قوم ناخدا کے ابھرتے خوش گلو شاعرسراج الدین سراجؔ کی ترتیب شدہ پہلی غزل

1
1655

نوٹ : یہ غزل  فَعَلَنْ فَعَلَا فَعَلَنْ فَعَلَا  کی بحر پر لکھی گئی ہے۔

یاد جو دل میں جاگی ہوگی

رات وہ کم ہی سوئی ہوگی

چلتے چلتے تنہا تنہا

رک کر مجھ کو سوچتی ہوگی

چاند کے سائے میں بیٹھی وہ

رستہ میرا دیکھتی ہوگی

پہلے ضدی تھی وہ لیکن

شاید اب کچھ بدلی ہوگی

یوں تو دعا کو ہاتھ اٹھے ہیں

جانے کیا وہ مانگتی ہوگی

گھر آنگن میں خوشبو پھیلی

شاید سراجؔ وہ آتی ہوگی

--Advertisement--

1 تبصرہ

اظہارخیال کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here