عید کے احکام

0
938

از : مولانا عبدالقادر بن إسماعيل فیضان باقوی ، جامعہ آباد ، تینگن گنڈی ، بھٹکل ، امام و خطیب جامع مسجد محمد عشیر علی سلیمان المزروعی ، أبوظبی ، متحدہ عرب امارات .

عید کی نماز سنتِ مؤکدہ ہے اور اس کا جماعت کے ساتھ ادا کرنا بھی سنت ہے ، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نمازِعید باجماعت ادا فرمائی ہے ۔( لیکن منیٰ میں رہنے والے حاجی کا علیٰحدہ طور پر ہی نماز عید کا ادا کرنا افضل ہے ، بوجہ اس کے کہ اس دن وہ بہت سارے نُسُک ( کاموں ) میں مشغول رہتا ہے )

منفرد یعنی ایک آدمی بھی اپنے طور پر نماز عید ادا کرسکتا ہے .

غلام ، عورت ، مسافر ، خواجہ سرا اور بچہ ان تمام کے لئے بھی عید کی نماز سنت ہے .

احناف کے نزدیک ہر اس شخص پر نماز عید واجب ہے جس پر جمعہ فرض ہوتا ہے . ( ایسے میں ان کے پاس نماز عید ادا کرنے کے لئے امام کے علاوہ کم از کم اور تین لوگوں کا ہونا ضروری ہے ) تو ان کے نزدیک مرد ، آزاد ، مکلف ، تندرست اور اَعذار سے خالی شخص پر نماز عید واجب ہوتی ہے ، خواجہ سرا ، بچہ ، مسافر ، بیمار ، بیٹھے ہوئے شخص اور عذر والے پر نماز عید واجب نہیں ، اگر ان لوگوں نے نماز عید ادا کی تو صحیح ہوگی اور اس کا ثواب انھیں حاصل ہوگا .( حاشیہ تہذیب ، ج/2 ، ص/ 370 )

مالکیہ کے نزدیک ہر اس شخص پر نماز عید سنتِ مؤکدہ ہے جس پر جمعہ واجب ہوتا ہے اور حنابلہ کے نزدیک نماز عید فرضِ کفایہ ہے .

نماز عید کا وقت

عید کی نماز کا وقت طلوعِ آفتاب سے ہوکر زوال آفتاب تک رہتا ہے ، تاہم آفتاب کا ایک معتدل نیزہ ( آنکھوں سے دیکھنے والے کے لئے سات ذراع کے ) برابر اوپر آنے تک تاخیر کر کے ادا کرنا سنت ہے . اس کی اجماعاً دو رکعتیں ہیں ، ارکان وشروط میں اس کا حکم بھی دوسری نمازوں کا سا ہی ہے .

نیت وترتیبِ نماز

عید الاضحی یا عیدالفطر کی نیت ( مثلا ) اُصَلِّي سُنَّةَ عِيْدِ الْفِطِرِ رَكْعَتَيْنِ مَعَ الْإِمَامِ مُّسْتَقْبِلًا أَدَاءً لِلّٰهِ تَعَالیٰ ( میں عیدالفطر کی سنت ( احناف حضرات سنت کی جگہ واجب کا لفظ استعمال کریں ) دو رکعت نماز امام کے ساتھ ( اکیلا نماز پڑھنے کی صورت میں لفظِ امام نہ بولے ) قبلہ بہ رُخ ہوکر ادا کرتا ہوں ) اس کے ساتھ ہی تکبیرِ تحریمہ ( اللہ اکبر ) کہتے ہوئے دونوں ہاتھوں کو کندھوں تک اٹھا کر باندھے اور اس کے ساتھ ہی پہلی رکعت میں دعائے استفتاح اور تَعَّوُّذ سے قبل ( تکبیر تحریمہ کے علاوہ ) سات تکبیرات اور دوسری رکعت میں قیام کی تکبیر کے علاوہ قرات سے پہلے پانچ تکبیرات پڑھے . ( معلوم ہو کہ احناف کے پاس پہلی رکعت میں قرات سے پہلے پانچ تکبیرات اور دوسری رکعت میں قرات کے بعد تین تکبیرات ہیں )

كُثَيّربن عبداللہ کی اپنے باپ اپنے دادا سے روایت کردہ صحیح حدیث ( یہ منہاج کے شارح تحفہ کے الفاظ ہیں ) یا حسن حدیث ( یہ شارح نہایہ کے الفاظ ہیں ) سے استدلال کیا گیا ہے کہ ” نبئ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو عیدوں کی تکبیریں کہیں ، پہلی ( رکعت ) میں قرآت سے پہلے سات اور دوسری میں قرآت سے پہلے پانچ ” ( ترمذی ، ابن ماجہ ، دارمی ، ان کے علاوہ محدثین جیسے احمد ، ابوداؤد ، حاکم ، دار قطنی اور بیہقی نے بھی اس معنی کی حدیث کو سیدہ عائشہ رضی عنھا سے روایت کیا ہے ) اس کی ہر دو تکبیروں کے درمیان ایک معتدل آیت پڑھنے کے بقدر ٹہر کر تنزیہ تحمید اور تہلیل کہنا مندوب ہے ، یہ کلمات پڑھنا احسن ہے ” سبحان اللہ ، والحمد للہ ، ولآ الہ الا اللہ ، واللہ اکبر” ( ابنِ صباغ نے کہا! ” اللہ اکبر کبیرا ، والحمدللہ کثیرا ، وسبحان اللہ بکرة وأصیلا ، وصلی اللہ علی سیدنا محمد تسلیما کثیرا ” کہنا احسن ہے ) اس لئے کہ یہ کلمات حالت کے لائق ہیں ، کیونکہ یہ باقیاتِ صالحات ہیں ، پھر آخری تکبیر کے بعد دوسری نمازوں کی طرح تعوذ پڑھ کر فاتحہ پڑھے .

فرع : اگر کوئی شخص کسی حنفی امام کی اقتداء میں نماز پڑھ رہا ہو تو تین ہی تکبیرات کہے اور مالکی امام کی اقتداء میں نماز پڑھے تو اس کی اتباع میں چھ .

نماز کے بعد دو خطبے سنت ہیں .

دورکعتوں کے بعد جماعت ( سے نماز پڑھنے والوں ) کے لئے نہ کہ منفرد کے لئے ارکان اور سنتوں میں جمعہ کے دو خطبوں کی طرح ، نہ کہ شروط میں ، ( امام کا ) دوخطبے دینا سنت ہے . ( اس سے معلوم ہوا کہ نماز پڑھ کر خطبہ نہ پڑھنا بھی جائز ہے اور اس سے نماز کے ثواب میں کوئی کمی نہیں آئے گی اور جیسا کہ انفرادًا نمازِعيد ادا کرنے والے کے لئے ،کیونکہ اس کا خطبے دینا کوئی فائدہ نہیں ہے ) اگر چہ کہ غلاموں بچوں اور اسی طرح عورتوں کی جماعت کے لئے ہو ، لیکن امام عورتوں کے لئے خطبہ نہیں دے گا بلکہ اُنھیں نصیحت کرے گا ، اگر عورتوں کی امامت کوئی عورت ہی کر رہی ہو اس کا انھیں بغیر خطبہ دینے کے وعظ ونصیحت کرنے میں کوئی حرج نہیں . ( اقناع کے ساتھ محشی بجیرمی ، بحوالہ علامہ قلیوبی ، 447 )

شیخ عبدالبر کہتے ہیں کہ جو شخص اکیلا نمازِ ( عید ) پڑھتا ہو تو وہ خطبہ نہ دے ( بجیرمی ، 447 )

عید کے خطبوں کا آغاز کسطرح کیا جائے ؟

پہلے خطبہ کے افتتاح ( آغاز ) میں تواتر ( تسلسل کے ساتھ ، پیہم ) سے نو تکبیریں کہے اور دوسرے میں سات ، تکبیراتِ مذکورات خطبوں میں سے نہیں ہیں بلکہ ان کا مقدمہ ہیں ، جیسا کہ امامنا شافعی رحمہ اللہ کا اس پر نص ہے ، اور کسی چیز کا افتتاح ( آغاز ) بعض اوقات اس کے اس مقدمہ میں سے ہوتا ہے جو اس میں سے نہیں ہوتا . ( الاقناع فی حل الفاظ ابی شجاع، ج/2 ، ص/448 )

موجودہ وقت کا لحاظ کرتے ہوئے وقت کے اعتبار سے کورونا وائرس کوڈ 19 کے لحاظ سے گھر میں ( یا تین چار افراد کے ساتھ مسجد میں نماز عید ادا کرنے والوں کے لئے ناچیز نے عید کے خطبے مختصرا تیار کئے ہیں جو ائمہ اربعہ کے شروط پر پورے اترتے ہیں ) آپ عید کے لئے یہ خطبے پڑھ سکتے ہیں .

ناچیز آپ تمام حضرات سے اپنے اور اپنے والدین اور تمام مسلمانوں کے لئے اس آزمائش سے باہر نکلنے کے لئے اللہ تعالیٰ سے دعاؤں کی درخواست کرتا ہے .

٢٩/رمضان المبارك ، ١٤٤١ ، بموافق ، ٢٢/٠٥/٢٠٢٠.

عید الفطر کے مختصراً خطبہ کے لئے کلک کریں

--Advertisement--

اظہارخیال کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here