ہر سال مردوں کو قبروں سے نکالنے والا انڈونیشین قبیلہ

0
3557

یہ سن کر آپ کو ضرور حیرت ہو گی کہ انڈونیشیا کا ایک قبیلہ اپنے مُردوں کو ہر سال ان کی قبروں سے نکال کر ان کی یاد تازہ کرتا ہے ۔

ایک اخباری خبر کے مطابق “ ماماسا ”  نامی قبیلہ کے لوگ ستمبر کے ابتدائی ہفتہ میں اپنے مُردوں کو قبرستانوں سے نکال کر دوبارہ گھروں میں لاتے ہیں ، چونکہ یہ لوگ مقامی رسم و رواج کے مطابق لاشوں کو حنوط کرکے دفن کرتے ہیں ، اس لئے ان کی ممیاں طویل عرصہ میں بھی خراب نہیں ہوتیں ، لہٰذا وہ تہوار کے دوران گھر لائے مردوں کو غسل دے کر انھیں نئے کپڑے پہناتے ہیں اور ان کو نئے سرے سے مسالہ لگا کر دفن کرتے ہیں .

متحدہ عرب امارات سے شائع ہونے والے اخبار  ” البیان ”  نے برطانوی جریدے ڈیلی میل کے حوالہ سے لکھا ہے کہ انڈونیشیا کے صوبہ ” جنوبی سلا ویسی ” میں مُردوں کو قبروں سے نکالنے کی تقریبات کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے ۔ ایک ہفتے تک جاری رہنے والی یہ رسم مذکورہ صوبہ کے ” توراجا ” نامی علاقہ میں جاری ہے . توراجا کے لوگ ہر سال مُردوں کو قبروں سے نکالتے ہیں . ان تقریبات کو جشن کے طور پر منایا جاتا ہے ۔ اس رسم کو مقامی زبان میں ” مائی نین ” کہا جاتا ہے .

توراجا کے باسیوں کا تعلق ویسے عیسائی مذہب سے ہے ۔ اور وہ اپنے مُردوں کی عیسائی مذہب کے رواج کے مطابق تجہیز و تدفین کرتے ہیں ۔ تاہم ان کا عقیدہ ہے کہ انسان مرنے کے بعد بھی اپنے گھر والوں کے ساتھ رہتا ہے ۔ اس لئے ایک سال بعد مُردہ کو اس مقام کی زیارت کرانا ضروری ہے ، جہاں اس کی موت واقع ہوئی ہو ۔ اس کے بغیر مُردہ کی روح شدید تکلیف میں رہتی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ ” توراجا ” کے لوگ دور دراز سفر کرنے سے ہمیشہ اجتناب کرتے ہیں ۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر دور کسی علاقہ میں ان کی موت واقع ہو تو اہل خانہ کے لئے ہر سال مُردہ کی ممی کو اس جگہ لے جانا دشوار ہوگا ۔ اس لیے یہ لوگ اپنے علاقہ میں ہی رہتے ہیں ، خصوصا بڑھاپہ کی عمر میں سفر کرنے سے گریز کرتے ہیں ۔

رپورٹ کے مطابق ” مائی نین ” کی رسم اس علاقہ میں زمانہ قدیم سے جاری ہے ۔ اس کا اعلان مقامی مذہبی پیشواؤں کی جانب سے ہوتا ہے ۔ مردوں کے اہل خانہ پہلے سے اپنے پیاروں کی لاشوں کو قبروں سے نکالنے کی تیاریاں شروع کر دیتے ہیں ۔ ماں باپ کی لاشوں کا دیدار کرنے کے لئے ان کے بیٹے اور بیٹیاں دور دراز سے گاؤں آتے ہیں ۔ مردہ کے اہل خانہ اس کے لئے نئے کپڑے لے کر قبرستان پہنچ جاتے ہیں ۔ قبروں کو ا کھیڑنے کے وحشت ناک مناظر بچے بھی دیکھتے ہیں ۔ بچوں کو میت کے تابوت کے سرہانے بٹھایا جاتا ہے ۔ جبکہ مُردوں کو قبروں سے نکالتے ہی تمام اہل خانہ انھیں مخاطب ہو کر کہتے ہیں “ نیا سال مبارک ہو “.

توراجا کے باشندے ایک خاص طریقے سے حنوط لگا کر اپنے مُردوں کو محفوظ بناتے ہیں ۔ اس کے بعد ایک مسالہ لگے کپڑے میں میت کو لپیٹا جاتا ہے اس کپڑے کے اندر ایک مقامی درخت کے پتے بھی رکھے جاتے ہیں ، جبکہ تابوت بھی ایک خاص لکڑی سے بنایا جاتا ہے ۔ ہر مرتبہ نئے تابوت میں میت کی تدفین کی جاتی ہے ۔ اس علاقہ میں مُردوں کی قبروں میں تدفین کے ساتھ انھیں علاقہ کے ایک متبرک پہاڑ میں بنے غار نما قبرستان میں دفن کیا جاتا ہے ۔ میتوں کو سیدھا کھڑا رکھنے کے لیے مُردہ کے دونوں ہاتھوں کو ایک لکڑی پر اس طریقہ سے رکھا جاتا ہے جیسے د عا کے لئے ہاتھ اٹھائے جاتے ہیں ۔  ” مائی نین ”  تہوار کو مُردوں کی عید بھی کہا جاتا ہے ۔ اس دن تمام مُردے قبروں سے نکالے جاتے ہیں اس کے بعد انھیں اچھی طرح غسل دے کر بالوں کو سنوارا جاتا ہے ۔ بہت سے لوگ بیوٹی پارلر والوں کو بلا کر بھی اپنے مُردہ عزیزوں کو سنوارتے ہیں ۔ میت کو دوبارہ تدفین کے لئے تیار کرنے سے پہلے حنوط کے لئے لگایا جانے والا پرانا مسالہ ہٹا کر دوبارہ نیا مسالہ لگایا جاتا ہے ۔ چھوٹے بچوں کی لاشوں کی دوبارہ تدفین کے وقت ان کے لئے نئے کھلونے بھی تابوت میں رکھے جاتے ہیں ۔

” مائی نین ” رسم کی سب سے دلچسپ بات یہ ہے کہ فوت شدہ جوڑوں کی لاشوں کو قبروں سے نکالنے کے بعد انھیں نئے کپڑے پہنا کر دونوں کو ایک ساتھ کھڑا کیا جاتا ہے ۔ اس دوران اہل خانہ اور عزیز و اقارب بھی ان کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں اور فوٹو کھنچواتے ہیں ۔ جبکہ بعض صاحب ثروت افراد مُردوں کو چلا کر دکھانے کے لئے بھاری معاوضہ ادا کرکے بازی گروں کی خدمات بھی حاصل کرتے ہیں ۔

رپورٹ کے مطابق ، توراجا دنیا کا وہ واحد علاقہ ہے ، جہاں ہر سال کئی برس پرانی لاشوں کو لوگ پیروں پر چلتا دیکھتے ہیں ۔

نیویارک نیوز نے اپنی ویب سائٹ پر ایک ایسی ویڈیو اپ لوڈ کی ہے ۔ جس میں اسی ( 80 ) برس پہلے فوت ہونے والے پیٹر سامبی سامبارا نامی شخص کی میت کو اپنے پیروں پر چلتا دیکھا جا سکتا ہے ۔ رپورٹ کے مطابق ، توراجا ایک پہاڑی علاقہ ہے ، کچھ برس پہلے تک یہاں بسنے والے ماماسا قبیلہ کی اس عجیب رسم کے بارے میں دنیا کو کچھ معلوم نہیں تھا ۔ تاہم اب مُردے نکالنے کی رسم شروع ہوتے ہی مختلف ممالک کے سیاح یہاں پہنچنا شروع ہو جا تے ہیں ۔

--Advertisement--

اظہارخیال کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here