جنوبی ہند کی قومِ ناخدا کا ایک سرسری جائزہ و تعارف

2
15642

بسم اللہ الرحمان الرحیم

جنوبی ہند کی قوم ناخدا کا ایک سرسری جائزہ و تعارف

از : مولانا ابراہیم فردوسی ندویؔ

فردوس نگر ، جامعہ آباد ، تینگن گنڈی ، بھٹکل ۔ کاروار ۔ کرناٹکا ۔ انڈیا ۔

تمام تعریفیں اس اللہ کے لئے ہیں جس نے انسانوں کو ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کرکے انھیں مختلف کنبوں اور قبیلوں میں تقسیم کیا تاکہ وہ آپس میں ایک دوسرے سے متعارف ہوں ۔ درود و سلام ہو اس رسول عربی پر جن کا اسوہ پوری اِنسانیت کے لئے ہدایت کا چراغ ہے ۔ اما بعد :

قوم ناخدا جنوبی ہندوستان کی ساحلی پٹی کے مختلف مقامات پر عین ساحل پر آباد مسلم جہاز رانوں و جہاز سازوں کی ایک قوم ہے جو آج بھی ساحلی کناروں پر ہی آباد ہے ۔ مثلاً رتناگری ، گوا ، کاروار ، انکولہ ، کمٹہ ، ہوناور ، منکی ، مرڈیشور  ، تینگن گنڈی ، نستار ، شیرور ، گنگولی وغیرہ ، اس کا اصل آبائی پیشہ جہاز رانی و جہاز سازی تھا لیکن ساحل پر بسنے کی وجہ سے ثانوی درجہ میں ماہیگیری کا کام بھی کرتی تھی ۔

یہ قوم اپنے باربردار بادبانی جہازوں کے ذریعہ مختلف چیزوں کی تجارت اور مختلف چیزوں کو ایک بندرگاہ سے دوسرے بندرگاہ میں درآمد و برآمد کرنے کا کام کرتی تھی ۔ یہ زیادہ تر غذائی اجناس ، مصالحے ، مختلف قسم کی لکڑیاں ، کھپریل ، ناریل ، مٹی کا تیل اور سوکھی مچھلیاں وغیرہ درآمد و برآمد کرتی تھی ۔ گجرات سے لیکر کنیا کماری تک ان ہی کے تجارتی جہازوں کی آمد و رفت ہوا کرتی تھی ۔ یہ قوم اپنے پیشہ کی مناسبت سے ناریل کے چھلکوں سے ڈوریاں ، رسیاں اور رسے بناتی تھی اور ان کو جوڑ کر بڑے بڑے تجارتی باربردار جہازوں کو بنانے کے فن میں بڑی مہارت رکھتی تھی جن کو وہ اپنی مادری زبان میں ’’ مچھوا ‘‘ اور چھوٹے جہازوں کو ’’ بارکس ‘‘ کہا کرتی تھی ۔ ان کے علاوہ غیر ملکی تجارتی اسفار کے لئے وہ مخصوص بادبانوں کے ایسے جہاز بناتی تھی جو ان کو مخالف ہواؤں کے رخوں پر سفر کرنے میں معاون ثابت ہوں جن کووہ اپنی مادری زبان میں ’’ تارو ‘‘ کہا کرتی تھی ۔ اسی طرح بادبان تیار کرنے اور ستاروں کی مدد سے سمتوں کو معلوم کرنے کے فن میں بھی بڑی مہارت رکھتی تھی ۔ چودھویں صدی ہجری کے اواخر تک اس کا یہی پپشہ ر ہا ۔ جب تجارتی آمد و رفت کے ذرائع نے ترقی کی اور تجارتی باربردار بادبانی کشتیاں مشینی کشتیوں میں تبدیل ہونے لگیں تو یہ قوم آہستہ آہستہ ماہیگیری کے پیشہ کو اپنانے لگی تو بالآخر پندرھویں صدی ہجری کے اوائل میں اس کا پیشہ ہی ماہیگیری بن گیا ۔

یہ قوم اپنے جہازوں کے عملاء کے لئے تین قسم کے الفاظ استعمال کرتی تھی ، ٹانڈیل ، خلاصی اور بھنڈار . جہازکے کیپتان و ذمہ دار کو ٹانڈیل ، اس میں کام کرنے والے اولین درجہ کے لوگوں کو خلاصی اور کھانا پکانے اور چھوٹے موٹے دیگر کام کرنے والے عمال کو بھنڈاری کہا کرتی تھی .

اس قوم میں خواندگی کے بمقابلہ ناخواندگی زیادہ پائی جاتی ہے ، یہی وجہ ہے کہ تاریخ میں جنوبی ہند کا تاریخی مواد بہت کم ملتا ہے ۔ کاش اگر اس میں تعلیمی رجحان شروع ہی سے پایا جاتا تو آج یہ قوم جنوبی ہند کی سب سے بڑی تاریخ ساز قوم قرار پاتی ۔ جنھوں نے بھی جنوبی ہند کی تاریخ لکھی ہوگی ان سبھوں کو اس بات کا قلق وافسوس ضرور ہوا ہوگا بلکہ بعض مصنفین نے کھلے الفاظ میں اس کا اظہار بھی کیا ہے .

نصف چودہویں  صدی ہجری کے بعد اس قوم کا تعلیمی رجحان بڑھنے لگا جس کے نتیجہ میں یہ قوم پندرہویں صدی ہجری کے اوائل میں اپنے سپوتوں کو حافظ ، قاری ، عالم ، فاضل ، انجینئر ، ٹیچر اور دیگر مختلف علوم و فنون کے فنکار پیدا کرنے میں کامیاب ہو گئی . اللہ کی اس نعمتِ عظمیٰ کی شکر گذاری قوم کے ہر ہر فرد پر واجب ہے ۔

یہ قوم اپنی ایک الگ ناخدائی بولی بولتی ہے جو مراٹھی اور کونکنی سے بہت مشابہت رکھتی ہے اور کچھ کچھ گجراتی اور نوائطی سے بھی ، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ قوم زمانہ دراز سے ہندوستان کی ساحلی پٹی پر آباد تھی ۔ اس لئے مراٹھی اور کونکنی کے اثرات زیادہ پڑے . اور دوسری وجہ یہ تھی کہ ان کی تعداد زیادہ تھی اور بستیاں بھی قریب قریب تھیں اور ابھی تک ویسے ہی ہیں ۔ قوم ناخدا کی ناخدائی زبان کا وجود غالبًا اس طرح  ہوا ہوگا کہ جب عربوں کے تجارتی قافلے تجارت کی غرض سے جنوبی ہندوستان آنے جانے لگے تو عربوں کی اور یہاں کی علاقائی زبانوں کے اثرات سے ایک تیسری مخلوط زبان کا وجود میں آنا ایک فطری بات تھی جو ان زبانوں کا سنگم ہو .

اس موقعہ پر میں اس بات کی وضاحت ضروری سمجھتا ہوں کہ یہ قوم اپنے اوپر بعض الفاظ کے اطلاق کو عار سمجھتی ہے ان میں سے ایک ’’ دالجی ‘‘ او ر دوسرا ” داردی ” یا اس کا بگڑا ہوا لفظ ’’ دالدی ‘‘ ہے . قوم ناخدا کے اپنے اوپر ان الفاظ کے اطلاق کو عار سمجھنے کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں ۔ رہی لفظ دالجی کی بات تو چونکہ عربی میں دَلَجَ کے معنی کنویں سے پانی نکال کرحوض میں انڈیلنے کے آتے ہیں ۔ اس کا اسم فاعل دَالِجٌ آتا ہے ۔ پھر اس پر یاء نسبتی کا اضافہ کرکے دَالِجِیْ بنایا گیا جس کے معنی قوم ناخدا کے پیشہ کی مناسبت سے جہاز کے اندرونی حصہ کے پانی کو باہر انڈیلنے کے ہو جاتے ہیں جس کو ناخدائی زبان میں ’’ غَمَّطْ ماروژا یا کاڑوژا ‘‘ کہتے ہیں ۔ چونکہ یہ عربی النسل ملاحوں کی اولاد تھی اس لئے اپنے اوپر اس لفظ کے اطلاق کو ملاح کے معنی سے ہٹنے کی وجہ سے معیوب سمجھتی ہوگی ۔ رہی داردی یا اس سے بگڑے ہوئے لفظ دالدی کی بات تو چونکہ ناخدائی زبان میں داردی کے معنی دارد ڈالنے والے کے ہیں اور ناخدائی زبان میں دارد ڈالنے کے معنے ہیں سورج ڈوبتے وقت مچھلیاں پکڑنا ۔ چونکہ اس قوم کا اصل پیشہ جہاز رانی و جہاز سازی تھا ، لیکن ثانوی درجہ میں ماہیگیری کا کام بھی کرتی تھی ۔ لہذا اصل پیشہ سے نسبت ہٹنے کی وجہ سے اس لفظ کو بھی معیوب سمجھتی ہوگی .

قوم ناخدا کی چند اہم امتیازی خصوصیات

قوم ناخدا کی اپنی کچھ امتیازی خصو صیات بھی ہیں ، مثلاً یہ ہمیشہ عین ساحل کے کنارہ پر بسنا پسند کرتی ہے تاکہ اسے اس کے پپپشہ کی مناسبت سے زیادہ سے زیادہ سہولیات مہیا ہوں ۔ یہ عموماً اپنے ناشتہ اور دوپہر و شام کے کھانے میں چاول اور اس سے بنائے گئے مختلف ناشتوں کا استعمال کرتی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ یہ کھانے کے لئے دو قسم کے الفاظ استعمال کرتی ہے ایک ‘‘ کھاوژا ’’ اور دوسرا ‘‘ جیوژا ’’ کھاوژا کا مطلب عام کھانے کی چیزیں کھانا اور جیوژا کا مطلب دوپہر یا شام کا کھانا کھانا ۔ خلاصہ یہ کہ اس کی یہ اہم خصوصیت  اس کی اپنی مادری زبان پر بھی اثر انداز ہوئی ہے ۔ چودہویں صدی کے اواخر تک یہ اپنی اولاد کے نام کثرت سے اولوالعزم رسل ، انبیاء ، صحابہ ، ازواجِ مطہرات اور آپ کی صاحبزادیوں کے ناموں پر ہی رکھا کرتی تھی ۔ اسی طرح دادا دادی اور نانا نانی کے انتقال کے بعد پیدا ہونے والے پہلے بچوں کے نام انکے ناموں پر ہی رکھتی تھی ۔ یہ عقدِ نکاح عموماً مسجد میں ہی کرواتی ہے ۔ نکاح اور خوشی کے مواقع پر دف بجاتی  ہے ۔ اس قوم کی عورتوں میں چودھویں صدی ہجری کے اواخر تک ساڑھی اور لڑکیوں میں لنگا پہننے کا عام رواج تھا ۔ یہ کھانے اور ناشتہ میں زیادہ تر مچھلی کے سالنوں کا استعمال کرتی ہے ۔ اس قوم کی عورتیں چودھویں صدی کے اواخر تک ناک کے بائیں طرف کے نتھنے میں زیور پہنتی تھیں ۔ اس قوم کی عورتیں چودھویں صدی ہجری کے اواخر تک اپنے شوہروں کو ان کے ناموں سے پکارنے کو تعظیماً معیوب سمجھتی تھیں ۔ اس قوم کی اکثریت چودھویں صدی ہجری کے اواخر تک زکوٰۃ لینا پسندنہیں کرتی تھی ۔ اس قوم میں امانتداری بمقابلہ خیانت زیادہ پائی جاتی ہے ۔یہ قوم چودھویں صدی  ہجری کے اواخر تک اپنے آپسی تنازعات کو اپنے اپنے جماعتی نظام کے تحت رہ کر حل کرنے کی کوشش کرتی تھی اور حکومتی عدالتوں میں تصفیہ کرنے کو معیوب سمجھتی تھی ۔ یہ قوم اپنے اپنے علاقوں کا نظم و نسق اپنے مخصوص جماعتی نظام کے تحت چلانے کی کوشش کرتی ہے جس کے ذمہ دار کو متولی کہا جاتا ہے ۔ اس قوم کے لوگ اپنی کمر میں زناّر نما دھاگہ باندھتے ہیں جو ان کے کمر پر بندھے ہوئے کپڑوں کو مضبوطی سے تھامے رکھتا ہے جس کو ان کی مادری زبان میں ’’ ناڑو یا کَلڈیلو ‘‘ کہا جاتا ہے ۔ یہ لوگ سمندری پہاڑی سیپیاں بڑے شوق سے کھاتے ہیں جنکو وہ اپنی مادری زبان میں کُلٹے ، کالوا ، سارَولی ، خُبے اور مُورے کہتے ہیں ۔ اور ان سے مختلف قسم کے سالن اور ناشتے بناتے ہیں ۔ یہ پندرہویں صدی ہجری کے اوائل تک اپنی عورتوں کا نکاح دوسری برادری کے مردوں سے کروانا پسند نہیں کرتے تھے ۔ لہذا زیادہ تر اپنی ہی برادری کے مردوں سے نکاح کرواتے تھے ۔ یہ پوری کی پوری قوم مسلکًا شافعی ہے ۔ قوم ناخدا کی ایک اہم خصوصیت یہ بھی ہے کہ یہ ’’ چے ‘‘ یعنی چیم کی آواز کو ’’ ژ ‘‘ سے اس وقت بدلتی ہے جب چے یعنی چیم کے بعد کسی لفظ میں حروفِ مدہ میں سے الف یا واؤ میں سے کوئی حرف آجائے ۔ جیسے چال سے ژال ۔ چابی سے ژاوی ۔چاٹنا سے ژاٹوژا ۔ چور سے ژور ۔ چُور چُور سے ژُور ژُور وغیرہ ۔

قوم ناخدا کی جہاز رانی و جہاز سازی

               قوم ناخدا مختلف قسم کے جہازوں کے لئے مختلف الفاظ استعمال کرتی تھی ۔ مثلاً ’’ بَگْلَو یا تارُو ‘‘ عربستان کے جہازوں کے لئے ۔ ’’ ناوڑی ‘‘ مالدیپ کے جہازوں کے لئے ۔ ’’ موٹا یا بَتَّیلَو ‘‘ گجراتی جہازوں کے لئے ۔ ’’ بِرْگا یا بِرِنْگ ‘‘ تاملناڈو کے جہازوں کے لئے ۔ ’’ اِیْچَھا ‘‘ کیرلا کے جہازوں کے لئے ۔ اور سب سے چھوٹے جہاز کو ’’ مَنْجِھی ‘‘ کہتی تھی ۔ اسی طرح ’’ پَڑاؤ ‘‘ اس باربردار بڑی کشتی کو کہتی تھی جو بادبانی جہازوں پر سامان لادنے کے لئے استعمال کی جاتی تھی جس کی لمبائی تقریباً دس تا پندرہ فٹ اور چوڑائی چھ تا آٹھ فٹ ہوتی تھی ۔ قوم ناخدا کے جہازوں کو ساوتھ کینرا کے لوگ ’’ کَوٹیو ‘‘ اور نارتھ کینرا کے لوگ ’’ مچھوا یا بارکَس اور نَنْگ یا نَگْ ‘‘ کہتے تھے ۔

قوم ناخدا کے باربردار جہازوں کی اشیاءِ درآمدات  و برآمدات

             قوم ناخدا اپنے باربردار جہازوں پر مختلف قسم کی چیزیں ایک بندرگاہ سے دوسرے بندرگاہ پر منتقل کرتی تھی ۔ مثلاً غذائی اجناس میں چاول ، گیہوں ، باجرہ اور شکر وغیرہ ۔ مصالحوں میں کاجو ، بادام ، کشمش ، الائچی ، لونگ ، ناریل اور نمک وغیرہ ۔ مچھلیوں میں سوکھی مچھلیاں خصوصا ’’ کُٹی مچھلی ‘‘ جس کو قوم ناخدا کی زبان میں ’’ کاوناژا مھاورا ‘‘ کہا جاتا ہے ۔ لکڑیوں میں مختلف درختوں کے بہت لمبے اور چوڑے تنے جو تقریباً پندرہ تا بیس فٹ لمبے اور تین تا چھ فٹ چوڑے ہوتے تھے جن کو قوم ناخدا کی مادری زبان میں ’’ ناٹا یا سُوٹے ‘‘ کہا جاتا ہے ۔اسی طرح ’’ ٹِمبر ‘‘ بھی جسکو قوم ناخدا کی زبان میں ’’ سِلِیپَر ‘‘ کہا جاتا ہے ۔ ایندھنی لکڑیاں جسکو قوم ناخدا کی زبان میں ’’ جلاؤ لاکُّڑ یا ڈھاوژا لاکڑ ‘‘ کہا جاتا ہے ۔ گھروں کی چھتوں کے لئے استعمال کی جانے والی لکڑیاں اور کھپریل وغیرہ ۔ ان کے علاوہ مٹی کا تیل اور چونا وغیرہ بھی درآمد و برآمد کیا جاتا تھا .

کالیکٹ کیرلا میں ناخدا برادری کے باربردار بادبانی جہازوں کے سامان لادنے والے پل کی تاریخی تصویر

قوم ناخدا کے تجارتی بندرگاہ

            قوم ناخدا کے باربردار جہازوں کی آمد و رفت جنوبی ہندوستان کی پوری ساحلی پٹی کے مختلف چھوٹے بڑے بندرگاہوں پر ہوا کرتی تھی ۔ان میں سے کچھ ایسے تھے جن پر وہ اپنا تجارتی مال اور سازو سامان پہونچاتی یا وہاں سے لادتی تھی ۔ اور کچھ ایسے تھے جن پر وہ نہ ہی اپنا تجارتی ما ل اور سازو سامان پہونچاتی اور نہ ہی وہاں سے لادتی تھی لیکن بعض موانع و عوارض کی بنا پران میں عارضی طور پر اپنے جہازوں کو لنگر انداز ضرور کرتی تھی ۔ مثلاً علی باغ ، حفصان ، چمار قلعہ ، امبوا ، بوریا ، شریوردھن ، کیلسی ، نہورا ، کومبارو ، ہیلی ، تلچیری وغیرہ ۔ ان کے علاوہ بہت سارے بندرگاہ ایسے تھے جن میں قوم ناخدا کے جہاز درآمدات وبرآمدات ہی کی غرض سے جایا کرتے تھے ۔ مثلاً مہاراشٹرا میں وینگورلا ، دھابول ، چپلون ، جیتاپور ، موسیٰ غازی ، زیگڑ ، دیوگڑ ، مریا اور بانکوٹ وغیرہ ۔ کرناٹکا میں کاروار ، بیلیکیری ، ہوناور ، تڈلی ، مرڈیشور ، بھٹکل ، نستار ، شیرور ، گنگولی ، ہینگر کٹے ، کاپو ، ملپے اور مینگلور وغیرہ ۔ کیرلا میں کالیکٹ ، بلیاپٹن ، الپے ، کوچین ، کوئلانڈی ، کاسر گوڑ وغیرہ ۔ اسی طرح گجرات اور ریاستِ گوا کی آزادی کے بعد گوا میں بھی قوم ناخدا کے تجارتی جہاز جایا کرتے تھے ۔

قوم ناخدا کے پندرہویں صدی ہجری کے أوائل اور انیسویں صدی عیسوی کے اواخر تک باقی ماندہ باربردار بادبانی جہازان اور ان کے مالکان کی مختصراً تفصیلات

جیسا کہ ہم سب جانتے ہیں کہ جنوبی ہند کی قوم ناخدا کا اصل آبائی پیشہ جہازرانی و جہازسازی ، اس وقت ماہیگیری میں تبدیل ہوا جب چودہویں صدی ہجری کے اواخر میں مشینی کشتیاں ایجاد ہونے لگیں تو اس دور میں بھی اس کے کئی ایک مالکان جہاز کے پاس بہت سارے باربردار بادبانی جہاز موجود تھے جن کی کچھ تفصیلات یہاں پر بیان کی جا رہی ہیں ۔

تینگن گنڈی میں مختیصر برادران کے پاس چار باربردار بادبانی جہاز تھے ۔ خواجہ ، الامان ، علی مدد اور دستگیر ۔ مختیصر برادران سے مرادیوسف مختیصر کے تین بیٹےبالترتیب جناب عبدالرحمن بن یوسف مختیصر ، جناب ابراہیم بن یوسف مختیصر اور جناب اسحاق بن یوسف مختیصر ہیں ۔

نوٹ : تینگن گنڈی کا مختیصر خاندان اصلاً اسپو خاندان تھا . یہ یوسف مختیصر کی جماعت المسلمین تینگن گنڈی کے متولی بن کر کئی سالوں تک اپنی ذمہ داری بحسن و خوبی انجام دینے کے بعد ان کی اس اہم خوبی کی طرف منسوب کرتے ہوئے مختیصر بن گیا کیونکہ ناخدائی زبان میں متولی کو مختیصر بھی کہا جاتا ہے . لہذا مختیصر اس خاندان کا اصلی نام نہیں ہے بلکہ اسپو خاندان کا خاندانی لقب ہے اور جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ لقب دو ناموں سے زیادہ شہرت پانے والے نام کو کہا جاتا ہے .

تینگن گنڈی میں ڈانگی برادران کے پاس سات باربردار بادبانی جہاز تھے ۔ منور ، سلیمانی ، سبحانی ، حسینی ، المدد ، مدینہ منورہ اور قطب غوث صمدانی ۔ ڈانگی برادران سے مراد محمود ڈانگی کے چار بیٹے بالترتیب جناب اسماعیل بن محمود ڈانگی ، جناب احمد بن محمود ڈانگی ، جناب حسن بن محمود ڈانگی اور جناب علی بن محمود ڈانگی ہیں ۔

اسی طرح محمود ڈانگی کے بھائی قاسم ڈانگی کی اولاد سے تعلق رکھنے والے تینگن گنڈی کے ایک اور ڈانگی برادران کے پاس دو بار بردار بادبانی جہاز تھے نبی بخش اور غوثیہ . قاسم ڈانگی کی اولاد والے ڈانگی برادران سے مراد بالترتيب جناب موسیٰ بن قاسم ڈانگی ، جناب حسین بن قاسم ڈانگی ، جناب یوسف بن قاسم ڈانگی اور جناب آدم بن قاسم ڈانگی ہیں ۔

تینگن گنڈی میں بنگالی یعنی عقلے کار برادران کے پاس دو باربردار بادبانی جہاز تھے ۔ مولودی اور نبی بخش ۔ بنگالی برادران سے مراد جناب موسیٰ بنگالی کے چار بیٹے بالترتیب جناب احمد بن موسیٰ بنگالی ، جناب ابوبکر بن موسیٰ بنگالی ، جناب علی بن موسیٰ بنگالی اور جناب عبدالکریم بن موسیٰ بنگالی ہیں ۔

نوٹ : بنگالی خاندان کا اصلی خاندانی نام عقلے کار ہے اور بنگالی خاندانی لقب ہے ، یعنی ایک خاندان کے دو ناموں میں سے زیادہ مشہور نام . بنگالی خاندان نام مشہور ہونے کی وجہ تسمیہ کے تعلق سے اس خاندان کے بزرگوں سے ایک حکایت یہ بھی منقول ہوئی ہے کہ جناب موسیٰ بنگالی ( جن کے چار بیٹے تھے احمد بن موسیٰ بنگالی ، ابوبکر بن موسیٰ بنگالی ، علی بن موسیٰ بنگالی ، عبدالکریم بن موسیٰ بنگالی ) کے پردادا اٹھارہویں صدی عیسوی میں باربردار بادبانی جہاز کے طوفان میں پھنس کر مخالف ہواؤں کی زد میں آکر خلیج بنگال کے ایک ایسے علاقہ میں پہونچا جہاں آدم خور لوگ بستے تھے . جب انھوں نے اپنا جہاز اس علاقہ میں لنگر انداز کیا اور کچھ دن وہاں گذارے تو وہاں کی ایک بڑھیا نے انھیں اس بات کی اطلاع دی کہ یہاں آدم خور لوگ بستے ہیں اور تمھارا یہاں کا قیام آپ کی جان کے لئے خطرہ کا باعث بن سکتا ہے تو یہ لوگ فوراً وہاں سے روانہ ہوئے اور بڑی مشکل سے اپنے وطن پہونچے تو اس مشہور واقعہ کی طرف نسبت کرکے وہ اور ان کی اولاد کو بنگالی کہا جانے لگا اور بعد میں وہی نام ان کے خاندان کا نام ہی پڑ گیا . یہی وجہ ہے کہ یہ خاندان جنوبی ہند کی قوم ناخدا کی پوری برادری میں صرف تینگن گنڈی ہی میں پایا جاتا ہے . اس کے برعکس عقلے کار خاندان ناخدا برادری کے مختلف مقامات پر پایا جاتا ہے واللہ اعلم بالصواب .

تینگن گنڈی میں اسپو برادران کے پاس دو باربردار بادبانی جہاز تھے . امان اللہ اور غوث صمدانی . اسپو برادران سے مراد بالترتيب آدم اسپو ، سلیمان اسپو ، اسماعیل اسپو ہیں . یہ تینوں ایک باپ کی اولاد ہیں .

آدم اسپو کے بطن سے ایک بیٹا علی بن آدم اسپو اور دو بیٹیاں رابعہ بنت آدم اسپو اور نورالدین بن عثمان ملا کی نانی آمنہ پیدا ہوئیں .

سلیمان اسپو کے بطن سے ایک بیٹا ابراہیم بن سلیمان اسپو ( عرف فکو ابراہیم ) اور ایک بیٹی شریفہ بنت سلیمان اسپو پیدا ہوئیں .

نوٹ : سلیمان اسپو کے بطن سے کئی سالوں تک کوئی اولاد پیدا نہیں ہوئی تو انھوں نے قاسم بن إسحاق خورشے کو اپنا لے پالک بیٹا بنایا تھا.

اسماعیل اسپو کے بطن سے دو بیٹے بالترتيب یوسف بن اسماعیل اسپو اور آدم بن إسماعيل اسپو اور ایک بیٹی ہاجرہ بنت اسماعیل اسپو ( اسماعیل بن موسیٰ ڈانگی کی تیسری بیوی ) پیدا ہوئی .

تینگن گنڈی میں عبد الرحمان بن حسن جی اسپو کے پاس دو باربردار بادبانی جہاز تھے . جعفری اور فتح الرحمان .

سلیمان اسپو ، آدم اسپو اور اسماعیل اسپو کے والد اور حسن جی اسپو کے والد سگے بھائی تھے . حسن جی اسپو کے بطن سے ایک بیٹا اسماعیل اور ایک بیٹی کلثوم پیدا ہوئی . پھر اسماعیل کے بطن سے عبدالرحمان اسپو ( روٹی عبدالرحمان ) اور دو بیٹیاں ماریہ اور لمبا اسماعیل ڈانگی کی دوسری بیوی عائشہ پیدا ہوئیں .

تینگن گنڈی میں چاؤس برادران میں ابو صالح چاؤس کو تین باربردار بادبانی جہاز تھے . ان کے بطن سے دو بیٹے عبدالرحمان بن ابو صالح چاؤس اور عبداللہ بن ابو صالح چاؤس اور ایک بیٹی مریم بنت ابو صالح چاؤس پیدا ہوئی ، موصوف کی اولاد میں عبدالرحمان کے بطن سے کوئی اولاد پیدا نہیں ہوئی البتہ عبداللہ کے بطن سے ایک لڑکا اسماعیل بن عبداللہ چاؤس اور ایک لڑکی عائشہ بنت عبداللہ چاؤس پیدا ہوئی

بیسویں صدی عیسوی میں قوم ناخدا کے بار بردار بادبانی جہازوں کو بنانے والے بڑھئیوں کی مختصراً تفصیلات

جیسا کہ یہ بتایا جا چکا ہے ہے کہ قوم ناخدا اپنے آبائی پیشہ جہاز رانی و جہاز سازی پر بیسویں صدی عیسوی کے اواخر تک برابر قائم رہی ، لیکن جب حمل ونقل کے مشینی ذرائع روز بروز ترقی کی راہ پر گامزن ہونے لگے تو اس کا یہ آبائی پیشہ دھیرے دھیرے زوال پذیر ہونے لگا اور بیسویں صدی کے آخری اختتامی سالوں میں پوری طرح ماہیگری میں تبدیل ہو گیا . لہذا اس دور میں بھی ان بار بردار جہازوں کو بنانے والے بڑھئیان تینگن گنڈی ، شیرور ، منکی اور ہوناور میں موجود تھے. درج میں ہم تینگن گنڈی کے ان ہی بڑھئیان کے اسماء گرامی اور ان کی مختصراً تفصیلات بیان کر رہے ہیں .

جناب یوسف صاحب (یوسف بن عبدالرحمن مختیصر کے دادا )
جناب آدم صاحب (  آدم بن ابوبکر ہوسمنے کے دادا )
جناب حسین صاحب ( یوسف بن احمد ابو کے دادا )
جناب ابو صالح صاحب ( اسماعیل بن عبداللہ چاؤس کے دادا )
جناب احمد بن محمود صاحب ڈانگی ( عبد العلیم بن سلیمان ڈانگی کےدادا )
جناب اسماعیل صاحب ( خواجہ بن صالح ملا کے دادا )
جناب ابراہیم بن یوسف مختیصر
جناب اسحاق بن یوسف مختیصر

منکی میں جناب موسیٰ صاحب مرجیکر اور شیرور میں بڑجی اور کافشی خاندان میں بھی بادبانی جہازوں کے بڑھئی تھے ۔

جنوبی سواحل ہند پر آباد قوم ناخدا کی بستیوں کے مقامات

             قوم ناخدا کی آبادی جنوبی ہند کی تین ساحلی ریاستوں مہاراشٹرا ، گوا اور کرناٹکا کے مختلف علاقوں میں عین ساحل پر بسی ہوئی ہے ۔ مثلاً ریاست مہاراشٹرا کے ضلع رتناگری کے علاقے مرکروڑا ، راجوڑا ، انگل واڑی ، جمباری اور کاتلی وغیرہ میں ۔ اور ریاست گوا کے ضلع ساوتھ گوا کے مڈگاؤں تعلقہ کے مشہور شہر واسکو کے ساحل بائنہ پر ۔ اورریاست کرناٹکا کے ضلع اتر کینیرا کے کاروار تعلقہ کے علاقہ سداشیوگڑ میں ۔ اور انکولہ تعلقہ کےعلاقہ اگرگون میں ۔ اور کمٹہ تعلقہ کے علاقے ونلی ، گڈکاگل ، ہینی ، بیٹکولی ، کیمانی ، تڈلی ، پڈونی اور برگی میں ۔ اور ہوناور تعلقہ کے علاقے کاسرکوڈ ، روشن محلہ اور منکی ناخدا محلہ میں ۔ اور بھٹکل تعلقہ کے علاقے مرڈیشور ، تینگن گنڈی اور نستار میں ۔ اور ضلع اڈپی کے کنداپور تعلقہ کے علاقے شیرور اور گنگولی ناخدا محلہ میں قوم ناخدا کے لوگ بسے ہوئے ہیں ۔

--Advertisement--

2 تبصرے

  1. MashaAllah… Bahut arse se mai bhi nakhuda qoum ke liye kuch karna chahta hu, nakhuda qoum ek gumnami ki zindagi basar kar rahi hai… Aao ka mazmoon padh dil khush ho gaya… Padosi qoume apne aap pe fakhar karti hai aur hame neecha samajhti hai is se dukh hota hai aur afsos hota hai kaash ye qoum padhi likhi aur samjhdaar hoti…

اظہارخیال کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here