کہ فلان پر میرے لئے ایسی ایسی چیز ہے ، تو یہ چیز اس شخص کے موافق ہونے پر گواہی دیتی ہے ، تو جو شخص یہ سمجھتا ہے کہ وہ جھوٹ کہنے کو جائز نہیں سمجھتا مگر یہ کہ وہ کہتا ہے کہ فلان نے فلان کے لئے اس اس چیز ( مثلا پانچ سو درہم ) کا اقرار کیا ہے ، یا ( کہتا ہے ) کہ میں نے فلان کو دیکھا کہ وہ فلان کو قرض دے رہا ہے ، یا فلان کو فلان قتل کررہا ہے ، سو ایسے میں اس کی بات کو سنا جائے گا ، اور یہ اُسی وقت جب وہ اپنی بدعت میں کوئی ایسی چیز نہ کہے جس سے کفر لازم آتا ہو ، اور نہ ہی وہ کسی ایسی چیز کا مرتکب ہوتا ہو جو اس کو فسق کی طرف لے جاتی ہو .

اکثر فقہاء کا مذہب

اور اکثر فقہاء کا مذہب یہ ہے کہ وہ اہل بدعت میں سے کسی کو کافر نہیں کہتے ہیں ( پھر موجودہ زمانہ میں ان لوگوں کو اپنی خیر منانا چاہئے جو اپنے سے خلاف والا نظریہ رکھنے والے کو بلا غور وتامل کئے کے بلاجھجھک وتامل کفر کا فتوی داغ دیتے ہیں ، کیا وہ مسلم کی اس حدیث کا مذاق اڑا رہے ہیں جس میں میرے آقا جناب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا! ” اگر کسی شخص نے کسی کو کافر کہا ، اگر وہ ویسا ہو تو کوئی بات نہیں ، اور اگر ایسا نہیں تو وہ جملہ خود اسی کی طرف لوٹے گا “. یہ لوگ اصلی کافر کو اتنی آسانی سے کافر نہیں کہتے جتنی بے احتیاطی سے کسی مسلمان کو کافر قرار دیتے ہیں ، اور چاپلوسی اس حد تک رگ رگ میں پیوست ہوگئی ہے کہ اصلی کافروں اور ہندوؤں کو ہمارے برادر یا ہمارے بھائی کہتے ہیں . ( اللھم احفظنا )

شافعی رضی اللہ عنہ ( صحابہ کے علاوہ بھی ائمہ اَجِلَّاء کو رضی اللہ عنہ کہنا جائز ہے ، جیسا کہ ہم نے اپنی تالیفات میں اس کو ایک سے زیادہ لکھا ہے ، جو اعتراض کیا گیا ہے وہ ضعیف ہے ) نے کہا سوائے ان لوگوں کے جو ” علم اللہ ” کی معدوم کے ذریعہ نفی کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اللہ اشیاء کو اس وقت تک نہیں جانتا جب تک کہ ان کو پیدا نہیں فرماتا ، ( تعالی عن ذالک ) سو یہ کفار ہیں ۔ اللہ عزوجل اُس چیز کے متعلق خبر دے رہا ہے جو پہلے نہیں تھی اور بعد میں ہونے والی ہے ” وَلَوْ رُدُّوا لَعَادُوا لِمَا نُهُوْ ا عَنْهُ “. اور اگر انھیں ( بالفرض دنیا کی طرف ) لوٹایا جائے تو وہ ( پھر ) وہی ( سب ) کچھ ( شرک وغیرہ ) کریں گے جس سے انہیں روکا گیا ہے . ( الانعام/28 ) . اور جو شخص صحابہ اور سَلَف کو گالی دیتا ہے تو اس کے فاسق ہونے کی وجہ سے اُس کی شہادت کو مسترد کیا جائے گا. ( التھذیب ، ج/8 ، ص/269 )

دوسری قسط

محشیانِ تہذیب ” شیخ عادل احمد عبدالموجود ” اور “شیخ علی محمد مُعَوَّض ” حاشیہ میں قدرے تفصیل سے اس موضوع پر لکھتے ہیں کہ امام نووی نے کہا ” تمام ہی صحابہ عدول ہیں ، ( اور صحابی میں ولید بن عقبہ بن ابو معیط بھی ہیں ، اس پر ایک اعتراض آتا ہے کہ اللہ سبحانہ وتعالی نے آیت میں ” منافق کوئی خبر لے آئے تو تم اس کی جانچ پڑتال کرو ” فرمایا ہے ، اور فاسق کی شہادت مسترد ہوتی ہے اس کا آپ کے پاس کیا جواب ہے ؟ تو اس کا جواب ہے ، فاسق سے مراد آیت میں کذاب ( جھوٹا ) اور غلطی کرنے والا ہے ، جیسا کہ کئی مشہور مفسرین نے اس آیت کریمہ کی تفسیر میں کہا ، ایسے میں صحابی پر کوئی بھٹہ نہیں لگے گا ، کیونکہ غلطی اور خطأ بہت سے اچھے لوگوں سے ہوتی ہے ) ، [ واللہ اعلم ] جو فِتَنْ سے جڑے رہے ہیں اور ان کے غیر ، ( جو فتن سے جڑے نہیں رہے ) اُن علماء کے اجماع کے ذریعہ جو اُن کو شمار کرتے ہیں .

امامِ حرمین کہتے ہیں کہ ان کی عدالت کی جانچ ( تفتیش ) نہ کرنے کا سبب یہ ہے کہ وہ شریعت کے حامل ( اور سہارا دینے والے ) ہیں ، اگر ان کی روایت میں توقف کیا جاتا تو شریعت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور ( زمانہ ) ہی میں محدود ہوکر رہ جاتی اور سارے ادوار میں نہ پھیلتی .

ابوزُرعہ رازی کہتے ہیں کہ جب تم کسی شخص کو اصحاب رسول میں سے کسی کی بدگوئی کر ( شان میں گستاخی ، یا ان کی حیثیت کم کرکے بتا ) رہا ہو دیکھو ، تو جان لو کہ وہ زِنْدِيْق ( مُلْحِد اور گمراہ ) ہوگیا ، اور اس کی وجہ یہ ہے کہ رسول حق ہیں ، قرآن حق ہے ، اور جو ( دین ) وہ لے کر آیا وہ حق ہے ، اور یہ ساری کی ساری چیزیں ہماری طرف صحابہ نے پہنچایا ، اور یہ زَنَادِقَہ یہ چاہتے ہیں کہ ہمارے شہود ( گواہوں ) کو مجروح کریں تاکہ ہماری کتاب اور سنت کو باطل ( ختم ) کر سکیں ؟ اس کے مقابلہ اِن ہی لوگوں کا مجروح ہونا بہتر ہے . ( جیسا کہ موجودہ دور میں بے شمار علمائے سوء دنیا کی شہرت اور روپیے حاصل کرنے ، اور فِرَقِ ضالہ کو خوش کرنے کے لیے صحابہ کرام پر انتہائی نازیبا اور نامناسب الفاظ استعمال کرکے ان کی شان میں گستاخیاں کرتے ہوئے ان کو برا بھلا کہہ کر ان کی مقدس شان کو مجروح کرنے کے ساتھ ساتھ اسلام کے تقدس کو بھی پامال کرنے کی ناکام اور مذموم کوششوں میں لگے ہوئے ہیں ، اس انجام سے بے خبر اور بے پرواہ ہوکر کہ آسمان پر تھوکا ہوا ان کا تھوک خود انھیں پر گر کر انھیں ہی گندا کررہا ہے . اور تو اور بہت سے علماء سوء اور دین پر بدنما داغ تو دنیا کی تھوڑی سی دولت کے واسطے اپنے ایمان کا سودا کرتے ہوئے آر یس یس جیسی عالمی فرقہ وارانہ فسادات برپا کرنے والی اسلام اور مسلمانوں کی کھلی دشمن تنظیم سے مل کر کھل کر اعلانیہ مسلمانوں کے خلاف ان کے دفاتر میں جاکر مسلمانوں کے خلاف کام کر رہی ہے اور انھیں ایسی ایسی اہم معلومات فراہم کر رہے ہیں جو کسی طور سے بھی جائز نہیں جس کو مسخ کر کے دشمنان اسلام دھڑلے سے شوشل میڈیا میں ڈال کر اسلام کا ٹھٹھا اڑا رہے ہیں . افسوس اور صد افسوس ہے ان بے حیا اسلام فروش علماء پر )

ابن صلاح کہتے ہیں کہ ” پھر اجماعِ امت اس بات پر ہے کہ تمام صحابہ عادل ہیں ، اور وہ بھی جو فتن سے ملے رہے ( اس سے مراد وہ فتنے ہیں جو صحابہ کے زمانے میں صحابہ کے اجتہاد میں ہوئے تھے ) اور اسی طرح اس پر اُن علماء کا اجماع ہے جو انھیں ( صحابہ ) ان پر حسن ظن رکھتے ہوئے اجماع میں شمار کرتے ہیں اور ان مآثر کی طرف نظر کرتے ہوئے جو ان کے لئے آسان ہوئیں ، اور گویا کہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے انھیں اُن کے شریعت کو نقل کرنے والے ہونے کی وجہ سے اس پر اجماع ہونے کو مقدر کردیا .

خطیب بغدای ” الکفایہ ” میں ان ( صحابہ ) کی عدالت پر باب باندھتے ہوئے کہتے ہیں کہ ” وہ دلائل جو اللہ اور اس کے رسول سے صحابہ کو عادل قرار ( بنانے ) دینے کے سلسلہ میں آئے ہیں اور یہ کہ اُن کے تعلق سے سوال کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ، اور یہ ( سوال وتفتیش کرنا ) تو اُن لوگوں ( راویوں ) کے سلسلہ میں واجب ہے جو ان سے کم درجے کے ہوں ، ہر اُس حدیث کے تعلق سے جس کی اِسناد روایت کرنے والے اور نبی کے درمیان متصل ہے کہ جس پر اُس وقت تک عمل کرنا لازم نہیں جب تک کہ اُس کے رجال کا عادل ہونا ثابت نہ ہو ، اور ان کے احوال میں غور کرنا سوائے اُن صحابی کے جنھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک ( اپنی اسناد کو ) پہونچایا ہو . ( ان کے احوال پر غور کرنا اور جانچ پڑتال کرنا واجب نہیں ) اس لئے کہ صحابہ کی عدالت ثابت ہے ، معلوم ہے ، اللہ کا اُنھیں عادل قرار دینے ، اور اُن کے پاکیزہ ہونے کی خبر دینے ، اور اُن کو نَصِّ قرآن میں اختیار کرنےکی وجہ سے .
اور اس معنی میں خبر دینا بڑی وسعت رکھتا ہے ، اور یہ تمام ( اخبار ) ان چیزوں ( واقعات ، قصوں ) کے مطابق ہے جو نص قرآن میں ہے ، اور یہ تمام چیزیں اس بات کی متقاضی ہیں کہ صحابہ پاک ہیں اور ان کی عدالت اور برائت قطعی ہے ، سو اللہ تعالیٰ کا انہیں عادل قرار دینے کے ساتھ لوگوں میں سے کسی کو بھی ان ( صحابہ ) کے بواطن میں جھانک کر اللہ کی کسی مخلوق کو عادل قرار دینے کی کوئی ضرورت نہیں .

امام مالک کہتے ہیں کہ جو شخص اصحاب نبی میں سے کسی ( صحابی ) کی شان میں کوئی گستاخی کر ( ان کی شان اور حیثیت کو کم کر کے بتا ) تا ہے تو اس کے لئے اس فیئ میں کوئی حق نہیں جس کو اللہ نے ان تین قسموں میں تقسیم کرتے ہوئے فرمایا ہے ” لِلْفُقَرَآءِ الْمُهَاجِرِيْنَ الَّذِينَ اُخْرِجُوْا مِنْ دِيَارِهِمْ وَاَمْوَالِهِمْ ، يَبْتَغُوْنَ فَضْلًا مِّنَ اللهِ وَرِضْوَانًا ، وَيَنْصُرُوْنَ اللهَ وَرَسُوْلَهُ ، اولئِكَ هُمُ الصَّادِقُوْنَ “. اُن فقیر ( غریب ) ہجرت کرنے والوں کے لئے جو اپنے گھروں اور مالوں ( جائدادوں ) سے نکال باہر کئے گئے ہیں ، اللہ کا فضل اور اُس کی خوشنودی چاہتے ہیں ، اور اللہ اور اس کے رسول کی مدد کر ( پر کمربستہ رہ ) تے ہیں ، یہی تو سچے لوگ ہیں ( الحشر/8 ) .پھر فرمایا ” وَالَّذِيْنَ تَبَوَّءُوا الدَّارَ وَالْاِيْمَانَ مِنْ قَبْلِهِمْ يُحِبُّوْنَ مَنْ هَاجَرَ اِلَيْهِمْ وَلَا يَجِدُوْنَ فِيْ صُدُوْرِهِمْ حَاجَةً مِّمَّآ أُوْتُوْا وَيُؤْثِرُوْنَ عَلَى آنْفُسِهِمْ وَلَوْ كَانَ بِهِمْ خَصَاصَةٌ “. اور جنھوں نے اُن ( مہاجرین کی آمد ) سے پہلے ایمان لایا اور گھر بنالیا ، یہ ان لوگوں سے محبت کرتے ہیں جو ان کی طرف ہجرت کرکے آئے ہیں ، اور جو کچھ اُن کو دیا جائے اس کی کوئی حاجت اپنے دلوں میں نہیں پاتے ( محسوس کرتے ) ہیں ، اور اپنی جانوں ( ذاتوں ) پر ان کو ترجیح دیتے ہیں خواہ وہ اس کے شدید محتاج ہوں ( الحشر/9 ) اور یہ انصار ہیں . پھر فرمایا ” وَالَّذِيْنَ جَآؤْوا مِنْ بَعْدِهِمْ يَقُوْلَوْنَ رَبَّنَا اغْفِرْلَنَا وَلِاِخْوَانِنَا الَّذِينَ سَبَقُوْنَا بِالْاِيْمَانِ ، وَلَا تَجْعَلْ فِيْ قُلُوْبِنَا غِلًّا لِّلَّذِيْنَ آمَنُوا رَبَّنَا إِنَّكَ رَؤُوْفٌ رَحِيْمٌ “. اور جو ان ( مہاجرین اور انصار ) کے بعد آئے ہیں عرض کرتے ہیں ، اے ہمارے رب! ہمیں اور ہمارے اُن بھائیوں کو بخش دے جو ہم سے پہلے ایمان لائے ہیں اور ہمارے دلوں میں اہلِ ایمان کے لیے کوئی بُغض ( کینہ ) نہ رکھ ، اے ہمارے رب! تو ہی نہایت مہربان اور بے انتہا رحم کرنے والا ہے . ( الحشر/10 ) سو جس نے ان کی شان کو گھٹایا تو ان کے لئے مسلمانوں کے فیئ میں کوئی حق نہیں .

تیسری قسط

فضیلتِ صحابہ میں اہلِ سنت ( و الجماعت ) کا عقیدہ

اہل سنت ( و الجماعت ) اس بات پر جمع ہوئے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد صحابہ میں افضل ترین صحابی علی الاطلاق ابو بکر ہیں ، پھر عمر ، جنھوں نے اس پر اِجماع کی حکایت کی ہے . ابو العباس قرطبی کہتے ہیں کہ اس سلسلہ میں ائمۂ سَلَفْ میں سے کسی کا اختلاف ہے ، اور نہ خَلَفْ کا ، کہا! اہلِ تَشَيُّع ( مذہب شیعہ کی طرف خود کو منسوب کرنے والوں ) کے اقوال کی ( اس میں ) کوئی اہمیت نہیں ، اور نہ ہی اہلِ بِدَعْ کے . انتھی .

شافعی وغیرہ نے اِس پر اجماعِ صحابہ اور تابعین کی حکایت کی ہے ، بیہقی نے کتاب ” الاعتقاد ” میں کہا کہ ہم نے ابوثور سے ، شافعی سے حکایت کی ہے ، انھوں ( امام شافعی ) نے کہا! صحابہ اور تابعین میں سے کسی میں بھی ابوبکر اور عمر کی تفضیل اور اُن دونوں کو تمام صحابہ پر مقَّدم کرنے کے سلسلہ میں کوئی اختلاف نہیں ، اختلاف اگر ہے تو علی اور عثمان کے سلسلہ میں ہے ( کہ دونوں میں سے کون افضل ہیں )

علامہ کمال بن ھمام نے ” الْمُسَايَرَة ” میں کہا کہ چار صحابہ کی فضیلت ان کی خلافت میں ترتیب کے اعتبار سے ہے ، کیونکہ حقیقی فضیلت وہی ہے جو اللہ تعالیٰ کے نزدیک فضیلت ( والا ) ہے ، اور اس پر سوائے اللہ کے رسول کے کوئی اور مُطَّلِع نہیں ہوسکتا ، اور آپ ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کی جانب سے تمام کی تعریف وارد ہوئی ہے ، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک دوسرے پر فضیلت دینے کی حقیقت کا ادراک اُس وقت تک ثابت نہیں ہوتا جب تک کہ وہ کسی ایسی سماعت کے ذریعہ ہم تک نہ پہونچے جو اپنی دلالت میں قطعی ہو اور وہ اُس زمانے کے گواہوں سے اُن کے احوال کے قرائن کے ظاہر ہونے کے ذریعہ ثابت ہو . اور یہ چیز ہمارے پاس صراحةً ودَلَالةً ثابت ہے ، جیسا کہ صحیح بخاری میں عمرو بن العاص کی حدیث سے ، ( ثابت ہے ) جب انھوں نے ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ) عرض کیا کہ مردوں میں آپ کے نزدیک کون سب سے زیادہ محبوب ہیں؟ فرمایا! اَبُوْهَا ، اس کے باپ . ( یعنی سیدہ ) عائشہ رضی اللہ عنہا کے اور آپ کا اُنھیں نماز میں آگے بڑھانا ، اس بنا پر جو ہم نے آگے بیان کیا اِس اتفاق کے ساتھ کہ سنت یہی ہے کہ قوم پر ( میں ) اسی شخص کو آگے بڑھایا جائے گا جو علم ، قرآت ، اخلاق اور وَرع ( پرہیزگاری ) میں سب سے آگے ہو ، تو ثابت ہوا کہ آپ تمام صحابہ میں افضل ترین صحابی ہیں ،
اور ابن عمر کی حدیث سے صحیح بخاری میں ثابت ہے ، کہتے ہیں کہ ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں کسی کو ابوبکر کے برابر ( ہم پلہ ) نہیں سمجھتے تھے ، پھر عمر کے ، پھر عثمان کے . اور اس ( غالباً اشارہ صحیح بخاری کی طرف ) میں محمد بن حنفِيَّہ کی صحیح حدیث ہے کہ میں نے میرے باپ سے پوچھا! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد لوگوں میں سب سے بہتر کون ہیں ؟ کہا! ابوبکر ، میں نے عرض کیا! پھر کون ؟ کہا! پھر عمر ، اور مجھے ڈر لگنے لگا کہ کہیں ( اب کی مرتبہ ) آپ عثمان نہ کہیں ، (اس لئے ) عرض کیا! پھر آپ ، کہا! میں تو مسلمانوں میں سے ایک ( فرد ) ہوں . دیکھیئے ، یہاں پر ( سیدنا ) علی خود اس بات کی صراحت کر رہے ہیں کہ ( سیدنا ) ابوبکر افضل الناس ہیں ، ہمارے ( دلائل کے ساتھ ) ذکر کرنے کے بعد اس بات کا فائدہ حاصل ہوا کہ ابوبکر تمام پر ، اور تین ( خلفاء ) کی ترتیب پر افضل ہیں . اور جب وہ ( صحابہ اور اہل سنت و الجماعت ) اس بات پر جمع ہوئے کہ علی اُن ( تینوں ) کے بعد ( فضیلت میں ) سب سے آگے ہیں ، تو یہ اس بات کی دلیل ہے کہ وہ ان کے پاس ( زمانے میں ) رہنے والوں میں افضل ہیں ، جن میں زبیر اور طلحہ ہیں ، تب یہ ثابت ہوا کہ آپ ( رضی اللہ عنہ ) تین ( صحابہ ) کے بعد افضل ترین مخلوق ہیں .

چوتھی قسط

اور اہل سنت ( و الجماعت ) کا اعتقاد تمام صحابہ کو پاکیزہ قرار دینا اور ان کی تعریف کرنا ہے ، جیسا کہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے ان کی ثناء ( تعریف ) ” كُنْتُمْ خَيْرَاُمَّةٍ اُخْرِجَتْ لِلنَّاسَ “. تم وہ بہترین گروہ ہو جسے لوگوں ( کی ہدایت ) کے لئے نکالا گیا . ( ظاہر کیا گیا ) کے ذریعہ بیان فرمایا . [ آل عمران/110 ] ( نہ کہ اس سے مراد کوئی عام گروپ ، یا صحابہ کے ساتھ علماء بھی اس میں شامل ہیں ، نہ کہ جُهَلاء ، جیسا کہ ایک جماعت اور سفھاء اس کا دعوٰی کرتے ہیں )

علامہ بغدادی ” اصول الدین ” میں کہتے ہیں کہ ہمارے اصحاب اس بات پر جمع ہوئے کہ اُن میں افضل ترین خُلَفَآءِ اربعہ ہیں ، پھر ان کے بعد باقی چھ پورے دس تک جو یہ ہیں ، طلحہ ، زبیر ، سعد بن ابی وقاص ، سعید بن زید بن عمرو بن نُفَيْل ، عبدالرحمن بن عوف اور عبیدہ بن الجَرَّاح ، پھر بدریِّيْن ، پھر اصحاب اُحد ، پھر حدیبیہ میں بیعت رضوان والے ، ہمارے اصحاب نے علی اور عثمان کی ( ایک دوسرے پر ) فضیلت کے سلسلہ میں اختلاف کیا ہے ، اَشْعَرِيّ نے عثمان کو آگے رکھا ہے ، اور انھوں نے اس کو اس بات کی اصل کو بنیاد بنایا کہ مفضول کی امامت منع ہے . اور محمد بن اسحاق بن خُزُيمہ اور حسین بن فضل بجلِيّ نے علی رضی اللہ عنہ کو ( عثمان پر ) فضیلت دی ہے .

قلانسی کہتے ہیں کہ میں نہیں جانتا کہ ان دونوں میں کون افضل ہیں ، اور انھوں نے مفضول کی امامت کو جائز کہا ہے . اور علامہ لقَانِيّ اپنے ” جوہرہ ” میں کہتے ہیں کہ ” وَ اَوَّلُ تَشَاجُرٍ الرِّجْزِ الَّذيْ وَرَدْ اِنْ خُضْتَ فِيْهِ وَاجْتَنِبْ دَآءَ الْحَسَدْ “.
اور پہلا ایک دوسرے میں داخل ہونے والے گناہ کا جو اختلاف وارد ہوا ہے اگر تو اس میں گھس ( ڈوب ) گیا ، اور تو حسد کی بیماری سے پرہیز کر . اور علامہ بَيْجُوْرِيّ نے اُس ( جوہرہ ) کی شرح میں کہا کہ علی اور معاویہ ( رضی اللہ عنہما ) کے درمیان اختلاف واقع ہوا ، اور صحابہ تین فرقوں میں بٹ گئے ، ایک فرقہ نے اجتہاد کیا تو اس کو یہ ظاہر ہوا کہ حق علی کے ساتھ ہے ، سو وہ ان کے ساتھ( حمایت میں ) لڑا ، اور دوسرے فرقہ نے اجتہاد کیا تو اس پر یہ بات ظاہر ہوئی کہ حق معاویہ کے ساتھ ہے ، تو وہ ان کے ساتھ لڑا ، اور ایک فرقہ نے توقف اختیار کیا .

علماء نے کہا کہ جو ان میں سے راہ راست پر رہا اس کے لئے دو اجر حاصل ہوئے ، اور اس میں غلطی کرنے والے کے لئے ایک اجر ، اور یہ حقیقت ہے کہ اللہ اور اس کے رسول نے ان کے لئے عادل ہونے کی گواہی دی ہے ، اور اِس طرح کی تاویل کرنے کا مقصد یہ ہے کہ اس کو ان کے لئے اس حسن ظن کے محمل پر رکھا جائے کہ اُن میں جو اختلاف پیدا ہوا تھا اس کی وجہ سے ان میں سے کوئی بھی عدالت ( کی کیٹگری ) سے باہر نہ نکلنے پائے ، اس لئے کہ وہ مجتہدین ہیں .

اور ان ( علامہ لقاني ) کا قول ” اِنْ خُضْتَ فٍيْهِ “. اگر تو اس میں (غور وفکر کرتے ہوئے ) ڈوب گیا یعنی تیری تقدیر میں یہ رہا کہ تو اس میں ڈوب جائے تو تو اس کی تاویل کر ، نہ کہ ان میں سے کسی کا نقص نکال . اور مصنف نے اس کو اس لئے کہا کہ کسی شخص کو ان کے درمیان پیدا شدہ اختلاف میں غور وفکر کرنے کا حکم نہیں دیا گیا ہے ، کیونکہ یہ عقائد دینیہ میں سے نہیں ہے ، نہ قواعد کلامیہ میں سے ، اور نہ ہی دین میں فائدہ حاصل کی جانے والی چیزوں میں سے ، بلکہ بعض اوقات ایسی چیزوں میں گھس جانا یقینِ ( ایمان ) میں نقصان پہنچاتا ہے ، اس میں ڈوب جانا مباح ( جائز ) نہیں ہے مگر اس وقت جب مُتَعَصِّبین پر رَدّ کرنا مقصود ہو ، یا تعلیم کے لئے ، جیسے اُن کتابوں کا درس دیتے وقت جو ایسے آثار پر مشتمل ہیں جن کا ان سے تعلق ہے . رہی بات عوام کی ، ان کو تو اس میں غور وخوض کرنا بالکل جائز نہیں ، اِن کی شدتِ جہالت اور تاویل کی عدم معرفت کی وجہ سے .

( علامہ) سعد التفتازانی قلم بند کرتے ہیں کہ صحابہ کی تعظیم کرنا اور ان کو طعن وتشنیع کرنے سے باز رہنا اور ایسی چیز کو جس میں بظاہر ان میں طعن کو واجب کردیتی ہے کو محمامل ( مَحْمِل کی جمع ہودہ اور زنبیل وغیرہ کے معنی میں آتا ہے ) اور تاویلات پر حمل ( اٹھانا ، لادنا ) کرنا واجب ہے ، خصوصا مہاجرین ، انصار ، اہلِ بیعتِ رضوان اور بدر ، اُحد اور حدیبیہ میں حاضر ہونے والے صحابہ کے سلسلہ میں ، کہا! اور ان کی عُلُوِّ شان میں اجماع منعقد ہوا ہے ، اور اس کی گواہی آیاتِ صَرَاح اور اخبارِ صَحَاحْ دیتی ہیں .

اور روافض خصوصاً ان میں سے غلو میں حد سے تجاوز کرنے والوں کے لئے تو اُن حکایات اور افتراءات کی بنیاد پر جو نہ تو قرنِ ثانی میں تھے اور نہ ہی قرنِ ثالث میں ، صحابہ ( رضی اللہ عنہم ) کے بُغض میں مبالغات ہی مبالغات اور طعن کر ( وتشنیہ کے تیر چلا ) نا ہے ، اس لئے کہ یہ چیزیں نئے ( بعد میں ) آنے والوں کو گمراہ کرتی ہیں اور اوساط ( معتدل ) لوگوں کو حیرت میں ڈالتی ہیں اگر چہ کہ یہ صراطِ مستقیم پر رہنے والے لوگوں کے پایۂ استقامت میں کسی قسم کا کوئی اثر نہیں پیدا کر سکتیں ، میں تمہیں ایسی چیزوں کی طرف توجہ دینے سے ڈراتا ہوں . اور تجھے گواہی کے طور پر ہماری ذکر کردہ چیزیں ( دلائل ) کافی ہیں کہ یہ ( طعن وتشنیع اور گستاخی والی چیزیں ) نہ تو قرونِ سالفہ ( اگلے زمانے ) میں تھیں اور نہ ہی عتْرةِ طاہرہ کے درمیان ، بلکہ عُظَمَاءِ صحابہ، عُلَماءِ ( اہل ) سنت والجماعت اور ہدایت یافتگاں خلفائے دین پر اُن ( قرون سالفہ اور عترةِ طاہرہ ) کی تعریفیں مشہور ، اور ان کی کتابوں ، ان کے رسالوں ، ان کے شعروں اور ان کی مدائح میں مذکور .

پانچویں اور آخری قسط

علامہ مرْعَشِيّ ” نَشْرُ الطَّوَالِع ” میں کہتے ہیں کہ تمام اصحابِ نبی کی تعظیم کرنا ، ان پر طعن وتشنیع کے تیر برسانے سے باز رہنا ، اُن سے حسن ظن رکھنا ، تعصب رکھنے اور ان میں سے ایک دوسرے کی وجہ سے بغض ( وعداوت ) رکھنے کو ترک کرنا ، ان میں سے کسی سے اس وجہ ( حد تک ، اس طرح ) محبت میں افراط ( حد سے بڑھنے ) سے ترک کرنا جو دوسرے ( صحابہ ) کی عداوت کی طرف پہونچاتی ہو اور اُن کی شان میں قدح ( عیب لگانا ، مذمت ) کرنے کو ترک کرنا واجب ہے . کیونکہ یہ حقیقت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بہت سی جگہوں میں ان کی تعریف فرمائی ہے ، ان میں سے ایک جگہ یہ ہے ” يَوْمَ لَا يُخْزِي اللهُ النَّبِيَّ وَالَّذِيْنَ آمَنُوا مَعَهُ نُوْرُهُمْ يَسْعَى بَيْنَ اَيْدِيْهِمْ وَبِاَيْمَانِهِمْ “. جس دن اللہ ، نبی اور اس کے ساتھ والے مؤمنوں کو رسوا نہیں کرےگا ، اُن کا نور ان کے سامنے ( آگے ) اور ان کے دائیں جانب سے چلے گا . ( التحریم/8 )

نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں محبوب رکھا ہے ، ان کی تعریف بیان کی ہے ، اور اپنی امت کو انہیں گالی نہ دینے ، بُغض نہ رکھنے اور انہیں تکلیف نہ پہونچانے کی وصیت فرمائی ہے ، اور جو مطاعن وارد ہوئی ہیں ان کی صحت کی تقدیر پر ان کی محامل اور تاویلات کی جائیں گی ، اس کے باوجود یہ ان ( صحابہ کرام ) کے مناقب میں وارد شدہ احادیث پر کہیں نہیں ٹہرتیں ، اور ان کے مرضی ( خوشنودی و رضامندی ) والے آثار اور ان کی سِيَرِ حمیدہ کی حکایتیں کی گئی ہیں ۔ اللہ ہمیں ان تمام صحابہ کی محبت سے منتفع فرمائے .

امام نووی رحمہ اللہ تعالیٰ کہتے ہیں کہ یہ معلوم ہونا چاہیئے کہ اُن جنگوں کے ہونے کا سبب مشتبہ قضایا ( مسائل ) تھے ، اُن کے شِدَّتِ اشتباہ کی وجہ سے ان کے اجتہاد میں اختلاف پیدا ہوا اور وہ تین قسموں میں بَٹ گئے ، ان میں سے ایک قسم کو اجتہاد کے ذریعہ یہ ظاہر ہوا کہ حق اس طرف ہے اور یہ کہ اس کی مخالفت کرنا بغاوت ہے ، ایسے میں ان پر اُس ( حق ) کی نصرت کرنا اور جس کا وہ اعتقاد کرتے تھے اس ( حق ) کی بغاوت کرنے والوں سے لڑنا ان پر واجب ہے ، سو انھوں نے ایسا ہی کیا ، اور جو اس صفت کے اعتقاد پر تھے ان کے لئے امامِ عدل کے مساعدہ میں باغیوں سے لڑنے میں دیری کرنا جائز نہیں تھا . اور ان لوگوں کے عکس ( برخلاف ) والی قسم کو اجتہاد کے ذریعہ یہ بات عیاں ہوئی کہ حق دوسری طرف ہے ، تب انھیں اس کا مساعدہ کرنا اور اس کی بغاوت کرنے والوں سے لڑنا واجب ہوا . اور ایک تیسری قسم بھی تھی جن کو اس قضیہ ( مسئلہ) نے شک وشبہ میں ڈالا ہوا تھا اور وہ اس میں ورطۂ حیرت میں پڑے ہوئے تھے ، ان پر دونوں طرفوں میں سے کسی بھی طرف کی ترجیح آشکار نہیں ہوئی تھی ، لہذا یہ دونوں فریق سے ہٹ کر رہے ، اور یہ اعتزال ان کے حق میں واجب بھی تھا اس لئے کہ کسی بھی مسلمان کے ساتھ لڑنے پر اقدام کرنا اس وقت تک حلال نہیں جب تک کہ اس پر یہ ظاہر نہ ہو کہ وہ اس کا مستحق ہے ، اور اگر ان لوگوں کو طَرَفَین میں سے کسی کے رُجحان کا ظاہر ہونا معلوم ہوتا اور یہ کہ حق ان کے ساتھ ہے تو ان کے لئے ان کی نصرت میں باغیوں کے خلاف لڑنے سے پیچھے ہٹنا جائز نہیں ہوتا . تو وہ تمام ہی معذور تھے ( رضی اللہ عنہم ) اس وجہ سے اہلِ حق اور اجماع میں ان پر بھروسہ رکھنے والے اُن رضی اللہ عنہم کی گواہیوں ، ان کی روایتوں اور کمالِ عدالتوں پر متفق ہوئے . ( حاشیۂ تہذیب/269 ، 270 ، 271 ، 272 )

--Advertisement--

اظہارخیال کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here