انسانی معاشرہ پر قرآنی اثرات

0
3291

از : محمد زبیر ندوی شیروری

قرآن کریم نے اپنا تعارف خود اپنی زبانی جس عظمت اور عمدگی کے ساتھ کرایا ہے وہ کسی اور ذرائع و طرق سے ممکن نہیں تھا جس کی تفصیلات کا یہاں موقعہ نہیں ہے کیوں کہ قرآن اللہ کا ایک ایسا کلام ہے جس کی نظیر پیش کر نے سے انسان ہر دور میں عاجز و بے بس رہا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے

قُلْ فَأْتُوْا بِسُوْرَۃٍ مِّنْ مِّثْلِہ وَادْعُوْا شُھَدَاءَکُمْ مِنْ دُوْنِ اللَّهِ اِنْ کُنْتُمْ صَادِقِيْنَ.

الٓمّٓرٰ o کِتٰبٌ اُحْکِمَتْ اٰیٰتُہٗ ثُمَّ فُصِِّلَتْ مِنْ لَّدُنْ حَکِیْمٍ خَبِیْرٍ o

وَ اِنَّه لَتَنْزِیْلُ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ نَزَلَ بِہِ الرُّوْحُ الأمِیْنُ عَلٰی قَلْبِکَ لِتَکُوْنَ مِنَ الْمُنْذِرِیْنَ بِلِسَانٍ عربیٍ مُّبِیْنٍ o

ہر فرد بشر کو قرآن سے متعارف ہونا ضروری ہے تبھی وہ قرآن کی اہمیت معنویت اور افادیت کو سمجھ کر یہ معلوم کر سکتا ہے کہ قرآن ہر انسان کے لئے ایک مکمل ضابطہ حیات ہے . اور رشد و ہدایت کا ایسا سرچشمہ ہے جس میں انسانی ہر امور کے حل اور عقدہ کشائی کا سامان ہے .جس سے ہر فرد بشر اپنے لئے صحیح راستہ پا سکتا ہے . ﻗﺮﺁﻥ ﺍﯾﺴﺎ ﭼﺮﺍﻍ ﮨﮯ ﺟﺲ ﮐﯽ ﻟﻮ ﺧﺎﻣﻮﺵ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﯽ ، جس ﮐﮯ ﻣﻌﺎﻧﯽ ﻻﻣﺘﻨﺎﮨﯽ ﺍﻭﺭ ﺍﺑﺪﯼ و سرمدی ﮨﯿﮟ ۔ ﻗﺮﺁﻥ ﻭﮦ ﺁﺳﻤﺎﻧﯽ ﻗﺎﻧﻮﻥ ﮨﮯ ﺟﻮ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﯽ ﺩﻧﯿﻮﯼ ﺍﻭﺭ ﺍﺧﺮﻭﯼ ﺳﻌﺎﺩﺕ ﮐﯽ ﺿﻤﺎﻧﺖ ﺩﯾﺘﺎ ﮨﮯ ۔ ﻗﺮﺁﻥ ﮐﯽ ﮨﺮ ﺁﯾﺖ ﮨﺪﺍﯾﺖ ﮐﺎ ﺳﺮﭼﺸﻤﮧ ﺍﻭﺭ ﺭﺣﻤﺖ ﻭ رہنمائی ﮐﯽ ﮐﺎﻥ ﮨﮯ ۔ ﺟﻮ ﺑﮭﯽ ﺍﺑﺪﯼ ﺳﻌﺎﺩﺕ ﺍﻭﺭ ﺩﯾﻦ ﻭ ﺩﻧﯿﺎ ﮐﯽ ﻓﻼﺡ ﻭ ﮐﺎﻣﯿﺎﺑﯽ ﮐﺎ ﺁﺭﺯﻭ ﻣﻨﺪ ہو ﺍﺳﮯ ﭼﺎﮨئے ﮐﮧ شب ﻭ ﺭﻭﺯ ﻗﺮﺁﻥ ﮐﺮﯾﻢ ﺳﮯ اپنا تعلق قائم و دائم رکھے ، ﺍﺱ ﮐﯽ ﺁﯾﺎﺕ ﮐﺮﯾﻤﮧ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﮯ ﺣﺎﻓﻈﮧ ﻣﯿﮟ ﺟﮕﮧ ﺩﮮ ﺍﻭﺭ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﺍﭘﻨﯽ ﻓﮑﺮ ﺍﻭﺭ ﻣﺰﺍﺝ ﻣﯿﮟ ﺷﺎﻣﻞ ﮐﺮﮮ ﺗﺎﮐﮧ ﮨﻤﯿﺸﮧ ہمیش ﮐﯽ ﮐﺎﻣﯿﺎﺑﯽ ﺍﻭﺭ نہ ﺧﺘﻢ ﮨﻮﻧﮯ ﻭﺍﻟﯽ ﺗﺠﺎﺭﺕ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﻗﺪﻡ ﺑﮍﮬﺎ ﺳﮑﮯ . قرآن کا سمجھ کر پڑھنے والا قرآن کے فرمودات اور باریک بینیوں اور ﻧﮑﺎﺕ ﺳﮯ ﺑﺎﺧﺒﺮ ﮨﻮ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ ۔ ﮐﯿﻮﮞ ﮐﮧ ﺟﺐ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﮐﯽ ﻧﻈﺮ ﺍﯾﺴﯽ ﭼﯿﺰ ﭘﺮ ﭘﮍﮮ ﺟﻮ ﺍﺳﮯ ﭘﺴﻨﺪ ﮨﻮ ﺗﻮ ﺍﺱ ﮐﺎ ﻧﻔﺲ ﺧﻮﺷں ﮨﻮ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﺍﭘﻨﯽ ﺑﺼﺎﺭﺕ ﺍﻭﺭ ﺑﺼﯿﺮﺕ ﻣﯿﮟ ﺭﻭﺷﻨﯽ ﻣﺤﺴﻮﺱ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﮯ ۔ ﻗﺮﺁﻥ ﮐﮯ ﺍﻟﻔﺎﻅ ﭘﺮ ﺟﺐ ﺑﮭﯽ ﻗﺎﺭﯼ ﮐﯽ ﻧﻈﺮ ﭘﮍﺗﯽ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﺍﺳﮑﮯ ﻋﻠﻮﻡ ﻭ ﻣﻌﺎﻧﯽ ﻣﯿﮟ ﻓﮑﺮ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﮯ ﺗﻮ ﻋﻠﻢ ﻭ ﺁﮔﺎﮨﯽ ﮐﯽ ﻟﺬﺕ ﻣﺤﺴﻮﺱ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺭﻭﺡ کو تازگی ملتی ﮨﮯ ۔

یہ ایک طے شدہ حقیقت ہے کہ ﮔﮭﺮ ﮐﮯ ﺍﻧﺪﺭ ﻗﺮﺁﻥ ﮐﯽ ﺗﻼﻭﺕ کرنا گویا ﻗﺮﺁﻥ ﮐﯽ ﺗﺒﻠﯿﻎ ﻭ ﺗﺮﻭﯾﺞ ﺍﻭﺭ ﺗﻼﻭﺕِ ﻗﺮﺁﻥ کی تعلیمات کو عام کرنا ہے . ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﺟﺐ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﺍﭘﻨﮯ ﮔﮭﺮ ﮐﮯ ﺍﻧﺪﺭ ﻗﺮﺁﻥ ﮐﯽ ﺗﻼﻭﺕ ﮐﺮے ﺗﻮ ﺍﺱ کی ﺑﯿﻮﯼ ﺑﭽﮯ ﺑﮭﯽ ﻗﺮﺁﻥ ﮐﯽ ﺗﻼﻭﺕ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ . جس ﺳﮯ ﺷﻌﺎﺋﺮ اسلام کو تازگی ملتی ہے ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﺟﺐ ﺻﺒﺢ ﻭ ﺷﺎﻡ ﮔﮭﺮﻭﮞ ﺳﮯ ﺗﻼﻭﺕ ﻗﺮﺁﻥ ﮐﯽ ﺁﻭﺍﺯ ﺑﻠﻨﺪ ﮨﻮ ﮔﯽ ﺗﻮ ﺳﻨﻨﮯ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﮐﯽ ﻧﻈﺮ ﻣﯿﮟ ﺍﺳﻼﻡ ﮐﯽ عظمت پیدا ہوﮔﯽ اور سننے والوں کو متاثر کرے گی . اﺱ ﻟﯿﮯ ﮐﮧ ﺟﺐ ﺷﮩﺮ ﮐﮯ ﮐﻮﻧﮯ ﮐﻮﻧﮯ ﺳﮯ ﺗﻼﻭﺕ ﻗﺮﺁﻥ ﮐﯽ ﺁﻭﺍﺯ ﺳﻨﺎﺋﯽ ﺩﮮ ﮔﯽ ﺗﻮ ﺳﻨﻨﮯ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﭘﺮ ﺍﯾﮏ ﻗﺴﻢ ﮐﺎ ﺭﻋﺐ ﺍﻭﺭ ﮨﯿﺒﺖ ﻃﺎﺭﯼ ﮨﻮ ﺟﺎﺋﮯ گی ۔

اگر قرآن کے بارے میں تاریخی اوراق پلٹے جائیں تو معلوم ہوتا ہے کہﺩﻧﯿﺎ ﻣﯿﮟ ﻏﻼﻣﻮﮞ ﮐﻮ ﺁﺯادی ﺍﻭﺭ ﺍﻧﺴﺎﻧﻮﮞ ﮐﻮ ﻣﺴﺎﻭﺍﺕ ﮐﺎ ﭘﮩﻼ ﺳﺒﻖ ﻗﺮﺍﻥ ﮐﺮﯾﻢ ﻧﮯ ﺩﯾﺎ ہے ۔ ﻗﺮﺍﻥ ﮐﺮﯾﻢ ﻣﻌﺎﺷﺮﮮ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﺍﯾﺴﺎ ضابطہ حیات ﻟﮯ ﮐﺮ ﺁﯾﺎ ﺟﺲ ﺳﮯ ﺑﻨﯽ ﻧﻮﻉ بشر ﮐﻮ ﺁﺯﺍﺩﯼ کا ﺗﺼور ملا ۔ قرآن سے مرد و زن کو معاشرہ کے صحیح حقوق اور بہترین زندگی ملی . ﻗﺮﺍﻥ ﻣﺴﺎﻭﯼ ﻃﻮﺭ ﭘﺮ ﻣﺮﺩﻭﮞ ﺍﻭﺭ ﻋﻮﺭﺗﻮﮞ ﮐﻮ ﺍﯾﮏ ﺩﻭﺳﺮﮮ کے ﺭﻓﯿﻖ اور ﻣﺪﺩ ﮔﺎﺭ ﺑﻦ ﮐﺮ ﮐﺎﻡ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﯽ ﮨﺪﺍﯾﺖ دیتا ﮨﮯ ﺗﺎﮐﮧ ﻣﻌﺎﺷﺮہ ﻣﯿﮟ ﺍمن و سکون برقرار رہ سکے ۔

ﺗﻌﻠﯿﻢ ﯾﺎﻓﺘﮧ ﻋﻮﺭﺕ ﻣﻌﺎﺷﺮﮦ ﻣﯿﮟ ایک بہترین ﻣﺎﮞ ﮐﺎ ﮐﺮﺩﺍﺭ ﺍﺩﺍ کرتے ہوئے ﺍﭘﻨﮯ ﺑﭽﻮﮞ ﮐﯽ ﺑﮩﺘﺮﯾﻦ ﺗﻌﻠﯿﻢ ﮐﺎ ﺳﺒﺐ ﺑﻨﺘﯽ ﮨﮯ ۔ ﻣﻌﺎﺷﺮﮦ ﻣﯿﮟ ﻋﻮﺭﺗﻮﮞ ﮐﮯ ﻣﺴﺎﻭﯼ ﺣﻘﻮﻕ ﮐﯽ ﺗﻌﻠﯿﻢ ﻗﺮﺍﻥِ ﮐﺮﯾﻢ ﮐﺎ ﺍﯾﮏ ﺑﮩﺖ ﮨﯽ ﺑﮍﺍ ﺍﻋﺠﺎﺯ ﮨﮯ ۔ ﯾﮧ ﺫﮨﻦ ﻣﯿﮟ ﺭﮨﮯ ﮐﮧ ﺟﺲ ﻭﻗﺖ ﯾﮧ ﺍﺣﮑﺎﻣﺎﺕ ﻧﺎﺯﻝ ﮨﻮﺋﮯ ﻋﻮﺭﺗﻮﮞ ﮐﮯ ﻣﻌﺎﺷﺮﮮ ﻣﯿﮟ ﮐﻮﺋﯽ ﺣﻘﻮﻕ نہ ﺗﮭﮯ . ﻗﺮﺁﻥ ﻧﮯ ﺫﮨﻨﯽ ﺍﺭﺗﻘﺎﺀ کے ﻋﻤﻞ ﮐﻮ ﺗﯿﺰ ﮐﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺧﯿﺎﻻﺕ ﮐﻮ ﻭﮦ ﺟﻼ ﺑﺨﺸﯽ ﮐﮧ جس سے ﮨﻤﺎﺭی ﺗﻌﻠﯿﻢ ﯾﺎﻓﺘﮧ ﺧﻮﺍﺗﯿﻦ ﻣﺴﺎﻭﯼ ﺣﻘﻮﻕ کا بآسانی ﺍﻧﺪﺍﺯﮦ لگا سکتی ہیں .

ﮔﮭﺮﻭﮞ ﻣﯿﮟ ﺗﻼﻭﺕ قرآن کریم ﮐﮯ اثرات

ﺍِﻥَّ ﺍﻟْﺒَﯿْﺖَ ﺍﻟَّﺬﻱ ﯾُﻘْﺮَﺃُ ﻓِﯿﮧِ ﺍﻟْﻘُﺮْﺁﻥُ ﻭَﯾُﺬْﮐَﺮُ ﺍﻟﻠّٰﮧُ ﺗَﻌٰﺎﻟﯽ ﻓﯿْﮧِ ﺗَﮑْﺜُﺮُ ﺑَﺮَﮐَﺘُﮧُ ﻭَﺗَﺤْﻀُﺮُﮦُ ﺍﻟْﻤَﻼَﺋِﮑَﺔُ ﻭَ ﺗَﮭْﺠُﺮُﮦْ ﺍﻟﺸِّﯿﺎﻃﯿﻦُ ﻭَﯾُضِیْئُ ﻟِﺎَﮬْﻞِ ﺍﻟﺴَّمَاﺀِ ﮐَﻤٰﺎ ﯾُﻀِیْئُ ﺍﻟْﮑَﻮْﮐَﺐُ ﺍﻟﺪُّﺭِّﻱُّ ﻟِﺎَﮬْﻞِ ﺍﻟْﺎَﺭْﺽِ ﻭَﺍﻥَّ ﺍﻟْﺒَﯿْﺖَ ﺍﻟَّﺬﻱ لَا یُقْرَﺃُ ﻓِﯿﮧِ ﺍﻟْﻘُﺮْﺁﻥُ ﻭَ لَا ﯾُذْکَرُ ﺍﻟﻠّٰﮧُ تَعَالیٰ ﻓِﯿﮧِ ﺗَﻘِﻞُّ ﺑَﺮَﮐَﺘﮧُ ﻭَﺗَﮭْﺠُﺮُﮦُالْمَلَائِکَۃُ وَ ﺗَﺤْﻀُﺮہُ ﺍلشَّیَاﻃِﯿْﻦُ ۔

ﻭﮦ ﮔﮭﺮ ﺟﺲ ﻣﯿﮟ ﻗﺮﺁﻥ ﮐﯽ ﺗﻼﻭﺕ ﺍﻭﺭ ﺫﮐﺮِ ﺧﺪﺍ ﮐﯿﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﻮ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺑﺮﮐﺘﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺍﺿﺎﻓﮧ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ﺍﺱ ﻣﯿﮟ ﻓﺮﺷﺘﻮﮞ ﮐﺎ ﻧﺰﻭﻝ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ﺷﯿﺎﻃﯿﻦ ﺍﺱ ﮔﮭﺮ ﮐﻮ ﺗﺮﮎ ﮐﺮ ﺩﯾﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﯾﮧ ﮔﮭﺮ ﺁﺳﻤﺎﻥ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﮐﻮ ﺭﻭﺷﻦ ﻧﻈﺮ ﺁتا ہے ﺟﺲ ﻃﺮﺡ ﺁﺳﻤﺎﻥ ﮐﮯ ﺳﺘﺎﺭﮮ ﺍﮨﻞ ﺯﻣﯿﻦ ﮐﻮ ﻧﻮﺭ ﺑﺨﺸﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﮔﮭﺮ ﺟﺲ ﻣﯿﮟ ﻗﺮﺁﻥ ﮐﯽ ﺗﻼﻭﺕ ﺍﻭﺭ ﺫﮐﺮ ﺧﺪﺍ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﺎ ﺍﺱ ﻣﯿﮟ ﺑﺮﮐﺖ ﮐﻢ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ ﻓﺮﺷﺘﮯ ﺍﺳﮯ ﺗﺮﮎ ﮐﺮ ﺩﯾﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺍﻥ ﻣﯿﮟ ﺷﯿﺎﻃﯿﻦ ﺑﺲ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ ۔

قرآن کا مطالبہ

قرآن کا مطالبہ یہ ہے کہ اس کی تلاوت اس کے معنی و مقصود کو سمجھتے ہوئے کی جائے ، اور بغیر سمجھے اس کی تلاوت صرف ثواب کی خاطر کرنا بہت زیادہ ثواب کے بجائے بہت کم پر قناعت کر لینا ہے ۔ اصل مقصد تو عمل ہے اور عمل کی باری سمجھنے کے بعد آیا کرتی ہے . تمام مسلمان یہ جانتے ہیں کہ قرآن کریم اللہ تعالیٰ کی طرف سے انسانوں کے لیے آنے والا ایک عظیم معجزہ ہے . قرآن کریم کا سب سے بڑا اعجاز ، حیات انسانی کو اخلاق و کردار کے اعلیٰ درجہ پر لا کھڑا کرنا ہے ۔ ہر انسان کو بدل ڈالنا ہے تا کہ وہ اللہ کی معرفت رکھنے والا ، عبادت گزار ، اور اپنے تمام امور و حالات میں اللہ کی اطاعت کرنے والابنے ۔قرآن جو تبدیلی پیدا کرتا ہے اس کا آغاز دل میں قرآنی نور کے داخل ہونے سے ہوتا ہے ۔ یہ نور دل میں گناہوں ، غفلتوں اور خواہش کی پیروی سے جنم لینے والی تاریکی کو دور کرتا ہے اور دل میں نور کو دھیرے دھیرے بڑھتا چلا جاتا ہے اور دل کو مردہ بننے سے روکتا ہے . قرآن کو سمجھ کر پڑھنے سے صاحبِ قرآن ایک نئی زندگی سے متعارف ہو جاتا ہے ۔ ارشادِ الٰہی ہے.

أو من کان میتا فاحیینه و جعلنا له نورًا یمشی به فی الناس کمن مثلہ فی الظلمٰت لیس بخارج منھا

معلوم ہوا کہ قرآن ایک روح ہے جو دل میں جا کر اسے زندہ کر دیتی ہے . قرآن ہر اس شخص میں انقلاب پیدا کرتا ہے جو قرآن کریم کا کتابِ ہدایت و شفا کے طور پر خیر مقدم کرتا ہے اور اس کے ساتھ اس کا تعلق حقیقی ہوتا ہے ۔

انسانی زندگی میں قرآنی انقلاب کا نمونہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے بھی لگایا جا سکتا ہے ۔ وہ اسلام سے پہلے جہالت کی انتہا پر تھے مگر دین اسلام سے ایسے انسان بن گئے جن پر انسانیت آج تک فخر کرتی ہے ۔

اس کتابِ عظیم میں انسانی زندگیوں میں انقلاب برپا کرنے کی قوت و تاثیر اور استعداد کس قدر ہے ؟ اس کا اندازہ اس بات سے بآسانی لگایا جا سکتا ہے کہ قرآن نے ایک ایسی قوم کو جو صحرا میں رہتی ہو ، غریب ہو ، ننگے پاؤں ہو ، لباس کا اہتمام نہ ہو ، علم و دانش سے تہی دامن ہو ، اپنے زمانے کی سوپر پاور بھی نہ ہو ، اسی کو آن کی آن میں ایک باعزت حکمراں قوم بنا ڈالا اور اسے زمین کی پستی سے اٹھا کر آسمان کی بلندی تک پہنچا دیا ۔ قرآن مجید نے یہ تبدیلی چند برسوں میں لا کر یہ ثابت کر دیا کہ اس بنیادی تبدیلی کے لئے انسانی قلوب میں بذات خود اصلاح کا ارادہ ہونا ضروری ہے جیسا کہ ارشاد ربانی ہے

” ان اللہ لا یُغیّر ما بقومِ حتیٰ یُغیِّرو ما بِانفُسہِم “

حقیقت یہ ہے کہ اللہ کسی قوم کے حال کو نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنے اوصاف کو نہیں بدل دیتی ۔

یہی وجہ تھی کہ چند ہی سالوں کے بعد اسی صحرا کے افراد سے ایک ایسی نئی قوت ابھری جس نے روم و فارس کی عظیم و قدیم سلطنتوں کو مٹا کر رکھ دیا اور عزت و ذلت کے پیمانے ہی بدل دئے .

آپ صلی اللہ علیہ و سلم قرآن پر عمل کرنے میں پوری انسانیت کے لئے ایک نمونہ اور قرآن پاک کے ترجمان تھے ۔ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے بجا فرمایا تھا ” کان خلقه القرآن ” قرآن آپ کا خلق و کردار تھا ۔آپ کی سیرت ، افعال و اقوال سب قرآن کے مطابق ہوا کرتے تھے ۔ قرآن آپ پر اترتا تھا اس لئے سب سے پہلے آپ ہی اس پر عمل کرتے تھے ۔ قوانین قرآنی کی پیروی آپ فرماتے تھے۔ان احکام پر آپ کا عمل مجبوراً نہیں بلکہ بطیبِ خاطر فرماتے.قرآن کی محبت آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے قلبِ مقدس میں پیوست تھی . قرآن کی پیروی سے آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے دل کو سکون آور قرار ملتا تھا اور یہی آپ کی فکر کا مرکز و محور تھا ۔ آپ نے اپنی پوری زندگی اسی قرآنی دعوت کے لئے وقف کر دی تھی لہذا آپآخری سانس تک اسی پر قائم و دائم رہے ۔.قرآن نے آپ کو پریشان حالوں کی مدد کا حکم دیا تو آپ نے قرض لے لے کر حاجت مندوں کی مدد کی اور اپنے اوپر فقر و فاقہ کا اندیشہ بالکل نہیں کیا .

لہذا ہمیں یہ جان لینا چاہئے کہ قرآن کی حقیقی قدر و قیمت اس کے معانی پر غور و فکر کرنے میں پوشیدہ ہے ۔

قرآن اپنے پڑھنے والوں میں بنیادی تبدیلی پیدا کر دیتا ہے ، ان کی عقل کی تشکیل نو کرتا ہے ، انکے قلوب میں نئی روح پھونک دیتا ہے ، ان کے نفس کی ایسی تربیت کر دیتا ہے ک وہ اللہ تعالیٰ کے احکام و قوانین کی پابندی کرنے والے بن جاتے ہیں۔ انسانوں میں قرآن کریم کے ذریعے ہونے والی یہ تبدیلی صرف اسی صورت میں ہوتی ہے جب اس کا تدبر سے مطالعہ کیا جائے اور ساتھ ساتھ اس پر عمل بھی کیا جائے۔ قرآن کے الفاظ کو محض زبان سے پڑھ لینے سے نہ تبدیلی آتی ہے اور نہ ہی یہ فوائد و ثمرات حاصل ہوتے ہیں۔ قرآن پڑھنے والے ہزار بار بھی کیوں نہ ختم کر لیں ، محض سرسری اور فرفر تیز پڑھنے سے کبھی تبدیلی نہیں آتی.اگر ہم مسلمان اپنے اندر حقیقی تبدیلی لانا چاہتے ہیں تو قرآن کا اخلاص کے ساتھ عمل کی نیت سے بغور مطالعہ کرنا ہوگا ۔

دعا ہے کہ اللہ ہم سبھوں کو قرآن کی تلاوت کے ساتھ ساتھ اس پر مکمل عمل کی توفیق عطا فرمائے . آمین .

--Advertisement--

اظہارخیال کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here