صدقہ کی اہمیت و فضیلت قرآن و حدیث کی روشنی میں

1
15781

از : ابو الليث بن عبدالمجيد بنگالی ساکن فردوس نگر تینگن گنڈی

انفاق فی سبیل اللہ اور فقیروں و ضرورت مندوں کی حاجتوں کو پورا کرنا اللہ تعالیٰ کے نزدیک اعمالِ محبوبہ میں سے ایک پسندیدہ عمل ہے . اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں جگہ جگہ صدقہ و خیرات کی فضیلت و اہمیت اور دنیا و آخرت میں اس کے فوائد بیان فرمائے ہیں لہذا ہمیں سب سے پہلے صدقہ کے معنی و مفہوم کو سمجھنا ہوگا.

اگر ہم اس موضوع کا بغور مطالعہ کریں گے تو ہمارے سامنے صدقہ کا لفظ اپنے وسیع معنی و مفہوم میں استعمال ہوتا ہوا نظر آئے گا، منجملہ ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ اللہ تعالی کی رضا و خوشنودی کے حصول کے لئے غرباء و مساکین یا خیر و بھلائی کے کاموں میں خرچ کرنا صدقہ کہلاتا ہے ۔

صدقہ تین اقسام پر مشتمل ہوتا ہے ۔ فرض جیسے زکوٰۃ ، واجب جیسے نذر مانا ہوا صدقہ اور نفل جیسے عام خیر و بھلائی وغیرہ کاموں کے لئے استعمال شدہ صدقہ ۔

سورہ بقرہ میں اس چیز کو کو بڑی ہی تفصیل کے ساتھ واضح طور پر بیان فرمایا گیا ہے . اللہ تعالی نے صدقہ و خیرات دینے والوں کو عظیم الشان بدلہ کا وعدہ کرتے ہوئے ارشاد فرمایا ” مَثَلُ الَّذِيۡنَ يُنۡفِقُوۡنَ اَمۡوَالَهُمۡ فِىۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ كَمَثَلِ حَبَّةٍ اَنۡۢبَتَتۡ سَبۡعَ سَنَابِلَ فِىۡ كُلِّ سُنۡۢبُلَةٍ مِّائَةُ حَبَّةٍ‌ؕ وَاللّٰهُ يُضٰعِفُ لِمَنۡ يَّشَآءُ‌ ؕ وَاللّٰهُ وَاسِعٌ عَلِيۡمٌ ۞

ترجمہ : جو لوگ اپنا مال خدا کی راہ میں خرچ کرتے ہیں ان (کے مال) کی مثال اس دانے کی سی ہے جس سے سات بالیں اگیں اور ہر ایک بال میں سو سو دانے ہوں اور خدا جس (کے مال) کو چاہتا ہے زیادہ کرتا ہے۔ وہ بڑی کشائش والا اور سب کچھ جاننے والا ہے . ( سورۃ البقرہ/261 )

مذکورہ بالا آیت کریمہ میں صدقہ و خیرات جیسے انفاق فی سبیل اللہ کی مثال ایک ایسے دانہ سے دی گئی ہے جس کی سات بالیاں ہوں اور ہر بالی میں سو دانے . یہاں پر سات بالیوں سے مراد سات گنا اجر ہے اور ہر نیکی کا اسلامی اصول یہ ہے کہ اس کا اجر دس گنا ملے گا جیسا کہ ارشاد باری ہے ” من جاء بالحسنۃ فلہ عشر أمثالھا” یعنی جو کوئی ایک نیکی کرے گا اس کو دس گنا اجر ملے گا. لہذا جو کوئی اللہ تعالیٰ کی رضامندی کے لئے اپنا مال خرچ کرے گا تو اس کو کم از کم سات سو گنا اجر ملے گا اور اللہ جس کو چاہے گا بیشمار اجر سے نوازے گا . اسی طرح جو لوگ اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں اور انفاق فی سبیل اللہ کے ذریعہ اپنی آخرت کی کھیتی بوتے ہیں تو ان کی کھیتی اللہ کے پاس کئی گنا بڑھ جاتی ہے جیسا کہ دانہ کی مثال کے بیان کرنے کے بعد اللہ کا ارشاد ہے کہ ” واللہ یضاعف لمن یشاء ، واللہ واسع علیم ” یعنی اللہ جس ( کے مال ) کو چاہتا ہے زیادہ کرتا ہے . وہ بڑی کشائش والا اور سب کچھ جاننے والا ہے .

مسند احمد کی روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا! جو شخص اپنی بچی ہوئی چیز فی سبیل اللہ دیتا ہے اسے سات سو کا ثواب ملتا ہے اور جو شخص اپنی جان اور اپنے اہل و عیال پر خرچ کرتا ہے اسے دس گناہ اجر ملتا ہے اور بیمار کی عیادت کا ثواب بھی دس گناہ ملتا ہے .

مسند احمد کی ایک اور روایت میں ہے کہ ایک شخص نے نکیل والی اونٹنی خیرات کی تو آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا! یہ شخص قیامت کے دن سات سو نکیل والی اونٹنیاں پائے گا .

لیکن صدقہ و خیرات کا اجر ان ہی لوگوں کو ملے گا جو سچے دِل اور اور نیک نیتی سے صرف اللہ کی رضا و خوشنودی کے لئے صدقہ کرتے ہوں ، نہ کہ ریاکاری کے لئے . لہذا اللہ تعالیٰ نے ان کی مثال ایک ایسے صاف ستھرے اور چکنے پتھر سے دی ہے جس پر مٹی کا دھول جما ہوا ہو پھر اس پر زوردار بارش برسی ہو تو جو بھی مٹی پتھر پر تھی سب بہ گئی . اسی طرح ریاکاروں کے انفاق کا حال بھی ہوگا کہ بظاہر انفاق تو نظر آئے گا لیکن وہ ثواب سے عاری ہوگا . یعنی بظاہر تو پھتر پر مٹی نظر آئے گی لیکن جیسے ہی بارش ہوگی تو وہ مٹی بھی جاتی رہے گی ہے . اسی طرح اس کے احسان جتانے یا ریا کاری کرنے سے اس کے صدقہ کا ثواب جاتا رہے گا اور جب وہ اللہ تعالی کے پاس پہنچے گا تو اس کا کوئی اجر نہیں پائے گا ۔

یہی وجہ ہے کہ اللہ کی راہ میں دکھاوے کے لئے خرچ کرنا کوئی حیثیت ہی نہیں رکھتا اور نہ ہی وہ لوگ اللہ کے یہاں کسی اجر وثواب کے مستحق ہوتے ہیں .

اللہ تعالیٰ نے جسے مال سے نوازا ہے اسے اپنی راہ میں خرچ کرنے کا بھی حکم دیا ہے ۔ لہٰذا ہمیں انفاق فی سبیل اللہ کی بہترین مثالیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور خلفائے راشدین کے دور میں ملتی ہیں . یاد کیجئے وہ وقت جب نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم اور صحابہ کرام نے مکہ سے مدینہ کی طرف ہجرت فرمائی تو ان کے پاس ایمان کی عظیم دولت کے علاوہ اور کچھ نہ تھا مال و دولت کے اعتبار سے وہ بالکل غریب تھے پھر بھی انھوں نے آگے بڑھ کر جس طرح ان کو مال و دولت اور جائیداد و نوکری عطا فرمائی اور اپنی وراثت میں وارث بنایا وہ خود اپنی مثال آپ ہے .

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا صدقہ کرنے کے لئے مال ہی کا ہونا ضروری ہے یا بغیر مال کے بھی صدقہ کیا جا سکتا ہے ؟؟ اسی طرح کیا وہ لوگ صدقہ کے ثواب سے محروم ہو جائیں گے جن کے پاس کوئی مال و دولت نہ ہو ؟ ۔

یہ وہی سوال ہے جو صحابہ کرام رضی اللہ عنھم اجمعین کے ذہن میں بھی پیدا ہوا تھا اور وہ اس کو لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم سے شکایت کرتے ہوئے کہہ رہے تھے کہ مال والے ہم سے ثواب میں آگے بڑھ گئے کیونکہ وہ بھی نماز پڑھتے ہیں جیسا کہ ہم پڑھتے ہیں وہ بھی روزے رکھتے ہیں جیسا کہ ہم رکھتے ہیں لیکن وہ مال کے ذریعہ صدقہ و خیرات میں ہم پر فضیلت لے جاتے ہیں تب آپ صلی اللہ علیہ و سلم آپ نے انھیں تسلی دیتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ ہر سبحان اللہ کہنا صدقہ ہے ، بھلائی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا صدقہ ہے اور کسی کو سواری پر سامان اٹھا کر دینا بھی صدقہ ہے ، غرض ہر بھلائی صدقہ ہے . جیسا کہ حضرت جابر رضی اللہ عنہ کی روایت سے واضح ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا ” كل معروف صدقة ” یعنی ہر بھلائی صدقہ ہے .

اس حدیث سے معلوم ہوا کہ آدمی صرف مال خرچ کرنے سے ہی نہیں بلکہ دوسری اللہ کی دی ہوئی صلاحیتوں کو خرچ کرنے سے بھی صدقہ کا اجر و ثواب حاصل کر سکتا ہے جیسا کہ ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا! ” ہر مسلمان کے ذمہ صدقہ ہے ، لوگوں نے کہا اگر وہ نہ پائے ؟ تو آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا! اپنے ہاتھوں سے کام کرے اور اپنے آپ کو فائدہ پہنچا کر صدقہ کرے . لوگوں نے پوچھا اگر وہ کوئی کام نہ کر سکے تو آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ کسی ضرورت مند کی مدد کرے انھوں نے پوچھا! اگر وہ یہ بھی نہ کرسکے تو فرمایا! بھلائی کا حکم دے . پھر پوچھا گیا اگر یہ بھی نہ کرسکے ؟ فرمایا پھر برائی سے باز رہے یہی اس کے لئے صدقہ ہے ۔

ابو ذر رضی اللہ عنہ سے مروی ایک اور حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صل وسلم نے فرمایا! تمھارے اپنے بھائی کے سامنے مسکرا دینا تمہارے لئے صدقہ ہے اور تمھارا نیکی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا تمھارے لئے صدقہ ہے اور تمھارا راستہ سے پتھر یا کسی بھی تکلیف دہ چیز کا ہٹانا بھی تمھارے لئے صدقہ ہے .

غور کیجئے ہمارا دین کس قدر آساں ہے کہ وہ ہر قسم کی طبیعت اور ہر قسم کے حالات سے دوچار شخص کے لئے بھی صدقہ کا موقعہ فراہم کرتا ہے بشرطیکہ وہ وہ نیک نیت اور مخلص ہو .

اللہ تبارک و تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں بھی صدقہ و خیرات اور بھلائیوں کے کاموں کی توفیق عطا فرمائے . آمین .

--Advertisement--

1 تبصرہ

اظہارخیال کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here