قرضہ سے نجات دلانے والا نبوی نسخہ

0
1626

از : مولانا عبدالقادر بن إسماعيل فیضان باقوی ، جامعہ آباد ، تینگن گنڈی ، بھٹکل ، امام و خطیب جامع مسجد محمد عشیر علی سلیمان المزروعی ، ابوظبی ، متحدہ عرب امارات . 

حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک روز مسجد میں داخل ہوئے تو دیکھتے ہیں کہ ابو امامہ نامی ایک شخص ( صحابی ) وہاں موجود ہیں ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا! ” اے ابو امامہ! میں یہ کیا دیکھ رہا ہوں کہ تم نماز کے علاوہ وقت میں مسجد میں بیٹھے ہوئے ہو ؟ کہنے لگے! یارسول اللہ! ( صلی اللہ علیہ وسلم ) بہت ساری پریشانیوں اور قرضوں نے مجھے گھیر رکھا ہے ، تو آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا! کیا میں تمھیں وہ کلام نہ بتاؤں جب تم اسے پڑھو تو اللہ (سبحانہ و تعالیٰ ) تمھاری پریشانیاں دور فرمائے اور تیرا قرض ادا کرائے ؟ میں نے کہا! ضرور یارسول اللہ! ( صلی اللہ علیہ وسلم ) فرمایا! تم صبح وشام ( یہ دعا ) پڑھو ” اَللَّهُمَّ اِنِّيْ اَعُوْذُبِكَ مِنَ الْهَمِّ وَالْحَزَنِ ، وأعوذ بك من الْعَجْزِ والْكَسَلِ ، وأعوذبك من الْجُبْنِ وَالْبُخْلِ ، وأعوذبك من غَلَبَةِ الدَّيْنِ وَقَهْرِ الرِّجَالِ “. صحابی کہتے ہیں کہ میں نے ایسا کیا تو اللہ ( جل مجدہ ) نے میری پریشانیوں کو دور کیا اور میرا قرض ادا کروایا .

اسی طرح ” اَللَّهُمَّ اكْفَنِيْ بِحَلَالِكَ عَنْ حَرَامِكَ ، وَاَغْنِنِيْ بِفَضْلِكَ عَمَّنْ سِوَاكَ “.پڑھنے سے بھی اللہ سبحانہ وتعالی اس کا قرض ادا کرنے کا بندوبست کرتا ہے .

حضرت علی رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ ایک مکاتب ( قرض لے کر گواہی کے لئے کہ میں نے قرض لیا ہے ) ان کے پاس آیا اور کہنے لگا! میں اپنی کتابت ( قرض ادا کرنے ) سے عاجز ہوں ، فرمایا! کیا میں تمھیں وہ کلمات نہ سکھاؤں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے سکھائے ہیں ( جن کے پڑھنے سے ) اگر تم پر ( طئ کے پہاڑ ) صبْر کے برابر قرض بھی ہو تو اللہ ( سبحانہ و تعالیٰ ) اس کو تجھ سے ادا کرا دے گا ، تم یہ پڑھو ” اللھم اکفنی بحلالك عن حرامك ، واغننی بفضلك عمن سواك ” ( اس حدیث کو امام ترمذی نے روایت کرکے حسن کہا ہے )

--Advertisement--

اظہارخیال کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here