کھڑے ہو کر پانی پینے کے بیان میں وارد شدہ احادیث اور اس سلسلہ میں علماءِ عظام کی آراء

0
2617

از : مولانا عبدالقادر بن إسماعيل فیضان باقوی ، جامعہ آباد ، تینگن گنڈی ، بھٹکل ، امام و خطیب جامع مسجد عشیر بن علی المزروعی ، ابو ظبی ، متحدہ عرب امارات

اس بات میں شک نہیں کہ کھڑے رہ کر پانی پینے کے مقابلہ میں بیٹھ کر پانی پینا افضل اور بہتر ہے ، لیکن کھڑے رہ کر پانی پینا بھی جائز ہے نہ کہ حرام اورمکروہ ۔ واللہ اعلم ۔

صحیح احادیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ سے آب زمزم اور دوسرا پانی کھڑے رہ کر پینا ثابت ہے ۔عبداللہ بن عباس ، علی اور ابن عمر رضی اللہ عنھم اجمعین سے روایت کردہ بعض مندرجۂ ذیل احادیث سے استدلال کرتے ہوئے۔
پہلی حدیث : ‘‘ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللہُ عَنْھُمَا قَالَ سَقَیْتُ النَّبِیَّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مِنْ زَمْزَمَ ، فَشَرِبَ وَھُوَ قَائِمٌ ’’ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنھما سے منقول ہے کہ انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو زمزم کا پانی پلایا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو کھڑے رہنے کی حالت میں نوش فرمایا ۔ ( بخاری ومسلم )
دوسری حدیث : حضرت نزال بن سبرہ رضی اللہ عنہ سے منقول ہےکہ انہوں نے کہاکہ علی (رضی اللہ عنہ کوفہ کے) صحن کے دروازہ کے پاس آئے ، پھر انہوں نے کھڑے رہ کر (پانی) پیا ، اور کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسا کرتے ہوئے دیکھا ہے جیسا تم مجھے کرتے ہوئے دیکھ رہے ہو ۔ (بخاری)
تیسری حدیث : حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایاکہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں چلتے ہوئے کھاتے اور کھڑے رہنے کی حالت میں پیتے تھے ۔ (امام ترمذی نے اس حدیث کو روایت کرکے حسن صحیح کہا ہے)
چوتھی حدیث : حضرت عمرو بن شعیب اپنے باپ سے ، اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کھڑے اور بیٹھے رہنے کی حالت میں پیتے ہوئے دیکھا ہے ۔ ( ترمذی نے اس حدیث کو روایت کرکے حسن صحیح کہا ہے۔)
یہ چند حدیثیں تھیں جو کھڑے رہ کر کھانے پینے کے جواز پر دلالت کرتی ہیں
ہمیں یہ معلوم ہونا چاہیے کہ ان احادیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا کھڑے رہ کر ( کھانا ) پینا بیان جواز کیلئے ہے ، ورنہ اکمل وافضل بیٹھ کر ہی کھانا پینا ہے ۔ جیسا کہ امام نووی نے باب دیا ہے ‘‘ کھڑے رہ کر پینے کا جواز ، اور اس بات کا بیان کہ اکمل وافضل بیٹھ کر ہی پینا ہے ۔ اس سلسلہ کی چند احادیث مندرجۂ ذیل ہیں ۔
پہلی حدیث : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے رہ کر پینے سے منع فرمایا ہے ، اور ایسے شخص کو ڈانٹا ہے . نیچے آنے والی چند احادیث ملاحظہ ہوں
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ ‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے رہ کر پینے سےمنع فرمایا ہے۔ قتادہ کہتے ہیں کہ ہم نے انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ تب کھانا ؟ انہوں نے کہا کہ یہ تو زیادہ خراب یا برا ہے۔ (مسلم)
دوسری حدیث : ان ہی سے روایت کردہ ایک حدیث میں آتا ہے کہ ‘‘ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے رہ کر پینے والے کو ڈانٹا ہے ۔’’
تیسری حدیث : حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ انہوں نے کہا کہ ‘‘ تم میں سے کوئی کھڑے رہنے کی حالت میں نہ پئے ، پس جو شخص بھول (کر پی ) جائے تو چاہئے کہ وہ قئے کرے’’ (مسلم)
( واضح ہوکہ یہ بیٹھ کر پینے پر زور دینے کیلئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے ) واللہ اعلم ۔ اور یہ احادیث صرف نہی تنزیہی پر دلالت کرتی ہیں ۔ ( فیضان الحج ، 413 )

کھڑے رہ کر پینے کے جواز کے سلسلہ میں علماءِ عظام کی آراء

علماءِ کرام نے کھڑے رہ کر پینے کے سلسلہ میں بسیط اور کثیر اختلاف کیا ہے، اس اختلاف کا ماحصل چھ اقوال پر منحصر ہے۔
پہلا قول یہ ہےکہ کھڑے رہ کر پینے کی نہی ، نہئِ تنزیہی ہے ۔ ایسے میں کھڑے رہ کر پانی وغیرہ پینا جائز ہوگا ۔ یہی امام نووی اور علامہ سیوطی وغیرہ کا مختار قول ہے ، اور اکثر احناف کا بھی یہی مختار قول ہے ، حتی کہ امام حلبی نے اسپر اجماع نقل کیاہے۔
دوسرا قول یہ ہے کہ مذکورہ نہی ، زمزم اور وضو کے بچے ہوئے پانی کے علاوہ کیلئے ہے۔ اور یہ بعض اصحابِ حنفیہ کا مختار قول ہے ، جیسے صاحبِ منیہ اور صاحبِ درمختار وغیرھما کا ۔
تیسرا قول یہ ہے کہ آب زمزم کا کھڑے ہوکر پینا ضرورت اور بیٹھنے کی جگہ نہ ملنے کی وجہ سے تھا ۔
چوتھا قول یہ ہے کہ کھڑے رہ کر پینے کی حدیث منسوخ ہے ، اور اسی کی طرف ابن حزم گئے ہیں ۔
پانچواں قول یہ ہے کہ کھڑے رہ کر پینے کو منع کرنے کی حدیث منسوخ ہے ، اور اثرم اسی کی طرف مائل ہوئے ہیں ، لیکن امام نووی رحمہ اللہ نے اس کو سختی سےمسترد کیا ہے۔
چھٹا وہ قول ہےجسکو امام طحاوی نے اختیار کیا ہے کہ نہی نقصان پہونچنے کی وجہ سے ہے، اس طرح یہ ایک طبی ارشاد کی چیز ہے، نہ کہ شرعی۔

--Advertisement--

اظہارخیال کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here