روح کی حقیقت اور آتما سے متعلق چند غلط فہمیوں کا ازالہ

0
2221

مرتب : ابو اللیث بن عبد المجيد ، فردوس نگر ، تینگن گنڈی ، بھٹکل .

روح وہ لطیف شئ ہے جو کسی کو نظر تو نہیں آتی لیکن ہر جاندار کی قوت و توانائی اسی روح کے اندر مضمر ہے .

اس کی حقیقت و ماہیت کیا ہے؟ یہ کوئی نہیں جانتا . یہودیوں نے بھی ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم سے اس کی بابت پوچھا تو سورۂ بنی اسرائیل کی آیت نمبر پچاسی نازل ہوئی ( بخاری و مسلم )

آیت کا مطلب یہ ہے کہ تمھارا علم اللہ کے علم کے مقابلہ میں قلیل ہے اور یہ روح جس کے بارے میں تم پوچھ رہے ہو اس کا علم تو اللہ نے انبیاء سمیت کسی کو بھی نہیں دیا ہے . بس اتنا سمجھو کہ یہ میرے رب کا امر یعنی حکم ہے یا میرے رب کی شان میں سے ہے جس کی حقیقت کو صرف وہی جانتا ہے .

انسان کے مرنے کے بعد اس کی روح کا دوبارہ دنیا میں لوٹ کر آنے والے عقیدہ کا اسلامی عقیدہ سے کوئی تعلق نہیں ہے یہ ایک خالص ہندوانہ عقیدہ ہے جو ذرائع ابلاغ کے ذریعہ مسلمانوں میں بھی رائج وراسخ ہوتا جا رہا ہے . جس کی ایک جیتی جاگتی مثال یکم جولائی 2018 ء کو دہلی کی بُراڈی فیملی کے گیارہ لوگوں کے ایک ساتھ خُود کشی کا واقعہ ہے ۔

پولیس نے جب اس واقعہ کی تحقیقات کی تو اُن کو ایک پرسنل ڈائری ملی ، جب ڈائری دیکھی گئی تو پتہ چلا کہ اُن کے مرے ہوئے باپ کی روح واپس آتی اور اُن کو بار بار یہ کہتی کہ ” موکشا سیلویشن ” یعنی نجات پانے کے لیے اُن کو خُود کشی کرنا ہوگا ۔ لہٰذا اسی چیز کی پیروی کرتے ہوئے گیارہ کے گیارہ لوگوں نے ایک ساتھ خُود کشی کی ۔

لیکن افسوس کے ساتھ یہ کہنا پڑ رہا ہے کہ آج یہ عقیدہ صرف ہندؤں میں ہی نہیں بلکہ بہت سارے دیگر باطل مذاہب کے ساتھ مسلمانوں میں بھی پایا جاتا ہے کہ مرنے کے بعد بھی انسان کی روح یا آتما واپس آتی ہے ۔

بہت سارے مسلمان یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ اُن کے مرے ہوئے دادا کی روح اُن کے جسم میں آتی ہے اور اُسی آواز میں اُسی انداز میں بات کر رہی ہوتی ہے اور بہت ساری ایسی چیزیں بتا رہی ہوتی ہے جو لوگوں کو معلوم ہی نہیں ہوتیں یعنی وہ غیب کی باتیں بتا رہی ہوتی ہے ۔ اور اکثر مسلمان یہ بھی دعویٰ کرتے ہیں کہ مرے ہوئے بابا یا پیر صاحب اُن کے خواب میں آتے ہیں اور انھیں حکم دیتے ہیں کہ اُن کی قبر کے اُوپر کوئی مِنار یا قبّہ یا گنبد بنائے ورنہ اُن کے اُوپر آفت آ سکتی ہے ۔ صرف یہی نہیں بلکہ بہت سارے مسلمان یہ عقیدہ بھی رکھتے ہیں کہ 15/شعبان کی رات یعنی شب برات کو مرے ہوئے لوگوں کی روحیں واپس آتی ہیں لہذا زندہ لوگ اپنے مردوں کے لئے وہ بہترین کھانے بنا کر رکھتے ہیں جو انھیں دنیا میں پسند تھے . حتیٰ کہ دیہاتوں اور قریوں میں اُن کے لئے سیندی ، شراب اور سگریٹ جیسی چیزیں بھی رکھی جاتی ہیں ۔

 اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ مرنے کے بعد انسان کی روح جاتی کہاں ہے ؟

 اگر آپ احادیث کا بغور مطالعہ کریں گے تو آپ کو پتہ چلےگا کہ مرنے کے بعد لوگوں کی روحیں عالمِ برزخ میں پہونچ جاتی ہیں . پھر ان میں سے نیک روحوں کو عِلِّیِّین میں رکھا جاتا ہے اور برے لوگوں یعنی مشرک ، فاسق ، فاجر اور کافر کی روحوں کو سِجّیین میں رکھا جاتا ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے سورہ مُطَفِّفِین میں ارشاد فرمایا کہ ’’ کلّا اِنَّ کِتَابَ الفُجَّارِ لَفِیْ سِجِّیْن ‘‘ اور آگے اللہ رب العزت فرماتا ہے کہ ’’ کَلَّا اِنَّ کِتَابَ الاَبْرَارِ لَفِیْ عِلِّیِّیْن ‘‘ تو معلوم ہوا کہ مرنے کے بعد انسان کی روح بھٹکتی نہیں ہے بلکہ اچھی روح عِلِّیِّین میں چلی جاتی ہے اور فاسق ، فاجر ، کافر اور مشرک کی روح سِجّین میں چلی جاتی ہے ۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہم جو مرے ہوئے لوگوں کے سائے اور شکلیں دیکھتے ہیں یا آوازیں سُنتے ہیں تو یہ کیا چیز ہے ؟ اگر یہ روح نہیں ہے تو پھر کیا ہے ؟

 صحیح مسلم کی روایت میں رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ’’ ہر انسان کے ساتھ ایک جن کا بچہ پیدا ہوتا ہے ‘‘ جسے قرین کہتے ہیں صحابہ کرام رضی اللہ عنھم نے اللہ کے رسولﷺ سے سوال کیا کہ ’’ یا رسول اللہ! ﷺ کیا یہ آپ کے ساتھ بھی ہے ؟ ‘‘ تو رسول ﷺ نے کہا ’’ ہاں میرے ساتھ بھی ہے مگر وہ مسلمان ہو چکا ہے ‘‘ اور وہ سوائے اچھی اور نیک بات کے مجھ سے کچھ نہیں کہتا ۔

تو معلوم ہوا کہ ہر انسان کے سات ایک جن کا بچہ پیدا ہوتا ہے جسے قرین کہتے ہیں ۔ اللہ رب العزت قرآن میں قرین کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ ’’وَ مَنْ یَّعْشُ عَن ذِکرِ الرَّحمٰنِ نُقَیِّضْ لَہٗ شَیطَاناً فَھُوَ لَہٗ قَرِینٌ ‘‘ اللہ ربُّ العزت نے یہاں پر قرین کاذکر کیا ہے . قرین وہ جن ہوتا ہے جو ہمیشہ آپ کے ساتھ لگا رہتا ہے آپ جہاں جاتے ہیں وہ آپ کے ساتھ آتا ہے ۔ اس لئے اللہ کے رسولﷺ نے ہمیں مختلف اوقات کی دعائیں بتائی ہیں ۔ حمام میں جانے سے پہلے کی دعا ، کھانے سے پہلے کی دعا حتیٰ کہ بیوی کے ساتھ ہم بستری کرنے کی بھی ۔

جب انسان مر جاتا ہے تو اُس کا قرین نہیں مرتا بلکہ وہ یہاں وہاں گھومتا پھرتا رہتا ہے اور شیاطین اور جنّات کا مقصد انسان کے عقائد خراب کر کے انھیں گمراہ کرنا ہوتا ہے ۔ اس لئے وہ واپس آتے ہیں فیملی کے کسی فرد کے جسم میں داخل ہوتے ہیں اور داخل ہو کر اُن ہی کی زبان اور اُن ہی کی آواز میں بات کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ فلاں جگہ پہ میں نے خزانہ چھپا یا تھا ، فلانی جگہ فلانی چیز رکھی تھی ، فلاں آدمی نے میرا قتل کیا تھا ، فلاں آدمی نے مجھے زہر دیا تھا وغیرہ یہ سب وہ چیزیں ہیں جو غیب سے تعلق رکھتی ہیں ۔ لہٰذا لوگ پریشان ہوجاتے ہیں اور یہ تسلیم کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں کہ حقیقت میں بابا کی یا پھر دادا کی یا ماما کی روح واپس آئی ہے ۔ اور اسی چیز کا فائدہ اُٹھاتے ہوئے شیاطین اور جنات انسان سے شرک کراتے ہیں ۔ شرک وہ گناہ ہے کہ جس کو کرنے سے اللہ انسان پر جنت کو حرام ٹہراتا ہے جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے ’’ اِنَّہٗ مَن یُشرِکْ بِا للّٰہِ فَقَدْ حَرَّمَ اللہُ عَلَیہِ الجنَّةَ ‘‘ بیشک جو شخص اللہ کے ساتھ شریک ٹہراتا ہے اللہ رب العزت اُس پر جنت کو حرام کر دیتا ہے ۔

لہٰذا ہمیں اچھی طرح سے یہ بات ذہن نشین کر لینی چاہئے کہ ہم جو سائے دیکھتے ہیں یا آوازیں سنتے ہیں یہ حقیقت میں شیاطین اور جنات ہوتے ہیں جو مرے ہوئے آدمی کی شکل اختیار کر کے یا پھر اُن کی آواز اختیار کرکے بات کر تے ہیں اور لوگ یہ سمجھ بیٹھتے ہیں کہ وہ مرے ہوئے آدمی کی روح ہے ۔ آپ نے اس بات پر بھی غور کیا ہوگا کہ بسا اوقات آپ کسی بابا یا بزرگ کے پاس جاتے ہیں تو وہ آپ کو دیکھتے ہی آپ کی غیب کی باتیں بتانا شروع کر دیتے ہیں ۔کہتے ہیں کہ آپ کے گھر میں یہ مسئلہ چل رہا ہے آپ کے فیملی میں اتنے لوگ ہیں ، آپ کے گھر میں اتنے کمرے ہیں وغیرہ وغیرہ . ان سب چیزوں کا علم انھیں کیسے ہوتا ہے ؟

ہمیں معلوم ہو چکا ہے کہ ہر انسان کے ساتھ ایک قرین ہوتا ہے خواہ وہ نیک ہو یا برا ، مسلمان ہو یا غیر مسلم . لہذا جادوگر اپنے سفلی علم کے ذریعہ اپنے قرین یا جنات سے بات کرتے ہیں ، اور وہ جنّات آپ کے قرین سے پوچھتے ہیں اور یہ ساری معلومات جادوگروں کو فراہم کرتے ہیں ، جب آپ اُن کے پاس جاتے ہیں تو وہ فرفر آپ کو غیب کی باتیں بتانا شروع کر دیتے ہیں اور یہ سُن کر آپ پریشان ہو جاتے ہیں . اور آپ کو یوں محسوس ہونے لگتا ہے کہ یہ بہت پہنچے ہوئے بابا ہیں ۔

امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کے دور میں بھی کچھ ایسا ہی واقعہ ہوا کہ ایک آدمی آیا اُس نے کہا کہ تم گیہوں کے دانے گن کر لاؤ میں بس تھیلا دیکھتے ہی بتا دونگا کہ تم لوگوں کے تہیلہ میں کتنے دانے ہیں ۔ جب سب لوگ اپنے اپنے تھیلے لے کر آتے تو وہ انھیں بتاتا جاتا لیکن جب امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ اپنا تھیلا لے کر آئے تو وہ بتا نہیں پایا تو امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ نے کہا کہ ’’ تو جادوگر اور ساحر ہے یہاں سے چلا جا ورنہ تیری شکایت میں خلیفہ سے کر دونگا ‘‘ وہ چلا گیا . لوگوں نے پوچھا کہ ہمارے تھیلے میں جتنے دانے تھے وہ بتا پایا مگر آپ کے تھیلہ کے کیوں بتا نہیں پایا ؟ تو امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ نے کہا کہ ’’ جب تم لیکر آئے تو گن کر لائے ، مگر جب میں لایا تو میں بھر کے لایا ، تو میرا جو قرین تھا وہ گن نہیں سکا ، اوراُس کا قرین اُس سے وہ معلومات حاصل نہیں کر سکا .

ان حقائق سے یہ بات کھل کر سامنے آجاتی ہے کہ انسان کے مرنے کے بعد اس کی روح یا آتما کا دوبارہ دنیا میں واپس آنے والے عقیدہ کا اسلامی عقائد سے کوئی تعلق نہیں ہے اور یہ ایک مشرکانہ عقیدہ ہے جو ہمارے مسلم معاشرہ میں بھی سیریلوں اور ٹیلی ویژنوں کے ذریعہ عام ہوتا جا رہا ہے .

اللہ سے دعا ہے کہ وہ غلط عقائد سے ہر مسلمان معاشرہ کو اپنے حفظ و أمان میں رکھے . آمین .

--Advertisement--

اظہارخیال کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here