شہید کی اہمیت و فضیلت اور اس کے مختلف معانی کی وضاحت

0
1766

از : مولانا عبدالقادر بن إسماعيل فیضان باقوی ، جامعہ آباد تینگن گنڈی ، بھٹکل ، امام و خطیب جامع مسجد محمد عشیر علی سلیمان المزروعی أبوظبی ، متحدہ عرب امارات .

ابنِ انباري کہتے ہیں کہ شہید کو یہ نام اس لئے دیا گیا کہ اللہ تعالی اور اس کے فرشتے اس کے لئے جنت کی گواہی دیتے ہیں .

نضر بن شمیل کہتے ہیں کہ اس کو شہید کا نام اس لئے دیا گیا کیونکہ وہ زندہ ہوتا ہے ، گویا کہ اس کی روح شاہد ہے یعنی حاضر ہے ۔

اور کہا گیا کہ وہ اپنی روح نکلتے وقت اُس کرامت ( اکرام واعزاز ) کا مُشاہدہ کرتا ہے جو اس کے لئے تیار کی گئی ہے .

اور کہا گیا کہ اس کی موت کے وقت صرف رحمت کے ملائکہ ہی حاضر ہوتے ہیں .

اور کہا گیا کہ ملائکہ اس کے حُسْنِ خاتمہ پر گواہی دیتے ہیں .

اور کہا گیا کہ اللہ ( تعالیٰ ) اس کی اچھی نیت اور اس کے اِخلاص کی گواہی دیتا ہے .

اور کہا گیا کہ یہ امت اس کے لئے جنت کی گواہی دیتی ہے .

اور کہا گیا کہ وہ روزِ قیامت میں اس بات کی گواہی دیگا کہ رسولوں نے ( اپنا دین کماحقہ ) پہونچایا ہے .

اور کہا گیا کہ موت کے حاضر ہونے کے وقت وہ فرشتوں کا مشاہدہ کرتا ہے .
اور کہا گیا کہ وہ دارین کو دیکھ لیتا ہے ، دارِ دنیا اور دارِ آخرہ .

اور کہا گیا کہ اس کے لئے ( جہنم سے ) سلامتی کی گواہی دی جاتی ہے .

اور کہا گیا کہ اُس پر ایک ایسی علامت ہوتی ہے جو اِس بات کی گواہی دیتی ہے کہ اس کو نجات دی گئی ہے .

واضح رہے کہ اِن میں سے بعض تعریفات مَعْرَكہ ( میدانِ جنگ ، لڑائی ) کے ساتھ ہی مختص ہیں ، اور بعض اس کے علاوہ کو شامل کرتی ہیں ، اور بعض دوسرے میں داخل ہیں غیر شہید کا شہید کے ساتھ اُس ( معرکہ ) میں شریک ہونے کی وجہ سے .

شہید کے اخروی خصائص

ترمذی نے مقدام بن معدیکرب ( یہ مقدام بن معدیکرب بن عمرو بن یزید بن معدیکرب بن سیار ، ابوکریمہ الکندی ہیں ( ت/87 ھ ) محشئ ، بحوالہ الاعلام 282/7 ) کی حدیث سے ، انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ سے روایت کیا ہے کہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا! ” لِلشَّهِيْدِ عِنْدَاللَّهِ سِتّ خِصَالٍ ، يُغْفَرُلَهُ فِيْ اَوَّلِ دَفْعَةٍ ، وَيَرَى مَقْعَدَهُ مِنَ الْجَنَّةِ ، وَيُجَارُ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ ، وَيَاْمَنُ الْفَزَعَ الْاكْبَرَ ، وَيُوْضَعُ عَلَى رَاْسِهِ تَاجُ الْوَقَارِ ، وَيُزَوَّجُ اثْنَيْنِ وَسَبْعِيْنَ مِنَ الْحُوْرِ الْعِيْنِ ، وَيَشْفَعُ فِيْ سَبْعِيْنَ مِنْ اَقَارِبِهِ “. شہید کے لئے اللہ ( تبارك و تعالیٰ ) کے پاس چھ خصلتیں ( عادتیں ) ہیں ، پہلی ہی بار اس کی مغفرت کی جائے گی ، جنت میں وہ اپنی مقعد ( مجلس ) کو دیکھ لے گا ، عذابِ قبر سے اس کو چھٹکارا حاصل ہوگا اور فزعِ اکبر ( بہت بڑے خوف سے کہ جس دن بندوں کو جہنم میں جانے کا حکم دیا جائے گا ) سے وہ محفوظ رہے گا ، اس کے سر پر وقار کا تاج رکھا جائے گا ، بہتر ( 72 ) حورِعین سے اس کی شادی کی جائیگی ، اور وہ اپنے ستر رشتہ داروں کی ( اللہ کے پاس ) سفارش کرے گا . ( ترمذی نے کہا کہ یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے . ابن ماجہ اور احمد نے بھی اس حدیث کو اِسنادِ صحیح سے روایت کیا ہے . اور احمد ، بزار اور طبرانی نے اس حدیث کو سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے ” سَبْعُ خِصَالٍ یعنی سات خصلتیں ” کے الفاظ سے روایت کیا ہے . ہیثمی نے ( 293/5 ) میں کہا اور احمد وطبرانی کے رجال ثِقات ہیں . اور منذری نے ( 145/3 ) کہا ” احمد کی اسناد حسن ہے ) . اور قرآن کے نصّ ( آیت ) سے یہ ثابت ہے کہ شہداء اپنے رب کے پاس زندہ ہیں ، اُن کے پروردگار کے پاس انھیں رزق دیا جاتا ہے . صحیح حدیث میں آتا ہے کہ شُہداء کی ارواح ہرے پرندہ کے جوف میں ہیں ، بہشت میں جہاں چاہتی ہیں چَرتی ہیں ، پھر عرش کے نیچے قندیلوں کے پاس پناہ لیتی ہیں “.

شہید کی خصائص میں سے ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ جس قدر کرامت اور فضیلتِ شہادت کی کثرت وہ ( وہاں ) دیکھیں گے اس کی وجہ سے وہ دنیا میں لوٹ ( کر جہاد کر ) نے کی تمنا کریں گے . یہ صحیح حدیث سے ثابت ہے .

اور اس کی خصائص میں سے ایک یہ بھی ہے کہ قطعی طور پر اُس کو جنت دی جائے گی ، اور اس سے پہلے تَبِعَات ( ذمہ داریوں ) کے تعلق سے بحث گزر چکی ہے . ( 192 )

دو شہیدوں کے علاوہ تمام شہداء کو غسل دینے اور ان پر نماز جنازہ پڑھنے کی شرعی حیثیت

جن دولوگوں کو غسلایا نہیں جائے گا اور ان پر نماز نہیں پڑھی جائے گی ان میں سے ایک وہ شہید ہے جو مشرکین کی معرکہ آرائی میں انتقال کرگیا ہو ، اگر چہ کہ وہ کوئی عورت یا غلام یا نابالغ بچہ ہو ، درجِ ذیل سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کردہ صحیح حدیث سے استدلال کرتے ہوئے ” اَنَّ النَّبِيَّ صلی الله علیہ وسلم اَمَرَ فِيْ قَتْلَى اُحدٍ بِدَفَنِهِمْ بِدِمَآئِهِمْ وَلَمْ يُغْسَلُوْا وَلَمْ يُصَلِّ عَلَيْهِمْ “. کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے احد کے مقتولوں کے سلسلہ میں انھیں ان کے خون کے ساتھ دفنانے کا حکم دیا ، نہ انھیں غسلایا گیا اور نہ ہی اُن پر نماز پڑھی گئی . ( بخاری ، ترمذی ، نسائی ، ابن ماجہ ، یہ ابوشجاع کے شارح خطیب شربینی کے الفاظ ہیں . ج/2 ، ص/539 )

علامہ حافظ شہاب الدین ابوالفضل احمد بن علی بن محمد ابن حجر الکنانی العسقلانی ( ت/852 ھ ) کی تالیف ” تلخیص الحبیر ” میں حضرت جابر رضی اللہ عنہ کے یہ الفاظ ہیں کہ ( 758 ) ” اَنَّ النبی صلی اللہ علیہ وسلم کان یجمع بین الرجلین من قتلی اُحد فی ثوب واحد “. کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم احد کے قَتْلَى ( شہیدوں ) کے دو مردوں کے درمیان ایک کپڑے میں جمع کیا کرتے تھے . ( الحدیث ) اور اس میں یہ بھی ہے کہ ” ولم یغسلوا ولم یصلّ علیھم “. انھیں نہ غسل دیا گیا اور نہ ہی ان پر نماز پڑھی گئی . یہ بخاری کے الفاظ ہیں ، رافعی نے اس کو مختصراً ( ان الفاظ سے ) ذکر کیا ہے کہ ” اَنَّه صلى الله عليه وسلم لَمْ يُصَلّ عَلَى قَتْلَى احد “. کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ نے احد کے مقتولوں پر نماز نہیں پڑھی . ( ترمذی ، نسائی ، ابن حبان اور ابن ماجہ نے اس حدیث کو روایت کیا ہے . پھر محشی نے یہ حوالجات دیے ہیں : بخاری ، ترمذی ، نسائی ، ابن ماجہ ، احمد ، ابوداؤد ، ابن ابی شیبہ ، ابن جارود ، طحاوی ، ابن حبان ، بیہقی اور بغوی )

احد کے قتلیٰ پر نماز پڑھی گئی ہوئی حدیث کا جواب

شیخ خطیب شربینی لکھتے ہیں کہ اور بہرحال اِس حدیث ” اَنَّهُ صلى الله عليه وسلم خَرَجَ فَصَلَّى عَلَى قَتْلَى اُحدٍ صَلَوتُهُ عَلَى الْمَيِّتِ “. کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نکل پڑے اور آپ نے احد کے مقتولوں پر میت پر نماز پڑھنے کی طرح نماز پڑھی . کاجواب یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ نے ان کے لئے میت کو دعا کرنے کی طرح دعا فرمائی ، جیسے باری تعالیٰ کا قول ” وَصَلِّ عَلَيْهِمْ ” اور ان پر ( کے لئے ) دعا کر ( التوبہ/103 ) یعنی ان کے لئے دعا فرمائیے . اور اس کو شہید اس لئے کہا گیا ، کیونکہ اس کے لئے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم جنت کی گواہی دیتے ہیں ، اور اس کے علاوہ بھی اقوال ہیں . ( الاقناع فی حل الفاظ ابی شجاع، ج/2 ، ص/541 ، 450 )

علامہ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ تلخیص میں اس کا یوں جواب لکھتے ہیں کہ ” اور عقبہ بن عامر سے روایت کردہ حدیث بخاری وغیرہ میں آئی ہے کہ ” انه صلی علی قتلی احد بعد ثماني سنین “. کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے احد کے شہیدوں پر آٹھ سال کے بعد نماز پڑھی . ( بخاری ، مسلم ، ابوداؤد ، نسائی ، اور بیہقی نے اس حدیث کو لیث بن سعد کے طریقہ سے ، انھوں نے یزید بن ابوالحبیب سے ، انھوں نے ابوالخیر سے ، اور انھوں نے عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے )

اور اس حدیث کو دعا پر محمول کیا جائے گا ، اس لئے کہ اگر اس سے نمازِ جنازہ ہی مراد ہوتی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے ( آٹھ سال تک ) مؤخَّر نہ رکھتے ، اور اس تاویل کو صحابی کا قول ” صلوته علی المیت “. میت پر نماز پڑھنے کی طرح گدلا کرتا ہے ، جواب دیا جاتا ہے کہ تشبیہ دینا من کل وجہ ( پورے طریقہ ) سے برابر ہونے کو مستلزم نہیں ہے ، تو یہاں پر تشبیہ دینا صرف دعا ہی میں ہے . ( 273 )

( شہید کی قدرے تفصیل آپ ناچیز کی ” فیضان الفقہ ” ص/324 ، 325 ، 326 پر دیکھ سکتے ہیں )

تمام شہداء میں صرف ایک ہی شہید کو نہ ہی غسل دیا جائے گا اور نہ ہی اس پر نماز جنازہ پڑھی جائے گی

اس شہید سے مراد جس کو نہ غسل دیا جائے گا اور نہ اس پر نماز جنازہ پڑھی جائے گی ہر وہ شہید ہے جس میں مشرکین کے ساتھ جنگ لڑنے کے سبب جنگ ختم ہونے سے پہلے حیاتِ مستقرہ ( دائمی زندگی) باقی نہ رہے ، جیسے کسی کافر نے اس کو قتل کیا ہو ، یا غلطی سے کسی مسلم کا کوئی ہتھیار اس کو آلگا ہو ، ( اور اسی طرح عمداً اگر کفار اس کے ذریعہ ہمارے خلاف مدد طلب کر رہے ہوں . بجیرمی ،ج/2 ، ص/540 ) یا خود اس کا ہتھیار اس کو پلٹ کر آلگا ہو ، یا اس کے چوپائے نے اس کو لات ماری ہو ، یا چوپائے سے گرپڑا ہو ، یا اسکے لڑتے کی حالت میں وہ کسی کنویں میں جاگرا ہو ، یا جنگ ہو رہی ہے اس کو معلوم ہوا ہو اور اس کا سبب اسے معلوم نہ ہو ، اگر چہ کہ اس پر خون کا کوئی اثر نہ ہو ، اس لئے کہ ظاہر میں اس کی موت جنگ کی وجہ سے واقع ہوئی ہے ، برخلاف اُس شخص کے جو جنگ ختم ہونے کے بعد اِس حالت میں مرگیا ہو کہ جنگ میں وہ زخمی ہوگیا تھا اور اس میں حیاتِ مستقرہ باقی تھی . اگر وہ مشرکین کے ساتھ لڑائی کی وجہ سے انتقال نہ کر گیا ہو ، جیسے کسی بیماری کی وجہ سے ، یا اچانک مرگیا ہو ، یا باغیوں کی لڑائی میں ، تو وہ شہید نہیں ہوگا ۔ اور مشرکین کی معرکہ آرائی میں اس کے مُباح ہونے کا اعتبار کیا جائے گا ، ( یعنی جنگ کی اجازت حاصل ہوئی ہو ، اس لئے کہ یہ فرض کفایہ ہے . بجیرمی ) اور یہ ظاہر ہے .

رہا مذکورہ باتوں سے عاری شہید ، جیسے غریق ، مبطون ، مطعون ، عشق کرکے ( اس کو چھپا کر ) مرا ہوا شخص ، مطلقًا مرا ہوا شخص اور مذکور جنگ کے علاوہ میں ظلماً مرا ہوا شخص ، سو اِنھیں غسل دیا جائے گا اور ان پر نماز بھی پڑھی جائے گی . تو طاعون اور کورونا ( اللہ تعالیٰ سے بعید نہیں کہ اس کو بھی اپنے فضل و کرم سے صفِ شہیداں میں شمار کرے ) سے ہلاک شدگان کو غسلایا اور ان پر نماز پڑھی جائے گی . اور دمِ شہادت کے علاوہ شہید پر لگی ہوئی ( غیر معفو عنہ ، بجیرمی ) نجاست کو دھونا واجب ہے ، اگر چہ کہ اُس سے شہادت کا خون بھی زائل ہوتا ہو ،( اگر نجاست غیر معفو عنہ ہو ، اور اس کو دھونے کی وجہ سے شہادت کا خون بھی دُھل جاتا ہو تو قول معتمد میں اس کو دھونا جائز نہیں ، بجیرمی/541 ) اور شہید کو اُن ہی کپڑوں میں کفنانا سنت ہے جن میں وہ انتقال کرگیا ہو ، جبکہ وہ غالباً ایسے ہی کپڑے پہننے کا عادی ہو ، رہی بات جنگ کے کپڑوں کی ، جیسے ذراع اور اس جیسے کپڑے جن کے پہننے کی غالبًا اس کی عادت نہ ہو ، جیسے موزے اور پوستین ، سو ان کو نکالنا مندوب ہے ، جیسے دوسرے سارے موتیٰ سے نکالے جاتے ہیں ، اگر اس کے کپڑے اس کی کفن کے لئے کافی نہ ہوتے ہوں تو اُن کو ان کپڑوں کے ذریعہ پورا کرنا واجب ہے جو اس کے پورے بدن کو چھپائیں ، ( بلکہ اگر اس کے ہی مال سے کفنایا جاتا ہو اور اس پر کوئی قرض نہ ہو تو تین کپڑوں میں کفنانا واجب ہے. بجیرمی/542 ) اس لئے کہ یہ میت کا حق ہے ، جیسا کہ گذرا . ( الإقناع ، ج/2 ، ص/ 539 ، 540 ، 541 ، 542 )

الحاصل یہ کہ شہداء کی تین قسمیں ہیں : دنیا اور آخرت کا شہید ، یہ وہ شخص ہے جو اس بات پر جنگ کرے تاکہ اللہ کا کلمہ ہی بلند رہے . فقط دنیا کا شہید ، یہ وہ شخص ہے جو اللہ کے کلمہ کو بلند کرنے کے لئے نہ لڑے ، بلکہ مالِ غنیمت اور اس جیسی چیز کو حاصل کرنے کی غرض سے لڑے اور صرف آخرت کا شہید ، اور یہ بہت ہیں ، جیسا کہ شارح نے اپنے قول جیسے غریق کے ذریعہ اس کی طرف اشارہ کیا . ( بجیرمی/541 ) اور غسل نہ دئے جانے اور نماز نہ پڑھی جانے والا دوسرا شخص ( یا دوسری ذات) وہ سِقْطْ ( ناتمام بچہ) ہے جس نے کوئی آواز نہ کی ہو ، اس طرح کہ نہ اس کی زندگی کی کوئی چیز معلوم ہو اور نہ ہی اس کی خِلقت ظاہر ہوئی ہو ، سو اس پر نماز پڑھنا جائز نہیں ، اور نہ ہی اس کو غسلانا واجب ہے ، اس کو کسی کپڑے میں لپیٹ کر دفنانا سنت ہے . بہرحال اگر سقط کی زندگی کی چلانے یا اس جیسی کوئی چیز معلوم ہوئی ، یا زندگی کی کوئی نشانی معلوم ہوئی ، جیسے کھنچاؤ یا کوئی حرکت ، تو وہ بڑے کی طرح ہوگا ، اس کو غسلایا جائے گا ، کفنایا جائے گا ، اس پر نماز پڑھی جائے گی اور اس کو دفنایا جائے گا ، پہلے میں اس کی زندگی کا اور اس کے بعد اس کی موت کا یقین ہونے کی وجہ سے ( کیونکہ سقط چیخا تھا ) اور دوسرے میں زندگی کی علامتیں ظاہر ہونے کی وجہ سے . (کیونکہ اس کے اندر اختلاج واضطراب پیدا ہوا تھا ) اور اگر اس کی زندگی معلوم نہ ہو اور خلقت ظاہر ہوئی ہو ،( اگر چہ کہ چار ماہ سے پہلے ہو ، بجیرمی ) تو نماز پڑھے بغیر اس کو تجہیز کر ( کفنانا ، دفنا ) نا واجب ہے .

اور سقط سقوط سے مشتق ہے ، بچہ کا مہینے پورے ہونے سے پہلے ( ماں کے پیٹ سے ) اترنے کو کہتے ہیں ، پس اگر مہینے پورے ہوچکے ہوں تو وہ بڑے کی طرح ہے ، جیسا کہ بعض متاخرین نے اس کا فتوی دیا ( اگر چہ کہ اس کی زندگی معلوم نہ ہو اور نہ ہی اس کی پیدائش ظاہر ہوئی ہو ، جیسا کہ م ر نے اس پر اعتماد کیا . بجیرمی/542 )

علامہ بجیرمی نے علامہ حافظ سیوطي کے حوالہ سے اپنے حاشیہ میں فضیلتِ شہید کی دو حدیثیں درج کی ہیں ، جن میں سے پہلی حدیث میں شہید کی دس کرامات کا ذکر ہے ، جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مقدام بن معدِيْكَرِب کی حدیث میں چھ خصال بیان فرمایا ہے اور عُبادہ بن صامت رضی اللہ عنھما کی حدیث میں سات . کافی چھان بین کرنے کے باوجود ہمیں ایک ساتھ ایک ہی حدیث میں دس فضیلتیں اکھٹی کہیں نظر نہیں آئیں ، پھر کافی غور وخوض کے بعد ہم پر ایک نکتہ آشکار ہوا ، وہ یہ کہ علامہ حافظ سیوطی نے دوسری دو فضیلتوں کو جو اس میں ملایا ہے ممکن ہے کسی ضعیف یا شاذ حدیث سے لی ہوں ، یا کسی آیتِ کریمہ کی تفسیر سے ، کیونکہ اتنے بڑے علامہ سے کسی ذہول کا امکان نا کے برابر ہے جنھوں نے اپنے زورِ قلم سے امت کو تقریبا ہر موضوع پر بہت کچھ دیا ہے ، بالخصوص حدیث، تفسیر اور فقہ وغیرہ میں ، علامہ نے اپنی ذکر کردہ حدیث میں جن دو چیزوں کی زیادتی کی ہے وہ یہ ہیں ” يُخَلِّفُهُ اللَّهُ فِيْ اَرْضِهِ “. اللہ اپنی زمین میں ( کسی کو ) اس کا جانشین بنائے گا . اور ” یَحْيَا حَیَوةً طَيِّبَةً “. وہ ایک اچھی زندگی گذارے گا . پھر علامہ نے آیتِ کریمہ ” ولا تحسبنَّ الَّذِينَ قُتِلوا في سبيل الله امواتًا ، بل اَحيآءٌ عند ربهم يُرزَقون “. اور جو لوگ اللہ کی راہ میں مارے گئے ہیں تم اُنھیں ہرگز مُردہ نہ خیال کرو ، ( نہ سمجھو ) بلکہ وہ اپنے رب کے پاس زندہ ہیں ، رزق پاتے ہیں . ( آلِ عِمران/169 ) کا حوالہ دیا ہے ، ایسے میں ایک چیز انھوں نے اس آیت کریمہ کی تفسیر کی جوڑی ہے اور دوسری چیز ممکن ہے کسی حدیث سے لی ہو ، واللہ اعلم .

ان کی ذکر کردہ حدیث کے الفاظ یہ ہیں ” لِلشَّهِيْدِ عَشْرُ كَرَامَاتٍ ، الاُولی : یغفرله باول قطرة من دمه ، الثانیة : یَرى مقعدہ فی الجنة حال موته ، الثالثة : یُخَلِّفُه الله فی ارضه ، الرابعة : يُحَلَّى بِتَحليةِ الایمان ، الخامسة : يُجَارُ من عذاب القبر ، السادسة : یَاْمَن من الفزع الاکبر ، السابعة : یوضع علی راسه تاج الوقار الیاقوتة منه خیر الدنیا ومافیھا ، الثامنة : یُزَوَّج اثنتین وسبعین زوجةً من الحور العین ، التاسعة : یَشْفَعُ فی سبعین من اقاربه واھله ، العاشرة : یَحْيَا حیَوةً طیبة ، قال تعالیٰ ” ولا تحسبن الذین قُتِلُوا في سبیل الله امواتا ، بل احیاء عند ربھم یُرْزَقُوْنِ “. شیہد کے لئے دس کرامات ( فضیلتیں ، اعزازات ) ہیں ، پہلی : اس کے خون کے پہلے ہی قطرہ میں اس کی مغفرت کی جائے گی ، دوسری : موت کی حالت میں وہ جنت میں اپنا ٹھکانہ دیکھے گا ، تیسری : اللہ اپنی زمین میں اس کا جانشین بنائے گا ، چوتھی : زیورِ ایمان سے اس کو آراستہ کیا جائے گا ، پانچویں : عذابِ قبر سے اس کو پناہ دی جائے گی ، چھٹی : سب سے بڑے خوف ( جس وقت لوگوں کو جہنم میں جانے کا حکم دیا جائے گا ، یا وہ وقت مراد ہے جب لوگ اپنی اپنی قبروں سے آٹھ کر حساب کے لئے بہت بڑے میدان میں جمع ہوں گے ) محفوظ ہوگا ، ساتویں : اس کے سر پر یاقوت کے وقار کا تاج رکھا جائے گا جو دنیا اور اس میں رہنے والی ساری چیزوں سے بہتر ہوگا ، آٹھویں : بَہتَّر ( 72 ) حورِ عِین سے اس کی شادی کی جائے گی ، نویں : وہ اپنے ستر رشتہ داروں اور گھر والوں کی سفارش کرے گا ، اور دسویں : وہ ایک خوبصورت سی زندگی گذارے گا ۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا! ” اور جو لوگ اللہ کی راہ میں مارے گئے ہیں تم ہرگز انھیں مردہ نہ کہو ، بلکہ وہ اپنے رب کے پاس زندہ ہیں ، انھیں رزق دیا جاتا ہے . ( آل عمران ) اھ ( بجیرمی ، بحوالہ عبدالبر الاجھوری )

عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت کردہ حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شہید کی سات خصلتیں فرمائی ہیں . ایسا لگتا ہے کہ آنحضور صلی اللہ علیہ و سلم نے ” شہید کے گرے ہوئے پہلے ہی خون میں اس کی مغفرت کی جاتی ہے ، اور اس کا جنت میں اپنے ٹھکانہ کے دیکھنے کو ایک خصلت شمار کیا ہے “. کیونکہ ایسے میں ہی کل سات خصلتیں شمار ہوتی ہیں ، ورنہ ( ان کو دو شمار کرنے کی صورت میں ) کل آٹھ خصلتیں ہوتی ہیں ، اور غالباً علامہ سیوطی رحمہ اللہ نے انھیں آٹھ شمار کیا ہے اور دوسری دو کو ان کے ساتھ ملایا ہے ، کل دس خصال ہوئیں .

حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا قول ” اور بَہتَّر (72) حوروں سے اس کی شادی کی جائے گی ” اتنی ہی حوریں شہید کے ساتھ نہیں ہیں ، ( بلکہ اور زیادہ ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ” یُزَوَّجُ كُلُّ رَجُلٍ مِّنْ اَهْلِ الْجَنَّةِ بِاَرْبَعَةِ آلَافِ بِكْرٍ وَثَمَانِيَةِ آلَافِ اَيِّمٍ ( اَيْ ثَيِّبٍ ) وَمِائَةِ حَوْرَآء ، فَيَجْتَمِعْنَ فِيْ كُلِّ سَبْعَةِ اَيَّامٍ فَيَقُلْنَ بِاَصْوَاتٍ حِسَانٍ لَمْ تَسْمَعِ الْخَلَآئِقُ بِمِثْلِهِنَّ نَحْنُ الْخَالِدَاتُ فَلَانَبِيْدُ ( اَيْ نَهْلِكُ ) وَنَحْنُ النَّاعِمَاتُ فَلَا نَبْاَسُ وَنَحْنُ الرَّاضِيَاتُ فَلَا نَسْخَطُ ، وَنَحْنُ الْمُقِيْمَاتُ فَلَانَظْعَنُ ، طُوْبَى لِمَنْ كَانَ لَنَا وَكُنَّا لَهُ “. ہر جنت والے کی شادی چار ہزار باکراہوں ، آٹھ ہزار اَئموں، یعنی ثیباہوں ( شوہر دیدہ عورتوں ) اور سو حوروں سے کی جائے گی ، سو یہ ( تمام ) ہر سات دن میں (یک ساتھ ) جمع ہوں گی اور انتہائی ایسی خوبصورت ( ترنم بھرے ) آوازوں سے کہیں گی جیسی آواز کبھی خلائق نے نہیں سنی ہے ، ہم ہمیشہ رہنے والی ہیں ، کبھی ہلاک نہیں ہوں گی ، اور ہم مُلائم ( نرم ونازک ) ہیں ،کبھی بدبخت ( یا بدحال وتنگدست ) نہیں ہوں گی ، اور ہم رضامند ہیں ، کبھی ناراض نہیں ہوں گی، اور ہم قیام کرنے ( یہیں رہنے ) والی ہیں ، کبھی روانہ ( جائیں گی ) نہیں ہوں گی ، خوشخبری ( اچھائی ) ہے اس شخص کے لئے جو ہمارے لئے ہے اور ہم اس کے لئے “. اھ انھوں نے اس کو سیوطی کی ” الدررالمنثور ” میں ذکر کیا ہے . ( بجیرمی ، ج/2 ، ص/540 )

علامہ حافظ سیوطی رحمہ اللہ کی ذکر کردہ دوسری حدیث امام حافظ زکي الدین المنذری کی تالیف ” الترغیب والترھیب ” میں بھی ہے ، جو مروی عن ابن ابی اوفی رضی اللہ عنہما ہے ، جس کو ابونعیم نے صفة الجنة میں روایت کیا ہے . ( اس کی شرح میں ایم کی تشریح : غیر شوہر والی عورت ، یا مطلقہ ، یا بیوہ سے کی ہے ، ہم نے اس کی تشریح شوہر دیدہ عورت سے کی ہے ، دونوں کے درمیان کوئی منافات نہیں ، کیونکہ حافظ سیوطی نے اس کی تشریح ” ثیب ” سے کی ہے جو بکر کی ضد ہے )

حور العین کی تعریف میں آئی ہوئی چند احادیث

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنھما سے روایت ہے کہ انھوں نے کہا ” لو ان حَورآء اخرجت کفھا بین السماء والارض لافتتن الخلآئق بحسنھا ، ولو اخرجت نصیفھا لکانت الشمس عند حسنه مثل الفتیلة فی الشمس ، لاضوء لھا ، ولو اخرجت وجھھا لاضاء حسنھا مابین السماء والأرض “. اگر حور نے اپنی ہتھیلیاں آسمان اور زمین کے درمیان باہر نکالیں تو البتہ ( یقیناً ) ساری مخلوق اس کی خوبصورتی سے آزمائش میں مبتلاء ہوجائے ، اگر اس نے اپنا دوپٹہ باہر نکالا تو البتہ اس کے حُسن کے پاس ( سامنے ) سورج اسی طرح ماند پڑ جائے جس طرح فتیلہ ( لالٹین ، یا چراغ کی بتی ) سورج کے سامنے ماند پڑتی ہے کہ جس کی کوئی شعاع نہیں رہتی ، اور اگر اس نے اپنا چہرہ باہر نکالا تو اس کے حسن سے آسمان اور زمین کے درمیان والا حصہ روشن ہوجائے . ( ابن ابی دنیا نے اس اثر کو موقوفًا روایت کیا ہے )

سیدنا سعید بن عامر بن خُرَيْم رضی اللہ عنہ سے منقول ہے ، انھوں نے کہا! میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ کہتے ہوئے سنا! ” لو ان امراة من نسآء الجنة اشرفت لَمَلاَتِ الارضَ ریحَ مسك ولَاَذْهَبَتْ ضوء الشمس والقمر “. اگر جنت کی کوئی عورت باہر نکل آئے تو البتہ وہ زمین کو مشک کی خوشبو سے بھر دے ، اور البتہ سورج اور چاند کی روشنی جاتی رہے . ( ماند پڑ جائے ) . ( حدیث کو طبرانی اور بزار نے روایت کیا ہے ، اور اس کی اسناد مُتابعات میں حسن ہے )

سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے نقل کیا گیا ہے ، انھوں نے کہا ” اِنَّ فی الجنة نَهَرًا طول الجنة حافتاہ العذارَى قیام متقابلات یَغَنِّينَ باحسن اصوات یسمعھا الخلآئق حتی مایرون ان فی الجنة لذة مثلھا ، قلنا! یا ابا ھریرة ، وماذاك الغنآءُ ؟ قال ان شاءالله : التسبیح والتحمید والتقدیس وثناءٌ علی الربِّ عزوجل “. جنت میں ایک ایسی نہر ہے جس کی لمبائی جنت کی لمبائی کے برابر ہے ، اس کے دونوں کناروں پر دوشیزائیں ( کنواریاں ) ایک دوسرے کے آمنے سامنے کھڑی ہوئی بڑی ہی خوبصورت انداز میں گارہی ہوں گی جس کو ساری مخلوق سنے گی ، حتی کہ وہ یہ سمجھیں گے کہ جنت میں اس سے مزیدار کوئی اور چیز نہیں ، ہم نے کہا! یا ابو ہریرہ ، اور یہ گانے کیا ہیں؟ کہنے لگے ، ان شاء الله : وہ تسبیح ، تحمید ، تقدیس ( ہر نقص سے اللہ تعالی کو پاک گرداننا ) اور رب عزوجل کی تعریف بیان کررہی ہوں گی . ( اس اثر کو بیہقی نے موقوفًا روایت کیا ہے ) .

سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے نقل کیا گیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا! ” وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ ، لَوَدِدْتُّ اَنْ اَغْزُوَ فِيْ سَبِيْلِ اللَّهِ فَاُقْتَلَ ، ثُمَّ اَغْزُوَ فَاُقْتَلَ ، ثُمَّ اَغْزُوْ فَاُقْتَلَ”. قسم ہے اُس ذات کی جس کے ہاتھ ( قبضہِ قدرت ) میں محمد کی جان ہے ، البتہ میں چاہتا ہوں کہ اللہ کی راہ میں جہاد کروں ، پس شہید کردیا جاؤں ، پھر جہاد کروں ، پس ( پھر ) شہید کر دیا جاؤں ، پھر جہاد کروں ، تو ( پھر ) شہید کیا جاؤں . ( بخاری ، مسلم )

سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا! ” مااحد يدخل الجنة يُحِب ان يرجع الى الدنيا، واِنّ له ما على الارض من شيْءٍ الا الشهيد فانه يتمنى أن يَرجِع الى الدنيا فَيُقْتَل عشْرَ مرَّات لِما يَرَى من الكرامة “. کوئی شخص جنت میں داخل ہونے کے بعد ( پھر ) دنیا کی طرف لوٹنا پسند نہیں کرے گا ، اور بیشک ( اس شرط کے باوجود کہ) اس کے لئے زمین پر ( میں ) رہنے والی ساری چیزیں ہوں ، سوائے شہید کے ، کہ بلاشبہ وہ دنیا کی طرف ( دوبارہ ) لوٹنے کی تمنا کرے گا اُ س کرامت ( اکرام واعزاز ) کی وجہ سے جو کچھ وہ دیکھتا ہے .

اور ایک روایت میں ” لِمَا يَرَى مِنْ فَضْلِ الشَّهَادَةِ ” جس قدر وہ شہادت کی فضیلت دیکھتا ہے ۔ آیا ہے . ( بخاری ، مسلم ، ترمذی ) اوران ہی سے منقول ہے ، کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا! ” يُؤْتَى بِالرَّجُلِ من اهل الجنة ، فيقول الله له ، يابن آدمَ! کیف وجدت منزلك ، فيقول! اَيْ ربِّ خيرَ منزلٍ ، فيقول! سَلْ وتمنَّهْ ، فيقول! ومآ اسئلك واتمنى؟ اَسئلك ان تردني الى الدنيا فاُقْتَلَ في سبيلك عشْرَ مرات ، لما يرى من فضل الشهادة “. اہلِ جنت میں سے ایک شخص کو لایا جائے گا ، اللہ اُس سے فرمائے گا ، اے پسرِآدم! تو نے اپنی جگہ کیسی پائی ؟ تو وہ کہے گا ، اے میرے پروردگار ! بہترین جگہ ہے ، تب ( اللہ تعالیٰ ) فرمائے گا ، مانگ اور تمنا کر ، تب وہ کہے گا ، میں کیا مانگوں اور کس چیز کی تمنا کروں ؟ ( بس ) میں یہ مانگتا ہوں تو مجھے دنیا کی طرف بھیج کہ میں تیرے راستہ میں دس مرتبہ شہید کر دیا جاؤں ، اُس شہادت کی فضیلت کی وجہ سے جو وہ ( جنت میں ) دیکھتا ہے . ( نسائی ، حاکم ، اور کہا کہ مسلم کی شرط پر صحیح ہے )

سیدنا عبداللہ بن عَمْرِو بنِ العاص رضی اللہ عنھما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا! ” يُغَفَرُ للشَّهيْد كُلُّ ذنب الا الدَّيْنَ “. شہید کا ہر گناہ بخش دیا جائے گا سوائے قرض کے . ( مسلم )

سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنھما سے روایت کی گئی ہے کہ وہ غزوہِ مُؤْتَہ میں تھے ، کہتے ہیں ” فالتمسنا جعفرَ بنَ ابي طالبٍ رضی اللہ عنہ فوجدناه في القتلَى ، فوجدنا بمآ اَقبلَ من جَسَده بِضْعًا وتسعین ، بینَ ضربة ورَمْيَةٍ وطعنةٍ “. پس ہم نے جعفر بن ابو طالب رضی اللہ عنہ کو تلاش کیا تو ہم نے اُنہیں مقتولوں ( شہیدوں ) میں پایا ، پس ( تب) ہم نے اُن کے جسم کے سامنے والے حصوں پر ( بدن کے پچھلے والے حصہ پر نہیں ، یعنی ہم نیزوں تلواروں اور تیروں کے زخموں کو صرف آپ رضی اللہ عنہ وارضاہ کے سینہ اور جسم کے سامنے والے حصوں پر ہی دیکھ رہے تھے ، اور آپ رضی اللہ عنہ مشرکین کے سامنے رہ کر ہی ڈٹ کر مقابلہ کر رہے تھے ، نہ پیٹھ دکھائی اور نہ ہی پلٹے ) نوّے سے زیادہ تیر اور نیزے کے مار کے زخم پائے . اور ایک روایت میں ” فَعَدَدْنَا به خمسينَ طَعْنَةً وَضَرْبَةً ليس منها شيءٌ في دُبُرهِ “. پس ہم نے اُن میں پچاس نیزوں اور تیروں اور تلواروں کے زخم شمار کئے جن میں سے کوئی زخم ان کے پیچھے نہیں تھا . ( بخاری )

سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے ، کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زید ، جعفر اور عبداللہ بن رواحہ ( رضی اللہ عنہم ) کو ( جہاد کے لئے ) بھیجا اور جھنڈا زید کو عطا کیا ، سو وہ تمام شہید ہوگئے . انس ( رضی اللہ عنہ) کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ نے خبر پہونچنے سے پہلے صحابہ کرام کو ان کے شہید ہونے کی اطلاع دی ، فرمایا! ” اخذ الرایة زیدٌ ، فاُصیب ، ثم اخذھا جعفرٌ فاُصیب ، ثم اخذھا عبداللہ بن رواحةَ فَاُصِيْبَ ، ثم اخذ الرایة سیفٌ من سیوفِ اللہِ ، خالدُ بنُ الوليد “. جھنڈا زید نے تھاما ، وہ شہید ہوگیے ، پھر اس کو جعفر نے تھاما پس وہ شہید ہوگئے ، پھر اس کو عبداللہ بن رواحہ نے تھاما اور وہ ( بھی ) شہید ہوگئے ، پھر جھنڈے کو اللہ کی تلواروں میں سے ایک تلوار خالد بن ولید نے تھاما . اور لوگوں کو فرماتے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ( مبارک ) آنکھیں بے اختیار بہ رہی تھیں . ( بخاری )

شہید زندہ ہیں اور وہ ہرے پرندوں کے پوٹوں میں ہیں ، اور جنت میں جہاں چاہیں وہاں چرتے ہیں

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنھما سے سے منقول ہے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا! ” رَاَيْتُ جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ مَلَكًا یطیر فی الجنة ذا جناحین یطیر منھا حیث شاء مَقْصُوْصَةً قَوَادِمُهُ بِالدِّمَآءِ “. میں نے جعفر بن ابو طالب کو دو بازوں ( پروں ) والے ایک فرشتہ کی صورت میں جنت میں اڑتے ہوئے دیکھا جنت میں جہاں چاہے وہ اُڑ رہا تھا ، اس کے پروں کے سرے خون سے لت پت تھے . ( اور یہ اس وجہ سے کہ آپ رضی اللہ عنہ کے دونوں بازوں تن سے جدا کئے گئے تھے ) ( طبرانی نے اس حدیث کو دو اِسنادوں سے روایت کیا ہے ، جن میں سے ایک حسن ہے )

جب مسلمان شہید ہوجاتے ہیں تو ان کی ارواح ہرے پرندوں کے پوٹوں میں رہ کر جنت میں جہاں چاہے چرتی ہیں پھر عرش کے نیچے لٹکے ہوئے قندیلوں کے پاس پناہ لیتی ہیں

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنھما سے روایت ہے ، کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا! ” لَمَّا اُصِيْبَ اِخْوَانُكُمْ جعل الله ارواحھم فی جوفِ طیرٍ خضرٍ ترد انھار الجنة تاکل من ثمارھا ، وتاوي الی قنادیلَ من ذھب معلَّقةٍ فی ظل العرش ، فلما وجدوا طِيْبَ ماْكَلِھم ومشرَبِھم ومقیلھم ، قالوا! مَنْ يُّبَلِّغُ اخواننا عنا اَنَّآ اَحْيآءٌ فی الجنة نُرْزَقُ لِئَلَّا يَزْهَدُوْا فی الجھاد ، ولايَنْكُلُوا عن الحربِ ؟ فقال اللہ تعالی! اَنَا اُبَلِّغُهُمْ عَنْكُمْ . قال! فانزل الله عزوجل ” وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِيْنَ قُتِلُوْا فِيْ سَبِيْلِ اللَّهِ اَمْوَاتًا “. جب تمہارے بھائی شہید کر دئے جاتے ہیں تو اللہ (تبارك و تعالیٰ ) ان کی ارواح کو ایک ہرے پرندہ کے جوف میں رکھ دیتا ہے ، وہ جنت کی نہروں کے پاس آکر اُس ( جنت ) کے پھل کھاتی ہیں ، اور اُن سونے کی قندیلوں کے پاس ( آکر ) پناہ لیتی ہیں جو عرش کے سایہ میں لٹکی ہوئی ہیں ، پس ( پھر ) جب وہ اپنے اچھے ( صاف ستھرے ) کھانے پینے اور قیلولہ کی جگہ پاتے ہیں تو کہنے لگتے ہیں کہ ہمارے تعلق سے ہمارے بھائیوں کو کون یہ بات پہونچائے گا کہ ہم زندہ ہیں جنت میں رزق دئے جاتے ہیں تاکہ جہاد کے سلسلہ میں وہ بے رغبت نہ ہو جائیں ، اور نہ ہی جنگ کرنے سے بُزدل ہوں ؟ تب اللہ تعالی فرمائے گا ، میں اس ( بات ) کو تمہاری جانب سے انہیں پہنچاؤں گا . ( راوی ابن عباس ) کہتے ہیں ، سو ( تب ، اس وقت ) اللہ عزوجل نے ( آیتِ کریمہ ) نازل فرمائی ” وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِيْنَ قُتِلُوْا فِيْ سَبِيْلِ اللَّهِ اَمْوَاتًا “. اور جو لوگ اللہ کی راہ میں قتل کر ( مار ) دئے گئے ہیں تم انہیں ہرگز مردہ نہ سمجھو . ( آلِ عمران/169 ) آیت کے آخر تک نازل فرمائی . { ابوداؤد ، حاکم ، اور اِنہوں نے اس حدیث کی اِسناد کو صحیح کہا ہے )

سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے سے منقول ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا! ” اِنَّ اَرْوَاحَ الشُّهَدَآءِ فِي آجْوَافِ طَيْرٍ خُضْرٍ تَعْلُقُ مِنْ ثَمَرِ الْجَنَّةِ ، اَوْ شَجَرِ الْجَنَّةِ “. کہ شہداء کی ارواح ہرے پرندوں کے پوٹوں میں رہتے ہوئے جنت کے پھلوں یا جنت کے اونچے درختوں سے چُگتی ہیں. ( ترمذی نے اس حدیث کو روایت کرکے حسن صحیح حدیث کہا ہے )

سیدنا مسروق رحمہ اللہ ( آپ پائے کے تابعی ہیں ) سے منقول ہے ، کہتے ہیں کہ ہم نے اِس ( آنے والی ) آیت کے متعلق عبداللہ سے پوچھا ” ولا تحسبن الذين قتلوا في سبيل الله امواتا ، بل احيآء عند ربهم يرزقون “. ( ترجمہ گزرگیا ) تو انھوں نے کہا! رہا میں ، تو ہم نے اس کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا ( اور دریافت کیا ) ہے ، آپ نے فرمایا! ” أرواحهم في جوف طير خضر لها قناديل معلقةٌ بالعرش تسرَح من الجنة حيث شآءتْ ، ثم تاْوي الى تلك القناديلِ ، فاطَّلع عليهم ربُّهم اطِّلَاعةً ، فقال! هل تشتهون شيئاً ؟ قالوا! اَيُّ شیئٍ نَشْتَهِيْ ؟ ونحن نَسْرَحُ من الجنة حيث شِئْنَا ؟ ففعل ذالك بهم ثلاث مرات ، فلما راَوْا اَنهم لَنْ يُّتْرَكُوْا من ان يَّسْاَلُوْا . قالوا! يا رب نُريدُ ان تُرَدَّ ارواحنا في اجسادنا حتّى نُقْتَلَ في سبيلك مرَّةً اُخْرَى ، فَلمَّا رَاَى اَنْ لَيْسَ لَهُمْ حَاجَةٌ تُرِكُوا ” ان کی روحیں ہرے پرندوں کے پوٹوں میں رہتی ہیں ، ان کے لئے بہت ساری قندیلیں ہیں جو عرش سے لٹکی ہوئی ہیں ، جنت میں جو چاہے چرتی ہیں ، پھر اُن قندیلوں میں جا کر پناہ لیتی ہیں ، ان کے پروردگار نے ایک مرتبہ انھیں جھانک کر دیکھا اور فرمایا! تمھیں کسی چیز کی خواہش ( رغبت ) ہے ؟ انھوں نے کہا! ہمیں کس چیز کی رغبت ہے ، اور ہمارا یہ حال ہے کہ جنت میں ہم جہاں چاہیں وہاں چرتے ہیں ؟ رب نے ان سے اس طرح تین مرتبہ پوچھا ، پھر جب انھوں نے دیکھا کہ ان سے پوچھنا ترک نہیں کیا جائے گا ، تو کہنے لگے! اے رب ! ہم یہ چاہتے ہیں کہ ہماری ارواح ہمارے جسموں میں لوٹائی جائیں حتی کہ ہم تیری راہ میں دوبارہ شہید کر دئے جائیں ، پھر جب ( رب نے ) دیکھا کہ انھیں کوئی حاجت نہیں ، تو انھیں چھوڑ دیا گیا . ( مسلم نے اس حدیث کو روایت کیا ہے ، اور الفاظ انہی کے ہیں ، اور ترمذی وغیرھما نے )

چونکہ شہید کی موت سے زیادہ بہترین موت اور کوئی نہیں ، تو اعتراض ہوسکتا ہے کہ پھر اس موت کی فضیلت انبیاء کرام علیہم الصلوة والسلام کو کیوں نہ حاصل ہو ؟

تو اس کا یوں جواب دیا جائے گا کہ شہادت ایک ایسی فضیلت ہے جو اکتساب ( تحمل ) سے حاصل کی جاسکتی ہے ، سو شارع نے اس میں ترغیب دی ، جبکہ نبوت اور رسالت ایسی نہیں ہے . اس لئے کہ اِن دونوں کو اکتساب کے ذریعہ حاصل نہیں کیا جاسکتا ، جیسا کہ لقانی نے کہا کہ ” وَلَمْ تَكُنْ نَبُوَّةٌ مُكْتَسَبَةً “. اور نبوت تحمل سے حاصل نہیں کی جا سکتی .

اللہ سبحانہ و تعالیٰ ہمیں بھی وقت پڑنے پر اپنی راہ میں شہید ہونے کی توفیق عطا فرمائے . آمین .

طاعون کا شہید میدان کارزار کے شہید کی طرح ہے

تیسرے باب کی چھٹی فصل میں علامہ حافظ ابن حجر لکھتے ہیں کہ اُس دلیل کا بیان کہ طاعون کے شہید کو معرکہ کے شہید کے ساتھ ملایا جائے گا مذکورہ شہداء کے برخلاف ، اس لئے کہ اگر چہ کہ وہ طاعون کے ذریعہ مرے ہوئے لوگوں کے ساتھ بہت ساری فضیلتوں معرکہ کے شہید کے ساتھ شریک نہ ہونے میں جیسے دنیا کے احکام میں ان کو ان کے خون کے ساتھ دفنانے ، ان کو غسل نہ دینے اور نماز نہ پڑھنے ، اور ان کے اجسام کا قبروں میں بوسیدہ نہ ہونے اور ان کا زندہ رہ کر اپنے پروردگار کے پاس پائے جانے میں ایک دوسرے کے ساتھ شریک نہ ہونے میں شریک تو ہوتے ہیں ، لیکن وہ شہادت کے ثواب اور بعض دوسری صفات میں میدانِ جنگ میں شہید شدہ لوگوں کے ساتھ شریک نہیں ہوتے ہیں .

احمد نے کہا کہ ہمیں حکم بن نافع نے حدیث بیان کی ہے ، انھوں نے کہا کہ ہمیں اسماعیل بن عیاش نے ضمضم بن زرعہ سے ، شُرَيْح بن عُبَید سے حدیث بیان کی ہے کہ انھوں نے عتبہ بن عبدٍ السُّلَمی سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث بیان کرتے ہوئے سنا ، کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا! ” يَاْتِي الشھدآء والمتوفون بالطاعون ، فیقول اصحاب الطاعون نحن الشھداء . فیقال! اُنْظُرو ، فاذا کانت جراحتھم کجراح الشھدآء تسیل دَمًا ، وریحھم کریح المسك ، فھم شھدآءُ ، فیجدونھم کذالك “. شہداء اور طاعون سے وفات شدہ لوگ آئیں گے ، اصحابِ طاعون کہیں گے ہم شہداء ہیں ، تب کہا جائے گا ، دیکھو! اگر ان کے زخم شُہداء کے زخموں کی طرح خون بہا رہے ہیں ، اور ان کی خوشبو مشک کی خوشبو کی طرح ہے تو وہ شھدآء ہیں ، سو وہ انہیں ایسا ہی پائیں گے . ( احمد )

یہ حسن حدیث ہے ، اس کے رُوَات قابلِ بھروسہ ہیں ، اور ” اسماعیل بن عیاش ” گو کہ ان میں مقال ہے ، لیکن جمہور اس بات پر ہیں کہ ان کی شامیین سے روایت کی ہوئی حدیث قوی ہے ، اور یہ ( روایت ) اسی سے ہے ، اور جن لوگوں نے اس کی تصریح کی ان میں یحی بن معین ، بخاری اور دُحَيْم ہیں . اور یعقوب فَسَوِيّ نے کہا کہ لوگوں نے ان کے بارے میں کلام کیا ہے ، حالانکہ وہ ثقہ ہیں ، شام کی حدیثوں کو سب سے زیادہ جاننے والے ، اور ان کے سلسلہ میں جو اکثر کلام کیا گیا ہے وہ اس بات میں کہ وہ حجاز کے ثقات سے نامانوس تھے . انتھی . اور ان کی حدیث کے لئے عِرْباض بن ساریہ کی حدیث شاہد ہے ، عبدالرحمان النسائی نے کہا کہ مجھے عمروبن عثمان نے خبر بیان کی ہے ، انھوں نے کہا کہ ہمیں بقیہ بن الولید نے حدیث بیان کی ہے ، انھوں نے کہا کہ ہمیں بَحِيْر بن سعد نے ، خالد بن معدان سے ، ابن ابی بلال سے ، العرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا! ” یختصم الشھدآء والمتوفون علی فرشھم الی ربنا جل جلاله فی الموتی یتوفون فی الطاعون ، فیقول الشھدآء ، اخواننا قتلوا کما قتلنا ، ویقول المتوفون علی فرشھم ، اخواننا ماتوا علی فرشھم کما متنا . فیقول الله عزوجل! انظروا الی جراحھم ، فان اشبھتْ جراح المقتولین فانھم منھم ، فاذا جراحھم اشبھت جراحھم “. شہدآء اور اپنے بستروں پر وفات پائے ہوئے لوگ ربنا جل جلالہ کے پاس اُن موتی کے سلسلہ میں بحث کریں گے جو اپنے بستروں پر وفات پاگئے تھے ، شہداء کہیں گے کہ ہمارے بھائی جان سے مار ڈالے گئے جیسے ہم جان سے مار ڈالے گئے ، اور اپنے بستروں پر وفات پائے ہوئے لوگ کہیں گے ، ہمارے بھائی اپنے بستروں پر اسی طرح وفات پاگئے تھے جس طرح ہم وفات پائے تھے . تب اللہ عزوجل فرمائے گا ، ان کے زخموں کو دیکھو ، اگر وہ مقتولین کے زخموں سے شباہت رکھتے ہیں تو وہ اُن میں سے ہیں . تب ان کے زخم ان کے ( مقتولین ) کے زخموں کی طرح نکلیں گے .

یہ حدیث حسن صحیح ہے ، احمد نے حیوة بن شریح اور یزید بن عبدربہ سے روایت کی ہے ، ان دونوں نے ” بقیہ ” سے ، اور یہ صدوق ہیں ، ان میں سوائے ان کی تدلیس کے ان پر کوئی بٹہ نہیں ہے ، انھوں نے اس طریقہ میں صراحت کے ساتھ حدیث بیان کرنے کی بات کی ہے ، سو وہ تدلیس سے محفوظ ہوگئے . اور اسناد میں مذکور ” ابن ابی بلال ” شامی ثقہ ہیں ، اور ان کا نام عبداللہ ہے ۔ اور کلاباذی نے اس حدیث کو ” معانی الاخبار ” میں اسماعیل بن عیاش کے طریقہ سے ، بَحِيْربن سعید سے روایت کیا ہے . اور یہ متابعہ میں ” بقیہ ” کے لئے عمدہ ہے اور انھوں نے متن میں کہا! ” فیقضی الله بینھم ، فیقول! انظروا الی جراح المُطْعَنِين ، فاذا اشبھت جراح الشھدآء فھم منھم ، فنظروا الی جراح المطعنین ، فاذا ھی قد اشبھت جراحَ الشھدآء فَيُلْحَقُوْنَ بِهِمْ “. تب اللہ آن کے درمیان فیصلہ فرمائے گا اور کہے گا نیزوں برچھیوں وغیرہ کے زخموں کو دیکھو ، پس اگر وہ شہداء کے زخموں کی طرح نکل آئے تو وہ ان میں سے ہیں ، سو وہ نیزوں برچھیوں اور تلواروں سے لگے ہوئے زخموں کو دیکھیں گے تو وہ شہداء کے زخموں کی طرح ہی ہوں گے ، پس انھیں ان ( شہداء ) کے ساتھ ملایا جائے گا . اور اس متن کو میں نہیں جانتا کہ ان دو صحابیوں کے علاوہ بھی کسی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے روایت کیا ہے .اور احمد نے سندِ مُبْدَاْ میں شریح بن عبید کا ذکر کیا ہے کہ انھوں نے کہا عتبہ کہا کرتے تھے کہ عِرْبَاض مجھ سے بہتر ہیں . اور عرباض کہا کرتے تھے کہ عتبہ مجھ سے بہتر ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس وہ مجھ سے سبقت لے گئے .

کلاباذی ” معاني الاخبار ” میں کہتے ہیں کہ عرباض کی حدیث سے یہ استفادہ کیا جاتا ہے کہ طاعون کو طعن ( بھی ) کہا جاتا ہے ، اور طاعون سے مرے ہوئے آدمی کو مطعون . ( 198 )

--Advertisement--

اظہارخیال کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here