تینگن گنڈی کےچودھویں صدی ہجری کے پہلے اور قدیم ترین اسپورٹس سینٹر کا اجمالی تعارف 

0
2068

تینگن گنڈی بحر عرب کے کنارہ شہر بھٹکل کا ایک مشہور و معروف گاؤں ہے جس میں غیر مسلم اقوام کے ساتھ ہندوستان میں تجارتی غرض سے آکر اس کے مختلف ساحلی علاقوں میں بسنے والےعرب تاجروں کی اولاد میں سے ایک جہازران و جہازسازقوم قدیم زمانہ سے آباد ہے ۔جس کو عرفاً قوم ناخدا کہا جاتا ہے ۔ چودہویں صدی ہجری کے اواخر تک اسکا اپنے پیشہ کی مناسبت سے ایک خاص اثر و رسوخ تھا جس کی وجہ سے غیر مسلم اقوام بھی اسکے ساتھ پیار و محبت اور اخوت و بھائی چارگی کے ساتھ رہتے ہوئے اپنی زندگیاں بسر کرتی تھیں اور برابر سن 1990 عیسوی تک یہ پیار و محبت اور بھائی چارگی کا سلسلہ جاری و ساری رہا ۔

اس مختصر سی جامع تمہید کے بعد اصل موضوع کے آغاز سے قبل ہمیں یہ معلوم ہونا چاہئے کہ ہر قوم فطرتاً اپنا ایک تفریحی مزاج رکھتی ہے اور اسکی تکمیل کے لئے مختلف قسم کے کھیل کود اور لہو و لعب کی چیزوں سے اپنے دلوں کو بہلایا کرتی ہے۔اسی فطری مزاج کے مطابق اہلیان تینگن گنڈی نے بھی جہاں مختلف قسم کے چھوٹے موٹے کھیلوں سے اپنے دلوں کو بہلانے کی کوشش کی وہیں پر والی بال کھیل کو بھی اپنا ایک محبوب کھیل قرار دیا اور کھیلتے کھیلتے اسکی ایک خاص اہمیت اور پہچان بن گئی جس کی وجہ سے یہ کھیل اہلیان تینگن گنڈی کا سب سے اہم اور مشہور و معروف کھیل بن گیا اور اس میں لوگوں کی دلچسپی بڑھنے لگی اور دیکھتے ہی دیکھتے اس نے ایک ٹیم کو وجود بخشا جو بعد میں بسم اللہ والی بال ٹیم کے نام سے مشہور ومعروف ہو گئی۔

سن 1967 عیسوی تک یہ کھیل مسلمانوں اور غیر مسلموں کی تفریق کے بغیر یوں ہی تفریحاً کچھ لوگ ایک ٹیم بنا کر کھیلتے رہے جن میں سر فہرست جماعت المسلمین تینگن گنڈی کے متولی جناب مرحوم اسماعیل موسیٰ صاحب ڈانگی، جناب مرحوم قاسم صاحب خورشے، جناب مرحوم ابراہیم مختیصر، جناب اچھوت برپھو (غیر مسلم کونکنی)، جناب مرحوم عبدالقادر بنگالی، جناب علی صاحب پوتکار اور جناب عبداللطیف ڈانگی وغیرہ تھے ۔

یہ حضرات عصر کےبعد دل لگی کے لئے کھیلا کرتے تھے ۔پھر کھیلتے کھیلتے کافی مہارت حاصل کرنے کے بعد اپنے جذبہ وشوق کو بعد والے لوگوں میں منتقل کرنے لگے تو سن 1968 عیسوی میں باقاعدہ ایک مکمل ٹیم تیار ہوئی جس کا نام بسم اللہ والی بال ٹیم رکھا گیا جس کے سر فہرست کھلاڑیوں میں جعفری بنگالی، میراں خورشے، احمد مختیصر، یوسف پوتکار، اسحاق خورشے وغیرہ کے نام قابل ذکر ہیں ۔ پھر انھوں نے اپنے نو جوانوں کو تیار کرنا شروع کیا اور پھرنو جوانوں ہی پر مشتمل ایک مکمل ٹیم کوتیار کرنے میں کامیاب ہو گئے۔جس میں اکثریت مدرسہ عربیہ تعلیم القرآن تینگن گنڈی کے حفاظ کرام کی تھی ۔جن میں سرِ فہرست حافظ مولوی ابوالحسن بن اسماعیل ڈانگی ،حافظ سلیمان بن قاسم خورشے، حافظ بشیراحمد بن ابوبکر بنگالی، حافظ اسماعیل بن قاسم خورشے، حافظ شبیر ڈانگی اورحافظ جمال حسین بن آدم کاوا تھے اور انکے علاوہ بقیہ سب کھلاڑی غیرحافظ تھے جن میں جعفری بن علی بنگالی، اِقبال بن یوسف پوتکار، عبدالغنی بن علی صاحب پوتکار اورحسین بن علی بنگالی تھے۔ان کے علاوہ چند غیر مسلم بھائی بھی تھے جن میں کیشوا موگیر اور دامو موگیر قابل ذکر ہیں۔

ابتداءاً یہ ٹیم تعلقہ اور نا خدا پیمانہ پر کھیلتی رہی یہاں تک کہ ٹیم کے کھلاڑیوں کی نو جوانی ڈھلنے لگی تو اُنھوں نے اپنے جذبہ وشوق کو بعد والے لوگوں میں منتقل کرنا شروع کیا،پھرجب نئے نوجوان کھلاڑیوں کی ایک معتدبہ تعداد تیار ہونے لگی تو اقبال بن یوسف پوتکار کو کیپتان بنا کر ٹیم کی قیادت انکے سپرد کی گئی۔یہ ٹیم ابتداََ نا خدا برادری یعنی(ماہی گیری) پیمانہ پر ہونے والے ٹورنا منٹوں میں حصہ لیتی رہی اور کئی مرتبہ چمپئین آف نا خدا بھی بنی۔

شروع شروع میں یہ ٹیم تعلقہ پیمانہ پر بذات خود نہیں کھیلتی تھی بلکہ اپنے وطن کی غیر مسلم بھائیوں کی ینگ اسٹار ہیبلے ٹیم کےساتھ مل کر تعلقہ پیمانہ پر کھیلتی تھی ۔ اس مشترکہ ٹیم کے کھلاڑیوں میں قابل ذکر اقبال یوسف پوتکار، اکبر علی عبدالکریم بنگالی، موسیٰ قاسم خورسے، پر میشور، ونودھ پربھو ، ماستی مَوگیر، مَنجُناتھ موگیر، اوراِشوَر موگیر تھے ۔یہ ملی جلی ٹیم بہت مظبوط تھی جسکی وجہ سے انہوں نے تعلقہ پیمانہ پر کئی مرتبہ اول مقام حاصل کرنے کےبعدڈسٹرک پیمانہ پربھی کھیلنا شروع کیا اور کئی ایک مرتبہ سمی فائنل تک پہونچنے میں بھی کا میاب ہوتی رہی۔اس کی اپنی اچھی کارکردگی کی وجہ سے سن 1988تا 1998عیسوی کے دورانیہ میں گیارہ مرتبہ دسہرہ اسپورٹس میں کھیلنے کا موقع ملا ۔

 اس کے بعدسن 2005 عیسوی میں اکبر علی بنگالی اور موسی ٰخورشے اپنے معاش کے لئے بیرون ملک چلے گئے اور ہیبلے گرام کی ینگ اسٹار ٹیم کے ساتھ کھیلنے والے کھلاڑیوں میں اقبال پوتکار باقی رہ گئے تو اس وقت بسم اللہ ٹیم کے دیگر کھلاڑیوں نے جن میں سر فہرست مولانا ابراہیم بنگالی اور حافظ حسن اسپوبھی تھے ، موقعہ کو غنیمت جانتے ہوئے اور بسم اللہ ٹیم کی میچوں میں اچھی کارکردگی کے پیش نظر بسم اللہ ٹیم کو بذات خود تعلقہ پیمانہ پر کھیلنے کے لئے آمادہ کرنے لگے تو ٹیم کے کیپتان اقبال پوتکار نےغیر مسلموں کے ساتھ اسکی وجہ سے تعلقات کی خرابی کے پیش نظریہ کہہ کر انکار کیا کہ ہم انکے ساتھ برابر کھیلتے رہیں گے جب تک کہ وہ بذات خود ہماری ٹیم سے جدا نہ ہوں ۔ بالآخر ایسے ہی ہوا لیکن ایک لمبی مدت تک بسم اللہ ٹیم کو تعلقہ پیمانہ پر کھیلنے کا موقعہ ہی نہ ملا ۔

پھرچندسالوں کے بعد ہمارے غیر مسلم بھائیوںمیں سے چند کھلاڑیوں نے کھیل میں دلچسپی نہیں دکھائی تواقبال پوتکار نے ان کے عوض چند کھلاڑیوں کوتیار کیا جن میں سرِفہرست جناب عبد الغنی علی صاحب پوتکار، صبغت اللہ بن اسماعیل ڈانگی، اقبال بنگالی، محمد میراں احمد بنگالی، عبدالحمیدبن اسماعیل نئے باغ، آدم عثمانی، اسداللہ بڈو، عبدالواحدبن ابراہیم عثمانی، شوکت بن ابراہیم عثمانی، حافظ ابراہیم بن اسماعیل ابو، ناصر بن قاسم خورسے، ایوب بن حسن پوتکار، فضل الرحمان بن یوسف پوتکار، حافظ حسن بن عبدالرحمان اسپو، محمد آصف بن یوسف پوتکار، انیس الرحمان بن حافظ عبدالقادر ڈانگی، عبد العزیز بن سعیداسپو، ارشاد بن حسن عثمانی، ضیاء اللہ بن یوسف پوتکار اور مہیش ،گنیش کرکی وغیرہ تھے ۔ یہ ٹیم تعلقہ،ناخدا اور ڈسٹرکٹ پیمانہ پر حصہ لیتی رہی اور کئی مرتبہ چمپئین بھی بنتی رہی اور ان میں سےتین چار کھلاڑی اپنی اچھی کارکردگی کی وجہ سےخصوصی انعامات کےمستحق بھی بنتےرہے ۔

اس ٹیم کو آگے بڑھانے اورانکی ہمت افزائی میں وطن کے لوگوں کا بہت بڑا ہاتھ رہا ہے جسکو بسم اللہ ٹیم کبھی فراموش نہیں کر سکتی جن میں جناب مرحوم اسماعیل ڈانگی، مرحوم قاسم خورشے، مرحوم ابراہیم مختیصر، احمد بن اسماعیل بنگالی، اسحاق باؤو، عبدالمجید کالو، مرحوم ابراہیم عثمانی، ابراہیم علی ڈانگی اور مرحوم یونس بڈو وغیرہ قابل ذکر ہیں ۔

آخرمیں اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ اس ٹیم کو دن دونی رات چوگنی ترقی نصیب فرماۓ اور دین سے اس کا رشتہ زیادہ سے زیادہ مضبوط و مستحکم بنائے ۔آمین۔

--Advertisement--

اظہارخیال کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here