شیرور میں آل شیرور پیمانہ پر منتخب سورتوں کے مسابقہ حفظ قرآن کی تاریخی ، تفصیلی و دستاویزی رپورٹ

0
1367

رپـورٹـر:محمد زبیر ندوی شیروری

زیراہتمام المبرہ تعلیمی و رفاہی تنظیم شیرور ، سنہ 1442 ھ مطابق 2020 ء بروز جمعہ ، بمقام جمعہ مسجد عبد اللہ طلائی ، شیرور

جیسا کہ آپ اس بات سے بخوبی واقف ہیں کہ عوام الناس کو قرآن کریم سے ربط اور شغف پیدا کرنے کے لئے چالیس ایام قبل دینی مدارس کے طلباء کے علاوہ دیگر اسکولوں کے طلباء اور عوام الناس کے لئے آل شیرور پیمانہ پر منتخب سورتوں کے مسابقہ حفظ قرآن کا اعلان کیا گیا تھا ،

اس مسابقہ کو تین گروپوں میں منقسم کیا گیا تھا . پہلا گروپ ان طلباء پر مشتمل تھا جن کی عمر تیرہ سال یا اس سے کم ہو . دوسرے گروپ میں وہ طلباء شامل تھے جن کی عمر چودہ سے بائیس سال کے درمیان ہو. تیسرا وہ گروپ جس میں تیئیس سے اوپر والے عمر کے لوگ شریک تھے .

اس سنہرے موقعہ سے بہت سارے طلباء و عوام الناس نے بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنی دلچسپی اور خوشی کا مظاہرہ کیا . جس میں کُل مساہمین کی تعداد ایک سو سے متجاوز تھی .

مذکورہ تین گروپوں میں سب سے پہلے علیا گروپ کی جانچ مؤرخہ 16/اکـتـوبـر 2020 ء بروز جمعہ ، بمقام جمعہ مسجدِ بلال ، جماعت المسلمین غوثیہ محلہ شیرور ، تیسرے گروپ کے پہلے مرحلہ کی محفل کا انعقاد متصلا بعد نماز عصر جماعت ھٰذا کے نائب صدر محترم جناب حسین صاحب ہونگے ، غوثیہ محلہ شیرور کی صدارت میں منعقد ہوا ، اس جلسہ کا آغاز ألمبرہ کے رکن محترم جناب مولانا حافظ وسیم صاحب ندوی شیروری کی تلاوت کلام پاک سے ہوا .

دوسرا ٹیسٹ مؤرخہ 17/اکـتـوبـر 2020 ء بروز سنیچر بمقام جمعہ مسجد عبد اللہ طلائی شیرور منعقد ہوا . پہلے اور دوسرے گروپ کے دوسرے مرحلہ کی محفل کا انعقاد متصلاً بعد نماز عصر جماعت ہذا کے صدر محترم جناب ابوبکر صاحب بڑجی ، شیروری کی زیر صدارت ہوا ، اس جلسہ میں دو نشستیں بیک وقت منعقد کی گئی تھیں . ایک نشست مسجد ہذا میں اور دوسری مدرسہ مفتاح العلوم شیرور کے بالائی حصہ میں محترم جناب الجی اسحاق صاحب سکریٹری مدرسہ مفتاح العلوم شیرور کی صدارت میں منعقد کی گئی تھی . پہلے گروپ میں جلسہ کی شروعات ألمبرہ کے رکن محترم جناب مولانا اسرار صاحب متعلم جامعہ اسلامیہ بھٹکل کی تلاوت کلام سے ہوا اور دوسرے گروپ کی نشست کا آغاز شھور شیروری مولانا محمد علی بھومبا کی تلاوت کلام پاک سے ہوا .

تیسرا ٹیسٹ مؤرخہ 18/ اکـــتـوبـر 2020 ء بروز اتوار ، المبرہ کے صدر مولانا بہاؤ الدین صاحب ندوی کی زیر صدارت ، بمقام جامع مسجد فاطمہ محد سعید کیسرکوڈی شیرور متصلا بعد نماز عصر منعقد ہوا . اس جلسہ میں دو نشستیں بیک وقت منعقد کی گئیں ، ایک مسجد ہذا میں اور دوسری اسی کے بالائی حصہ میں .

پہلے گروپ میں جلسہ کی شروعات محترم جناب حافظ ارشاد صاحب ملا امام جامع مسجد فاطمہ محمد سعید کی تلاوتِ کلام سے ہوئی اور دوسرے گروپ کی ألمبرہ کے رکن مولانا حافظ فضل اللہ صاحب ندوی کی تلاوت کلام پاک سے .

اس طرح الگ الگ گروپوں کے تحت مختلف مساجدوں میں جملہ تین دنوں میں تمام مساہمین کا مسابقہ ہوا اور ان میں سے ہر گروپ سے دس دس ممتاز مساہمین کو فائنل مقابلہ کے لئے منتخب کیا گیا اور کل تیس مساہمین کا فائنل مسابقہ تین گروپوں کی شکل میں جلسہ عام میں کیا گیا .

اسی طرح سمر کلاسس کے ان ممتاز طلباء کے مابین انعامات بھی تقسیم کئے گئے جنھیں لاک ڈاؤن کی تعطیلات میں صحیح سمت دینے کے لئے ان کی عمروں کے لحاظ سے سمر کلاسس کی نصابی کتابیں دی گئی تھیں اور ان کی تیاری کے لئے چالیس دنوں کا وقت دیا گیا تھا اور اپنے اپنے گھروں میں ان کے مطالعہ کی ترغیب دی گئی تھی اور اس کے بعد ان کے آنلائن امتحانات لئے گئے تھے .

اس کے بعد اس مسابقہ کی سب سے اہم و آخری نشست عوامی پیمانہ پر مؤرخہ 6/ربیع الاول 1442ھ مطابق 23/اکتوبر 2020 ء بروز جمعہ بعد نماز عصر متصلاً ، مولانا بہاؤالدین شیخ جی ندوی ،صدر المبرہ تنظیم شیرور کی زیر صدارت اور مولانا موسیٰ صاحب گھارو ندوی اور مولانا ثاقب صاحب ندوی کی نظامت میں منعقد کی گئی جس کا آغاز محترم جناب حسَّان بن مولانا بہاؤ الدین صاحب ندوی شیخ جی کیسرکوڈی شیرور کی تلاوت کلام پاک سے اور محترم جناب مولانا زبیر صاحب ندوی ، استاد مدرسہ مفتاح العلوم شیرور کی دل لبھانے والی نعت پاک سے ہوا .

اس مسابقہ میں بطور حَکَم محترم جناب مولانا اسحاق صاحب ڈانگی ندوی ، استاد مدرسہ عربیہ تعلیم القرآن تینگن گنڈی مدعو کئے گئے تھے . موصوف تقریبا تیس سالوں سے جامع مسجد تینگن گنڈی میں امامت و خطابت کے فرائض اور تقریبا پینتیس سالوں سے تدریسی خدمات انجام دیتے رہے ہیں . آپ نے اپنے تأثرات کا اظہار کرتے ہوئے جمیع مساہمین کو مبارکباد پیش کی اور اہل مبرہ کی ان کوششوں کو سراہتے ہوئے ان کی حوصلہ افزائی فرمائی . اس کے بعد عوام سے مخاطب ہو کر فرمایا کہ قرآن کی اہمیت ہمارے دلوں میں تبھی اجاگر ہو سکتی ہے جب ہم اسے تجوید و مخارج کا خیال کرتے ہوئے اچھی آواز میں پڑھیں گے . جس کے سیکھنے کے لئے عمر کی قید بھی نہیں ہے . دنیا کی یہ واحد کتاب ہے جس کو مکمل تجوید و مخارج اور قواعد کے ساتھ یاد کرایا جاتا ہے اور اس کے لئے بچوں سے محنت کرائی جاتی ہے.اور دنیا کے گوشہ گوشہ میں اس کے حلقہ لگائے جاتے ہیں . اسی طرح اور بھی بہت ساری باتیں مثالوں کے ذریعہ بطور نصیحت بیان فرمائیں جن میں خاص اور ضروری بات یہ تھی کہ قرآن کی تلاوت کے دوران لحن جلی اور لحن خفی سے بچنے کا بطور خاص لحاظ رکھا جائے اور حتی المقدور اس کو حفظ کرنے کی کوشش کی جائے، نہیں تو ادنی درجہ میں اتنا تو ضرور یاد کریں کہ جس سے ہم اپنی نماز ادا کر سکیں. اخیر میں دعائیہ کلمات پر اپنی بات ختم کی .

اسی طرح اس نشست میں بطور حکم محترم جناب حافظ ابو صالح صاحب الجی بھی مدعو کئے گئے تھے . مولانا تقریباً تینتیس سالوں سے جامعہ اسلامیہ بھٹکل کے شعبہ حفظ میں اپنی تدریسی خدمات انجام دے رہے ہیں . آپ کے پاس کئی طلباء نے حفظ قرآن کی سعادت حاصل کی ہے . آپ نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے سب سے پہلے اپنی طرف سے مبارکباد پیش کی اور اس پر اپنی خوشی کا اظہار بھی فرمایا . اس کے بعد قرآن کی صحیح طور پر تلاوت کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اگر ہم انگریزی زبان سیکھتے ہیں تو اس میں اسپیلنگ میں ذرا بھی غلطی ہوئی تو اس کے معنی بدلتے ہیں . ظاہر سی بات یے کہ قرآن کی زبان تمام زبانوں سے اپنا ایک ممتاز مقام رکھتی یے ، اسی لئے اس کی اہمیت دنیا کی ساری کتابوں سے بڑھ کر ہے . اس کے برابر کوئی کتاب نہیں . اگر کوئی اس کی ایک حرکت یا حرف کو بدل کر پڑھے گا تو اس کے معنی بدل جائیں گے.،لہٰذا ہمیں پوری احتیاط اور تجوید و مخارج کے ساتھ اسے پڑھنے اور اس کے کچھ حصہ کو اپنے دلوں میں محفوظ کرنے کی اشد ضرورت ہے ورنہ ہمارا سینہ ایک ویران گھر کی طرح ہوگا . موصوف نے اخیر میں المبرہ اور اس کے ارکان کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے عوام کو ان سے مربوط رہنے پر زور دیا اور دعائیہ کلمات پر اپنی بات ختم کی .

اسی جلسہ میں بطور حکم محترم جناب حافظ عبد الرحمان صاحب ڈانگی ندوی بھی مدعو کئے گئے تھے آپ تقریباً بیس سال تک ہینی کاگل میں عہدہ قضائت پر فائز رہ چکے ہیں اور ستائیس سالوں سے جامعہ اسلامیہ بھٹکل کے شعبہِ حفظ میں بحیثیت استاد اپنی خدمات انجام دے ریے ہیں .

اس فائنل مسابقہ میں تین گروپوں میں سے ہر گروپ سے دس دس ممتاز مساہمین کو منتخب کیا گیا تھا . ماشاء اللہ مساہمین کی اکثریت نے اپنا بہترین مظاہرہ پیش کیا . اس مسابقہ کی اہمیت کو بڑھانے کے لئے اس پروگرام کو ناخدا برادری کے امژو زون یوٹیوب چینل پر لائیو بھی نشر کیا گیا تاکہ اس سے ناخدا برادری کی مستورات و عوام بھی مستفید ہو سکے . الحمد للہ لوگوں نے اس پر اپنی خوشی کا اظہار کیا بالخصوص بیرون ممالک میں رہنے والے ناخدا احباب نے اسے خوب سراہا اور اس تعلق سے ہمت افزاہی بھی فرمائی .

قرآنی مسابقہ اور سمر کلاسس میں نمایاں کامیابی حاصل کرنے والے مساہمین کے نتائج

سمر کلاس حصہ اول

1) راہل بن یونس شیخ جی کامیاب اول
فضیح بن فرید کرا کامیاب اول

2) سنان بن سمیع اللہ قادرو کامیاب دوم

3) صلاح الدین بن عبد الشکور گھارو کامیاب سوم

سمر کلاس حصہ دوم

1) ثاقب بن اسماعیل کرڈی کامیاب اول

2) ہمشان بن حسین پری کامیاب دوم

حسین بن نور اللہ شیخ کامیاب دوم

3) رزان بن نصر اللہ بالا کامیاب سوم

سمر کلاس حصہ سوم

1) عتید بن امین الدین کیوکا کامیاب اول
افشان بن فضل الرحمن کوتوال کامیاب اول

2) اواب بن عبد الرحمن کچی کامیاب دوم
ابان بن عبدالسلام علی باپو کامیاب دوم

3) سالک بن نور الاسلام بڈو کامیاب سوم

سمر کلاس حصہ چہارم

1) اذہان بن فضل الرحمن کوتوال کامیاب اول

2) ذھیب بن عبد الغنی بڈو کامیاب دوم

3) دانیال بن نور الاسلام بڈو کامیاب سوم

سمر کلاس حصہ پنجم

1) صہیب امان بن مولانا بہاؤ الدین ندوی شیخ جی کامیاب اول

3) عباد نسیم بن اسلم قادرو کامیاب دوم

3) ارشد بن اشرف نیجی کامیاب سوم

سمر کلاس حصہ ششم

1) عبد الواجد بن حسین خورشے کامیاب اول

2) افنان بن اسحاق الجی کامیاب دوم

3) افنان بن اسماعیل مکڑے کامیاب سوم

ان کے علاوہ سمر کلاسس کے بقیہ تمام طلباء کو بھی تسجیعی انعامات سے نوازا گیا .

نتائج آل شیرور مسابقہ حفظ منتخب قرآنی سورتیں

گروپ اول

1) سنان ابن اشرف ننھو کامیاب اول

2) افشان بن فضل الرحمن کوتوال کامیاب دوم

3) صوام بن مولانا اسماعیل ندی تاتی سلہ کامیاب سوم

گروپ دوم

1) عبد الواجد بن حسین خورشے کامیاب اول

2) محمد سعود بن حنیف بواجی کامیاب دوم

3) عباد بن اسلم قادرو کامیاب سوم

گروپ سوم

1) عبد الباسط بن جعفر بھومبا کامیاب اول

2) محمد یعقوب بن عبد الرحمن مامدو کامیاب دوم

3) محمد آفتاب شیخ جی کامیاب سوم

اس جلسہ کی نظامت مولانا موسیٰ صاحب ندوی گھارو شیرور اور مولانا ثاقب صاحب ندوی بڑجی نے فرمائی .

واضــح رہے کہ اس محفل کے مہمان خصوصی اور ألمبرہ کے سرپرست محترم جناب مولانا عبد الرب صاحب ندوی دامت برکاتہ نے سب سے پہلے ألمبرہ کے اراکین کو مبارکباد پیش کی اور عوام الناس و نونہالوں کی ہمت افزاہی فرمائی اور کہا کہ اہلیان شیرور کو اراکین ألمبرہ کا احسان ماننا چاہئے انھوں نے آج آپ کے لئے یہ ذریں موقعہ فراہم کیا . لہذا ہمیں چاہئے کہ ہم وقتاً فوقتاً ان علماء کرام سے اپنا قرآن درست کرنے کی کوشش کریں ، انہیں اپنے استعمال میں لائیں ، یہی قوم و معاشرہ کے غمگسار و رہبر ہیں . پھر کہا کہ قرآن اللہ کی واحد کتاب ہے جس کو سیکھنا اور سمجھنا لازم ہے ، دنیا کی ساری ڈگریاں اس کتاب عظیم کے سامنے ہیچ ، کم قیمت اور بے وزن ہیں . قرآن کو مکمل تجوید و مخارج کا خیال کرتے ہوئے اچھی آواز کے ساتھ پڑھنا چاہئے . گھروں میں اس کی تلقین ہو .جب بڑے مرد احباب پڑھیں گے تو ہی بچوں میں بھی اس کی تعلیم ملے گی . پھر آخر میں اپنی اعلی نصیحتوں میں فرمایا کہ قرآن سے ہمارا ربط اور شغف ہو ، اسی پر ہم جئے اور مر مٹیں اور اسی کو اہل مبرہ کا ایک مقصد قرار دیا اور دعائیہ کلمات پر اپنی بات ختم کی .

اخیر میں سرپرست المبرہ مولانا عبد الرب صاحب ندوی دامت برکاتہ کی دعا سے یہ مجلس اپنے اختتام کو پہنچی .

دعا یے کہ اللہ اس اجلاس کے خیر و فیوض دور دور تک عام فرمائے . آمین .

--Advertisement--

اظہارخیال کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here