اللہ تعالیٰ کی تقدیس اور اس کے مرادی معنیٰ کو اس کی طرف سونپنا

0
846

از : مولانا عبدالقادر بن اسماعيل فیضان باقوی ، جامعہ آباد تینگن گنڈی ، بھٹکل ، امام و خطیب جامع مسجد محمد عشیر علی سلیمان المزروعی ، ابو ظبی ، متحدہ عرب امارات .

دوسری قسط

الحمد لله رب العالمین ، والصلوة والسلام علی رسوله الکریم ، ولا عدوان إلا علی الظالمين .

” اَلرَّحْمانُ عَلَي الْعَرْشِ اسْتَوٰی ” رحمان ( اللہ ) عرش پر استوی ہوا . ( سورۂ طہ/5 ) بعض لوگ اس کا ترجمہ ” رحمان عرش پر بیٹھا ” سے کرتے ہیں جو احتیاط والی بات نہیں ، بعضوں نے عرش پر جلوہ گر ہوا کیا ہے ، اور بعضوں نے عرش پر قائم ہوا کیا ہے ، لیکن یہ تمام تراجم اطمینان بخش نہیں ، کیونکہ اس سے ذہن میں ایک قسم کے طریقہ کی شبیہ پیدا ہوتی ہے اور اللہ سبحانہ و تعالیٰ ہر قسم کی شباہت سے پاک ہے . ناچیز کے پاس اس کا ترجمہ ” رحمان عرش پر استویٰ ہوا ” زیادہ احتیاط والا ہے ، کیونکہ اس میں کسی قسم کی کوئی کیفیت ذہن میں نہیں ابھرتی . یہی سلف صالحین کا طریقہ ہے .

جمہور اہل سنت والجماعت جن میں اہل حدیث اور سلف بھی ہیں ، اس کا مطلب یہ ہے کہ متشابہات پر ایمان لایا جائے اور ان کے معانئ مراد کو اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی طرف سونپا جائے ، اور اللہ سبحانہ و تعالیٰ کو منزہ قرار دیتے ہوئے ان کی حقیقت کی کسی قسم کی تفسیر نہ کی جائے .

ابو القاسم ھبة اللہ حسن منصور طبری لالکائی نے ” السنة ” میں قرہ بن خالد کے طریقہ سے حسن بصری سے ، انھوں نے اپنی ماں حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے اللہ تبارك و تعالیٰ کے قول ” الرحمن علی العرش استویٰ ” کے سلسلہ میں حدیث روایت کی ہے کہ آپ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ ( استویٰ کی ) کیفیت غیر معقول ہے ، استویٰ غیر مجہول ہے ، اس کا اقرار کرنا ایمان میں سے ہے اور اس کا انکار کرنا کفر ہے . نیز انھوں نے ربیعہ بن ابو عبدالرحمن سے اثر روایت کیا ہے کہ وہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ کے قول ” الرحمن علي العرش استویٰ ” کے متعلق پوچھے گئے ، تو انھوں نے کہا کہ ( اس پر ) ایمان لانا کوئی مجہول والی بات ہے نہیں ، اور کیفیت کوئی عقل میں آنے والی بات ہے نہیں ، اللہ کی جانب سے ( رسولوں کو ) بھیجنا ہے ، رسولوں پر واضح طریقہ سے پہونچانا ہے ، اور ہم پر تصدیق کرنا ہے ۔

امام بیہقی نے امام مالک رحمہ اللہ سے اثر روایت کیا ہے کہ انھوں نے کہا کہ وہ ( اس کا استویٰ ہونا ) ویسا ہی ہے جیسی اس نے اپنی صفت بیان کی ، یہ نہیں کہا جائے گا کہ کیسے اور کیسے اس سے مرفوع ہے .

لالکائی نے محمد بن سیرین شیبانی سے نقل کیا ہے کہ انھوں نے کہا کہ ” مشرق سے مغرب تک تمام فقہاء اس بات پر متفق ہوگئے ہیں کہ ( اللہ کی ) صفات پر بغیر کسی تفسیر اور تشبیہ کے ایمان لانا فرض ہے “. ( الاتقان فی علوم القرآن ، لجلال الدین سیوطی ، ج/2 ، ص/14 ، 15 )

ایک شخص نے امام مالک سے مذکورہ آیت کریمہ کے متعلق پوچھا کہ استویٰ ( کی کیفیت ) کیا ہے ؟ تو انھوں نے کہا کہ ” استویٰ غیر مجہول ہے ، کیفیت غیر معقول ہے ، اس پر ایمان لانا واجب ہے اور اس کے متعلق سوال کرنا بدعت ہے اور میں تجھے گمراہ شخص سمجھتا ہوں ، پھر اسے نکل جانے کے لئے کہا “. سفیان ثوری ، اوزاعی ، لیث بن سعد ، سفیان بن عیینہ اور عبداللہ بن مبارك و غیرہم اہل سنت والجماعت کے علماء سے صفات متشابہات میں آئی ہوئی آیات کے سلسلہ میں آیا ہے کہ وہ ان سے اسی طرح ( بغیر کسی تفسیر کے ) گذر گئے ہیں جس طرح وہ آئی ہیں . اور لغت میں عرش کے معنی پلنگ کے آتے ہیں . ( تفسیر بغوی ، ص/ 306 ، الاتقان فی علوم القرآن ، تفسیر ابن کثیر ، تفسیر جلالین اور تفسیر موضوعی وغیرہ کا خلاصہ )

تیسری قسط

” الرحمن علی العرش استویٰ” جس طرح اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی تقدیس اور اس کے معنئ مراد کو اللہ تعالیٰ کی طرف سونپنا اور اس پر ایمان رکھنا واجب ہے . اسی طرح قرآن کریم میں جتنی متشابہات آیاتِ صفات آئی ہیں ان تمام پر ایمان رکھتے ہوئے اور ان کے معانئ مراد کو اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی طرف سونپتے ہوئے ، سلف صالح کے مذہب ہی پر چلنا زیادہ محتاط و احوط ہے ، بغیر کسی کیفیت ، تشبیہ ، تعطیل اور تاویل کے . اور ظاہراً جن چیزوں کی تشبیہ کی طرف اذہان جاتے ہیں اللہ عزوجل کی ذات ان سے یکسر منفی ہے ، اس لئے کہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ کسی بھی مخلوق سے شباہت نہیں رکھتا ہے ” لَيْسَ كَمِثْلِهٍ شَيْءٌ ” اس کے جیسی کوئی چیز نہیں ( سورۃ الشوریٰ/11 ) بلکہ معاملہ ویسا ہی ہے جیسے امام بخاری کے شیخ ( نعیم حماد الخزاعی ) نے کہا کہ جس نے اللہ کو اس کی کسی مخلوق سے تشبیہ دی ، اس نے کفر کیا اور جس نے کسی ایسی چیز کا انکار کیا جس سے اللہ نے اپنے آپ ( خود ) کو متصف کیا ہے تو اس نے کفر کیا . اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے جس چیز سے خود کو یا اپنے رسول کو جس چیز سے متصف کیا ہے وہ تشبیہ میں داخل نہیں تو جس شخص نے اللہ جل مجدہ کے لئے کسی ایسی چیز کو ثابت کیا جس پر اس طور سے صریح آیات اور صحیح احادیث آئی ہیں جو اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی ذات کے شایان شان ہے اور اللہ سبحانہ تعالیٰ ( کی ذات ) سے ( ہر قسم ) کے نقائص سے نفی کیا تو وہ پدایت کے راستہ پر چل پڑا . ( تفسیر ابن کثیر،ج/2 ، ص/18 )

صفات متشابہات کی آیات میں مذکورہ آیت کریمہ کے علاوہ درج ذیل آیات شریفہ بھی ہیں ” كُلُّ شَيْءٍ هَالِكٌ اِلاَّ وَجْهَه ” ( سورۃ القصص/88 ) . ” وَيَبْقَیٰ وَجْهُ رَبِّكَ ” ( سورۃ الرحمان /27 ) ” وَلِتُصْنَعَ عَلَى عَيْنِيْ ” ( سورۃ طہ/39 ) ” يَدُ الّلهِ فَوْقَ اَيْدِيْهِمْ ” ( سورۃ الفتح/10 ) ” وَالسّمَاوَاتُ مَطْوِيَاتٌ بِيَمِيْنِه ” ( سورۃ الزمر/67 )

اہل سنت والجماعت کے طریقہ پر علمائے کرام نے ” استویٰ ” کے چند معانی بیان کئے ہیں ، پہلا : ” استویٰ ” استقر کے معنی میں ہے ، اس کو مقاتل اور کلبی نے ابن عباس رضی اللہ عنھما سے روایت کیا ہے . دوسرا : ” استولیٰ ” کے معنی میں ہے . لالکائی نے ” سنت ” میں ابنِ أعرابی سے حدیث روایت کی ہے کہ وہ ” استویٰ ” کے معنی کے متعلق پوچھے گئے تو انھوں نے کہا ! وہ اپنے عرش پر ہے ، جیسا کہ خبر دی گئی ہے ، ان سے کہا گیا اے ابو عبداللہ ! اس کا معنی استولیٰ ہے ، انھوں نے کہا ! خاموش رہو ، کسی چیز پر استولیٰ ( متمکن ) ہونا اسی وقت کہا جائے گا جب کہ اس کا کوئی متضاد ہو ، جب ان دونوں میں سے کوئی دوسرے پر غالب آجائے ، تبھی استولیٰ کہا جائے گا . تیسرا : ” صعد ” ( چڑھا ) کے معنی میں ہے . ( ابو عبید کہتے ہیں اس کو رد کیا گیا ، کیونکہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ صعود سے بھی پاک ہے . چوتھا : ” الرحمان علی العرش ، کی تقدیر ” علا العرش ( عرش پر بلند ہوا ) ہے ، یعنی اِرتفع ( علا ) علو سے ہے اور عرش اس کے لئے استویٰ ( بلندی ) ہے ، اسماعیل ضریر نے اس کی حکایت اپنی تفسیر میں کی ہے ۔ اس کو دو پہلوں سے رد کیا گیا ، ایک یہ کہ انھوں نے ” علیٰ” کو فعل بنایا اور یہ یہاں پر بالاتفاق حرف ہے ، اگر وہ فعل ہوتا تو الف سے لکھا جاتا ، جیسے اللہ عزوجل کے قول ” علا فی الارض میں ” . اور دوسرا پہلو یہ ہے کہ انھوں نے عرش کو رفع دیا ہے ، حالانکہ قراء میں سے کسی نے بھی اس کو رفع نہیں دیا ہے . پانچواں : کلام اللہ سبحانہ وتعالی کے قول ” الرحمان علی العرش ” پر پورا ہوا ہے ، پھر اللہ کے قول ” استویٰ له ما فی السماوات وما فی الارض ” سے شروع ہوتا ہے ، اس کو اس طرح مسترد کیا گیا کہ یہ آیت کریمہ کو اس کے نظم سے ہٹا دیتا ہے . چھٹا : ” استویٰ ” اقبل علی خلق العرش وعمد الی خلقه ” ( عرش کی پیدائش کی طرف آیا اور اپنی مخلوق کی طرف جانے کا ارادہ کیا . جیسا کہ ” ثم استویٰ الی السماء وھی دخان ” پھر آسمان کی طرف اس حالت میں ارادہ کیا کہ وہ دھواں تھا ” یعنی اس کے بنانے کا قصد و ارادہ کیا ، یہ جواب فراء ، اشعری اور اہل معانی کی ایک جماعت نے دیا ہے . اسماعیل بن الضریر نے کہا یہی درست ہے . میں ( حافظ علامہ جلال الدین ) کہتا ہوں علیٰ کے ذریعہ اس کو متعدی بنانا اس کو ( اس معنی سے ) دور لے جاتا ہے . ساتواں : ابن لبان نے کہا! اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی طرف جو استواء منسوب ہے وہ اعتدل کے معنی میں ہے ، یعنی اللہ عدل کے ساتھ قائم ہوا ، جیسے اللہ تعالیٰ کا قول ” قائما بالقسط ” اور عدل استویٰ کے معنی میں ہے اور اس کا معنی اس بات کی طرف لوٹتا ہے کہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے اپنی عزت ( وجلال ) کے ذریعہ ہر چیز کو اپنی حکمت بالغہ کے ذریعہ ایک موزوں خلقت عطا فرمائی . ( الإتقان ،ج/2 ، ص/16 ، 17 ) والله تعالیٰ اعلم بالصواب .

--Advertisement--

اظہارخیال کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here