رفع یدین احادیث مبارکہ کی روشنی میں

1
2073

از : مولانا عبدالقادر بن إسماعيل فیضان باقوی ، جامعہ آباد ، تینگن گنڈی ، بھٹکل ، امام و خطیب جامع مسجد محمد عشیر علی سلیمان المزروعی ، ابو ظبی ، متحدہ عرب امارات . 

عن سالم بن عبدالله عن ابيه ، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يرفع يديه حذو منكبيه إذا افتتح الصلاة ، وإذا كبر للركوع ، وإذا رفع رأسه من الركوع رفعها كذالك ، وقال سمع الله لمن حمده ربنا ولك الحمد ، وكان لا يفعل ذالك في السجود . حضرت سالم بن عبداللہ نے اپنے باپ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم ، اپنے دونوں ہاتھوں کو اپنے دونوں شانوں کے مقابل ( برابر ) اٹھایا کرتے تھے جب آپ ( صلی اللہ علیہ و سلم ) نماز کا آغاز کیا کرتے ، اور جب آپ رکوع کے لئے تکبیر کہتے ، اور جب اپنے سر کو رکوع سے اٹھاتے تو ان دونوں کو اسی طرح اٹھایا کرتے ، اور سمع الله لمن حمده ، ربنا ولك الحمد کہتے ، اور آپ ( صلی اللہ علیہ و سلم ) اس کو سجدہ میں نہیں کیا کرتے ) ( بخاری ، ج/2 ، ص/219 ) کتاب الأذان : باب رفع الیدین إذا کبر ، الحدیث ( 736 ) ومسلم ( ج/1 ، ص/292 ) کتاب الصلاة : باب استحباب رفع اليدين حذوالمنكبين ، الحديث ،( 22 ) ومالک، و ابوعوانہ ، وابوداود ، وترمذی ، ونسائی ، وابن ماجہ ، وابن حبان ، ودارقطنی ، والبیھقی ، والطحاوی ، والبغوی ، وغیرہ ، وقال الترمذي : حديث حسن صحيح .

حضرت عبد اللہ بن عمر نے نافع سے ، انھوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت کیا ہے کہ جب وہ نماز میں داخل ہوتے تو اللہ اکبر کہتے اور اپنے دونوں ہاتھوں کو اٹھا تے ، اور جب رکوع کرتے تو اپنے دونوں ہاتھوں کو اٹھا تے ، اور جب سمع الله لمن حمده کہتے ، تب اپنے دونوں ہاتھوں کو اٹھا تے . اور اس حدیث کو ابن عمر رضی اللہ عنہما نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم تک پہونچایا ہے . حدیث کے اس سلسلہ کے متعلق امام بخاری کہتے ہیں کہ اصح الأسانيد ، مالك عن نافع عن ابن عمر ہے . علامہ امام بغوی رحمہ اللہ ( متوفی/516 ) اپنی معرکہ آرا کتاب ” التہذیب ” کی دوسری جلد کے صفحہ نمبر 84 پر لکھتے ہیں ، قال الشيخ ( رحمہ اللہ ) ولم يذكر الشافعي ( رضي الله عنه ) رفع اليدين عندالقيام من الركعتين ، اور آپ کا مذہب اتباع سنت ہے ، اور یہ ابن عمر رضی اللہ عنہما کی روایت سے نافع کے طریقہ سے ثابت ہے ، اور ان ( نافع ) سے عبداللہ بن عمر اور ایوب آور صحابہ کی ایک جماعت نے رسول اللہ ( صلی اللہ علیہ و سلم ) سے روایت کیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے ان چار جگہوں میں رفع یدین کیا ہے ، ان ( جماعت کے لوگوں ) میں علی اور ابو ہریرہ ہیں ، اور ابو حمید الساعدی نے صحابہ کی ایک جماعت کے سامنے رسول اللہ ( صلی اللہ علیہ و سلم ) کی نماز کی صفت بیان کی ہے ، اور ان چار جگہوں میں رفع یدین کا ذکر کیا ہے ، اور ان تمام ( صحابہ ) نے اس کی تصدیق کی ہے ، اور یہی اکثر اہل علم کا قول ہے ۔

--Advertisement--

1 تبصرہ

  1. کتاب: نماز کے احکام و مسائل باب: نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم صرف پہلی مرتبہ ہاتھ اٹھاتے تھے حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَلْقَمَةَ، قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ:‏‏‏‏ أَلَا أُصَلِّي بِكُمْ صَلَاةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏فَصَلَّى فَلَمْ يَرْفَعْ يَدَيْهِ إِلَّا فِي أَوَّلِ مَرَّةٍ . قَالَ:‏‏‏‏ وَفِي الْبَاب عَنْ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ حَدِيثُ ابْنِ مَسْعُودٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ، ‏‏‏‏‏‏وَبِهِ يَقُولُ:‏‏‏‏ غَيْرُ وَاحِدٍ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالتَّابِعِينَ، ‏‏‏‏‏‏وَهُوَ قَوْلُ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ وَأَهْلِ الْكُوفَةِ. عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ نے کہا: ”کیا میں تمہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرح نماز نہ پڑھاؤں؟ تو انہوں نے نماز پڑھائی اور صرف پہلی مرتبہ اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے جامع ترمذی257 سند صحیح امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابن مسعود رضی الله عنہ کی حدیث حسن ہے، ۲- اس باب میں براء بن عازب رضی الله عنہما سے بھی حدیث آئی ہے، ۳- صحابہ کرام اور تابعین میں سے بہت سے اہل علم یہی کہتے ہیں اور یہی سفیان ثوری اور اہل کوفہ کا بھی قول ہے۔ نوٹ۔ اس مسئلے میں احادیث دونوں طرف ہیں اسلئے دونوں کا جواز ہے اور اختلاف صرف ترجیح عدم ترجیح کا ہے حلال حرام کا نہیں ہے۔ اور امام ترمذی چھ بڑے اہل حدیث یعنی محدثین میں سے ہیں۔ ان کا ارشاد ہے کہ عدم رفع الیدین پر بھی صحابہ، تابعین میں سے بہت سے اہل علم کا عمل رہا ہے۔ اسلئے اس معاملے میں کوئی کسی کو مطعون نا کرے اور نا ہی اسے بحث مباحثے کا موضوع بنایا جائے۔

اظہارخیال کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here