اعتکاف کی لغوی و اصطلاحی تعریف اور اس سلسلہ میں ائمہ اربعہ کی آراء

0
1421

از : مولانا عبدالقادر بن اسماعيل فیضان باقوی ، جامعہ آباد ، تینگن گنڈی ، بھٹکل ، امام و خطیب جامع مسجد عشیر بن علی المزروعی ، ابو ظبی ، متحدہ عرب امارت

الحمد لله ولى المتقين ، والصلاة والسلام على سيدنا وحبيبنا محمد خير الخلق أجمعين ، وعلى اٰله وصحبه والتابعين ، ومن تبعهم بإحسان الي يوم الدين ، اما بعد :

لغت میں اعتکاف کے معنی کسی چیز پر پابند ( قائم ) رہنے کے آتے ہیں اگر چہ کہ کسی بری چیز پر ہو ، اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے فرمایا ! ” فأتوا علي قوم يعكفون على أصنام لهم ” پس وہ اس قوم کے پاس آئے جو اپنے بتوں ( کی عبادت ) پر قائم رہتی آرہی تھی ( سورة الأعراف ، 138) . اور شریعت میں ، اللہ عزوجل کا تقرب حاصل کرنے کے لئے نیتِ اعتکاف سے ایک مخصوص شخص کا مسجد میں ٹہرنا . احناف کے پاس اعتکاف کی تعریف یہ ہے کہ نیت اور روزہ وغیرہ کے ذریعہ مخصوص اوصاف کے ساتھ کسی مخصوص مقام (جو مسجد ہے ) میں ٹہر نا . مالکیہ کے پاس ایک باشعور مسلمان کا کسی مباح ( حلال ) مسجد میں روزہ کے ساتھ جماع اور اس کے مقدمات سے رکتے ہوئے ایک دن اور رات یا اس سے زیادہ عبادت کی نیت سے مسجد کو لازم پکڑے رکھنا . حنابلہ کے پاس کسی عاقل مسلمان کا اگرچہ کہ وہ کوئی باشعور لڑکا ہو ، غسل کو واجب کرنے والی چیزوں سے پاک رہ کر ایک مخصوص صفت پر اللہ تعالٰی کے واسطہ مسجد کو لازم کرلینا . ( حاشیہ تہذیب ، ج/3 ، ص/203 )

اعتکاف کے لئے مسجد میں ٹہرنا ، بالإجماع ہر وقت سنت مؤکدہ ہے ، خواہ رمضان میں ہو کہ غیر رمضان میں ، تاہم رمضان میں اعتکاف کر نا دیگر مہینوں کے مقابلہ میں بہتر ہے کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے رمضان کے تینوں عشروں ، پہلے ، دوسرے اور تیسرے میں اعتکاف کیا ہے ، اور رمضان کے آخری عشرہ میں اعتکاف کرنا دوسرے دنوں کی بہ نسبت زیادہ افضل ہے ، اس لئے کہ اس عشرہ میں آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے اعتکاف کی خاص پابندی کی ہے اور آخر تک اس پر مداومت فرمائی ہے ، حتی کہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ و سلم کو وفات دی .

حنفیہ کے پاس رمضان المبارک کے آخری عشرہ میں اعتکاف کرنا سنت مؤکدہ علی الکفایہ ہے اور اس کے علاوہ عشروں میں مستحب .

مالکیہ کے مشہور مذہب کے مطابق رمضان و غیر رمضان میں اعتکاف مستحب ہے اور رمضان میں مطلقاً مستحبِ مؤکدہ ہے اور اس کے آخری عشرہ میں اور زیادہ مؤکدہ ، ان کے پاس اعتکاف کی دو قسمیں ہیں ، ایک واجب اعتکاف ، جو کہ نذر وغیرہ کا ہوتا ہے اور دوسرا مستحب اعتکاف اور یہ اس کے علاوہ ہے ۔

حنابلہ کے پاس ماہ رمضان میں اعتکاف سنت مؤکدہ ہے اور اس کے آخری عشرہ میں اور زیادہ مؤکدہ ۔

اعتکاف کے لئے روزہ رکھنا شرط نہیں ، اگر کوئی رکھتا ہے تو اچھا ہے اور اگر نہیں رکھتا تو اس پر کچھ واجب نہیں ، امام بخاری نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کیا ہے کہ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ یا رسول اللہ ! صلی اللہ علیہ و سلم ” میں نے زمانہ جاہلیت میں مسجد حرام میں رات میں اعتکاف کرنے کی نیت کی ہے ، فرمایا ! اپنی نذر کو پورا کرو ” ( بخاری ) . رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کا حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو نذر پورا کرنے کا حکم دینا اس بات کی دلیل ہے کہ اعتکاف صحیح ہونے کے لئے روزہ شرط نہیں ، اس لئے کہ رات میں روزہ رکھنا صحیح نہیں ۔ اسی طرح اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم سے شوال کے پہلے عشرہ میں اعتکاف کرنا ثابت ہے ، اور شوال کے پہلے عشرہ کا پہلا دن عید کا ہوتا ہے ، اور عید میں روزہ رکھنا حرام ہے ۔ اسی طرح یعلی بن امیہ کا ایک گھنٹہ کے لئے مسجد میں ٹہرنا ثابت ہے ، یہی مسلک امام احمد اور امام ابوحنیفہ کا ہے اور امام مالک کے پاس روزہ اعتکاف کے لئے شرط ہے ( لیکن امام ابوحنیفہ کے پاس صرف فرض روزہ ہی میں ہے ) .

--Advertisement--

اظہارخیال کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here