جنوبی ہند کی قوم ناخدا کے اسلامک بینکنگ اینڈ فائنانس میں ماسٹریٹ کی ڈگری کے لئے بیرون ملک ملیشیا میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے والے سب سے پہلے مولوی صاحب

2
3515

اکیسویں صدی عیسوی میں جنوبی ہند کی قوم ناخدا کے طلباء جہاں ایک طرف دنیوی تعلیم میں بیداری کا ثبوت دیتے نظر آرہے ہیں وہیں دوسری طرف دینی مدارس میں زیر تعلیم طلباء بھی تعلیمی میدان میں مختلف ناحیوں سے آگے بڑھ کر قوم کی دینی نہج پر ترقی کرنے کے لئے کوشاں نظر آرہے ہیں . اللہ کرے کہ یہ سلسلہ قوم ناخدا کے ساتھ ہمیشہ ہمیش رہے اور قوم دینی و دنیوی اعتبار سے ترقی کی راہ پر گامزن رہے .

اسی کی ایک جیتی جاگتی مثال حالیہ دنوں میں ملیشیا کی ” انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی” میں اسلامک بینکنگ اینڈ فائنانس میں ماسٹریٹ کی ڈگری کے حصول کے لئے زیر تعلیم محترم و مکرم جناب مولانا شہباز بن حافظ عباس صاحب دمکار ندوی ، ساکن عطار محلہ تینگن گنڈی کی ہے ، جنہوں نے اللہ کے فضل و کرم اور اپنی ذاتی محنت اور اپنے مخلص اساتذہ کرام کی رہنمائی میں اپنا داخلہ وقت کی ایک اہم اور امت مسلمہ کی بنیادی ضرورت کی تکمیل میں اپنا بھی ایک ادنی سا حصہ شامل کرکے عنداللہ ماجور ہونے کی نیت سے ملیشیا کی ایک اہم دینی یونیورسٹی میں لے کر قوم ناخدا میں اپنی ایک انفرادی نوعیت کی بے نظیر مثال قائم کر کے قوم کے دینی مدارس میں زیر تعلیم طلباء کو یہ باور کرانے کی کوشش کی ہے کہ ترقی کے لئے تعلیم بنیادی ضرورت ہے قطع نظر اس سے کہ وہ تعلیم ، دینی ہو کہ دنیوی . لہذا دینی مدارس کے طلباء کو ہمت و حوصلہ سے کام لیتے ہوئے دینی و دنیوی دونوں میدانوں میں بحیثیت وارثین انبیاء قوم کی ہر میدان میں رہنمائی کرنے کی پوری کوشش کرنی چاہئے . اللہ تعالیٰ ہمارے طلباء کو اس کی توفیق دے .

اس مبارک موقعہ کی مناسبت سے امژو زون ٹیم نے ان کا مختصراً تعارف قوم کے سامنے پیش کرنا اپنا اخلاقی فریضہ اور قومی ضرورت محسوس کیا تاکہ آئندہ آنے والی نئی نسل ان سے بھی بہتر تعلیمی میدان میں اپنی کارکردگی پیش کر سکے . آپ کا نام نامی واسم گرامی محمد شہباز ، والد محترم کا نام حافظ عباس صاحب اور کنبہ یعنی خاندان کا نام دمکار ہے . آپ کے والد صاحب قوم ناخدا کے دینی مدارس کے شعبہ حفظ کے ایک بہترین استاد ہیں . آپ کا اصل آبائی وطن ہینی ، کاگل ، کمٹہ ہے ، لیکن آپ شادی کے بعد اپنی اہلیہ کے محلہ عطار محلہ ، تینگن گنڈی میں آکر مقیم ہو گئے تھے .

آپکی پیدائش جنوبی ہند کی ریاست کرناٹکا کے شہر بھٹکل کے علاقہ عطار محلہ تینگن گنڈی میں یکم اگست 1995 ء کو ہوئی .

موصوف نے مکتب کی ابتدائی تعلیم کے ساتھ دو سالہ عالمیت کی تعلیم ، جنوبی ہند کی قوم ناخدا کے مشہور و معروف دینی ادارہ ، مدرسہ عربیہ تعلیم القرآن تینگن گنڈی میں حاصل کی . بعدازاں عالمیت کی بقیہ چھ سالہ تعلیم ، جنوبی ہند کی مشہور ومعروف دینی درسگاہ جامعہ اسلامیہ بھٹکل میں حاصل کرکے عالمیت کی سند فراغت حاصل کی . پھر اعلی تعلیم کے لئے ہندوستان کی مشہور و معروف دینی درسگاہ ، ” دارالعلوم ندوۃ العلماء ” میں داخلہ لے کر شعبہ ” الدعوہ ” میں تخصص کیا . بعدازاں ہندوستان و دارالعلوم ندوۃ العلماء کی مشہور ومعروف شخصیت کے زیر نگرانی چلنے والے کورس ” الدراسات للعلیا ” کا ایک سالہ کورس کر کے واپس اپنے وطن لوٹے .

دارالعلوم ندوۃ العلماء سے فراغت کے بعد جب آپ اپنے وطن واپس لوٹے تو آپ نے پہلی فرصت میں اپنا داخلہ جامعہ اسلامیہ بھٹکل کے شعبہ حفظ میں لے کر تقریباً دو سال میں شعبہ حفظ سے سند فراغت حاصل کی . اور دوران حفظ دہلی اردو بورڈ سے SSLC کا اور چنئ مدراس سے IELTS یعنی International English Language Testing System کا امتحان پاس کیا . اب محض اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم ، والد ماجد کی دینی خدمات اور خلوص کی برکت اور مشفق اساتذہ کرام کی رہنمائی سے ” انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی ملیشیا ” میں قوم ناخدا کے بیرون ملک اعلی تعلیم حاصل کرنے والے سب سے پہلے دینی مدارس کے ایک مایۂِ ناز و قابل فخر طالب علم کی حیثیت سے اسلامک بینکنگ اینڈ فائنانس میں ماسٹریٹ کا وہ کورس کر رہے ہیں جس پر انکی قوم ، قوم ناخدا کو فخر اور ناز ہونا چاہئے .

موصوف کے اسلامک بینکنگ اینڈ فائنانس میں ماسٹریٹ کے اسباب میں سے ایک سبب Mass Communication Journalism میں بعض أعذار کی بنا پر داخلہ کے ارادہ کو ترک کرنا تھا . اور دوسرا اہم سبب مذکورہ کورس میں داخلہ کا ارادہ منقطع کرنے کے بعد دارالعوام ندوۃ العلماء کے انگریزی کے استاد محترم جناب بدر الدین صاحب ندوی کا مشورہ تھا ، لیکن اس کے لئے IELTS یعنی انٹرنیشنل انگلش لنگویج ٹیسٹنگ سسٹم کا امتحان دینا ضروری تھا . یہ امتحان بیرون ممالک کی ہر یونیورسٹی میں داخلہ کے لئے ضروری ہوتا ہے . چونکہ موصوف اس سے قبل ہی حفظ قرآن پاک کا ارادہ کر چکے تھے لہذا اسکو ترک کرنے کے بجائے پوری محنت و جانفشانی کے ساتھ اللہ کی ذات عالی پر بھروسہ کرتے ہوئے اپنے مقاصد میں کامیابی کا صرف عزم مصمم ہی نہیں کیا بلکہ اس کو پورا بھی کرکے دکھایا اور تقریباً دو سالہ عرصہ میں حفظ قرآن کی تکمیل بھی کی . ذالک فضل اللہ یؤتیہ من یشاء .

اسکے بعد موصوف کے لئے اسلامک بینکنگ اینڈ فائنانس کی راہیں کھل گئیں تو موصوف اسی میں ماسٹریٹ کے ارادہ سے ملیشیا چلے گئے اور وہاں کی انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی میں داخلہ لیکر اسلامک بینکنگ اینڈ فائنانس میں ڈاکٹریٹ کر رہے ہیں .

یقیناً موصوف کا یہ اقدام قوم ناخدا کے جمیع علماء کرام اور طلباء کے لئے ایک بہترین ایڈیل اور نمونہ ہے کہ وہ بھی اپنی ذاتی محنت سے دینی تعلیم کے حصول کے ساتھ ساتھ موجودہ دور کے عصری علوم میں مہارت حاصل کرکے دین سے وابستہ رہتے ہوئے قوم و ملت کی خدمت کر سکتے ہیں .

اس موقعہ پر امژو زون ٹیم اس بات پر قوم کی توجہ مبذول کرانا چاہتی ہے کہ وہ صرف دنیوی تعلیم پر ہی اپنی توجہات مرکوز نہ کرے بلکہ بین بین کی روش اختیار کرتے ہوئے ہمارے آبائی بزرگوں کی سابقہ قابل تعریف اور دینی مزاج سے ہم آہنگ طریقہ کو اپناتے ہوئے اپنی اولاد میں سے نصف بیٹوں اور بیٹیوں کو دینی تعلیم سے آراستہ کریں اور نصف کو دنیوی تعلیم سے ، تاکہ ہم دین و دنیا کے مسائل کا حل بآسانی کر سکیں . اگر ہم اپنے بزرگوں کی اس روایت کو برقرار نہیں رکھیں گے تو ہم تعلیم کے ہوتے ہوئے بھی بے چینی اور بے دینی کا شکار ہو کر آپسی انتشار اور بداخلاقی کا شکار ہو جائیں گے اور دنیا میں ہمارا وجود ایک زندہ اور دیندار قوم کی حیثیت سے برقرار نہیں رہ سکے گا . اللہ اس زوال وانحطاط سے قوم ناخدا اور دیگر تمام مسلم اقوام کو محفوظ اور سلامت رکھے . آمین .

امژو زون ٹیم موصوف کے علمی اقدام کو سراہتے ہوئے انھیں مبارکباد پیش کرتی ہے اور مختلف علمی میدانوں میں مزید ترقی کی راہیں ہموار ہونے کے لئے دعا کرتی ہے کہ اللہ تعالیٰ ان سے خوب علمی ودینی کام لیتا رہے اور قوم ناخدا کو انکے فیوض سے فیض یاب کرتا رہے . آمین .

مولوی شہباز کے والد حافظ عباس صاحب دمکار

--Advertisement--

2 تبصرے

  1. الحمدللہ بڑی خوشی کی بات حی۔ اللہ تعالی انہیں کامیابی سے نوازے ۔۔۔۔آمین

اظہارخیال کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here