کورونا وائرس اور دیگر وبائی امراض کے شرعی احکام

0
1088

از : مولانا عبدالقادر بن إسماعيل فیضان باقوی ، جامعہ آباد تینگن گنڈی ، بھٹکل ، امام و خطیب جامع مسجد محمد عشیر علی سلیمان المزروعی أبوظبی ، متحدہ عرب امارات .

جیسا کہ ہم جانتے ہیں کہ کورونا وائرس کووڈ انیس موجودہ صدی اور پچھلی کئی صدیوں کی سب سے بڑی اور خوفزدہ وباء ہے . لہذا اس بات میں شک نہیں کہ موجودہ دور کی کورونا کوڈ انیس نامی وباء اس صدی کی ہی نہیں بلکہ پچھلی کئی صدیوں کی سب سے عظیم اور سب سے خوفزدہ وباء ہے ، جس نے نہ صرف کروڑوں انسانوں کی زندگی میں ایک خوف وہراس پھیلا کر دنیوی و معاشی حالت کو درہم برہم کرکے رکھ دیا ہے ، بلکہ زندہ اور موتیٰ بہت سارے انسانوں کے بیشتر اخروی احکام پر بھی بہت برا اثر ڈالا ہے .

اندازہ لگایا جاتا ہے اور کافی احادیث کے ظاہری مفہوم سے بھی یہ بات بظاہر صحیح لگتی ہے کہ کورونا کوڈ انیس ایک متعدی یعنی دوسرے میں بہت تیزی سے پھیلنے والی ایک خوفناک بیماری ہے ، کہ اگر کوئی شخص اس بیماری میں مبتلاء ہوجائے تو دوسرے بھی اس بیماری سے متاثر ہوجاتے ہیں , اگر پوری طرح احتیاط نہ برتی جائے تو یہ وباء بہت سارے انسانوں میں تیزی سے پھیلتی جاتی ہے ، اور اسی بناء پر دنیا کے ہر حصہ میں اس سے بچاؤ کے سارے طریقے اور احتیاطی تدابیر اختیار کی جارہی ہیں . اور چونکہ اس کی وجہ سے ایک طرف بہت سارے دینی احکام کے عمل درآمد کرنے میں بھی کافی پیچیدگیاں ، مسائل ، مشکلات و پریشانیاں پیش آرہی ہیں تو دوسری طرف حکومتوں کی طرف سے احتیاطی تدابیر پر عمل کرنے کی بھی سختی سے تاکید کی جارہی ہے ، لہذا مصلی حضرات بھی ان ساری باتوں کا خیال رکھتے ہوئے جراثیم کے عدم پھیلاؤ کے سارے ممکنہ طریقے اپنا رہے ہیں ، نماز کے لئے مسجد میں جاتے وقت ماسک لگانا ، جائے نماز اپنے ساتھ لے جانا اور ہر مصلی کے مابین کم سے کم دیڑھ میٹر کا فاصلہ رکھنا وغیرہ .

ان اوبیہ کے تعلق سے صحیح اور پختہ عقیدہ کیا ہونا چاہئے اور کیا یہ بیماری واقعی میں بھی متعدی ہے ؟

عقیدہ کے اعتبار سے اس میں دو نظریئے ہیں ، پہلا نظریہ یہ ہے کہ کورونا اور اس جیسی وبائیں متعدی ہیں ، یعنی ایک کی بیماری دوسرے میں پھیلتی ہے ، جبکہ دوسرا نظریہ بالکل اس کے اُلٹ ہے ، یعنی کسی کی بیماری دوسرے میں نہیں پھیلتی .

ایک سچے ، صحیح العقیدہ اور پختہ ایمان رکھنے والے شخص کا یہ عقیدہ ہو کہ یہ اور اس جیسی وبائیں مثلا طاعون ، چیچک ، کوڑھ اور برص وغیرہ خود سے ایک دوسرے میں منتقل ہونے کی صلاحیت نہیں رکھتیں ، بلکہ اللہ تعالیٰ کی مرضی اور اس کی قدر وقضاء سے دوسرے میں پھیلتی ہیں .

مانع عن الامراض اسباب اختیار کرنا حکمِ شرعی ہے

کورونا و طاعون جیسی دیگر اور بیماریاں بھی متعدی نہیں ہوتیں ، اور یہی اصل اعتقاد ہے . لیکن اس کا معنی یہ نہیں کہ اسباب کو ترک کرکے یہ کہتے ہوئے بیٹھا جائے کہ یہ سب اللہ تعالی کی تقدیر سے ہے ، بلکہ اسباب کو اختیار کرتے ہوئے ان میں سے راجح ترین سبب کو اختیار کرتے ہوئے اس پر عمل کیا جائے اس اعتقاد کے ساتھ کہ تمام امور اللہ عزوجل کی تقدیر ہی سے وقوع پذیر ہوتے ہیں ، اس سلسلہ میں حدیث بھی آئی ہے ، ایک شخص ( ایک روایت میں ایک دیہاتی ) نے عرض کیا ( یہ صحابی عمروبن اُمَيَّہ الضمری ہیں ) یارسول اللہ! ( صلی اللہ علیہ وسلم ) اَعْقِلُهَا وَاَتَوَكَّلُ اَوْ اُطْلِقُهَا وَاَتَوَكَّلُ؟ قَالَ! ” اِعْقِلْهَا وَتَوَكَّل “. کیا میں اس کو باندھ کر بھروسہ کروں یا اس کو کھلا چھوڑوں اور بھروسہ رکھوں؟ فرمایا! ” اس کو باندھو اور بھروسہ رکھو “. ( ترمذی وغیرہ نے اس حدیث کو سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے )

مرجوح قول کی تائید کرنے والوں نے ( کہ ایک کی بیماری دوسرے میں پھیلتی ہے ) زمانہ طاعون میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے شام کے لئے روانہ ہونے کے بعد اس میں داخل نہ ہوکر لوٹنے کو دلیل بنایا ہے ، کہ جب انھیں یہ خبر ملی کہ شام میں طاعون واقع ہوا ہے تو آپ سَرَغْ ( ایک جگہ کا نام ہے ) ہی سے واپس لوٹ گئے ، اگر یہ بیماری متعدی اور خوفزدہ کرنے والی نہ ہوتی تو آپ شام میں داخل ہوئے بغیر راستہ سے نہ لوٹتے .

قاضی عیاض اس کا جواب دیتے ہوئے لکھتے ہیں کہ ( عمر کے شام میں داخل نہ ہو کر ) لوٹنے کے سلسلہ میں مہاجرین اور انصار صحابہ کے درمیان اختلاف رہا ہے ، طائفَيْن میں سے ہر ایک کی حجت ( دلیل ) واضح ہے ، اس لئے کہ یہ ( حجت ) اُصولِ شریعت کی دو اصل پر مبنی ہے . پہلا اصل ، توکل اور قضاء وقدر کو تسلیم کرنا . اور دوسرا ، ہلاکت کی طرف لے جانے والی چیزوں سے احتیاط برتنا . اور یہ وہ دو فرع ( شاخیں ) ہیں جو ” قدر ” کے اصل قاعدہ سے مُتَشَعِّب ہوتی ( شاخ درشاخ پھیلتی ) ہیں .

اور کہا جاتا ہے کہ عمر کا رجوع ہونا ( عبدالرحمان کی حدیث سننے کے بعد ) حدیث کی وجہ سے تھا ، اس لئے کہ وہ بغیر کسی راجح حجت کے ایک رائے سے دوسری رائے کی طرف لوٹنے والے نہیں تھے .

علامہ حافظ ابن حجر لکھتے ہیں کہ عمر کی رائے سے مخالفت کرنے والے کی یہ مخالفت ، حدیث ان کے پاس پہونچنے سے پہلے تھی جو اسباب سے قطعِ نظر محض توکل کے راستہ پر چلے تھے ، اور یہ ایک ایسا شریف مقام ہے جو خیارِ صحابہ کے مرتبہ سے ہی مناسبت رکھتا ہے ، اس وجہ سے مہاجرین اور انصار میں سے بہت سے ( صحابہ ) اسی رائے پر تھے ، لیکن مشایخِ قریش میں سے کوئی بھی اس رائے کی طرف مائل نہیں ہوا ، اُن سے تو عمر ہی موافق ہوئے ( اگر چہ کہ یہ کُبَّار مہاجرین میں سے تھے ) اس لئے کہ ان کی غالب نظر مسلمانوں کے مصالح پر تھی ، اور یہ اسباب پر نظر رکھنے اور اُن میں سے راجح پر عمل کرنے کے ذریعہ ہی سے پورا ہوتا ہے ، اس اعتقاد کے ساتھ کہ تمام امور اللہ ہی کی تقدیر سے ہیں . عمر کا طاعون کے سبب سے سرغ ( شام ) سے لوٹنا بھاگنا نہیں تھا ، بلکہ اس معنی میں تھا کہ دوا دارو کی غرض سے رہنے کی غیر قابل زمین سے اچھی زمین کی طرف جانے کے معنی میں تھا . ( سیر حاصل تفصیل پیچھے آئے گی )

پھر ایک کی بیماری کا دوسرے میں تجاوز کرنے کا نظریہ رکھنے والوں نے مجذوم سے بھاگنے کا حکم دینے والی حدیث سے استدلال کیا ہے . اگر ایک کی بیماری دوسرے میں منتقل نہ ہوتی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجذوم سے بھاگنے کا حکم نہ دیتے . بخاری نے سعید بن مینا کے طریقہ سے حدیث روایت کی ہے ، وہ کہتے ہیں کہ میں نے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے یہ کہتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا! ” لَاعدْوَىٰ وَلَاطِيَرَةَ وَلَا هَامَةَ وَلَا صَفَرَ ، وَفِرَّ مِنَ الْمَجْذُوْمِ كَمَا تَفِرُّ مِنَ الْاَسَدِ “. کوئی کسی کی بیماری میں مبتلا نہیں ہوتا ہے ، نہ کسی پرندہ کا ( دائیں یا بائیں ) اڑنا ( بدشگونی ) ہے ، نہ کوئی ھامہ ( رات میں اڑنے والا ایک چھوٹا سا پرندہ ، عرب اس کو نحوست والا تصور کرتے تھے ) ، اور نہ ہی کوئی صَفَرْ ( تک محرم کو صفر پر مؤخَّر کرکے محرم کو حلال سمجھنا ) ہے ، اور مجذوم سے تم اس طرح بھاگو جس طرح شیر سے بھاگتے ہو . اسی طرح انھوں نے بیعت کے وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا کوڑھی شخص سے مصافحہ کے بغیر ” ہم نے تجھ سے بیعت کر لی ” فرمانا ، اور کوڑھیوں کی طرف نظر بھر کر دیکھنے کو منع کرنے والی حدیثوں سے بھی استدلال کیا ہے .

اول الذکر حدیث کو مسلم نے عمرو بن شرید الثقفی کے طریقہ سے ، ان کے باپ سے روایت کردہ حدیث سے روایت کیا ہے کہ انھوں نے کہا! وفدِثقیف میں ایک کوڑھی شخص تھا ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی طرف ( کسی کو بھیج کر ) فرمایا! ” اِنَّا قَدْ بَايَعْنَاكَ فَارْجِع “. بیشک ہم نے تم سے بیعت کرلیں ، سو تم ( اب ) لوٹ جاؤ .

دوسری حدیث کو ابوداؤد نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا! ” لَا تُدِيْمُوْا النَّظَرَ اِلَى الْمُجْذَمِيْنَ “. کوڑھیوں کی طرف نگاہ کو برقرار نہ رکھو .

اس کا جواب دو پہلوؤں سے دیا جائے گا . پہلا : ابن صلاح نے اپنے غیر کی پیروی کرتے ہوئے ابوہریرہ کی حدیث ” لَا يُوْرِدُ مُمْرِضٌ عَلَى مُصَحٍّ “. بیمار اونٹ رکھنے والا ( اپنے اونٹ ) صحیح اونٹ رکھنے والے کے پاس نہ لے آئے . اور ان کی حدیث ” فِرَّ مِنَ الْمَجْذُوْمِ فِرَارَكَ مِنَ الْاَسَدِ “. مجذوم سے اس طرح بھاگ جیسے تو شیر سے بھاگتا ہے . بظاہر تعارض والی حدیث کو ” لَاعدْوَى ” ( کسی کا ) کسی دوسرے کی بیماری میں مبتلاء نہیں ہونا ہے کے ساتھ جمع کرتے ہوئے کہا کہ ان دونوں کے درمیان جمع کرنے کی وجہ ( پہلو ) یہ ہے کہ یہ امراض طبعی طور پر کسی دوسرے شخص کی طرف تجاوز نہیں کرتے ہیں ، لیکن اللہ تبارك و تعالیٰ بعض اوقات ان بیماریوں میں مبتلاء بیمار کا تندرست آدمی کے ساتھ ملنے کو اس کی بیماری کو تجاوز کرنے کا ایک سبب بناتا ہے ، پھر بعض اوقات یہ اپنے سبب سے پیچھے رہ جاتے ہیں ، جیسے سارے اسباب میں . “

لَاعدْوَى ” والی حدیث میں اُس عقیدہ کی نفی کرنا ہے جس کا زمانہ جاہلیت والے لوگ عقیدہ رکھتے تھے کہ یہ بیماری اپنی طبیعت سے ( خود بخود ) تجاوز کرتی ہے ، اس وجہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا! ” فَمَنْ اَعْدَى الْاَوَّلَ؟ ” پہلے میں کس نے ( بیماری ) پھیلائی؟ اور دوسرے میں میں جانتا ہوں کہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے اِس کو اُس کا ( مریض کے صحیح شخص کے ملنے کو ) سبب بنایا ، اور اُس ضرر سے ڈرایا جس کا وجود اس کی موجودگی کے وقت اللہ سبحانہ و تعالیٰ کے فعل سے ہوتا ہے ، انتھی کلامہ .

بیہقی کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے اس پہلو کا ارادہ کیا ہے جس کا زمانہ جاہلیت میں لوگ اعتقاد رکھتے تھے کہ فعل کی اضافت غیر اللہ کی طرف ہوتی ہے ، اور بعض اوقات (اس کی مشیت سے ) جس کو ان عیوب میں سے کوئی عیب ہو اس سے ملنے پر بھی اس کے پیدا ہونے کا سبب بنتی ہے ، اور اسی وجہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا! ” کوئی بیمار اونٹ رکھنے والا صحیح اونٹ رکھنے والے کے نزدیک ( اپنے ) اونٹوں کو نہ لے جائے “. اور طاعون کے سلسلہ میں فرمایا! ” مَن سمع به بارض فلا یقدمن علیه “. جس شخص نے اس کو کسی زمین میں سنا ( کہ وہ وہاں ہے ) تو وہ ہرگز اس پر نہ آئے . اور اس کے علاوہ اس کے معانی میں آئی ہوئی احادیث ، اور یہ تمام اللہ کی تقدیر ہی سے ہوتا ہے . ان کا کلام ختم ہوا .

کسی بھی میت پر غسل دئے بغیر یا اس کے بدلہ میں تیمم کرائے بغیر نمازِ ( جنازہ ) پڑھنا جائز نہیں

میت کو غسل دینا ، اس کو کفنانا ، اس پر نماز پڑھنا اور اس کو دفنانا اجماعًا ( الگ الگ ) فرضِ کفایہ ہے . جس کا معنی یہ ہے کہ گاؤں ، دیہات یا محلہ کے چند لوگوں یا کسی ایک شخص نے ان تمام چیزوں کو ادا کیا تو تمام گاؤں والوں کی جانب سے یہ کافی ہوگا . جیسا کہ صاحبِ ” تہذیب ” محدث ، مفسر اور فقیہ امام بغوی رحمہ اللہ (متوفی/516 ) لکھتے ہیں کہ ہر اُس شخص پر جس سے خطاب کیا گیا ہو ( یعنی مکلف پر ) اس میت کو غسل دینا ایک فریضہ ہے جس کی موت کا اسے علم ہو ، سوائے اس کے کہ اگر چند ( بعض ) لوگوں نے اس کو ادا کیا تو باقی لوگوں پر سے فرض ساقط ہوگا. ( ج/2 ، ص/409 )

اگر کسی میت کو کسی سبب سے غسل دینا متعذر ہو جیسے پانی کا نہ ہونا ، یا جلی ہوئی یا کسی زہریلے جانور کے ڈنک سے مرنے والے شخص کی میت کو غسل دینے سے میت کا پک جانا یا ٹکڑے ہو جانا ، یا غسل دیتے وقت بچاؤ اور تحفظ کی کوئی صورت نہ ہونے پرغسل دینے والے شخص پر خوف کا محسوس کیا جانا ، تو ان صورتوں پر میت پر غسل کے بدلہ میں تیمم کیا جائے گا اور اس پر نماز پڑھی جائے گی ، تیمم کرائے بغیر اس میت پر نماز پڑھنا جائز نہیں ، کیونکہ غسل دینا یا تیمم کرانا شرط ہے اور شرط کے بغیر مشروط کا تصور نہیں کیا جاتا ، یہی راجح اور معتمد قول ہے ، یہی شیخان ( امام رافعی ونووی ) نے کہا ، اور یہی متقدمین ومتأخرین کے اقوال ہیں جن میں امام بغوی ، ابن حجر عسقلانی ، ابن حجر ہیتمی ، امام رملی ، امام خطیب شربینی ، صاحب فتح المعین وغیرہ سلف وخلف شامل ہیں . ( قریب میں ان علماء کی آراء بھی آئیں گی جو غسل دینے اور تیمم کرانا دشوار ہونے پر ایسی میت پر نماز پڑھنا جائز قرار دیتے ہیں ، بحالتِ مجبوری کورونا سے وفات شدہ شخص پر تمام تر کوششوں کے باوجود غسل دینا یا تیمم کرانا ممکن نہ ہو تو اس پر نماز پڑھنا جائز قرار دیا جاسکتا ہے . واللہ اعلم )

امام نووی رحمہ اللہ مجموع میں لکھتے ہیں کہ ” جب پانی کے موجود نہ ہونے کی وجہ سے، یا جلنے کی وجہ سے ، اس طور سے کہ اگر اس کو غسل دیا جائے تو وہ پک جائے گی غسل دینا دشوار ہو تو اس کو غسل نہیں دیا جائے گا بلکہ تیمم کیا جائے گا ، اور یہ تیمم واجب ہے ، اس لئے کہ یہ ایسی تطہیر ( پاکیزگی ) ہے جو نجاست ( گندگی ) کو دور کرنے سے تعلق نہیں رکھتی ، تب پانی سے عاجز ہونے کے وقت غسلِ جنابت کی طرح اس میں تیمم کی طرف منتقل ہونا واجب ہے ، اور اگر وہ ( میت) ملدوغ ہو اس حیثیت سے کہ اگر اس کو غسل دیا جائے تو وہ پک جائے گی ، یا غسل دینے پر غسل دینے والے کو کوئی نقصان پہونچ سکتا ہے تو ہمارے ذکر کی ہوئی وجہ سے اس کو تیمم کرایا جائے گا ۔ ( 178/5 )

اسی طرح مرد میت کو غسل دینے کے لئے کوئی مرد یا محرم نہ ملا ہو ، یا میت عورت کی ہو اور وہاں اجنبیوں کے علاوہ کوئی نہ ہو تو میت کو تیمم کیا جائے گا ، پھر اگر تیمم کر کے نماز پڑھنے کے بعد دفن کرنے سے پہلے عورتیں یا کوئی مَحْرَم حاضر ہوا تو اس کو غسل دیکر نماز بھی پڑھی جائے گی . ( جیسا کہ تیمم سے نماز پڑھنے کے بعد وقتِ نماز میں پانی ملنے پر تیمم کے ٹوٹ جانے پر وضو کر کے نماز پڑھنا ضروری ہے )

جیسا کہ امام رملی لکھتے ہیں کہ پس اگر عورت ( کے جنازہ ) کے پاس اجنبی کے علاوہ کوئی اور حاضر نہ ہو ، یا اُس ( مرد ) کے پاس سوائے کسی اجنبیہ کے کوئی اور موجود نہ ہو تو اصح میں ان دونوں ہی میں لازمی طور پر میت پر تیمم کیا جائے گا ، غاسل کے نہ ہونے کو پانی کے نہ ہونے پر الحاق کرتے ہوئے ، اس لئے کہ ( یہاں ) غسل دینا شرعی طور پر دشوار ہے ، کیونکہ یہ. (غسل دینا ) دیکھنے یا محرم کے چھونے پر موقوف ہوتا ہے . ( اس پر محشی ابوالضیاء نورالدین علی بن علی شبراملسی ( متوفی/1087 ھ ) لکھتے ہیں کہ اگر نماز ( پڑھی جانے ) کے بعد ایسا شخص آگیا جو ان دونوں کو غسل دے سکے تو غسل دینا واجب ہے ، جیسا کہ کسی شخص کے پانی نہ ملنے کی بنا پر تیمم کرکے نماز پڑھنے کے بعد پانی کو پانے پر نماز کا لوٹانا واجب ہوتا ہے . اور یہی اظہر ( معتمد ) ہے . اور نماز کے بعد کہنے سے وہ صورت نکل گئی کہ اگر یہ ( محرم وغیرہ ) شخص دفنائے جانے کے بعد حاضر ہوا تو ( غسل دینے کے لئے ) قبر نہیں کھودی جائے گی ، کیونکہ غسل کے بدلہ تیمم کے ذریعہ فرض ساقط ہوچکا ہے . یہ ( مسئلہ ) ویسا نہیں ہے جیسا کسی کو بغیر غسل کے دفنایا جاتا ہے ، ایسی صورت میں اس کو قبر سے نکال کر غسل دیا جائے گا ، اس لئے کہ یہاں غسل پایا گیا ہے اور نہ اس کا بدل . ( 450 )

احمد شہاب الدین رملی ( متوفی/104ھ ) آگے لکھتے ہیں کہ اور اس سے یہ ( مسئلہ) اخذ کیا جاتا ہے کہ اگر وہ ( موتہ) کوئی لمبا سا کپڑا پہنا ہوا ہو اور مثلا کسی نہر کے قریب ہو اور اس کو اس نہر میں غوطہ ( ڈوبکی ) دینا ممکن ہو ، تاکہ دیکھے اور چھوئے بغیر اس کے سارے بدن پر پانی پہونچے ، تو غوطہ دینا واجب ہے ، اور یہ ظاہر ہے . اور اوجہ ( معتبر پہلو ) یہی ہے ، جیسا کہ شیخ نے اس کا فائدہ بتایا کہ یہ نجاست ( گندگی ) کو دور کرے گی ، اس لئے کہ اس کا دور کرنا ضروری ہے ، غسل کے برخلاف . اگر میت کے پاس کوئی کافر مرد اور کوئی مسلمہ آئی تو وہی اس کو غسل دے ، اس لئے کہ اِس کو میت کی طرف دیکھنا جائز ہے ، اُس ( مسلمہ) کو نہیں ، اور اس پر نماز مسلمہ پڑھے . ( مغربی رشیدی ( 1096ھ )اس پر حاشیہ لکھتے ہیں کہ یعنی واجبی طور پر مرد ہی نماز پڑھے گا ، اُس قاعدہ کو اخذ کرتے ہوئے کہ امتناع ( جو کہ عورت کا غسل دینا ہے ) کے بعد جو جائز (جو کہ کافر کا غسل دینا ہے ) ہوتا ہے وہ وجوب پر صادق آتا ہے ، اور اس بِنا پر کہ وہ ( کافر ) فروعِ شریعہ سے مُخَاطَب ہے . سو تو اس میں مراجعہ ( جانچ ) کر . (451 )

اور وہ چھوٹا بچہ حاضر ہوا جو ابھی شہوت سے دور ہو تو لڑکا یا لڑکی اس کو غسل دے ، کیونکہ اس کا اس ( میت ) کو دیکھنا اور چھونا حلال ہے . بڑے خنثی ( خواجہ سرا ) مشکل کو اس کے محارم میں سے کوئی غسل دے ، پھر اگر محارم نہ پائے گئے تو ( میت کو ) تیمم کیا جائے گا ، جیسا کہ میت کے پاس اجنبی کے علاوہ کوئی ( مرد یا محرم ) نہ ہونے پر . ( اس کو تیمم کیا جاتا ہے )

اس پر اسی طرح اُس ( منہاج یا محرر کی طرف ضمیر لوٹتی ہوگی ) کی پیروی کرتے ہوئے ابنِ مقری نے جزم ( عزم کے ساتھ اختیار ) کیا ، اور اسی کو مجموع میں صحیح قرار دیا اور اسی کو کلامِ اصحاب کے اتفاق سے نقل کیا ، اور یہ کہ فریقین ( مرد اور عورت ) میں سے ہر ایک کے لئے ضرورت کی بنا پر اس کو غسل دینا جائز ہے ، ( یعنی محارم کے موجود نہ ہونے کے وقت . اور سزاوار ہوتا ہے کہ وہ دوسری اور تیسری مرتبہ پانی ڈالنے اور وضو کرانے کی بجائے صرف غسلِ واجب پر ہی اقتصار کرے . اور منہج پر ” سم ” ( سین میم ) کی عبارت یہ ہے ناشری نے کہا! تنبیہ : اسنوی نے کہا کہ جہاں ہم نے کہا کہ خواجہ سرا کو اجنبی غسل دے تو اس کا ایک ہی مرتبہ غسل دینے پر اقتصار کرنا متوجہ ( راجح ) ہوتا ہے ، اس لئے کہ اس سے ضرورت پوری ہوتی ہے اھ ) اور چھوٹے کے حکم کو ساتھ لیتے ہوئے ، اور یہی معتمد ہے . کہا! اور کسی کپڑے کے اوپر غسل دے ، اور غسل دینے والا نظر کو پست رکھنے اور چھونے میں احتیاط برتے ، ( یعنی خنثی کو کپڑوں پر ہی غسل دینا واجب ہے . اور حج ( ابن حجر ہیتمی ) نے اور غسل دینے والا احتیاط کرے کے بعد ” نَدْبًا ” کا لفظ استعمال کیا ہے . شبراملسی/451 ) اور اس کے اور اجنبی کے درمیان فرق یہ ہے ( جہاں عورت کا اس کو غسل دینا حرام ہے . شبراملسی ) کہ یہاں پر ذکورت اور انوثت کی جنس میں اتحاد ہونا ممکن ہے ، وہاں کے برخلاف .

اور اصح کے مقابل والے ( یعنی مرجوح ) قول میں میت کو اس کے کپڑوں پر ہی غسل دیا جائے گا ، اور غاسل اپنے ہاتھوں ( ہتھیلیوں ) پر کوئی کپڑا لپیٹے ، اور جس حد تک ممکن ہو اپنی آنکھیں بند رکھے ، پھر اگر دیکھنے کی طرف مجبور ہو تو صرف ضرورت کے لئے ہی دیکھے . ( نہایة المحتاج ، ج/2 ، 450 ، 451 ، تحفة المحتاج ، ج/1 ، ص/398 ، اور اعانة الطالبين ، ج/2 ، ص/111 ، کا خلاصہ ، الفاظ نہایہ کے ہیں )
علامہ بجیرمی شیخ محمد بن احمد خطیب شربینی ( متوفي/977 ھ ) کے قول ” میت پر تیمم کیا جائے گا ” پر حاشیہ لکھتے ہیں کہ بغیر چھوئے کے . پھر کچھ سطروں کے بعد لکھتے ہیں اور اوجہ یہی ہے جیسا کہ شیخ الاسلام نے کہا کہ نجاست کو دور کرنے کے بعد ہی اس پر تیمم کیا جائے گا ، تحفہ میں جو صحیح کہا ہے اس کے برخلاف ، اگر چہ کہ وہ دور نہ ہو ، تحفہ کی عبارت یہ ہے اور متن کا قضیہ یہ ہے ، جیسا کہ اُن ( فقہاء ) کا کلام ” کہ اس کو تیمم کرایا جائے گا ” اگر چہ کہ اس کے بدن پر خبث ( گندگی ) ہو ، اور معتبر یہی ہے کہ اس کو ہٹانا دشوار ہو ، جیسا کہ آگے گذرا ، اور تیمم کے صحیح ہونے کے توقف کا محل یعنی اور نماز کا نجاست کے ہٹانے پر ہے اگر ممکن ہو . اھ ، اج ، کے حوالہ سے محشی بجیرمی، ج/2 ، ص/522 )

ایک دوسری جگہ میں ان ( خطیب شربینی ) کی عبارت ” ومن تعذر غسله یُمَّمُ کما فی غسل الجنابة ” اور جس کو غسل دینا دشوار ہو تو تیمم کیا جائے گا جیسا کہ جنابت کے غسل میں ” پر لکھتے ہیں ( غسل کا دشوار ہونا ) پانی یا اس کے غیر کی وجہ سے ، جیسے جلنے کی وجہ سے ، کہ اگر اس کو غسل دیا جائے تو وہ پک جائے گی . بحوالہ شرح المنھج .

پھر اس کے نیچے تیمم پر لکھتے ہیں کہ ” اور تیمم اور غسل میں نیت کرنا مندوب ( سنت ) ہے ، اور کہا گیا واجب . اس لئے کہ یہ ایک ضعیف طہارت ہے ، سو نیت اس کو قوی بناتی ہے ، اور یہ شرط ہے کہ اس کے بدن پر گندگی نہ ہو ، اس لئے کہ تیمم کی شرط یہ ہے کہ ( تیمم کرنے سے ) پہلے اس کو دور کیا جائے . پھر اگر اس پر گندگی ہو اور اس کا دور کرنا دشوار ہو تو وہ ( اس کا حکم ) اَقْلَفْ ( غیر مختون شخص ) کا سا ہوگا اور م ر ( محمد رملی ) نے جس پر اعتماد کیا ہے اس کے مطابق اس کو بغیر نماز کے دفنایا جائے گا ۔ ( پھر کسی بیماری سے مرے ہوئے شخص کو بغیر غسل دئیے یا تیمم کئے کے کیسے اس کی نماز پڑھی جاسکتی ہے؟ ) اور ابن حجر نے جس ( مذہب ، یا مسئلہ) پر اعتماد ظاہر کیا ہے اس کے مطابق اس حالت میں اس پر تیمم کرنا صحیح ہوگا اور اس پر نماز پڑھی جائے گی ۔ اور اگر قلفہ ( سپاری کے اوپری حصہ ) کو توڑنا ممکن نہ ہو تو قلفہ کے علاوہ باقی پورے بدن پر غسل دینا واجب ہوگا . اھ . ( ج/2 ، ص/520 ،521 )

ایک دوسری جگہ شارح ( علامہ خطیب شربینی کی عبارت ” اور میت کے دانتوں کو پاک کرے ” پر حاشیہ لکھتے ہیں ، اگر اس کا منہ نجس ( گندہ ) ہوا تو اس کو پاک کرنا لازم ہے ، اور اگر یہ اس کے دانتوں کو کھول کر ہی پاک کرنے پر موقوف ہو تو ان کو کھولنا معتبر ہوگا اگر چہ کہ اس سے اس کے پیٹ کے اندر پانی جاتا ہو ، اور اگر اس کی گندگی کو دور کرنا اس کے دانت توڑنے پر موقوف ہو تو دانت نہیں توڑے جائیں گے اس وجہ سے جو فقہاء نے اس میت کے سلسلہ میں کہا ہے جو غیر مختون ہو اور اس کے قلفہ کے اندر گندگی ہو ، اگر اس گندگی کو دور کرنا اس ( قلفہ) کے کاٹنے پر موقوف ہو تو اس کو کاٹا نہیں جائے گا ، اور اس پر نماز پڑھے بغیر ہی اس کو دفنایا جائے گا ، جیسا کہ مدابغی نے اس کو اجھوری سے نقل کیا ہے ، ان کی تحریر پر یہ عبارت ہے اور اس کے ختنہ کرنا حرام ہے ، اگر چہ کہ اس کے ختنہ کرنے دیری کرنے یا اس کے قلفہ کے اندر کی گندگی کو دھوکر دور کرنا مشکل ہونے کی وجہ سے وہ گنہگار ہوگا ، جیسا کہ ان ( فقہاء ) کا کلام تقاضہ کرتا ہے ، ایسے میں اس کے اندر والی جگہ کے لئے تیمم کیا جائے گا ، اور اس کا محل اسی وقت ہے اگر اس کے نیچے وہ گندگی نہ ہو جس کو دور کرنا دشوار ہو ، ورنہ م ، ر ، کے پاس بغیر نماز پڑھے کے اس کو دفنایا جائے گا ، اور ابن حجر کے پاس تیمم کرانے کے بعد . ( الإقناع ، ج2 ، ص/518 )

کورونا سے فوت شدہ لوگوں پر عذر کی وجہ سے بعض فقہاء کے قیاس پر بغیر غسل یا تیمم کے نماز پڑھنے کو کس حد تک قبول کیا جاسکتا ہے ؟

یہ بات طے شدہ ہے کہ غسل دینا اور عذر کی بناء پر تیمم کرانا میت کا حق ہے . لوگ اگر ان دونوں سے بھی عاجز ہو جائیں تو کیا بغیر طہارت کے ہی نماز پڑھ کر میت کو دفنایا جاسکتا ہے ؟ جبکہ نماز کے لئے غسل یا تیمم شرط ہے . اور مذہب کے معتمد فقہاء نے ایسی میت کو بغیر نماز پڑھے ہی دفنانے کو اختیار کیا ہے . یہی جمہور شافعیہ اور ائمہِ مجتہدین کا مذہب ہے . جتنی بھی مذہبِ شافعی کی معتمد کتب ہیں ان میں سے کسی میں بھی غسل یا اس کے بدلہ میں تیمم کے بغیر نماز پڑھنی والی بات قبول نہیں کی کئی ہے اور یہی معتبر ہے .

ہاں ! بعض جید علماء نے قیاس سے اس کو جائز قرار دیا ہے ، لیکن قیاس آیت ، حدیث یا اثر کا بدل نہیں ہوسکتا . خطیب شربینی لکھتے ہیں کہ اگر کوئی شخص کسی دیوار یا اس جیسی کسی چیز کے گرنے سے ( اس کے نیچے دب کر یا ) جیسے کنویں یا گہرے پانی میں ڈوب ( کر مر ) گیا اور اس کو نکال کر غسل دینا یا تیمم کرانا دشوار ہو تو شرط کے فوت ہونے سے اس پر نماز نہیں پڑھی جائے گی ، جیسا کہ شیخان ( رافعی ونووی ) نے متولی سے اس کو نقل کیا ہے ، اور ان دونوں نے اس کا اقرار کیا .

رہا امام دارمی کا عزم کے ساتھ کہنا ، علامہ طنبداوی کا جواز کا فتوی دینا اور بعض متاخرین ائمہ اذرعی سبکی وغیرہ کا قیاسًا جائز قرار دینا ، تو یہ اصل اور معتمد قول پر کوئی اثر نہیں ڈالے گا . خصوصاً اس وقت جبکہ کورونا کے نام اور اس کی دہشت سے ہی وفات پانے والے کتنے لوگ ایسے ہیں جو صرف خوف کی وجہ سے مرگئے ہیں اور جانچ کے بعد ان میں کورونا وائرس کا ذرا سا بھی اثر نہیں ملا . تو کیا ان لوگوں کو بغیر کسی شرعی یا حسی عذر کے غسل کو ترک کرنا لازم نہیں آئے گا جو اس کا حق ہے ؟ اور کیا ایسی صورت میں ان پر نماز پڑھ سکتے ہیں ؟ بالخصوص اُس وقت جبکہ ماہرین کا کہنا ہے کہ آدمی کے مر جانے کے بعد کورونا وائرس دم توڑ جاتے ہیں ؟

ہاں ! اُس وقت ایک پہلو نکل سکتا ہے جب مرنے کے بعد دو مسلم طبیب ( ڈاکٹرس ) اچھی طرح جانچ کرکے اس کے کورونا وائرس کے پوزیٹو ہونے کی تصدیق کریں ، اور یہ کہ اس کو غسل دینے یا تیمم کرانے سے موتہ کے کورونا جراثیم غسل دینے یا تیمم کرانے والوں میں منتقل ہو سکتے ہیں ۔ ایسے میں وہ ( غسل دینے والے ) پورے احتیاط کے ساتھ مانعِ جراثیم کپڑے پہن کر غسل دے سکتے ہیں ، یا اتنی دور سے میت کے پورے جسم پر کسی پائپ یا اس جیسی چیز کی مدد سے پانی ڈال یا بہا سکتے ہیں کہ جس سے غسل دیتے وقت اڑنے والے چھینٹوں سے وہ مکمل طور سے محفوظ رہ سکیں ، اور اپنی ہتھیلیوں پر پلاسٹک وغیرہ کے دستانے پہننا ہرگز نہ بھولیں .ایسی احتیاطی تدابیر کے ساتھ وہ میت کو غسل دے سکتے ہیں یا کم از کم تیمم تو کرا ہی سکتے ہیں جو مجبوری کے وقت غسل کا بدل ہے ، جس سے موتہ کے رشتہ دار بھی خوش ہوں اور اس کے متعلقین اور مسلمان بھی راضی .

اگر ہر ممکنہ کوششوں کے باجود ایسا نہ کیا جا سکا ! اس کی صورت یہ ہو سکتی ہے کہ مثلا میت کو اسپتال سے ہی کپڑوں یا پلاسٹک تھیلی وغیرہ میں لپیٹ کر باہر لایا گیا ہو ، اس کی دو صورتیں ہیں ، پہلی صورت : اسے نہلا کر لایا گیا ہو ، اور اس کا امکان کم ہے . ہاں ! اگر ڈاکٹر مسلمان ہوں ، یا اسپتال کے عملہ میں مخصوص غسل دینے والے ہوں اور انہوں نے کہا کہ ہم نے اس کو غسل دے دیا ہے تو اس جنازہ پر اطمینان کے ساتھ نماز پڑھی جاسکتی ہے . دوسری صورت : میت کو غسل دیے بغیر ہی جراثیم کے عدم پھیلاؤ کے کپڑوں ( پلاسٹک وغیرہ ) میں اچھی طرح سے لپیٹ کر لایا گیا ہو . کافی مسلمان نوجوان اس کارِخیر میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہوئے نظر آرہے ہیں اور پورے احتیاط کے ساتھ موتہ کو غسل دے کر نماز بھی پڑھ رہے ہیں ، ( اللہ جل مجدہ انھیں ان کی بھرپور کاوشوں کا کماحقہ بدلہ عطا فرمائے . آمین . ) اگر یہ کام کر سکتے ہوں ، اور حکومت کی طرف سے کوئی رکاوٹ اور سختی نہ ہو تو وہ نوجوان یا میت کے رشتہ دار بھی پورے احتیاط کے ساتھ میت کو غسل دے کر اُس پر نماز پڑھ سکتے ہیں ، اس سے موتہ کے تمام حقوق ادا ہوں گے ، یا کسی اور مجبوری کی وجہ سے اس کے علاوہ کسی اور صورت سے اس کو غسل دیا جا سکتا ہو ، ( جیسے گذری ہوئی دور سے پانی مار کر غسل دینے کی صورت ) تو اسی صورت کو اپنا کر موتہ کا حق ادا کرنے کی کوشش کی جائے گی . اگر کسی طرح سے بھی غسل دینا ممکن نہ ہو تو میت کو تیمم کرانا ہوگا جو غسل کا بدل ہے . اگر حکومت کے کارندے یہ بھی نہیں مان رہے ہوں تب کوئی اور صورت باقی نہیں رہتی ، مجبورًا ” اَلضَّرُوْرَاتُ تُبِيْحُ الْمَحْظُوْرَاتِ ، وَالضَّرُوْرَةُ تُقَدَّرُ بِقَدْرِهَا : ضرورتیں منع کردہ چیزوں کو حلال کر دیتی ہیں اور ضرورت کو اس کی مقدار کے بقدر ہی مانا جائے گا ” قاعدہ کے تحت اُس پر نماز پڑھی جائے گی . ( واللہ تعالی اعلم ) تاکہ کوئی ممکنہ صورت ہم سے باقی نہ رہ جائے . اور باری تعالیٰ کی آیتِ کریمہ ” لَايُكَلِّف اللَّهُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَهَا “. اللہ کسی جان کو اس کی وسعت ( طاقت ) کے برابر ہی تکلیف دیتا ہے . کو مدِنظر رکھ کر اللہ کی رحمت سے بھر پور امید رکھتے ہوئے ( اس پر نماز پڑھ کر اس کو دفنایا جائے . یہ مجبوری کی آخری حد ہے )

اور خبردار! خبردار! خبردار! میت کو کسی حالت میں بھی جلایا نہیں جائے ، کہ یہ حرام ہے ، اور میت کی بے حرمتی ہے ، اور نہ ہی کوئی مسلمان جماعت کسی میت کو اپنے گاؤں کے قبرستان میں دفنانے سے منع کرے ۔ میت کو دفنانے کے بعد کورونا کسی کو بیمار بنانے کے لئے نہیں آئے گا ۔ کاش کہ مسلمان اپنے مسلمان ہونے کی اہمیت کو پہچانتا .

کورونا جیسے وبائی ومتعدی امراض سے فوت شدہ لوگوں کے احکام ائمہ کرام کی نظر میں

کیا متعدی بیماریوں میں مبتلاء ہونے کے سبب وفات پائے ہوئے جسموں کے ساتھ ان کے کفن ، یا تھیلی یا موتہ کو محفوظ کئے جانے والے تابوتوں ( صندوقوں ) کو کھولے بغیر مقابر میں ان جسموں کے ساتھ کام کرنے والوں کی حفاظت اور سلامتی کی خواہش رکھتے ہوئے اِنھیں غسل دئے بغیر ان پر طریقۂِ تیمم استعمال کیا جاسکتا ہے ؟

اس مسئلہ میں دو مِحْوروں ( بنیادوں ، نقطوں ) پر گفتگو مرکوز ہوتی ہے . پہلا محور : میت کو غسل دینا واجب ہونا ۔ جمہور علماء اس بات پر متفق ہوئے کہ کسی قسم کی رکاوٹ نہ پائے جانے کی صورت میں میت کو غسل دینا فرض یا واجب علی الکفایہ ہے ۔

حنفیہ کے مشہور مذہب میں غسل فرض علی الکفایہ ہے بلکہ ان میں بعضوں نے میت کے غسل دینے پر اجماع کو نقل کیا ہے .

بحر الرائق ( 68/1 ) میں کہا گیا ہے کہ ” میت ہونے کی وجہ سے مسلمانوں پر غسل دینا فرض علی الکفایہ ہے . فتح القدیر میں ہے کہ یہ اجماع ہے ، مگر اُس صورت میں جب میت خنثی ( خواجہ سرا ) مشکل کی ہو ، تب اس میں اختلاف ہے .

ہدایہ کی شرح عنایہ ( 464/2 ) میں کہا گیا کہ ” اور غسل کو آگے کیا جائے گا ، اس لئے کہ یہ پہلی چیز ہے جو اس ( یعنی میت ) کے ساتھ کی جاتی ہے ۔

مبسوط ( 58/2 ) میں کہا گیا کہ ” معلوم ہو کہ غسلِ میت واجب ہے ، اور یہ ایک مسلمان کا دوسرے مسلمان پر حق ہے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وصحبہ وسلم نے فرمایا! ” ایک مسلمان کے دوسرے مسلمان پر چھ حقوق ہیں ” فی الجملہ اس میں میت کو غسل دینا بھی شامل ہے . لیکن اگر بعض مسلمانوں نے اس کو پورا کیا تو باقی مسلمانوں پر سے یہ واجب ساقط ہوگا . مذہب میں دوسرا قول یہ ہے کہ غسل سنتِ مؤکدہ ہے ، لیکن ابنِ نجیم نے ” البحرالرائق ” میں اس کو ضعیف قرار دیتے ہوئے کہا کہ ” اجماع کے نقل کرنے کے بعد اس کے کہنے میں نظر ہے ، اللھم مگر یہ کہ یہ قول غیر معتمد ہو ، ایسے میں اجماع کے انعقاد میں کسی قسم کا کوئی بھٹہ نہیں لگے گا “. ( 68/1 )

مالکیہ کے مسلک کی طرف دیکھتے ہیں تو پاتے ہیں کہ ان کے مشہور مذہب میں غسلِ میت کے تعلق سے وجوب کا قول ملتا ہے ، اور قاضی عبدالوہاب ، ابنِ محُرز اور ابنِ عبدالبر نے یہی کہا ، اور ابنِ رشد اور ابن فرحون سے بھی یہی مشہور ہے . ( دیکھئیے حاشیة الدسوقي 94/4 ، حاشیة العدوي على كفاية الطالب 425/7 ) ۔التلقین( 141 ) میں آیا ہے کہ ” اور مسلمان میت کا غسل واجب ہے “.

اور ابن عبدالبر کی کافی میں ہے کہ ” میت کی آنکھیں بند کرنا سنت ہے ، اور اس کو غسل دینا واجب ، جیسے اس کو چھپانا. (دفنانا ) اور اس پر نماز پڑھنا “. اور مالکیہ کے دوسرے قول میں میت کو غسل دینا سنتِ مؤکدہ ہے ، اس کو ابن ابی زید ، ابن یونس اور ابنِ جلّاب نے حکایت کیا ہے ، اور ابنِ بَزِيْرَه سے یہی مشہور ہے . ( دیکھئیے : حاشیہ دسوقی 94/4 ، حاشیة العدوي على كفاية الطالب ، 425/7 )

اختلاف کی وجہ یہ ہے کہ جیسا کہ ابن رشد رحمہ اللہ نے ذکر کیا ” کہ غُسل کو قول اور فعل سے نقل کیا گیا ہے ، اور فعل کا کوئی ایسا صیغہ نہیں جس سے وجوب کو سمجھا جائے .

قائلین بالوجوب کی یہ دلیل ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کی بیٹی کو غسل دینے والی صحابیات سے فرمایا! اِغْسِلْنِهَا ثَلَاثًا اَوْ خَمْسًا “. انھیں تین یا پانچ مرتبہ غسل دو . ( پانی بہاؤ ) اور آپ علیہ الصلوة والسلام کا اُس مُحرم کے سلسلہ میں فرمانا جن کی اونٹنی نے ان کی گردن توڑ دی تھی” اغْسِلُوْه “. انھیں غسل دو . ان دونوں حدیثوں سے دلالت کا پہلو یہ ہے کہ یہ ( اِغسل ) صیغہ امر اور صفت ( دونوں ) کو ایک ساتھ جمع کرتا ہے .

بہرحال غسل سنت ہے کہنے والے یہ کہتے ہیں کہ یہ قول غسل کی صفت کی تعلیم دینے کی جگہ سے نکلا ہے ، نہ کہ غسل دینے کی جگہ سے ، اور یہ وجوب کا فائدہ نہیں دیتا . ( بداية المجتهد ، 181،182/1 )

شافعیہ مسلک کی طرف اگر ہم جائیں تو انھوں نے غُسلِ میت کو صراحت کے ساتھ واجب ( فرضِ کفایہ ) کہا ہے ، امام شافعی نے اُمّ میں کہا کہ میت کو غسل دینا اس پر نماز پڑھنا اور اس کو دفن کرنا لوگوں پر حق ہے ، اُن میں سے عام ( لوگوں کا ) احاطہ کرنا ضروری نہیں ، جب اس میں سے کسی نے اس کو ادا کیا تو ان شاءاللہ تعالی کافی ہوگا . ( 312/1 )

ماوردی کی حاوی میں ہے کہ ” بہرحال موتیٰ کو غسل دینا انھیں کفنانا ان پر نماز پڑھنا اور انھیں دفنانا ، اس کا حکم تمام مسلمانوں پر فرض ہے ، اور تمام کو اس سے مخاطب کیا جائے گا . پھر جب ان میں سے بعض نے یہ ادا کیا تو باقی لوگوں پر سے یہ فرض ساقط ہوگا ، اور اگر بعض نے ادا نہیں کیا تو تمام گنہگار ہوں گے ” ( 10/3 )

امام نووی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ میت کو غسل دینا اُن فروضِ کفایہ میں سے ہے جس پر مسلمان جمع ہیں . مجموع میں ان کے یہ الفاظ ہیں ” اور میت کو غسل دینا اجماعِ مسلمین کے ذریعہ فرضِ کفایہ ہے ، اور کفایہ کا معنی یہ ہے کہ اُس ( بستی ) میں رہنے والے کسی نے کافی ہونے والی چیزوں کو کیا تو باقی لوگوں پر سے حرج ( گناہ ) ساقط ہوگا ، اور اگر ان تمام نے اس کو ترک کیا تو وہ تمام گنہگار ہوں گے ، یہ جان رکھو کہ میت کو غسل دینا ، اس کو کفنانا ، اس پر نماز پڑھنا اور اس کو دفنانا بلاخلاف فروضِ کفایہ ہیں” ( 128/5 )

شافعیہ نے وجوبِ غسلِ میت پر اُس حدیث سے استدلال کیا جو مروی عن ابن عباس رضی اللہ عنہما ہے ، کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن محرم کے سلسلہ میں فرمایا جن کی گردن ان کی اونٹنی نے توڑی تھی ” اِغْسِلُوْهُ بِمَآءٍ وَّسِدْرٍ “. اس کو پانی اور بیری کے پتوں سے اچھی طرح دھوؤ . ( غسل دو ) . ( بخاری ، مسلم )

حنابلہ بھی اس بات پر موافق ہوئے کہ میت کو غسل دینا فروضِ کفایہ میں سے ہے ، جیسا کہ مرداوی نے اس پر ” الإنصاف ” میں نصاً کہا ، ان کے ألفاظ یہ ہیں ” میت کو غسل دینا ، اس کو دفنانا ، اس کو کفنانا اور اُس پر نماز پڑھنا فرضِ کفایہ ہے . اس لئے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن شخص. (محرم ) کے تعلق سے فرمایا جن کی گردن ان کی سواری نے توڑی تھی ” اغسلوہ بمآء وسدر وَكَفِّنُوْهُ فِيْ ثَوْبٍ “. اس کو پانی اور بیری ( کے درخت ) کے پتوں سے( اچھی طرح دھوؤ ) غسل دو ، اور ایک کپڑے میں اس کو کفناؤ .

دوسرا محور : میت کو غسل دینا اگر دشوار ہو تو کیا کِيَا جائے ؟

کبھی کبھی بعض احوال میں کسی سبب کی بناء پر میت کو غسل دینا دشوار ہوتا ہے ، مثلًا میت کا جسم جل جانے پر ، اگر اس کو غسل دیا جائے تو وہ ٹکڑے ہوسکتا ہے ، یا اس بری طرح جل گیا کہ راک ہی ہوگیا ، یا بعض اوقات اس کی وفات کا سبب دوسروں میں پھیلنے والے امراض ہوں ، جیسے کوڑھ ، طاعون ، کورونا وغیرہ ان بیماریوں سے اس حیثیت سے کہ اگر اس کو غسل دیا جائے تو اس کا مَرَض مُغَسِّلْ کی طرف منتقل ہوسکتا ہے . ایسے میں موتیٰ کی ذمہ داریوں سے ہم کیسے سبکدوش ہوسکتے ہیں ؟

اقوالِ فقہاء اور ائمہِ مذاہب کا ایک بھرپور جائزہ

ایسی صورت میں ائمہِ مذاہب اور فقہائے کرام غسل کو ترک کر کے میت کے پورے جسم پر پانی بہانے کی طرف منتقل ہونے کو جائز قرار دیتے ہیں . پھر اگر یہ بھی دشوار ہو تو تیمم کی طرف منتقل ہوں گے .

حنفیہ کی رائے یہ ہے کہ اگر میت کو غسل دینا پانی کے موجود نہ ہونے کی وجہ سے ہو تو اس پر مٹی کے ذریعہ تیمم کیا جائے گا ، جیسا کہ عنایہ میں اس کو نصًّا کہا کہ ” جس کو غسل دینا دشوار ہو اُس چیز ( پانی ) کے موجود نہ ہونے کی وجہ سے جس سے غسل دیا جائے تو اس کو مٹی کے ذریعہ تیمم کیا جائے گا ” ( 261/16 )

بہرحال اگر اس کو غسل دینا اس کو چھونا دشوار ہونے کی وجہ سے ہو تو اس پر خوب پانی بہایا جائے گا ، جیسا کہ اس کو ” مراقی الفلاح ” میں کہا کہ ” اور وہ پھولی ہوئی میت جس کو چھونا دشوار ہو تو اس پر پانی بہایا جائے گا “۔ ( 224 )

مالکیہ کے نزدیک اگر میت کو پانی کے نہ ہونے کی وجہ سے غسل دینا دشوار ہوا تو اس پر تیمم کیا جائے گا .
اور اگر اس کے جسم پر زخم لگنے یا جلنے یا خارش زدہ ہونے یا چیچک زدہ ہونے کی وجہ اس کو غسل دینا دشوار ہوا ، اس طرح کہ اگر اس کو غسل دیا جائے تو وہ پھول پھٹ سکتی ہے تو اس پر اس قدر اچھی طرح سے پانی بہایا جائے کہ وہ پھولنے اور پھٹنے سے محفوظ رہے . اگر اس پر پانی بہانا بھی دشوار ہو تو اس پر تیمم کیا جائے .

” المدونہ” میں مجروح میت کے غسل کے سلسلہ میں آیا ہے ، کہتے ہیں کہ مالک سے اُس شخص کے تعلق سے پوچھا گیا جس کے جسم پر اتنے زخم آئے ہوں کہ انھوں نے اس کے پورے جسم کو گھیرا ہے . اور وہ مرگیا ہو ، اور لوگ اس بات سے ڈرتے ہوں کہ اگر اس کو غسل دیا جائے گا تو وہ پھٹ کر ٹکڑے ہوسکتا ہے . تو کہا اس پر اپنی طاقت کے بقدر خوب پانی بہایا جائے “. ( 472/1 ) میں نے پوچھا کیا مالک کا یہ قول نہیں ہے کہ کسی میت کو مٹی سے تیمم نہیں کیا جائے مگر اس مرد پر جو عورتوں کے ساتھ ہو ، یا اس عورت پر جو مرد کے ساتھ ہو ؟

رہا مجروح ( زخم سے فوت شدہ ) یا خارش زدہ یا چیچک زدہ اور اس کے علاوہ جو بیماریوں سے انتقال کرگئے ہوں ، اُن پر تیمم نہیں کیا جائے گا اور ان کو غسل دیا جائے گا اور ان کو اس قدر مصالحہ لگا کر محفوظ کیا جائے گا کہ جس سے وہ ٹکڑے ٹکڑے نہ ہو جائے اور نہ پھولے ؟ کہا! ہاں! “.

شرحِ کبیر میں ہے ” اور مجروح پر پانی بہایا جائے گا اگر پھٹنے اور ٹکڑے ہونے کا خوف ہوئے بغیر اس پر پانی بہانا ممکن ہو ، جیسے چیچک زدہ اور اس کے جیسے پر ، سو اس پر پانی بہایا جائے گا اگر اس کے پھٹنے اور ٹکڑے ہونے کا خوف نہ ہو . اگر یہ ممکن نہ ہو، اس طور سے کہ پانی بہانے پر مذکورہ چیزوں کے ہونے کا خوف ہو تو تیمم کیا جائے گا “. ( 410/4 )

ایسے میں مالکیہ تیمم کی طرف منتقل نہیں ہوتے ہیں مگر اس وقت جب ( میت کو ) گھسنے ( رگڑ کر ، مل کر ) کے ساتھ غسل دینا دشوار ہو اور پھر پانی بہانا .

شافعیہ کی یہ رائے ہے کہ میت کو غسل دینا اگر دشوار ہو ، چاہے کسی بھی سبب سے ہو ، جیسے پانی کے نہ پائے جانے کی وجہ سے ، یا جلے ہوئے جسم کے پک جانے کے خوف سے ، تب میت کو غسل نہیں دیا جائے گا ، بلکہ اس کو تیمم کرایا جائے گا . بلکہ اگر میت کو غسل دینے والوں کے لئے غسل کی وجہ سے کوئی نقصان پہونچتا ہو تو واجبی طور پر میت پر تیمم کیا جائے گا .

نووی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ” پانی کے موجود نہ ہونے یا جلنے کی وجہ سے اگر میت کو غسل دینا دشوار ہو ، اس حیثیت سے کہ اگر اس کو غسل دیا جائے تو وہ پک سکتی ہے ، تو اس کو غسل نہیں دیا جائے ، بلکہ تیمم کیا جائے ، اور یہ تیمم واجب ہے ، اس لئے کہ یہ پاک کرنا ہے ، نجاست کو دور کرنے سے تعلق نہیں رکھتا ، تب پانی سے عاجز ہونے کے وقت تیمم کی طرف منتقل ہونا واجب ہے ، جیسے جنابت کا غسل ، اگر میت ( کسی زہریلے حیوان سے ) کاٹی ( یا ڈنک ماری ) گئی ہو ، اس طور سے کہ اگر اس کو نہلایا جائے تو وہ پھٹ سکتی ہے ، یا غسل دینے والے پر خوف ہو تو اس پر تیمم کیا جائے گا ، اس سبب سے جو ہم نے ذکر کیا “. ( 178/5 . اعانة الطالبين ، 127/2 )

اور منہاج میں کہا کہ ” اور جس پر غسل کرنا مشکل ہو پانی کے موجود نہ ہونے کی وجہ سے ، یا جلے ہوئے ، یا ڈنک مارے ہوئے جیسے شخص پر اگر غسل دیا جاتا ہے تو وہ ٹکڑے ہوسکتا ہے ، یا غسل دینے والے کے لئے کسی قسم کا نقصان پہونچنے کا خوف ہو اور اس کو اس ( نقصان ) سے حفاظت کرنا ممکن نہ ہو ، تو زندہ کی طرح واجبی طور پر اس پر تیمم کیا جائے گا ، اور اس کے جسم کی حفاظت کی جائے گی تاکہ اس کو اپنی حالت پر ہی دفنایا جائے ، اور یہ اُس شخص کے لئے نہیں ہے جس کا جسم زخموں کی وجہ سے بگڑتا ہو ، اس لئے کہ یہ بوسیدہ ہونے کی طرف جانے والا ہے .

حنابلہ کے نزدیک اگر میت کو گھس ( رگڑ ) کر نہلانا دشوار ہو تو اس پر بغیر رگڑے ہوئے خوب پانی بہایا جائے گا ، ورنہ تیمم کی طرف منتقل ہوا جائے . اور حنابلہ کی دوسری روایت میں اگر میت کو غسل دینا دشوار ہو تو اس پر تیمم نہیں کیا جائے گا ، بلکہ غسل اور تیمم کے بغیر اس پر نماز پڑھی جائے گی ، بِنا بَر اس کے کہ غسل سے مقصود پاکیزگی ہے ، اور یہ تیمم سے ثابت نہیں ہوتی .

” الشرح الکبیر ” میں ہے کہ ” جس شخص پر پانی کے موجود نہ ہونے کی وجہ سے غسل دینا متعذر ہو ، اور اگر اس کو غسل دیا جائے تو اس سے اس کے ٹکڑے ہونے کا خوف ہو جیسے چیچک زدہ ، ڈوب کر مرا ہوا اور جل کر مرا ہوا ، تو اس پر تیمم کیا جائے گا اگر ممکن ہو ، پانی نہ ملنے والے زندہ شخص کی طرح ، یا اس شخص کی طرح جس کو پانی کا استعمال ایذاء پہونچاتا ہو ، اگر اس کے بعض حصہ کو دھونا ممکن ہو تو دھویا ( غسل دیا ) جائے گا اور باقی کے لئے تیمم کیا جائے گا ، جیسے زندہ کرتا ہے “. ( 337/2 ) . اور یہ بات مُحْتَمَل ہے کہ اس کو تییم نہ کرایا جائے اور اسی حالت میں اس پر نماز پڑھی جائے ، اس کو ابن عقیل نے ذکر کیا . اس لئے کہ میت کو غسل دینے سے مقصود پاکیزگی ہے ، اور یہ تیمم سے حاصل نہیں ہوتی ، اور پہلا قول اصح ہے اگر غسل دینا ممکن ہو تو اس کو چھوئے بغیر اچھی طرح سے پانی بہایا جائے ، واللہ اعلم “.

اور ” المبدع ” میں کہا کہ ” اور جس کو پانی کے موجود نہ ہونے کی وجہ سے یا اس کے علاوہ کسی اور عذر کی وجہ سے غسل دینا دشوار ہو جیسے جلا ہوا یا جذام والا یا ٹکڑے شدہ شخص ، تو اس کو تیمم کرایا جائے گا ، اس لئے کہ میت کو غسل دینا بدن کو پاکیزہ بنانا ہے ، تو اس سے مجبور ہونے کے وقت تیمم کو اس کے مقام پر کھڑا کیا جائے گا ، جنابت والے کی طرح . اور اگر اس کے بعض حصہ پر غسل دینا دشوار ہو تو دو وجہ میں سے اصح پر جتنا ممکن ہو بعض جسم پر غسل دیا جائے گا اور باقی کے لئے تیمم “. ( 240/2 ) . اور انہی سے منقول ہے ، کہ اس کو کفنایا جائے گا اور بغیر غسل اور تیمم کے نماز پڑھی جائے گی ، اس لئے کہ غسل سے مقصود پاکیزگی ہے . اور ابن ابی موسی نے کہا! جلے ہوئے ، کوڑھی اور ٹکڑے شدہ پر خوب پانی بہایا جائے اور کفنایا جائے .

بعض اہلِ علم ہم عصروں نے اُس شخص کے مسئلہ میں جو اس حالت میں انتقال کر گیا ہو کہ اس میں پھیلنے والی بیماری تھی جو دوسروں کو نقصان پہونچا سکتی تھی ، صراحتًا کہا ہے کہ اس کو تیمم کرایا جائے اور غسل نہ دیا جائے اگر غسل دینے والوں کو اس سے نقصان پہونچنے کا خطرہ ہو .

شیخ محمد بن محمد المختار الشنقیطی نے ” شرح عمدة الفقہ ” میں کہا کہ ” اور جس شخص میں پھیلنے والی بیماری ہو جو نقصان پہونچاتی ہو ، یہ میت کو نقصان پہنچانے کی نسبت سے ہے ، بعض اوقات یہ غسل دینے والے زندہ شخص کو بھی نقصان پہونچاتی ہے ، مثلا اس کے اندر پھیلنے والی بیماری ہو ، یعنی یہ بات چھان بین اور جانچ کرنے والوں کی گواہی سے ہو کہ اگر کوئی اس کو نہلائے گا تو اس کو نقصان پہونچ سکتا ہے تو تیمم کیا جائے ، یعنی غاسل اپنی دونوں ہتھیلیوں کو غبار والی مٹی پر مار کر پہلے میت کے چہرہ پر ملے ، پھر دوسرا ضرب مٹی پر مار کر کہنیوں کے ساتھ اس کے دونوں ہاتھوں پر مسح کرے “.

شرح الزاد میں کہا کہ ” اور اسی طرح اگر غسل دینے والے کو بھی ضرر پہونچنے کی توقع ہو جیسا کہ پھیلنے والی بیماریوں کا حال ہے ، اگر ان لوگوں کو کسی بھی طرح اس طریقہ ( احتیاط ) سے غسل دینا ممکن نہ ہو جس سے غسل دینے والا تجاوز کرنے والی بیماری سے محفوظ رہ سکتا ہو تو اِن تمام احوال میں علماء رحمھم اللہ نے اِنھیں ( موتیٰ کو ) اصل ہی سے مستثنَی قرار دیا ہے ، کہا کہ انھیں غسل نہ دیا جائے . اِنھیں تو تیمم کرایا جائے گا . اور ان کا یہ قول اسی قول کے موافق ہے جس پر جمہور ہیں کہ میت یا غاسل پر پانی کے استعمال کرنے سے اگر نقصان پہونچنے کا خوف ہو اور پانی کا استعمال دشوار ہو تو غسل سے تیمم کی طرف منتقل ہوا جائے .

ڈاکٹر احمد قطی جو بروقت ٹورنٹو کینڈا میں معہدِ اسلامی میں لکچرر ہیں سمجھتے ہیں کہ بیماری کے منتقل ہونے کے خطرہ کے سبب اُن دونوں کا استعمال دشوار ہونے کے وقت غسل اور تیمم دونوں ساقط ہوتے ہیں ، اس بنیاد پر کہ یہ ایک ضرورت ہے اور ضرورات محظورات کو مُباح بنادیتی ہیں ، اور ضرورت کا اس کے بقدر ہی اندازہ لگایا جائے ، لیکن اس کو اس قید سے مقید کیا جائے کہ یہ اسی وقت ہو جب وہاں ان حالات میں اس کے پاس چھان بین اور جانچ کرنے والے خصوصی تجرکار نہ ہوں ، یا ان حالات کے ساتھ باہم کام کرنے کے مناسب بچاؤ کے وسائل متوفر نہ ہوں .

ڈاکٹر احمد اُن اموات کے غسل دئے جانے والے کے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ جو سارس ( sars ) کی بیماری سے انتقال کر گئے تھے . ” رہے احکامِ جنازہ ، ضرورات محظورات کو مباح بنا دیتی ہیں ، اور ضرورت کا اندازہ اسی کے بقدر لگایا جاتا ہے ، لہذا اُس وبائی وائرس ” سارس” سے مبتلا ہو کر وفات پائے ہوئے شخص کی میت پر غسل دینے سے چشم پوشی کرنا ممکن ہے جب غسل دینے والے لوگوں پر غسل دینے میں خطرہ ہو تو اس حالت میں ہر چیز کو کرنا واجب ہوتا ہے جو میت کو غسل دئے بغیر دفنانا اور دفنانے کے بعد اس کی قبر پر نماز پڑھنا . لیکن اگر تربیت یافتہ اشخاص موجود ہوں اور ان کے پاس ان جیسے حالات میں مُتَوَفَّى جسموں کے ساتھ کام کرتے وقت مناسب بچاؤ کے وسائل موجود ہوں تو اس صورت میں غسل کو ترک کرنا جائز نہیں ہوگا ، اور ان تربیت یافتہ لوگوں کو اس کی ذمہ داری لینا واجب ہوگا ، اور معاشرہ کے ذمہ داروں پر یہ واجب ہوگا کہ وہ اس اہم کام کے لئے اتنے تربیت یافتہ لوگ مہیا کریں جو اس کام کو بخوبی انجام دے سکیں . اور ایسی حالت میں میت کو غسل دینا اور اس کو تیار کرنا فرض کفایہ ہوگا اور ترک کرنے پر گاؤں کے تمام لوگ گنہگار ہوں گے ، اور بعض لوگوں نے اس کو ادا کیا تو باقی لوگوں سے ذمہ داری ساقط ہوگی ” .

بہرحال اگر طبی ماہروں نے تاکیدًا ( زور دیکر ) کہا کہ اس حالت میں غسل دینا خطرہ سے خالی نہیں تو حکم اس چیز ( حکم ) کی طرف منتقل ہوگا جو غسل کے مقام پر قائم ہوتا ہے ، اور یہ تیمم ہے ، ایسے میں بچاؤ کے تمام وسائل کو اپنانے کے ساتھ اس کی مخصوص بچاؤ والی وردی پہننا لازم ہوگا ، اور میت پر سے ملابس کو اتار کر اس پر تیمم کیا جائے گا اگر ان کو اتار کر تیمم کرانے میں کوئی خطرہ نہ ہو . اور اگر ماہر ( تجربہ کار ) ڈاکٹروں نے یہ زور دیکر کہا ہو کہ میت کے اعضاء پر سے کپڑوں کو اتار کر تیمم کرنا خطرہ سے خالی نہیں تو ایسی صورت میں ملابس کے اوپر سے ہی تیمم کرانا واجب ہوگا، اللہ عزوجل فرماتا ہے ” يُرِيْدُ اللهُ بِكُمُ الْيُسْرَ وَلَا يُرِيْدُ بِكُمُ الْعُسْرَ “. اللہ تم پر آسانی ( نرمی ) چاہتا ہے ، اور وہ تم پر دشواری ( سختی ) نہیں چاہتا . ( البقرہ/185 ) دوسری جگہ باری تعالیٰ کا فرمان ہے ” فَاتَّقُوْا الله مَا اسْتَطَعْتُمْ “. سو جہاں تک ہوسکے ( جس قدر تمہارے بس میں ہو ) تم اللہ سے ڈرو . ( التغابن/16)

اَتْقَی النَّاس سیدنا ونبینا محمد صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ” مَآ اَمَرْتُكُمْ بِهِ فَاْتُوْا مِنْهُ مَا اسْتَطَعْتُمْ “. جس چیز ( امر ) کا میں نے تم لوگوں کو حکم دیا ہے تم اُس کو اپنی استطاعت کے بقدر ادا کرو .

بہت خوب ، شیخ ( ڈاکٹر ) نے بڑی اچھی تشریح بیان کی ہے ، موجودہ وقت میں ان باتوں پر شرعی طور پر ادا کیا جاسکتا ہے ، وجزاہ اللہ خیرا .

مذکورہ احکام کے بنیادی مسائل

1) جمہور فقہاء کی اکثریت کا موانع ( رکاوٹوں ) کے نہ پائے جانے پر میت کو غسل دینا فروضِ کفایہ میں سے ہونے پر متفق ہونا ، اور ان میں سے بعضوں کا واجب ہونے کو نقل کرنا .

2) جلنے یا بیماری جیسی کسی مانع ( رکاوٹ ) کے سبب سے جو غاسل یا مغسول کو نقصان پہونچاتی ہو ( اس کا ) شریعت میں وارد شدہ حکم کے موافق ہونے پر غسلِ میت کے دشوار ہونے پر جمہور کا رگڑ کر غسل دینے کو ساقط سمجھنا ، ایسے میں بغیر گھسے کے میت کے پورے جسم پر پانی بہانا ، ورنہ تیمم کی طرف منتقل ہونا ۔

3) بعض علماء کا غسل دینا دشوار ہونے کے وقت تیمم کے بھی ساقط ہونے کو سمجھنا ( جیسا کہ حنابلہ کے نزدیک یہ دوسری روایت ہے ) بِنا بر اس کے کہ غسلِ میت سے مقصد تو ستھرائی حاصل کرنا ہے ، اور یہ تیمم سے متحقق نہیں ہوتا . ایسی حالت میں بغیر غسل اور تیمم کے اس پر نماز پڑھی جائے گی .

4) بعض اہلِ علم معاصرین کا اس بات کی طرف جانا کہ میت میں اگر کسی دوسرے میں منتقل ہونے والی بیماری تھی اور اس کے غسل دینے والے کی طرف منتقل ہونے کے خوف کی وجہ سے اس کو غسل دینا دشوار تھا تو تیمم کی طرف لوٹا جائے گا ، اور اگر خاص ڈاکٹروں کی جانب سے طبی اعتبار سے یہ ثابت ہوگیا کہ میت کا کام کرنے ( غسل وغیرہ دینے ) والوں کے لئے غسل دینا اور تیمم کرانا خطرہ سے خالی نہیں تو اس پر بغیر غسل اور تیمم کے نماز پڑھی جائے گی .

5) غسل اور تیمم کے سقوط کی طرف اسی وقت جایا جائے گا جب بیماری کے پھیلاؤ کے سارے طریقے غسل دینے والے یا تیمم کرانے والے کے بچاؤ کے لئے کارآمد ثابت نہ ہوتے ہوں ، اور یہ کام کرنے والے ان بیماریوں کے حالات میں خصوصی مشق کئے ہوئے اور خاص تجربہ رکھنے والے ہوں .

کورونا کے زمانہ میں کورونا سے وفات شدہ موتیٰ کو دفنانا

جس تیزی کے ساتھ کورونا وائرس ( کوڈ انیس ) ساری دنیا میں پھیلتا جارہا ہے اُسی تیزی سے اس وباء سے وفات پانے والے لوگوں کا تناسب بھی بڑھتا جارہا ہے ، اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی دیکھا جارہا ہے کہ کورونا سے وفات پائے ہوئے لوگوں کو دفن کرنے کے تعلق سے لوگوں کے درمیان تھیکی بحث ومباحثہ کا نہ تھمنے والا ایک سلسلہ سا چل پڑا ہے ، لوگ اپنی رہاشگاہوں کے قریب والے قبرستان میں انہیں دفنانے سے خوف کھا رہے ہیں اور کہیں جگہوں میں تو یہاں تک دیکھا جارہا ہے کہ کسی دوسرے محلہ یا گاؤں کا کوئی شخص اگر کسی اسپتال وغیرہ میں دورانِ علاج انتقال کرجاتا ہے تو اس کو اپنے محلہ یا گاؤں کے قبرستان میں دفنانے نہیں دیا جارہا ہے ، ( لاحول ولا قوة الا باللہ ) کہ کہیں یہ مرَض ان کو بھی اپنی گرفت میں نہ لے ، حتی کہ بعض جگہوں سے یہ بھی خبریں آرہی ہیں کہ بعض وفات شدہ لوگوں کو قبرستان میں دفنانے نہ دئے جانے پر ان کے رشتہ داروں کو انہیں جلانے پر مجبور ہونا پڑا ، یہ سب کیا ہو رہا ہے ؟ بھلا ہو ملک کے اُن نوجوانوں کا اور اللہ تعالیٰ اُنھیں اِس کارِ خیر کا پورا پورا بدلہ عطا فرمائے کہ ایسے وقت دین کے جذبہ سے سرشار چند نوجوان ملک میں کورونا سے وفات پانے والے لوگوں کو پوری ذمہ داری اور احتیاط کے ساتھ ، موقعہ ملنے پر غسل دے کر تکفین کے بعد ان پر نماز پڑھ کر دفنانے کے نیک کام میں تیزی سے آگے بڑھ کر اس فرضِ کفایہ کو ادا کررہے ہیں . حالانکہ کورونا کے ماہرین طبیبوں نے اچھی طرح سے جانچ کے بعد یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ موتَى کے اجسام وائرس نہیں پھیلاتے ، اور نہ ہی یہ ان کے جسموں سے نکل کر کسی اور جسم میں منتقل ہوتے ہیں .

اس کے تعلق سے جب ” ڈاکٹر احمد داودی ” سے پوچھا گیا جو ملک کی کمیٹی جنیوا میں صلیبِ احمر اسلامی قانون کے مشیر ہیں ، تو ان کا کہنا تھا کہ اسلام میں میت کو دفنانا فرضِ کفایہ ہے ، تو کورونا وائرس سے متاثر ہو کر وفات پائے ہوئے لوگوں کو نہ دفنانا شرعی مخالفت سمجھی جائے گی . ایسی کوئی طِبّی دلیل نہیں پائی جاتی کہ کورونا سے متاثر ہو کر وفات پائے ہوئے لوگوں کی وباء آس پاس رہنے والوں میں پھیل جاتی ہے ، اور حال ( 25/اپریل 2020 ء ) میں حاصل شدہ طبی دلائل اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ ان وائرس ( جراثیم ) کا پھیلنا اسی وقت ممکن ہے جب لازم احتیاطات کو بالائے طاق رکھا جائے . لیکن طبی جہات بڑی باریکی اور احتیاط کے ساتھ وہ تعلیمات دے رہی ہیں جس سے ان جراثیم سے پوری طرح احتیاط برتا جاسکے ، اور ان تعلیمات کے مطابق ان موتیٰ کو دفنانے سے کوئی بیماری دوسروں میں نہیں پھیلے گی .

احتیاط کے پیشِ نظر کسی بھی جگہ نمازِ جنازہ ادا کی جاسکتی ہے

نمازِ جنازہ کسی بھی جگہ ادا کرسکتے ہیں ، مسجد میں ہو ( البتہ احناف کے نزدیک مسجد کے اندر نماز جنازہ پڑھنا منع ہے ) میدان میں ، یا کسی اور کھلی جگہ میں ، اسلام میں نمازِ جنازہ کو کسی مُحَدَّد جگہ میں پڑھنا شرط نہیں ، حتی کہ اگر کورونا کا کوئی مریض اسپتال میں انتقال کر گیا ہو اور اس کی تجہیز وتکفین وہیں پر ہوئی ہو تو اسپتال میں یا کسی ایمبولینس کے اندر رکھ کر بھی پڑھی جائے تب بھی نماز جنازہ ادا ہوگی . جتنے زیادہ لوگ نماز جنازہ میں شریک ہوں اتنا ہی زیادہ اچھا ہے ، لیکن احتیاط کے مدِّ نظر اگر زیادہ لوگوں کا جمع ہونا دشواری پیدا کرسکتا ہو تو دو ایک آدمیوں سے بھی نمازِ جنازہ ادا ہوگی ، لیکن کسی وجہ سے اگر ( میت کا ) کوئی رشتہ دار وغیرہ شہر سے باہر ہو تو وہ اس پر غائبانہ نماز بھی ادا کر سکتا ہے ، یا اگر کسی سخت دشواری کی وجہ سے میت کو نماز کے بغیر ہی دفنایا گیا ہو تو مقبرہ پر بھی نمازِجنازہ ادا کی جاسکتی ہے ، لیکن اہم چیز ملک کے قوانین وضوابط اور شرعی احکام کے ساتھ طبی تعلیمات اور احتیاطات کو لازم بنائے رکھنا وقت کی بنیادی ضرورت ہوگی ، مثلاً کھلے ہاتھوں سے غسل دینے میں کوئی خطرہ ہو تو دستانے وغیرہ پہن کر طبی طور پر اپنائے جانے والے کپڑوں میں خود کو لپیٹ کر غسل دینا ہوگا ، اگر موتہ کو آرام سے غسل دینے میں کسی قسم کی طبی طور پر یا وائرس کے منتقل ہونے کا بہت زیادہ خطرہ ہو ، ( اور یہ ڈاکٹر اور اس کے ماہرین وغیرہ بتا سکتے ہیں ) تو اُس پر اس اچھی طرح سے پانی بہایا جائے کہ اس کا سارا بدن پانی سے اچھے طریقہ سے تر ہوجائے ، اگر اس کے لئے ماہرین کی کوئی ٹیم متعین ہو تو یہ کام انھیں کے سپرد کیا جائے گا .

جب کورونا ( یا ان جیسی اوبیہ ) سے فوت شدہ شخص کے جسم کو غسل دینا یا تیمم کرانا دشوار ہو تو کیا اس کو اسی طرح دفنایا جائے ؟

اگر ایسے موتہ کوغسل دینا دشوار ہو تو اس پر تیمم کیا جائے ، تیمم کرنے پر بھی اگر بیماری کا دوسروں میں منتقل ہونے کا خوف ہو تو میت کو غسل یا تیمم کے بغیر دفنانا جائز ہوگا . تمام حالات میں یہ سارے کام وہی جماعت کرے گی جو تمام طبی لوازمات کو اختیار کرنے کے ساتھ ذمہ داری سے ادا کرتی ہو ، یا وہ لوگ جنہیں اچھی طرح اِن کاموں کی ٹریننگ دی گئی ہو .

کیا ایسی میت کو بیماری کو دوسرے میں جانے سے روکنے یا احتیاط کا بہانہ بنا کر جلایا جاسکتا ہے ؟

کسی بھی حالت میں اسلام میں موتیٰ کے اجسام کو جلانا جائز نہیں ، ( حرام ہے ) اور نہ ہی ایسی کوئی طبی دلیل اس ضرورت پر زور دیتی ہے کہ کورونا کی وباء سے انتقال شدہ لوگوں کو جلایا جائے ، نہ عالمی ادارۂِ صحت ، اور نہ ہی عالمِ اسلام طِبِّی جہت سے کورونا کی وباء سے وفات پائے ہوئے لوگوں کو جلانے کے لئے کہتا ہے ، دفنانا میت کا حق ہے اور اس کو پورا کرنا ہماری ذمہ داری ہے ، مختلف بہانے بنا کر ہم اس ذمہ داری سے بھاگ نہیں سکتے .

کیا لکڑی یا کسی معدنی ( معدنیاتی ) صندوق میں رکھ کر میت کے جسم کو دفنا سکتے ہیں ؟

البتہ احتیاطی تدابیر اور ضرورت کے پیشِ نظر میت کو کسی لکڑی یا معدنیاتی صندوق( پیٹی ، بکس ) میں رکھ کر دفنا سکتے ہیں .

کیا کورونا وائرس سے وفات شدہ شخص کو شہید میں شمار کیا جا سکتا ہے ؟

آگے ایک سے زیادہ مرتبہ ہم نے ذکر کیا ہے چونکہ کورونا وائرس میں مبتلا شدہ شخص میں بہت ساری وہ علتیں پائی جاتی ہیں جو طاعون میں مبتلاء شخص میں پائی جاتی ہیں ، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے طاعون سے وفات شدہ شخص کو شہید فرمایا ہے ، تو پھر کورونا سے وفات شدہ شخص کیوں نہیں ؟

جامعہ ازہر کا بھی یہی ماننا ہے کہ یہ شخص بھی آخرت کے شہیدوں میں شمار ہوگا . ایک شخص کے سوال کا جواب دیتے ہوئے ” عالمی رصد اور الکٹرونی فتوی ” میں مرکزِ ازہر نے کہا کہ جو شخص کورونا وائرس سے انتقال کر جاتا ہے وہ شہید ہے ، اس کو آخرت کے شہید کا اجر حاصل ہوگا ، اور اس پر دنیا کے غسل ، کفن اور نمازِ جنازہ پڑھنے کے دنیا کے وہ سارے احکام لاگو ہوں گے جو مسلمان اموات پر لاگو ہوتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ کے فرمان سے استدلال کرتے ہوئے ” اَلشُّهَدَآءُ خَمْسَةٌ : المطعونُ ، وَالْمَبْطُوْنُ ، وَالغَرِيْقُ ، وَصَاحِبُ الْهَدْمِ ، وَالشهيدُ فِي سبيلِ اللَّهِ “. شہید لوگ پانچ ہیں : طاعون زدہ ( ہو کر مرا ہوا شخص ) پیٹ کی بیماری ( سے مرنے ) والا ، ڈوب ( کر مر ) ا ہوا ، کسی گری ہوئی چیز ( گھر یا دیوار ) کے گرنے سے ( اس کے نیچے دب کر ) مرا ہوا ، اور اللہ کے راستہ میں شہید شدہ . ( حدیث کو ابو ہریرہ سے مالک ، بخاری اور ترمذی نے روایت کیا ہے ، الفاظ اِن دونوں کے ہیں )

نیز مرکز نے فیس بک پر پیر کے دن ( 23/مارچ 2020 ء ) میں آئے ہوئے سوال کا جواب دیتے ہوئے اس حدیث سے بھی استدلال کیا ہے ” من قُتل فی سبیل الله فھو شھید ، ومن مات فی سبیل الله فھو شھید ، ومن مات فی الطاعون فھو شھید ، ومن مات فی البطن فھو شھید “. جو شخص اللہ کے راستہ میں جان سے مار ڈالا جاتا ہے وہ شہید ہے ، اور جو شخص اللہ کے راستہ میں مر جاتا ہے وہ شہید ہے ، اور جو شخص طاعون میں مر جاتا ہے وہ شہید ہے ، اور جو شخص پیٹ کے درد سے مر جاتا ہے وہ شہید ہے .

ابن مِقْسَمْ کہتے ہیں کہ میں تمہارے باپ یعنی ابو صالح پر یہ گواہی دیتا ہوں کہ انھوں نے کہا کہ ” والغریق شھیدٌ “. اور ڈوب کر مرا ہوا شہید ہے . ( مسلم )

اس بات کو معتبر مانتے ہوئے کہ کورونا وائرس سے مرا ہوا شخص طاعون سے مرے ہوئے شخص کے حکم میں داخل ہے ، ابنِ منظور نے ( لسان العرب ) میں طاعون کی یہ تعریف کی ہے ” اَلْمَرَضَ العام والوباء الذي يُفْسِدُ لَهُ الهوآءُ فَتَفْسُدُ لَهُ الْاَمْزِجَةُ والابْدَانُ “. جس عام بیماری اور وباء کو ہوا خراب کرتی ( بگاڑتی ) ہے اس سے مزاج اور بدن بگڑ جاتے ہیں .

مرکز نے شہداء کو دو قسموں میں تقسیم کیا ہے ، دنیا اور آخرت کا شہید، اور ( صرف ) آخرت کا شہید . دنیا اور آخرت کا شہید وہ شہید ہے جو دین ( اور وطن ) کی جنگ میں شہید ہوجائے . اس شہید کا حکم یہ ہے کہ اس کو نہ غسل دیا جائے گا اور نہ ہی اس پر نماز پڑھی جائے گی ، بلکہ اس کو اسی حالت میں دفنایا جائے گا . رہا دوسرا شہید ، یہ آخرت کا شہید ہے ، یہ وہ شہید ہے جو حدیث شریف میں ذکر کردہ مجموعہ اسباب میں سے کسی ایک سببِ معین سے مرا ہو ، اور ان اسباب میں سے ایک سبب فیروس کورونا المستجد ( کوفید ١٩ ) ، ( کورونا وائرس کوڈ انیس ) سے مرا ہوا شخص ہے ، لیکن اس ( شہید ) کو غسل دیا جائے گا ، کفن پہنایا جائے گا اور اس پر نمازِجنازہ بھی پڑھی جائے گی .

کورونا وائرس سے انتقال شدہ شخص کے غسل دینے ، کفنانے اور اُس پر نماز پڑھنے کے متعلق جامعہ ازہر کا فتویٰ

ایسے شخص پر بنیادی طور پر تمام احکام لاگو ہوں گے . لیکن اُن اوبیہ کے پھیلنے کے زمانہ میں جو مخصوص طِبِّی جہات سے ثابت ہوتی ہیں کہ میت سے چھونے والے شخص میں اگر یہ منتقل ہوسکتی ہیں تو اُس وقت اُن تمام احتیاطی تدابیر کو اخذ کرنے کے ساتھ بیماری کے جراثیم کو روکنے ( ہلاک کرنے ) والی اَدْوِیہ ، مُغَسِّل کے مخصوص حفاظتی ملابس کو پہنتے ہوئے ، اور غسل دینے سے قبل اس کے ماہرین کی جانب سے بچاؤ کے مقرر کردہ سارے طریقوں کو اپناتے ہوئے جو میت کے پاس آنے سے اس کو ہر نقصان سے بچاتے ہوں ، اُس ( میت ) پر جس طریقہ سے بھی ہو بغیر دَلْك ( گھسے اور رگڑے ) کے پانی چلانا ( جاری کرنا ، بہانا ) ہی کافی ہوگا .

موتہ کے جثہ ( جسم ) سے اگر سوائل ( بہنے والا مادَّہ ، جیسے خون یا پیپ ) کے اترنے ( گرنے ) کا خوف ہو تو اس کے کفن کو کسی ایسی مضبوط ( پلاسٹک وغیرہ ) تھیلی میں لپیٹنا ضروری ہوگا جو اس کے سَوَائل کو جذب ( چوس ) نہ کر سکے . اور جس شخص کو اسپتال ہی سے کفن پہنا کر لایا گیا ہو تو اس کے اقارب ( گھر والوں اور رشتہ داروں ) کو مسجد کے بدلہ میں کسی کھلی جگہ میں نماز پڑھنا جائز ہے . اور جماعت کی فضیلت حاصل ہونے کے لئے علی الاقل ( کم سے کم ) دو آدمی کافی ہوں گے ، اس پر نمازِ غائب بھی ادا کرنا جائز ہے .

ماسبق تمام مسائل متفَق علیہ اور شریعتِ عُلیاء کے مقاصد میں سے ہیں ، اور اسی طرح معتبر شرعی اَدِلَّہ بھی اس پر دلالت کرتی ہیں ، کیونکہ ضرورات محظورات ( ممنوعات ) کو حلال کرتی ہیں ، اور ضرورت کو اس کے بقدر ہی مانا جائے گا ۔

اور دارالافتاء مصریہ زور دے کر کہتا ہے کہ متوفِّي مسلمان پر نماز پڑھنا واجب ہے ، خواہ وہ متوفَّى بکورونا ہو یا کسی اور ( متعدی ) بیماری سے اس کی موت واقع ہوئی ہو . اور جو شخص کورونا کے سبب سے انتقال کرگیا ہو اس پر نماز نہیں پڑھی جائے گی والی بات بار بار دہرائی اور پھیلائی جارہی ہے اس کی صحت کے لئے کوئی اصل ( بنیاد ) نہیں .

کورونا وائرس کے ضمن میں جماعت کے احکام

اس بات سے کسی کو انکار نہیں کہ فرض نمازوں کو باجماعت ادا کرنے کی بڑی اہمیت ہے ، اس کی فضیلت میں بہت ساری احادیث وارد ہوئی ہیں . اللہ جل مجدہ کی جانب سے ہمارے لئے یہ ایک عظیم تحفہ ہے . یہ اسی امّت کی خصوصیت ہے ، اسی طرح جمعہ ، عیدین ، کسوفین اور استسقآء بھی اسی امت کی خصائص میں سے ہیں .

جماعت کے مشروع ہونے کی حکمت مصَلِّين کے درمیان باہمی اُلفت کو قائم کرنا ہے . ( اعانہ ، بحوالۂِ مناوی ، ج/2 ، ص/2 )

تنہا نماز پڑھنے کے مقابلہ میں جماعت سے نماز پڑھنے کا ثواب ستائیس نمازوں کے برابر ہے .

سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے منقول ہے ، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا! ” صَلَوةُ الْجَمَاعَةِ تَفْضُلُ صَلَوةَ الْفَذِّ بِسَبْعٍ وَّعِشْرِيْنَ دَرَجَة “. تنہا نماز پڑھنے کے مقابلہ میں جماعت کے ساتھ نماز پڑھنا ستائیس درجہ زیادہ فضیلت رکھتی ہے . ( مالک ، احمد ، بخاری ، مسلم ، ابن ماجہ ، دارمی ، بیہقی اور بغوی وغیرہم )

بالغ ، آزاد ، ستر کئے ہوئے غیر معذوروں پر فرض ادا نمازوں میں ، دو وجہوں میں سے اظہر پر جماعت ( قائم کرنا ) سنتِ مؤَکَّدہ ہے ، جو فضیلت حاصل کرنے کے لئے مشروع ہوئی . ( تہذیب ، ج/2 ، ص/245 ، تحریر کا آخری حصہ ) . یہی بعض محققین کے پاس مشہور ہے ، بہت سی کُتُبِ شافعیہ میں اس کا حکم بیان کرتے وقت ان کے مصنفین نے پہلے سنتِ مؤکدہ ہی لکھا ہے ، ( جیسے امام بغوی ، شیخ ابو شجاع ، شیخ ابوحامد ، امام رافعی اور صاحبِ فتح المعین کے ماتن وغیرہم نے ، ان حضرات کے اکثر شُرَّاح بھی اسی کی طرف مائل ہوئے ہیں ) .

ابو شجاع کے شارح علامہ خطیب شربینی اپنے ماتن کے جملے ” وصلوة الجماعة سنة مؤکدة ” کے بعد لکھتے ہیں ، اور یہ وہی ( قول ) ہے جو رافعی نے کہا ، اور مصنف ان کے ساتھ ہوگئے ، اور اصح منصوص میں جیسا کہ نووی نے کہا! جمعہ کے علاوہ میں ( کہ اس میں جماعت فرضِ عین ہے ) یہ مردوں آزاد مقیمین اور غیر ننگوں پر مکتوبہ ( فرض نمازوں ) میں فرض کفایہ ہے . ( ج/2 ، ص/303 ) یہی امام شافعی کا نص ہے ، یہی آپ کے محققین اصحاب کے نزدیک اصح ہے ، جیسے شیخ المذہب ابنِ سُرَیج ، ابو اسحاق اور جمہور اصحاب کے پاس ، اکثر مصنفین نے اسی کو صحیح قرار دیا ہے ، اور احادیثِ صحیحہ اسی کا تقاضہ کرتی ہیں . ( محشیانِ تہذیب ، ج/2 ، ص/245 ) امام نووی ( امام رافعی کے ) محرر میں لکھے ہوئے الفاظ کے بعد لکھتے ہیں ” قُلْتُ الاصَحّ المنصوص انھا فرض کفایة ” میں کہتا ہوں کہ اصح منصوص میں یہ فرض کفایہ ہے”۔ اور کہا گیا : یہ فرضِ عین ہے . اور یہ اصحاب میں سے ابوبکر بن خُزَیمہ اور ابن منذر کا قول ہے ، یہی عطاء اور اصحابِ حدیث کا قول ہے . { حاشیۂِ تہذیب ، ج/2 ، ص/245 ) اور کہا گیا کہ یہ شافعی رحمہ اللہ کا ایک قول ہے ، اور جماعت کے سلسلہ میں مذہبِ شافعی پر یہ تیسرا قول ہے . ( حاشیۂِ تہذیب ) لیکن فرض عین کے قول پر بھی یہ ( جماعت ) صحتِ نماز کے لئے کوئی شرط نہیں ہے ، جیسا کہ مجموع میں کہا . ( نهاية المحتاج ، ج/2 ، ص/139 ، اعانة الطالبین، ج/2 ، ص/4 ، حاشیۂِ تہذیب ، ص/245 )

خلاصۂِ  مسئلہ

بہرصورت خلاصۂِ مسئلہ یہ ہے کہ جماعت کے فرضِ ( کفایہ یا عین ) کہنے کی صورت میں عذر کی وجہ سے جماعت چھوڑنے پر اُس سے حرمت ساقط ہوگی اور سنت کہنے پر کراہت ، اور جن لوگوں پر شعار کا حاصل ہونا موقوف ہے اُن پر کوئی گناہ نہیں ہوگا ا۔

نہایہ میں منہاج کے ساتھ شیخنا محمد رملی کے الفاظ ہیں کہ اور جماعت کو ترک کرنے میں کوئی رخصت نہیں ، اگر ہم نے کہا کہ یہ سنت ہے ، اس کے ( سنتِ ) مؤَکَّدہ ہونے کی وجہ سے ، مگر کسی عذر کے ساتھ، ( ایسے میں ) کسی عذر کی بِنَا پر جماعت کو ہمیشہ ترک کرنے والے کی شہادت کو رد نہیں کیا جائے گا ، برخلاف اُس شخص کے جو بغیر کسی عذر کے پیہم جماعت کو چھوڑ رہا ہو ، اور جب امام ( حاکم ) لوگوں کو جماعت قائم کرنے کا حکم دے تو جماعت کو قائم کرنا واجب ہے ، مگر اُس وقت جب کوئی رخصت ( ان کی ذات سے ) قائم ہو ۔ اس وقت عذر قائم ہونے کی وجہ سے اُن پر اس کی اطاعت کرنا واجب نہیں . ( نہایہ ، ج/2 ، ص/155 ، تحفہ ، ج/1 ، ص/283 ، شبراملسی اور اعانہ ، ج/2 ، ص/51 ، کا خلاصہ ، کچھ کمی بیشی کے ساتھ ، الفاظ نہایہ کے ہیں )

رُخْصَت کی تعریف

لغت میں رخصت کے معنی تیسیر اور تسہیل ( آسان ہونے ) کے آتے ہیں .

رخصت کی اصطلاحی تعریف ، جمع الجوامع میں یہ آئی ہے کہ ” هُوَ الْاِنْتِقَالُ مِنْ صُعُوْبَةٍ اِلَى سُهُوْلَةٍ لِعُذْرٍ مَعَ قِيَامِ سَبَبِ الْحُكْمِ الْاَصْلِيِّ “. کسی عذر کی وجہ سے حکمِ اصلی کے قیامِ سبب کے ساتھ دشواری ( سختی ) سے آسانی کی طرف منتقل ہونا . ( یہی تعریف معتمد ہے ) .

چند دوسری کتابوں میں کچھ رد وبدل کے ساتھ بھی رخصت کی تعریف آئی ہے ، نهاية المحتاج میں شیخنا احمد رملی نے یہ تعریف لکھی ہے کہ ” الحکم الثابت علی خلاف الدلیل لعذر “. کسی عذر کی وجہ سے دلیل کے خلاف ثابت ہونے والا حکم . وہیں ان کے محشي علامہ ابوضیاء نورالدین علی بن علی شبراملسی قاہری ( المتوفی/1087ھ ) حاشیہ میں لکھتے ہیں کہ اور اس کی یہ تعریف بھی بیان کی جاتی ہے کہ ” ھِيَ الْحُكْمُ الْمُتَغَيَّرُ اِلَيْهِ السَّهْلُ لِعُذْرٍ مَعَ قِيَامِ السَّبَبِ الْاَصْلِيِّ “. کسی عذر کی بِنَا پر اصلی حکم کے سبب کے قائم ہونے کے ساتھ آسانی کی طرف تبدیل ہونے والا حکم . ( شبراملسي/155 ) .

محشی احمد بن عبدالرزاق مغربی رشیدی ( المتوفي/1096 ھ ) اپنے شارح کی تعریف پر لکھتے ہیں کہ اس تعریف پر جمع الجوامع میں آئی ہوئی رخصت کی مشہور تعریف کے خلاف چند امور پر وہ اعتراض آتا ہے جو مخفی نہیں ہے اور وہ یہ ہے کہ ” والحکم الشرعي اِن تغیر لسھولة لعذر مع قیام السبب للحكم الأصلِيِّ فَرُخْصَةٌ “. اور حکمِ شرعی اگر کسی عذر کی وجہ سے حکمِ اصلی کے سبب کے قیام کے ساتھ کسی آسانی کی طرف تبدیل ہوتا ہے تو رخصت ہے . ( مغربی رشیدی ) .

شیخنا رملی کی ، کی ہوئی تعریف کو ہی ان کا حوالہ دے کر بجیرمی نے اپنے حاشیہ میں لفظِ عذر کو چھوڑ کر لفظِ اصلی کی زیادتی کے ساتھ اس طرح لکھا ہے کہ ” الحکم الثابت علی خلاف الدلیل الأصْلِيِّ ” کما فی شرح م ، ر . ( ج/2 ، ص/311 ) .

احناف کے نزدیک مفروضہ پانچ نمازوں میں جماعت قائم کرنا سنتِ مؤکدہ ہے . ( آپ اس کو واجب بھی کہہ سکتے ہیں ، واضح ہو کہ واجب کا درجہ ان کے نزدیک فرض سے کم اور سنت سے زیادہ ہے ) .

مالکیہ کے نزدیک مشہور دو قول ہیں . اِن میں سے ایک مشہور اور دوسرا تحقیق کے زیادہ قریب ہے ، پہلے قول میں ہر مصلی ، ہر مسجد اور مکلف رہنے والے شہر کی طرف نسبت کرتے ہوئے اس کا قائم کرنا سنتِ مؤَکَّدہ ہے ، اس طرح کہ اگر بعض شہر والوں نے اس کو قائم کیا تو باقی لوگوں کے ترک کرنے پر اُن سے لڑا نہیں جائے گا ، ورنہ ان کا اس کو حقیر سمجھنے کی وجہ سے ( اس کے ترک کرنے پر ) ان سے لڑا جائے گا . دوسرے قول میں شہر میں جماعت قائم کرنا فرضِ کفایہ ہے ، اگر سارے اہلیانِ بلد نے اس کو ترک کیا تو اُن سے لڑا جائے گا ، اور اگر ان میں سے بعض نے قائم کیا تو باقی لوگوں پر سے فرض ساقط ہوگا .

حنابلہ کے پاس مفروضہ نمازوں میں جماعت قائم کرنا فرضِ عین ہے . ( الفقہ علی المذاھب الاربعہ ، 427 ، اور حاشیۂِ تہذیب ، ج/2 ، ص/245 ، کا خلاصہ )

بغیر عذر کے جماعت چھوڑنے پر سخت وعید

سیدنا ابو درداء رضی اللہ عنہ سے منقول ہے ، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا! ” مَا مِنْ ثَلَاثَةٍ فِيْ قَرْيَةٍ وَلَا بَدْوٍ لَاتُقَامُ فِيهِمُ الصَّلَوةُ إِلَّا ( قد ) اسْتَحْوَذَ عَلَيْهِم الشَّيْطَان . فَعَلَيْكَ بِالْجَمَاعَةِ ، فَاِنَّمَا يَاْ كُلُ الذِّئْبُ الْقَاصِيَةَ “. کوئی قریہ یا قبیلہ ایسا نہیں جس میں تین افراد ہوں اور ان میں جماعت قائم نہ کی جاتی ہو مگر یہ کہ ان پر شیطان غالب آجاتا ہے ، تم پر جماعت لازم ہے ، بھیڑیا تو پچھڑی ہوئی. (بکری ) کو کھاتا ہے . ( احمد ، ابوداؤد ، نسائی ، ابن حبان اور حاکم نے اس حدیث کو روایت کیا ہے ، اس کی اسناد حسن ہے ، امام نووی نے اس حدیث کی اسناد کو صحیح قرار دیا ہے ) . ابوداود کی روایت میں “من الغنم ” کے الفاظ زیادہ ہیں .

اس باب میں ابو ہریرہ کی روایت بھی آئی ہے جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ” جماعت سے پیچھے رہنے والوں کے گھروں کو جَلا ڈالنے کا ارادہ ظاہر فرمایا ہے “. ( مالک ، احمد ، بخاری ، مسلم ، ابوداؤد ، ترمذی ، نسائی ، ابن ماجہ ، ترمذی نے حدیث کو حسن صحیح کہا ہے ، حدیث کچھ لمبی ہے ) اور ابن مسعود کی حدیث ” اور میں نے دیکھا ( جماعت کی ) نماز سے پیچھے نہیں رہتا مگر وہ منافق جس کا نفاق معلوم ہو “. ( مسلم ، حدیث کافی طویل ہے ) اور مشہور ابنِ ام مکتوم کی حدیث بھی ، سیدنا ابو ہریرہ کہتے ہیں کہ ایک آنکھوں سے بے نیاز شخص نے عرض کیا ، یارسول اللہ! میرے پاس کوئی راہنما نہیں جو مجھے مسجد تک لے جائے ، انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بات کی اجازت مانگی کہ آپ انھیں گھر میں نماز پڑھنے کی اجازت عنایت فرمائیں ، سو آپ نے انھیں اجازت دی ، جب وہ پلٹ کر جانے لگے تو آپ نے انھیں بلا کر پوچھا! ” کیا تمہیں نماز کے لئے دی گئی اذان سنائی دیتی ہے؟ ” انہوں نے کہا! ہاں! فرمایا! ” تب تم جواب دو ” ( جماعت کے لئے حاضر ہوا کرو ) . ( مسلم ، نسائی ، بیہقی ) . نیز مسلم ، نسائی اور ابن ماجہ نے ابن عمر وغیرہ ( ابو ہریرہ اور ابن عباس ) کی مرفوع حدیث سے روایت کیا ہے ، کہ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے منبر پر فرماتے ہوئے سنا ” لوگوں کو ان کے جماعت ( جماعات ) چھوڑنے سے ضرور باز آجانا چاہئے ، ورنہ اللہ ضرور ان کے دلوں پر مہر لگائے گا ، پھر وہ غافلین میں سے ہوجائیں گے “. ( تلخیص الحبیر، ج/2 ، ص/66 ، اور ان کے محشی ) .

شیخ محمد بن احمد خطیب شربینی ( متوفی/977 ھ ) ” الاقناع فی حل الفاظ ابی شجاع ” میں اعذارِ جماعت بیان کرنے کے بعد قلمبند کرتے ہیں کہ مجموع میں ( امام نووی ) نے کہا اور جماعت فرض ہونے کے قول پر اعذار پائے جانے کی وجہ سے جماعت کے لئے حاضر نہ ہونے سے گناہ ساقط ہونے اور سنت ہونے کے قول پر کراہت کے ساقط ہونے کا معنی اس کی فضیلت کا حاصل نہ ہونا ہے .

اور رؤیانی نے جزم ( عزم ) کے ساتھ کہا کہ اگر کوئی ( کسی عذر کی بِنَا پر ) تنہا نماز پڑھتا ہو اور اس کا قصد یہ ہو کہ اگر عذر نہ ہوتا تو وہ جماعت کے ساتھ نماز پڑھتا تو اس کو جماعت کی فضیلت حاصل ہوگی ، اور یہی ظاہر ہے . ( جو کہ معتمد ہے ، اِس شرط پر کہ عذر سے پہلے معذور جماعت کی پابندی کرتا رہا ہو ، کوئی ایسا سبب اختیار نہ کرتا ہو جس کو وہ جماعت کے ساتھ نماز پڑھنے کے لئے نہ جانے پر ایک بہانہ بنا سکے . جیسے پیاز کھانا یا تنور میں روٹی رکھنا . ( الإقناع ، بجیرمی ، ج/2 ، ص/311 تا 315 ، اور اعانہ ، ج/2 ، ص/51 کا خلاصہ ) تو شروط تین ہوئے ، اور یہ دو کلاموں کے درمیان جمع کرنے کا ایک اچھا طریقہ ہے . اور مرحومی کی عبارت ہے اور معتمد میں فضیلت کا حاصل ہونا ہے ، لیکن جماعت کے ساتھ نماز پڑھنے کی فضیلت سے کم ، اور نووی کے کلام میں ( حصولِ فضیلتِ جماعت ) کی منفی فضلِ کامل کی ہے . [ بحوالۂِ ز ، ي ] . سو ق ، ل ، کا کہنا کہ یہ ( فضیلت کا حاصل ہونا ) مرجوح ہے ، اُس کو تو اس کا ارادہ کئے ہوئے ثواب ہی حاصل ہوں گے ، نہ کہ جماعت کی فضیلت . اھ مرجوح ہے . اھ . ( بحوالۂِ م ، د )

عذر کی بنا پر جماعت کے لئے نہ جاسکنے پر فضیلتِ جماعت حاصل ہوگی . اس کے لئے درجِ ذیل ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت کردہ حدیث سے استدلال کیا گیا ہے ، کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا! ” اِذَا مَرِضَ الْعَبْدُ اَوْ سَافَرَ كُتِبَ لَهُ بِمِثْلِ ( من العمل ) مَا كَانَ يَعْمَلُ ( هُ ) مُقِيْمًا صَحِيْحًا “. جب ( کوئی ) بندہ بیمار ہو جاتا ہے یا سفر کرتا ہے تو اس کے لئے اسی کے بقدر ( اقناع میں اسی عمل کے بقدر آیا ہے ) ثواب لکھے جاتے ہیں جو وہ حالتِ اقامت میں صحیح رہتے ہوئے کرتا تھا . ( بخاری ، ابوداؤد ، الإقناع ،ج/2 ، ص/315 )

صاحبِ فتح المعین رقمطراز ہیں کہ یہ اعذار جماعت کو ترک کرنے کی کراہت کو منع کرتے ہیں جہاں وہ سنت ہو ، اور گناہ کو جہاں وہ واجب ہو ، اور جماعت کی فضیلت حاصل نہیں ہوگی ، جیسا کہ مجموع میں کہا . اور اُن کے غیروں نے جس پر متقدمین کی ایک جماعت ہے اس ( فضیلت ) کے حاصل ہونے کو اختیار کیا ہے ، ( اس شرط کے ساتھ ) کہ اگر اس کے نزدیک کوئی عذر نہ ہوتا تو وہ جماعت میں حاضر ہوتا .

بغیر عذر کے جمعہ ترک کرنے والا صدقہ کرے

اور بغیر کسی عذر کے نمازِ جمعہ کو ترک کرنے والے کے لئے ایک یا آدھا دینار ، یا ایک صاع یا ایک مد خوراک صدقہ کرنا مستحب ہے ، اس کے لئے ابوداؤد وغیرہ کی حدیث آئی ہے . ( اعتراض ہوسکتا ہے کہ جماعت کے اعذار بیان کرتے وقت جمعہ کا ذکر کیوں ؟ جواب یہ ہے کہ اس کا ذکر کرنے کی یہاں اِس جہت سے مناسبت ہے کہ جمعہ کے اعذار بھی جماعت کے اعذار کی طرح ہیں )

زواجر میں کہا کہ احمد ، ابوداؤد ، نسائی ، ابن ماجہ اور حاکم نے سیدنا سمرہ بن جُندب رضی اللہ عنہ سے حدیث نقل کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا! ” مَنْ تَرَكَ الْجُمُعَةَ مِنْ غَيْرِ عُذْرٍ فَلْيَتَصَدَّقْ بِدِيْنَارٍ ، فَاِنْ لَمْ يَجِدْ فَبِنِصْفِ دِيْنَارٍ “. جو شخص بغیر عذر کے جمعہ کو چھوڑتا ہے تو چاہئے کہ وہ ایک دینار صدقہ کرے ، پس اگر وہ اس کو نہ پائے ( اس کے پاس نہ ہو ) تو آدھا دینار . اس حدیث کی اسناد ضعیف ہے ، اس کے قدامہ بن وَبْرہ ایک راوی مجہول ہیں ، جیسا کہ ابن حجر نے ” تقریب ” میں کہا . منذری کہتے ہیں کہ ابنِ ماجہ کے پاس یہ حدیث منقطع ہے .

بیہقی کی ایک روایت میں ” بدرھم او نصف درھم ، او صاع او مُدٍّ “. ایک درہم یا آدھا درہم ، یا ایک صاع یا ایک مد . ( صدقہ کرو ) آیا ہے . اور ابن ماجہ کی ایک مُرْسلہ روایت میں ” او صاع حنطةٍ او نصفِ صاعٍ “. یا ایک صاع یا آدھا صاع گیہوں آیا ہے .

اب اس حدیث کو بنیاد بنا کر ( جمعہ کو ہلکا سمجھتے ہوئے ) کوئی یہ نہ کہے کہ میں جمعہ کو چھوڑ ( نہ جا ) کر ایک دینار یا ایک صاع یا ایک مد غلہ صدقہ کرونگا . کیونکہ پہلی بات یہ کہ یہ حدیث ضعیف ہے ، اور دوسری یہ کہ سستی کرتے ہوئے بلاعذر جمعہ چھوڑنے والے پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سخت پھٹکار ہے ، اور لگاتار تین جمعہ چھوڑنے والے کے دل پر اللہ سبحانہ و تعالیٰ اس طرح مہر لگاتا ہے کہ وہ غافلین میں سے ہو جاتا ہے .

سیدنا ابن عمر اور ابو ہریرہ رضی اللہ عنہم سے منقول ہے ، دونوں نے کہا کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منبر کی لکڑیوں پر یہ فرماتے ہوئے سنا ” لَيَنْتَهِيَنَّ اَقْوَامٌ عَنْ وَدْعِهِمُ الْجُمُعَاتِ ، اَوْ لَيَخُتِمَنَّ اللَّهُ عَلَى قُلُوْبِهِمْ ، ثُمَّ لَيَكُوْنَنَّ مِنَ الْغَافِلِيْنَ “. لوگ ان کے جمعہ چھوڑنے سے ضرور باز آجائیں ، ورنہ البتہ ضرور اللہ ان کے دلوں پر مہر لگائے گا ، پھر وہ غافلین میں سے ہوجائیں گے . ( مسلم )

سیدنا ابو الجَعْدِ الضَّمْرِيِّ سے مروی ہے ، کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا! ” مَنْ تَرَكَ ثَلَاثَ جُمُعٍ تَهَاوُنًا بِهَا ، طَبَعَ اللَّهُ عَلَى قَلْبِهِ “. جس شخص نے سُستی کے ساتھ ( لاپروائی برتتے ہوئے ) تین جمعے چھوڑے تو اللہ اس کے دل پر مہر لگائے گا . ( ابوداؤد ، ترمذی ، اور کہا حسن صحیح ہے . بلکہ اسی مفہوم کی کئی احادیث آنے کی وجہ سے یہ حدیث صحیح کے درجہ میں آتی ہے ، ایک جماعت نے اسکو صحیح قرار دیا ہے ، واللہ اعلم ) . ( نسائی ، ابن ماجہ اور دارمی نے بھی اس حدیث کو روایت کیا ہے . حدیث کو ہم نے مشکوٰۃ سے لیا ہے )

آگے لکھتے ہیں اس حدیث کو مالک نے سفیان بن سُلَيْم سے روایت کیا ہے . ( مالک کہتے ہیں میں نہیں جانتا کہ یہ حدیث نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ہے یا نہیں ، کہ آپ ( یا صحابی ) نے فرمایا پھر انھوں نے حدیث بیان کی . ایسے میں یہ حدیث اس کے مرفوع ہونے کے سلسلہ میں تردد واقع ہونے کی وجہ سے مرسل ہوگی ) . اور احمد نے قتادہ سے . ( حافظ نے اس حدیث کو حسن قرار دیا ہے ، اور حاکم اور بوصیری نے صحیح )

علامہ حافظ ابن حجر نے بھی کچھ الفاظ کے رد وبدل ( یعنی ” من ترك ثلاث جمع ” کی جگہ میں ” من ترك الجمعة ” ) کے ساتھ ” تلخیص الحبیر ” میں مذکورہ حدیث کو روایت کیا ہے ، اور محدثین احمد ، بزار ، اصحابِ سنن ، ابن حبان ، اور حاکم کا حوالہ دیا ہے ، کہتے ہیں اور ابن سکن نے اس ( حدیث ) کو اس وجہ ( سند کا طریقہ ) سے صحیح قرار دیا ہے ، اور ابن حبان کے الفاظ یہ ہیں کہ ” من ترك الجمعة ثلاثا من غیر عذر ، فھو منافق “. جس شخص نے بغیر کسی عذر کے تین جمعے ترک کئے تو وہ منافق ہے . اور ابوجعد کے متعلق ترمذی نے بخاری سے نقل کرتے ہوئے کہا کہ میں اُنکا نام نہیں جانتا ہوں . ( ترمذی نے ” السُّنَن ” ج/2 ، ص/374 میں کہا! میں نے محمد سے ابو جعد ضمیری کے تعلق سے پوچھا ، وہ ان کا نام نہیں جانتے ہیں ، کہا میں اِنھیں اس حدیث کے علاوہ کسی اور حدیث کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کیا ہے نہیں جانتا . ( حاشیۂِ تہذیب ) اور اسی طرح ابو حاتم نے ( جرح اور تعدیل ، ج/9 ، ص/355 ، میں ) کہا . انھیں صحبت حاصل ہے ،

نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے انھوں نے یہ حدیث نقل کی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا! ” من ترك اربع جُمُعٍ تَهَاوُنًا طبع علی قلبه “. جس شخص نے سُستی برتتے ہوئے چار جمعہ ترک کئے تو اس کے دل پر مہر لگائی جائے گی . اھ . ( حاشیۂِ تہذیب ) اور طبرانی نے اس کو ” الکنی ” میں اپنی معجم سے بیان کیا ہے . اور کہا گیا کہ ان کا نام ” اَذْرع ” ہے ، اور کہا گیا: جنادہ ، اور کہا گیا عَمْرو ، اور اسی پر ابو احمد نے جزم کیا ہے اور خلیفہ وغیرہ سے اس کو نقل کیا . اور بخاری نے کہا میں ان سے سوائے اِس حدیث کے کوئی اور حدیث نہیں جانتا . اور بزار نے ان سے ایک دوسری حدیث کو بھی ذکر کیا ہے ، اور کہا میں اِن کو اِن دونوں حدیثوں کے علاوہ اور کوئی حدیث ( روایت کی ہے ) نہیں جانتا . اور اس حدیث کو انھوں نے ” بقی بن مخلد ” سے روایت کیا ہے .

اور باب میں جابر سے ان الفاظ سے حدیث مروی ہے ” من ترك الجمعة ثلاثا من غير ضرورة ، طُبِعَ على قلبه “. جو شخص بغیر کسی ضرورت کے تین جمعہ چھوڑ دیتا ہے ، تو اس کے دل پر مہر لگائی جاتی ہے . ( نسائی ، ابن ماجہ ، ابن خزیمہ ، اور حاکم نے اس حدیث کو روایت کیا ہے ، دار قطنی نے کہا کہ یہ ابو جعد کی حدیث سے زیادہ صحیح ہے )

اور ابو یعلیٰ نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ان الفاظ سے ” من ترك الجمعة ثلاث جمع متوالياتٍ ، فقد نبذ الاسلامَ ورآء ظهرِهِ “. جس نے جمعہ کو چھوڑا ، لگاتار تین جمعے ، تو اس نے اسلام کو اپنی پیٹھ کے پیچھے پھینکا . ( اور اس کے رجال ثقات ہیں ۔ ج/2 ، ص/129 تا 132 ) محشی کہتے ہیں کہ اس حدیث کو ابویعلیٰ نے اپنی مسند میں اور عبدالرزاق نے مصنف میں ، دونوں نے عوف العبدی کے طریقہ سے ، سعید بن ابوالحسن سے ، ابن عباس سے موقوفا روایت کیا ہے .
اور ہیثمی نے اس کو ” الجمع ” میں ذکر کیا ہے ، اور کہا کہ اس کو ابویعلیٰ نے روایت کیا ہے ، اور ان کے رجال صحیح کے رجال ہیں . ( 132 )

سو کوئی اس دھوکہ میں ہرگز نہ رہے کہ وہ بلا عذر جمعہ کو چھوڑ کر ایک دینار یا آدھا دینار ، یا ایک درہم یا آدھا درہم ، یا ایک صاع یا آدھا صاع یا ایک مد گندم ( یا چاول ) صدقہ کر کے احادیث میں آئی ہوئی وعیدوں سے چھٹکارا پائے گا .

یہاں خلیج کے تمام ممالک یا اکثر میں نومبر 2020 ء کے اواخر تک بھی ( عذر کی وجہ سے ) جمعہ قائم نہیں کیا جاسکا ہے ، سو بندۂِ ناچیز بھی ابوظبئ میں رہنے کی وجہ سے تقریبا آٹھ ماہ سے اس فضیلت اور اہمیت سے محروم ہے ، توقع کی جارہی ہے کہ مستقبل قریب میں جمعہ قائم کیا جائے . اور تین چار روز سے امارات کی کئی ریاستوں سے سوشیل میڈیا پر یہ خبریں گردش کر رہی ہیں کہ اگلے ہفتہ میں جمعہ قائم کیے جانے کا پورا امکان ہے . باری تعالیٰ اس کے لئے آسانیاں فراہم فرمائے .

عذر کی بنا پر جماعت کو ترک کرنے کی رخصت پر دلیل

عذر کی وجہ سے مسجد میں جاکر جماعت کے ساتھ نماز نہ پڑھنے کے لئے درجِ ذیل حدیث سے استدلال کیا گیا ہے جو مروی عن ابن عباس ہے . رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا! ” مَنْ سَمِعَ النِّدآءَ فَلَمْ يَاْتِهِ فَلَا صَلَوةَ لَهُ اِلَّا مِنْ عُذْرٍ ، قِيْلَ يَارَسُوْلَ اللَّهِ ( صلی اللہ علیہ وسلم ) ، وَمَا الْعُذْرُ ؟ قَالَ! خَوْفٌ اَوْ مَرَضٌ “. جس نے آوازِ ( اذان ) سنی پس ( پھر ) وہ ( مسجد میں ) نہیں آیا تو اس کی کوئی ( کامل ) نماز نہیں ، مگر کسی عذر سے ، عرض کیا گیا یارسول الله! ( صلی الله علیه وسلم ) اور عذر کیا ہے؟ فرمایا! ” خَوْفٌ اَوْ مَرَضٌ” کوئی خوف یا کوئی بیماری . ( ابوداؤد ) تمام مصنفین نے یہی حدیث عذر کے لئے دلیل بنائی ہے ، جیسے امام بغوی ، امام ابن حجر اور امام احمد رملی وغیرہم نے ، بعضوں نے آدھی حدیث کو بیان کیا ہے اور بعضوں نے پوری حدیث کو ، علامہ حافظ ابن حجر نے بھی تلخیص میں اسی حدیث کو ذکر کیا ہے .

آگے لکھتے ہیں کہ اور دار قطنی نے اس حدیث کو ” ابو جناب الکلبی ” کی حدیث سے ، مغراء العبدی سے ، عدی بن ثابت سے ، سعید بن جبیر سے اور انھوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا! ” مَنْ سَمِعَ الْمُنَادَى فَلَمْ يَمْنَعْهُ مِنْ اِتِّبَاعِهِ عُذْرٌ ، قالوا! وَمَا الْعُذْرُ ؟ قَالَ! خَوْفٌ اَوْ مَرَضٌ ، لَمْ يَقْبَلِ اللَّهُ الصَّلَوةَ الَّتِيْ صَلَّى”. جس شخص نے اذان سنی ، پس ( پھر ) اس کو اس کے پیچھے آنے سے کسی عذر نے نہیں روکا ، صحابہ نے عرض کیا اور عذر کیا ہے ؟ فرمایا! ” خوف یا بیماری “، اللہ اُس نماز کو قبول نہیں کرے گا جو اُس نے پڑھی . ( ابوداؤد ، دارقطنی ، بیہقی ، طبرانی ، بغوی ) (مشکوٰۃ میں ” لم تقبل منه الصلوة ” کے الفاظ آئے ہیں ) اور ابوجناب ( الکلبی ، یہ یحیی بن ابی حیہ کوفی ہیں ) ضعیف ہیں ، اور مدلس ہیں اور بعض اوقات یہ عنعن سے روایت کرتے ہیں . ( لیکن اس مفہوم کی دوسری صحیح حدیث شواہد کے طور پر آئی ہے جو اس کو صحیح بنا دیتی ہے ) اور قاسم بن اَصبغ نے اس کو اپنی ” مسند ” میں شعبہ کی حدیث سے ، عدی بن ثابت سے موقوفاً و مرفوعاً روایت کیا ہے ، اور انھوں نے مرفوع میں ” إلا من عذر ” کے الفاظ نہیں لائے ہیں ، اور اس حدیث کو بقي بن مخلد ، ابن ماجہ ، ابن حبان ، دارقطنی اور حاکم نے عبدالحمید بن بیان سے ، ھشیم سے ، شعبہ سے مرفوعاً اس طرح ان الفاظ سے روایت کیا ہے ” من سمع الندآء فلم یجب ، فلا صلوة له اِلَّا من عذر “. جس شخص نے اذان سنی پس ( پھر ) اس نے جواب نہیں دیا ، ( نماز کے لئے مسجد میں نہیں گیا ) تو اس کی کوئی نماز نہیں مگر عذر سے . اور اس کی اسناد صحیح ہے . ( ابن ماجہ ، ابن حبان اور حاکم ، ان محدثین نے اس کو اس طریقہ سے روایت کیا ہے . حاکم نے کہا کہ اس حدیث کو غندر اور اکثر اصحاب شعبہ نے موقوفاً روایت کیا ہے ، اور یہ شیخین کی شرط پر صحیح ہے ، حالانکہ انھوں نے اس کو نقل نہیں کیا ہے ، اور ہشیم اور قراد بن نوح دونوں ثقہ ہیں ، اور ذہبی ان کے موافق ہوئے ) لیکن حاکم نے کہا کہ اور غندر اور اکثر اصحابِ شعبہ نے اس کو وقف ( موقوفاً روایت ) کیا ہے ، پھر اس کے لئے شواہد نکالے ہیں ، اُن میں سے ابوموسی الأشعري کی حدیث ہے ، جو ابو بکر بن عیاش کے طریقہ سے ، ابوحصین سے ، ابو بردہ سے ان الفاظ سے روایت کی گئی ہے ” من سمع الندآء فارغا صحیحا فلم يُجِب ، فلا صلوة له “. جس نے فارغ رہتے ہوئے تندرستی کی حالت میں اذان سنی اور جواب نہیں دیا (جماعت کے لئے نہیں آیا ) تو اس کی کوئی نماز نہیں . ( بزار نے اس حدیث کو قیس بن ربیع کے طریقہ سے ، ابوحصین سے بھی روایت کیا ہے ، اور انھوں ( بزار ) نے اس کو سماك کے طریقہ سے ، ابو بردہ سے ، اپنے باپ سے موقوفاً روایت کیا ہے . بیہقی نے کہا کہ موقوف اصح ہے ، اور عقیلی نے اس کو ” الضعفاء ” میں جابر کی حدیث سے روایت کر کے ضعیف قرار دیا ہے . ابن عدی نے اس کو ابو ہریرہ کی حدیث سے روایت کرکے اس کو ضعیف قرار دیا ہے . ( ج/ 2 ، ص/76 ، 77 )

--Advertisement--

اظہارخیال کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here