ألمبرہ تنظیم شیرور کے زیر اہتمام سنہ 2022 کے سمر کلاسس کے نتائج کی تفصیلات

0
212

رپورٹر : مولانا محمد زبیر ندوی شیروری

مؤرخہ یکم ذوالقعدہ 1443ھ مطابق یکم جون 2022 ء بروز بدھ ، المبرہ تنظیم شیرور کے زیر اہتمام منعقدہ سمر کلاسس کے نتائج کے لیے ایک مختصر سی نشست بعد نماز مغرب بمقام جماعت المسلمین جمعہ مسجد بلال منعقد کی گئی جس میں بطور مہمان خصوصی محترم جناب مولانا عبد العلیم صاحب خطیبی ندوی امام و خطیب جامع مسجد بھٹکل مدعو کئے گئے تھے .

اس نشست کا آغاز محمد حسان ابن مولانا بہاء الدین صاحب ندوی شیخ جی کی تلاوت کلام پاک سے ہوا ، ماشاءاللہ موصوف نے اپنی سریلی و دلکش آواز سے محفل کو سرور بخشا ، رب کائنات کی توصیف و تحمید کے بعد مولانا محمد زبیر ندوی ، نائب صدر المبرہ تنظیم شیرور نے نعت پاک کے چند اشعار گنگنائے .

نعت پاک کے بعد مولانا تفسیر صاحب ندوی نائب سکریٹری المبرہ شیرور نے مہمان خصوصی کا تعارف پیش کرتے ہوئے ان کی عظیم خدمات کو اجاگر کیا اور سمر کلاسس پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے المبرہ تنظیم شیرور کی اہمیت پر بھی روشنی ڈالی اور علماء کے اس عملہ کو شیرور کے لئے باعث خیر و برکت قرار دیا ، نیز ان کی خدمات اور قربانیوں کو بھی اجاگر کیا .

اس کے بعد مولانا ثاقب صاحب ندوی سکریٹری المبرہ نے بھی سمر کلاسس کی اہمیت ، معنویت اور افادیت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ زیادہ تر عصری طلباء کا رجحان دینی علوم سے بالکل ہٹ چکا ہے جس کے نتیجہ میں دینی تعلیم کا فقدان ہے نیز اس تعلق سے سرپرست احباب کی توجہات بھی بہت کم ہو رہی ہیں ، پھر کہا کہ شیرور میں عصری طلباء کا ایک جم غفیر ہے ، کیا ہی بہتر ہوتا کہ یہ جمیع طلباء سمر کلاسس سے بھی مستفید ہوتے ، ساتھ ہی ساتھ یہ بات بھی واضح کی کہ سمر کلاسس کا نصاب طلباء کے معیار کو مد نظر رکھتے ہوئے درجوں کی مناسبت سے تیار کیا گیا ہے جس کا ہر حصہ نو (9) اسباق پر مشتمل ہے ، ان میں وہ بنیادی معلومات فراہم کرنے کی بھر پور کوشش کی گئی ہے جن پر عصری اسکولوں میں خاطر خواہ توجہ نہیں دی جاتی ، لہٰذا المبرہ تنظیم پچھلے دس سالوں سے ان تعلیمات کو شیرور پیمانہ پر عام کرنے میں سرگرم عمل ہے جس کے بہترین نتائج آج ہمارے سامنے ہیں ، اسی پیغام کے ساتھ موصوف نے اپنی بات ختم کی .

بعد ازاں موصوف ہی نے سمر کلاسس کے نتائج پیش کرتے ہوئے امتیازی کامیابی حاصل کرنے والے طلباء کے ناموں کا اعلان کیا اور مہمان و ذمہ داران کے بدست انھیں انعامات سے بھی نوازا گیا ، نیز صرف کامیابی حاصل کرنے والے طلباء کے مابین بھی ان کی ہمت افزائی کے لئے تسجیعی انعامات کے ساتھ ساتھ نتائج کارڈ بھی تقسیم کیے گیے .

الحمد للہ طلباء نے اپنی بے حد خوشی و مسرت کا اظہار کیا . واضح رہے کہ اس پروگرام میں ان کے سرپرستوں کو بھی مدعو کیا گیا تھا جس سے بچوں کی خوشیاں مزید دوبالا ہوگئیں .

صدر ألمبرہ تنظیم شیرور مولانا بہاء الدین صاحب ندوی نے اپنے صدارتی کلمات میں اولاً طلباء کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے قرآنی آیت ” یا أیھا الذین امنوا قوا أنفسکم و اھلیکم نارا ” پر اپنے خیالات کا اظہار کیا اور کہا کہ سب سے پہلے سرپرستان نماز کی پابندی کریں اور اپنی اولاد پر ،بچپن ہی سے کڑی نگاہ رکھ کر ان کی بہترین تربیت کرنے کی کوشش کریں ، کیونکہ جس طرح ریڑھ کی ہڈی کو مضبوط کرنے کے لیے غذا درکار ہے ٹھیک اسی طرح روح کو پاک و صاف رکھنے کے لیے دینی علوم اور بہترین تربیت و ماحول کی اشد ضرورت ہے، ، والدین کو چاہئے کہ وہ اپنے گھر کے ماحول کو دینی ماحول میں رنگانے کی کوشش کریں اور دین سے اپنا تعلق جوڑیں رکھیں .آخر میں موصوف نے جمیع طلباء اور ان کے سرپرستان کو مبارک باد پیش کی اور اہل مبرہ کے عملہ کو بھی دعائیں دیں .

اس مبارک محفل میں مولانا رضوان صاحب ندوی شیروری استاد مدرسہ خیر العلوم بھٹکل بھی تشریف فرما تھے ، لہٰذا آپ کو بھی اپنے اظہار خیال کے لئے دعوت دی گئی تو موصوف نے المبرہ کی خدمات کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ جمیعت المبرہ کے کارکنان اپنی قوم کے لیے باعث خیر و سعادت ہیں ، کیونکہ اس کے زیر اہتمام ہر کام بلا معاوضہ انجام پاتے ہیں ، انھوں نے اول تا دسویں جماعت کے معیار کو مد نظر رکھتے ہوئے دس کتابیں کئی سالوں کی محنت اور کوششوں کے بعد منظر عام پر لائیں جس کا ثمرہ آج قوم کے نونہالوں کو مل رہا ہے اور مدارس کے ذریعہ طالبات میں بھی اس کے فیوض کو عام کیا جا رہا ہے ، خوشی کی بات یہ بھی ہے کہ اسے اسکولوں کے نصاب میں بھی شامل کرنے کی بھی خواہش ظاہر کی جا رہی ہے اور شیرور کے اطراف میں بھی اسے عام کیا جا رہا ہے ، مزید اس بات کی بھی وضاحت فرمائی کہ قوم کی تنزلی کا ایک اہم سبب علم کا فقدان بھی ہے ، لہذا ضرورت اس بات کی ہے کہ لوگ اپنی قوم کے علماء سے وابستگی اور تعلق بنائے رکھیں اور ان سے خوب دینی خدمات حاصل کریں ، آخر میں موصوف نے سبھوں کو مبارک باد پیش کرتے ہوئے دعائیہ کلمات پر اپنی بات ختم کی .

پھر بعد نماز عشاء مہمان خصوصی محترم جناب مولانا عبدالعلیم صاحب خطیبی ندوی نے حالات کے تناظر میں تربیت پر عوام الناس سے پرزور خطاب فرمایا.جس میں نہایت ہی مفید اور اہم باتوں کی طرف عوام کی توجہات مبذول کراتے ہوئے کہا کہ آپسی اختلافات سے قومیں تباہ و برباد ہو کر تنزلی کا شکار بن جاتی ہیں اور معاشرہ میں بگاڑ عام ہونے لگتا ہے اور اس کا خمیازہ زندگی بھر بھگتتے رہنا پڑتا ہے .اللہ نے انسان کو جو صلاحتیں عطا کی ہیں وہ بشری تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے ہیں مگر انسان اپنی تمام تر قوتوں اور صلاحیتوں کو دوسروں کی ایذا رسائی میں صرف کر رہا ہے ، یہی وجہ یے کہ وہ بجائے ترقی کے تنزلی کا شکار ہو رہا ہے اور جس سے دشمنان اسلام بھرپور فائدہ اٹھا رہے ہیں ، جب تک ہم متحد نہیں نہیں ہوں گے اس وقت تک کمزور ہی رہیں گے جس کی طرف توجہ کی اشد ضرورت ہے .

دور حاضر میں انسان علم و تجربات کی کمی اور علماء کی صحبت سے دوری کے باعث چھوٹے چھوٹے مسائل میں گھرا جا رہا ہے اور خوف وہراس کی زندگی گذار رہا ہے اور حکومت نت نئی پالیسیوں سے اسے پریشان کرنے کی کوشش کر رہی ہے جبکہ یہ کوئی بڑے مسائل نہیں ہیں ، تاریخ کی ورق گردانی کی جائے تو اسلام کے قبل اور بعد کے حالات اس سے زیادہ پُر خطر تھے لیکن وہ بنیان مرصوص بن کر دشمنوں کا ڈٹ کر مقابلہ کرتے رہے .

آج ہم جن مسائل کے حل کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے ہیں در اصل وہ کوئی بڑے بنیادی مسائل نہیں ہیں ، جبکہ ہمارا سب سے بڑا بنیادی مسئلہ نسل نو کے ایمان کی فکر کا ہے جس کی طرف ہماری توجہ نہیں جاتی .

موصوف نے اسکولوں اور کالجوں سے متعلق اپنا اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ان سے ہمارے نونہالوں کا دینی لحاظ سے کچھ زیادہ فائدہ نہیں ہوپا رہا ہے بلکہ وہ اغیار کی غیر اسلامی تعلیم حاصل کر کے ان کے تہواروں ، من گھڑت واقعات اور شرکیہ چیزوں سے متأثر ہو رہے ہیں جس کے باعث اغیار کی محبت دلوں میں رچ بس جا رہی ہے اور شرک وگناہوں سے نفرت ختم ہوتی جا رہی ہے جس کے لئے حکومت کی طرف سے پورا نظام اور طرح طرح کی فلمیں اور سیریلیں تیار کی جا رہی ہیں نتیجتاً ہمارے بچوں کی سوچ اور چال چلن پر عجیب وغریب اثرات مرتب ہو رہے ہیں جس کے لیے فکر ضروری ہے ، اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہماری نسل اسلام پر مرے تو ہمیں اپنے ایمان کے ساتھ ساتھ ان کے ایمان کی بھی لازماً فکر کرنی ہوگی .

پھر آپ نے فرمایا کہ تعلیم کے ساتھ ساتھ حسنِ اخلاق کی بھی ضرورت ہے ، تعلیم اگر حسن اخلاق کے بغیر ہے تو وہ علم مانند زہر ہے ، کیوں کہ آج اگر عصمتیں لوٹی جا رہی ہیں تو وہ پڑھے لکھے لوگ ہیں ، ڈاکٹر اپنے علم کے باوجود مریضوں کو لوٹ رہے ہیں . دوائیوں کو ضرورت کے وقت قیمت میں اضافہ کر کے بیچ رہے ہیں اور عوام کو لوٹ رہے ہیں ، در حقیقت ان کے پاس علم ہے مگر عوام الناس کے لیے درد اور حسن اخلاق کی صفت نہیں ہے ، یاد رکھو کہ جتنے بھی پڑھے لکھے لوگ غلط کام کر رہے ہیں اس کی در حقیقت وجہ اخلاق اور تربیت کا فقدان ہے ، اسلام اس تعلیم کی حوصلہ افزاہی کرتا ہے جو تعلیم انسان کو انسان بنا دے ، اور ایک دوسرے کا دکھ درد سمجھ کر ان کے ساتھ محبت وخیر سگالی کا جذبہ پیدا کرے .

پھر کہا کہ درحقیقت دنیا کی ترقی کا مدار عمارتوں اور جدید ٹکنالوجیوں پر نہیں ہے بلکہ لوگوں کے اچھے اور نیک صفت انسان بننے پر ہے ، لہٰذا انسان کی سوچ کا بہتر ہونا ضروری یے ، ہم صرف بچوں کو بڑی ڈگریاں دلانا اپنا فرض نہ سمجھیں بلکہ یہ سوچیں کہ کل یہ اولاد اسلامی حالت پر مرے گی یا غیر اسلامی حالت پر ، پھر موصوف نے ” کلکم راع و کلکم مسئول عن رعیته ” کی روشنی میں مفید تربیتی نکات پیش کئے ، اور انبیاء کی مثالوں کو سامنے رکھتے ہوئے کہا کہ انھیں اپنے بعد اولاد کی روزی روٹی کا مسئلہ نہیں ستاتا تھا بلکہ انھیں ان کے اسلام و ایمان کی فکر دامن گیر رہتی تھی ، یہی وجہ ہے کہ انبیاء اپنی اولاد سے پوچھا کرتے تھے کہ ” ماتعبدون من بعدی ” یعنی میرے بعد تم کس کی عبادت کرو گے ؟ حالانکہ ان کا گھرانہ دین دار ہوتا اور وہ اپنی اولاد کی تربیت بھی دینی نہج پر ہی کر رہے ہوتے ، مگر پھر بھی انھیں ان کی فکر دامن گیر رہتی تھی .

پھر کہا کہ اسکول کی تعلیم پر اکتفا نہ کریں بلکہ اپنے بچوں کو شبینہ مکتب میں داخلہ دلوا کر انہیں دین سے آراستہ کریں اور ایسے اسکول میں تعلیم دلوائیں جہاں کا نظام اور وضع قطع اسلامی ہو .

مولانا موصوف نے اپنی بات ختم کرتے ہوئے کہا کہ علماء کی قدر کرنی چاہئے ، کیوں کہ انہیں کی وجہ سے آپ کی اولاد با اخلاق بن پا رہی ہے اور معاشرہ کو صحیح رخ مل رہا ہے ، علماء انبیاء کے وارث ہیں ، لہذا ان کا احترام انبیاء کا احترام اور ان سے محبت انبیاء سے محبت ہے ، اگر آپ ان کی قدر کرکے انھیں ہمت دیں گے تو ان کے حوصلے اور بھی بڑھیں گے ، پھر آپ کے تعاون سے معاشرہ میں جتنے بھی اچھے کام ہوتے رہیں گے ان سبھوں میں آپ بھی اجر وثواب کے اعتبار سے برابر کے شریک ہوں گے ، اس کے بالعکس اگر عداوت کرتے پھریں گے تو یہ ہمارے اور ہماری نسل نو کے لئے بڑا خسارہ ہوگا . آخر میں مولانا موصوف نے دعائیہ کلمات پر اپنی بات ختم کی .

*سمر کلاسس کے نتــائــج امتحان کی تـفــصـیلات*

*سمر کلاس حصہ اول*

۱) محمد آفاق ابن اشرف نیجی *کامیاب اول*

۲) عرفات ابن فواز جی کاکو *کامیاب دوم*

نمیز ابن مولانا اسماعیل ندوی *کامیاب دوم*

۳) محمد زبیر ابن زاہد حسن کاوا *کامیاب سوم*

محمد فرحان ابن فاروق باتیا *کامیاب سوم*

*سمر کلاس حصہ دوم*

۱) سنان بن سمیع اللہ قادرو *کامیاب اول*

۲) صلاح عبد الشکور گھارو *کامیاب دوم*

۳) محمد اشعار ابن ارشاد فراس *کامیاب سوم*

*سمر کلاس حصہ سوم*

۱) محمد سنان بن اشرف ننھو کامیاب اول

۲) محمد عادل ابن زبیر کیوکا *کامیاب دوم*

۳) عدیم ابن عبد اللطیف روگے *کامیاب سوم*

*سمر کلاس حصہ چہارم*

۱) محمد شکیب ابن اسماعیل کرڈی *کامیاب اول*

۲) محمد زیان ابن…….بورکر *کامیاب دوم*

۳) محمد ناسک ابن نورالامین کافسی *کامیاب سوم*

*سمر کلاس حصہ پنجم*

۱) محمد افشان ابن فضل الرحمن کوتوال *کامیاب اول*

۲) آفاق ابن عبد اللطیف روگے *کامیاب دوم*

۳) تعظیم ابن عبد الغفور پری *کامیاب سوم*

*سمر کلاس حصہ ششم*

۱) ہمشان ابن ہاشم پری *کامیاب اول*

۲) محمد جمال الدین جلیل کافسی *کامیاب دوم*

۳) راحیل ابن یونس شیخ جی *کامیاب سوم*

*سمر کلاس حصہ ہفتم*

۱) ازہان ابن فضل الرحمن کوتوال *کامیاب اول*

۲) ذھیب ابن عبد الغنی بڈو *کامیاب دوم*

*سمر کلاس حصہ ہشتم*

۱) محمد ریحان ابن شاہ الحمید قادرو *کامیاب اول*

۲) محمد صوام ابن علی شاہ شیخ جی *کامیاب دوم*

۳) راحیل ابن یونس شیخ جی *کامیاب سوم*

*سمر کلاس حصہ نہم*

۱) محمد عتید ابن امین الدین کیوکا *کامیاب اول*

*سمر کلاس حصہ دہم*

۱) صہیب امان اللہ ابن مولانا بہاء الدین ندوی شیخ جی *کامیاب اول*

۲) عباد ابن اسلم قادرو *کامیاب دوم*

واضح رہے کہ امسال سنہ 2022 کے سمر کلاسس کے امتحانات میں جملہ اکیانوے (91) طلباء نے شرکت کی . دعا ہے کہ اللہ اس جمعیت سے ہمیشہ دینی خدمات لیتا رہے اور اسے معاشرہ کے لیے باعث خیر و برکت بنائے اور اس کے فیوض کو عام کرے . آمین . اخیر میں دعا پر یہ مجلس اپنے اختتام کو پہونچی .

*منجانب : الــمـبرہ تـنــظـیم ، شــیرور*

--Advertisement--

اظہارخیال کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here