مسواک کی فضیلت و اہمیت احادیث کی روشنی میں

0
4041

رشحات قلم : محمد زبیر ندوی شیروری

انسانوں میں اللہ تعالی کو دو طرح کے لوگ بہت پسند ہیں ایک وہ جو گناہ کرتے ہیں شرمندہ ہوتے ہیں اور پھر اللہ کی طرف توبہ کے ساتھ رجوع کرتے ہیں اور دوسرے وہ جو صفائی کا خاص خیال رکھتے ہیں ، ظاہری اور باطنی دونوں طرح کی گندگی سے پرہیز کرتےہیں ۔ ظاہری صفائی میں بہت سی چیزیں آجاتی ہیں جیسے کپڑوں کا صاف ہونا ، بدن کا نظیف ہونا ، جگہ اور اردگرد کے ماحول کا غیر آلودہ ہونا وغیرہ ۔ اسی ظاہری صفائی میں ایک ” مسواک ” بھی ہے ، جس کو اسلام میں بہت زیادہ اہمیت حاصل ہے ۔

مسواک عربی زبان کا لفظ ہے جس کا مطلب ہے ” خلال کرنا ” مسواک قدرتی درخت سے حاصل ہونے والی لکڑی کو کہا جاتا ہے ، موجودہ دور میں مسواک کا بدل برش یا ٹوتھ پیسٹ کو کہا جاتا ہے جو کہ سراسر غیر درست بات ہے ۔ کیونکہ مسواک ایک نیچرل چیز ہے جبکہ برش مصنوعی اور ٹوتھ پیسٹ کیمیکلز کا مجموعہ ہے . مسواک کو انسان منہ کے اندر ان جگہوں تک بھی استعمال کرسکتا ہے جہاں تک برش کا جانا محال ہے.اور اس کی قائم مقامی بھی ناممکن ہے .

مسواک بانس ، انار اور ریحان کے علاوہ کسی اور درخت کی ہونی چاہئے . مسواک نرم ہو ، لکڑی میں جوڑ نہ ہو ، انگلی کے بقدر موٹی ہو ، ایک بالشت لمبی ہو ، پپلو کی ہو ، خصوصا کڑوے درخت کی . اور سب سے اولیٰ پیلو کے درخت کی ہے ، پھر زیتون کے درخت کی ہے ، الغرض مسواک درخت کی ہونا ضروری ہے .

ویسے تو ہر حال میں مسواک کرنا مستحب اور بہتر ہے مگر بعض حالتوں میں اس کی اہمیت بڑھ جاتی ہے مثلا وضو کرتے وقت ، قرآن شریف کی تلاوت سے قبل ، اسی طرح دانتوں پر زردی اور میل چڑھ جانے ، سونے ، چپ رہنے ، بھوک لگنے یا بدبو دار چیز کھانے کے سبب منہ کا مزہ بگڑ جانے کی حالت میں مسواک زیادہ مستحب اور اولیٰ ہے ۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ” مسواک کے ( دو فائدے ہیں ) منہ کی پاکیزگی اور اللہ کی رضا مندی ” ( مسند احمد )

مسواک انسان کی نیکیوں میں اضافہ کا باعث بنتا ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ مسواک کے ساتھ نماز ادا کرنے کا ثواب نسبتاً زیادہ ہے اس سے جو بنا مسواک کے نماز ادا کرے اور پھر مسواک کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ! ” اگر میں اپنی امت پر مشقت نہ جانتا تو مسواک کو ہر نماز کے ساتھ لازم قرار دے دیتا ” ( بعض جگہوں پر وضو کے الفاظ بھی آتے ہیں ) سیرت میں موجود ہے کہ رسول اللہ ﷺ تقریباً مسواک ہر وقت ساتھ رکھتے تھے اور صحابہ بیان کرتے ہیں کہ مسواک رسول اللہ ﷺ کے کان پر ایسی ہوتی تھی جیسے کہ کاتب کے کان پر قلم ہو ۔

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا رسول اللہ ﷺ کی صفت بیان کرتی ہیں کہ ” كَانَ إِذَا دَخَلَ بَيْتَهُ بَدَأَ بِالسِّوَاكِ ” ” رسول اللہ ﷺ جب گھر تشریف لاتے تو مسواک سے ابتداء کرتے ( یعنی مسواک ان کے منہ مبارک میں ہوتی ) ” ( صحیح مسلم )

ایک اور روایت حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ بیان کرتے ہیں کہ ” كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَامَ لِيَتَهَجَّدَ يَشُوصُ فَاهُ بِالسِّوَاك۔ ” ( صحیح مسلم )

جب رسول اللہ ﷺ رات کو تھجد کی غرض سے اٹھتے تو مسواک کو اپنے منہ میں مل رہے ہوتے ” یشوص ” ( ملنا ۔ مذکورہ جگہ پر مطلب ہے دانتوں کو ملنا )

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا راویہ ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا وہ نماز جس کے لیے مسواک کی گئی ( یعنی وضو کے وقت ) اس نماز پر جس کے لیے مسواک نہیں کی گئی ستر درجہ فضیلت رکھتی ہے ( احمد ، بیہقی )

حضرت ابوبردہؓ اپنے والد رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ انھوں نے کہا کہ میں نبی ﷺ کے پاس آیا تو آپ کو دیکھا کہ مسواک آپ کے دست مبارک میں ہے اور منہ میں ( اس طرح ) مسواک فرما رہے ہیں کہ اع اع کی آواز نکلتی ہے ، جیسے ( کوئی ) قے کرتا ہے ۔( صحیح بخاری : جلد اول ، وضو کا بیان )

حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالی عنہ کہتے ہیں کہ جب نبی ﷺ رات کو ( سوکر تہجد کے لیے ) اٹھتے تو ( سب سے پہلے ) اپنے منہ کو مسواک سے صاف کرتے تھے ( صحیح بخاری : جلد اول ، مسواک کرنے کا بیان )

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا فرماتی ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ جب رات اور دن میں سو کر اٹھتے تو وضو کر نے سے پہلے مسواک کرتے ( مسند احمد بن حنبل ، سنن ابی داؤد )

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ! کہ اگر میں اپنی امت کیلئے شاق نہ جانتا ، تو انھیں ہر نماز کے وقت مسواک کا حکم دیتا ( صحیح بخاری : جلد اول ، جمعہ کا بیان )

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے جب سے نبی کریم ﷺ کا یہ فرمان سنا ہے میں سونے سے پہلے بھی مسواک کرتا ہوں سو کر اٹھنے کے بعد بھی کھانے سے پہلے بھی اور کھانے کے بعد بھی مسواک کرتا ہوں ( مسند احمد : جلد چہارم )

حضرت ابو امامہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا مسواک کیا کرو اس لیے کہ مسواک منہ کو صاف کرنے والی اور پروردگار کو راضی کرنے والی ہے ۔ جب بھی میرے پاس جبرائیل آئے مجھے مسواک کا کہا ٰحتیٰ کہ مجھے اندیشہ ہوا کہ مسواک مجھ پر اور میری امت پر فرض ہو جائے گی اور اگر مجھے اپنی امت پر مشقت کا خوف نہ ہوتا تو میں مسواک کو اپنی امت پر فرض کر دیتا اور میں اتنا مسواک کرتا ہوں کہ مجھے خطرہ ہونے لگتا ہے کہیں میرے مسوڑھے چھل نہ جائیں ( سنن ابن ماجہ : جلد اوّل )

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ کسی نے نبی ﷺ سے عرض کیا یا رسول اللہ !جبرئیل امین علیہ السلام نے آپ کی خدمت میں حاضر ہونے میں اس دفعہ بڑی تاخیر کر دی ؟ نبی ﷺ نے فرمایا کہ وہ تاخیر کیوں نہ کریں جبکہ میرے ارد گرد تم لوگ مسواک نہیں کرتے ، اپنے ناخن نہیں کاٹتے ، اپنی مونچھیں نہیں تراشتے ، اور اپنی انگلیوں کی جڑوں کو صاف نہیں کرتے ( مسند احمد : جلد دوم )

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا اگر مجھ کو مؤمنین کے دشواری میں پڑ جانے کا خوف نہ ہوتا تو میں نماز عشا میں تاخیر کرنے اور ہر نماز کے لیے مسواک کرنے کا حکم دیتا ( سنن ابوداؤد : جلد اول )

یہ تھیں وہ چند احادیث جو مسواک کی فضیلت پر دلالت کرتی ہیں ۔

مسواک کے دنیوی و اخروی فوائد:

مسواک کی پابندی کشادگی وغنا پیدا کرتی ہے . رزق کو آسان کرتی ہے۔​منہ کو پاک و صاف کرتی ہے . مسوڑھوں کو مضبوط بناتی ہے . درد سر میں سکون بخشتی ہے . سر کی رگوں میں سکون پیدا کرتی ہے یہاں تک کہ کوئی ساکن رگ حرکت نہیں کرتی ہے اور کوئی چلنے والی رگ ساکن نہیں ہوتی ۔سرکا درد اور بلغم جاتا رہتا ہے ۔​ دانتوں کو قوت اور آنکھوں کو جلا بخشتی ہے . معدے کو درست کرتی ہے ۔ساتھ ہی ساتھ بدن کو قوت دیتی ہے . الفاظ کی صحیح ادائیگی اورحفظ وعقل میں بھی اضافہ کرتی ہے . نیکیوں میں اضافہ کا سبب بنتی ہے . قلب کو پاکیزگی عطا کرتی ہے . فرشتے خوش ہوتے ہیں اور اس سے مصافحہ کرتے ہیں اس کے چہرے کی روشنی کی وجہ سے . مصلی نماز کے لئے مسجد کی طرف نکلتا ہے تو فرشتے اس کے پیچھے پیچھے چلتے ہیں اور جب مسجد سے نکلتا ہے تو حاملین عرش کے فرشتے اس کے لئے مغفرت کی دعا کرتے ہیں . حضرات انبیاء علہیم السلام بھی اس کے لئے مغفرت کی دعا کرتے ہیں . مسواک شیطان کو ناراض اور دور کرنے والی ہے . دہن کی صفائی اور ہضم طعام میں بھی معاون ہوتی ہے . اولاد کی کثرت کاسبب ہوتی ہے ۔​ پل صراط سے بجلی کی طرح گذار دیتی ہے ۔. بڑھاپے کو مؤخر کرتی ہے . پشت کو مضبوط بناتی ہے ۔​ قیامت کے دن مسواک کنندہ کا نامہ اعمال داہنے ہاتھ میں ہو گا . مسواک بدن کواطاعت خداوندی کے لئے چست کرتی ہے . بوقت نزع کلمہ شہادت کو یاد دلاتی ہے . نزع کو آسان کرتی ہے . دانتوں کو سفید اور چمکدار بناتی ہے ۔ منہ کی بو ختم کرتی ہے ۔ حلق اور زبان کو صاف ستھرا رکھتی ہے . سمجھ کو تیز کرتی ہے اور رطوبت کو روکتی ہے . نگاہ کو تیز کرتی ہے . اجر یعنی نیکی کے تناسب کو بڑھاتی ہے . قبر میں وسعت وکشادگی کاسبب ہوتی ہے . قبرمیں اس کی مونس وغمخوار ہوتی ہے ۔ مسواک کرنے والے کے لئے جنت کے دروازے کھول دئے جاتے ہیں اور جہنم کے دروازے بند کر دئے جاتے ہیں . روزانہ اس سے فرشتے کہتے ہیں کہ یہ حضرات انبیاء کرام علہیم السلام کی اقتداء کرنے والا ، ان کے نقش قدم پرچلنے والا اور ان کی سنت وطریقہ کو اپنانے والا ہے ۔ موت کے علاوہ ہر مرض کی شفا ہے ۔بال اگاتی ہے ۔ جسم کارنگ نکھارتی ہے ۔ اس پر مداومت سے غربت دور ہوتی ہے ۔ زبان کی فصاحت ودانش بڑھتی ہے ۔ کھانا ہضم کرتی ہے ۔ منی کی افزائش کا سبب ہے ۔ بڑھاپہ جلد آنے نہیں دیتی ۔ کمر کو قوی کرتی ہے . فاضل رطوبات کا ازالہ واخراج کر دیتی ہے ۔ داڑھ کے درد کو دفع کرتی ہے . دانتوں کو چمکدار بناتی ہے ۔ اس کی برکت سے حصول رضا میں آسانی ہوتی ہے ۔ کثرت اولاد کا باعث ہے ۔ قضائے حوائج میں سہولت اورمدد دیتی ہے ۔

لیکن افسوس کہ اس انمول اور عظیم الشان سنت کی طرف ہم مسلمانوں کا التفات اور توجہ بہت کم ہے ۔ مسواک عموماً علمائے کرام ، طلبائے عظام اور بعض عمر رسیدہ بزرگ حضرات ہی کی جیبوں میں دیکھنے کو ملتی ہے ۔ ان کے علاوہ اکثر و بیشتر ہمارے مسلمان بھائی اپنے پیارے نبیؐ کی اس عظیم الشان سنت کے فوائد و ثمرات سے گویا کلی طور پر ہی محروم ہیں .

مسواک عظیم سنتوں میں سے ایک سنت ہے . اور یہ مَردوں کے لیے جس طرح سنت نبویؐ ہے اسی طرح عورتوں کے لیے بھی . یہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی سنت ہے ۔ ہمیں بقیہ سنتوں کی طرح اس سنت کو بھی ثواب کی نیت سے سنت سمجھ کر بجا لانا چاہئے . اور رب کو راضی کرنا چاہئے . کیونکہ اصل کامیابی سنت نبوی اور رب کی رضا میں ہی پنہاں ہے .

دعا ہے کہ اللہ تعالی ہم تمام مسلمانوں کو دیگر سنتوں کے ساتھ مسواک جیسی عظیم سنت کو زندہ کرنے کی بھی توفیق نصیب فرمائے . آمین یا رب العالمین .

--Advertisement--

اظہارخیال کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here