جنوبی ہند کی قوم ناخدا کے اوائل پندرہویں صدی ہجری کے پہلے مؤلف و مرتب کامختصراً تعارف

0
1388

ہم آپکے سامنے ایک ایسے عالم دین کا تعارف کروانا چاہتے ہیں جن کا شمار اوائل پندرہویں صدی ہجری میں قوم ناخدا کے پہلے مؤلف و مرتب اور مفتی میں ہوتا ہے اور اپنی بعض اہم خصوصیات وکمالات کی وجہ سے واقعتاً تعارف کےمستحق ہیں جن کا نام نامی و اسم گرامی جناب عبدالقادر فیضان بن اسماعیل باقوی ہے ۔

آپکی پیدائش ہندوستان کی ریاست کرناٹکا کےضلع کاروار کے شہر بھٹکل کے گاؤں تینگن گنڈی میں ہوئی ۔ آپ نے ابتدائی تعلیم اپنے ہی وطن کے پرائمری اردو اسکول تینگن گنڈی میں چھٹی تک حاصل کی ، پھر حفظ قرآن کے لئے اپنے ہی علاقہ کے دینی ادارہ مدرسہ عربیہ تعلیم القرآن تینگن گنڈی بھٹکل میں داخلہ لے کر حفظ قرآن مکمل کیا ۔ پھر عالمیت کی تعلیم کے لئے اپنے علاقہ سے تقریباً ایک ہزار کلو میٹر کی مسافت طے کر کے تاملناڈو کے شہر ویلور کے دارالعلوم ” الباقیات الصالحات ” میں داخلہ لیا اور نو سال زانوئے تلمذ تہہ کرکے عالمیت کی سند حاصل کی ۔ بعد ازاں اعلیٰ تعلیم کے لئے ادارہ ہذا ہی میں مزید دو سال تعلیم حاصل کرکے سند فضیلت حاصل کی اور علم کے بحر بیکراں سے چند موتیاں لے کر وطن لوٹے ۔ دوران فضیلت شعبئہ قرات حفص کی سند بھی حاصل کی ۔

فراغت کے تقریباً دیڑھ دو سال بعد میسور کی ” منسا گنگوتری ” یونیورسٹی سے ایم اے کا امتحان پاس کرنے کے بعد کمٹہ کے علاقہ بیٹکولی میں تقریباً تین سال تک امامت و خطابت کےساتھ تدریسی فرائض بھی انجام دیتے رہے ۔ پھر سنہ 1999 عیسوی میں امارات کا رخ کیا اور تقریباً دیڑھ سال بعد متحدہ عرب امارات کے صدر مقام ابو ظبی کے ادارہ ” دائرة الشؤون الاسلامیة والاوقاف ” میں امامت و خطابت کا انٹرویو دیکر کامیابی حاصل کی اور ابو ظبی میں امامت و خطابت کے منصب پر فائز ہوگئے ۔ اور الحمدللہ تاحال اسی عہدہ پر فائز رہتے ہوئے اپنی دینی خدمات انجام دے رہے ہیں ۔ آپ کئی ایک کتابوں کے مؤلف ومرتب بھی ہیں مثلاً فقہ شافعی پر ” فیضان الفقہ ” اور ائمئہ اربعہ کےمسالک پر مناسک حج وغيرہ ۔ اب تک آپ کی چار تالیفات فیضان الفقہ ، فیضان الحج ، سوغات حجاج اور رمضان کے تیس روزوں پر مسجد میں پڑھے جانے والے تیس دروس کے نام سے منظر عام پر آچکی ہیں ۔

اللہ سے دعا ہے کہ وہ موصوف کی علمی کاوشوں کو شرف قبولیت بخشے اور ان سے مزید دین کی خدمت لیتا رہے اور انکے ہاتھوں قوم وملت اور خصو صاً ناخدا برادری کا وہ کام لے جس میں اس کی بھلائی اور خیر ہو اور ان تمام کاموں سے ان کے ہاتھوں کو روک لے جو اس کے لئے نقصان کاباعث ہو ۔ آمین ۔

--Advertisement--

اظہارخیال کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here