آمدِ وفد ابنائے جامعہ کی مناسبت سے ألمبرہ شیرور کی جانب سے ایک اہم خصوصی نشست کا انعقاد

0
723

رپورٹر : مولانا محمد زبیر ندوی شیروری ، رکن جمعیت المبرہ شیرور .

مؤرخہ21/جنوری2021 ء بروز جمعرات ، بعد نماز عصر متصلاً ابنائے جامعہ کے خصوصی مدعووین کے ایک وفد نے علمائے شیرور کی ” ألمبرہ تعلیمی و رفاہی تنظیم شیرور کے دفتر کا دورہ کیا.

دراصل ان مدعووین کا یہ دورہ ألمبرہ کی خصوصی دعوت کا نتیجہ تھا ، جس کا اہم مقصد ان سے باہمی ملاقات و آپسی تبادلہ خیال کے ذریعہ ابنائے جامعہ کی کارکردگیوں اور ان کے احساسات و تجربات سے مستفید ہونے کے لئے ایک اصلاحی و تربیتی نشست کا انعقاد تھا .

اس نشست میں محترم جناب مولانا مقبول صاحب ندوی مہتمم جامعہ اسلامیہ بھٹکل ، محترم جناب مولانا عرفان صاحب ندوی جنرل سکریٹری ابنائے جامعہ ، محترم جناب مولانا ابرار صاحب ندوی استاد جامعہ اسلامیہ بھٹکل اور محترم جناب مولانا انصار صاحب ندوی استاد جامعہ اسلامیہ بھٹکل وغیرہم تشریف فرما تھے .

اس نشست کا آغاز رکن ألمبرہ محترم جناب مولانا حافظ صدیق صاحب ندوی ، کی تلاوت کلام پاک سے ألمبرہ کے نائب سکریٹری محترم جناب مولانا حافظ مفتی محمد تفسیر صاحب ندوی کی نظامت میں ہوا .

ناظم جلسہ نے اس اہم نششت کے انعقاد کی غرض و غایت پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہم اہل مبرہ کا اس خصوصی نشست کے انعقاد کا اہم مقصد ابنائے جامعہ سے ان کے خیالات و تجربات اور مختلف میدانوں میں ان کی خدمات کے منہج کو معلوم کر کے ان سے رہنمائی حاصل کرنا ہے . لہٰذا اس کے انعقاد پر جمیع مہانان عظام نے اپنی خوشی کا اظہار کیا .

چونکہ یہ ابنائے جامعہ کے قیام کے بعد اہل مبرہ کی اپنی پہلی تاریخی ملاقات تھی لہذا انھیں المبرہ کے تفصیلی رپورٹ سے متعارف کرانے کے لئے مولانا مفتی محمد ثاقب ندوی بڑجی سکریٹری المبرہ نے ابتدا تا حالیہ جملہ کار کردگیوں کو ان کے سامنے تفصیل سے پیش کیا .

.سکریٹری ابنائے جامعہ محترم جناب مولانا عرفان صاحب ندوی نے مختصراً وقت میں اپنے جامع خیالات کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا کہ معاشرہ میں علماء کا اپنا ایک مقام اور پہچان ہوتی ہے . وہ ملت کے لئے ہر ناحیہ اور پہلو سے مثال ہوتے ہیں ، جس کے لئے انھیں اپنے مقام و مرتبہ اور اپنی مسئولیات کو سمجھ کر انھیں نبھانا نہایت ضروری ہوتا یے . اور ساتھ ہی ساتھ معاشرہ میں اپنے مشن کو پورا کرنے اور اس میں اپنی خدمات انجام دینے کے لئے اپنے دامن کو داغدار ہونے سے بچائے رکھنا اور خلاف مروت کام کرنے سے اپنے آپ کو بچاتے ہوئے عوام اور تمام مکاتب فکر کے علماء سے دعوتی روابط استوار رکھنا نہایت ضروری ہے .

مولانا انصار صاحب ندوی دامت برکاتہ نے اہل مبرہ کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے شہر بھٹکل کی تاریخی شخصیات اور ان کی خدمات کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ ترقی فی الفور ممکن نہیں بلکہ کڑی محنت اور کوششوں کے بعد ہی صحیح وقت پر ملتی ہے . انسان بچپن سے اپنے کسی مشن پر کام کرتا رہتا ہے اور بڑھاپہ میں پہنچ کر اس کے بہترین نتائج اخذ کر لیتا ہے جو اس کی زندگی کی اصل پونجی ہوتے ہیں . بطور تمثیل موصوف نے محترم جناب مولانا عبد الباری صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے قیمتی علمی موتیوں کو بکھیرتے ہوئے فرمایا کہ مولانا اکثر جامعہ کو مد نظر رکھتے ہوئے طلبہ کے سامنے علامہ اقبال رحمۃ اللہ علیہ کا یہ پڑھا کرتے تھے کہ ” ملت کے ساتھ رابطہ استوار رکھ
پیوستہ رہ شجر سے امید بہار رکھ “

پھر فرمایا کہ جب قلیل تعداد میں علماء اٹھ کھڑے ہوتے ہیں تو اللہ تعالیٰ بھی انھیں نوازنے لگتا ہے لیکن اس کے پس پردہ اتنی ہی محنت و کاوشیں بھی درکار ہوتی ہیں . بھٹکل کی عوام اپنے علماء کو بہت چاہتی ہے اور عزت دیتی ہے حتی کہ اپنے جمیع معاملات میں اپنے ہی علماء سے رجوع کرتی ہے لہذا وہاں پر علماء اور عوام کے بڑے گہرے روابط ہیں . مولانا موصوف نے بڑی پیاری مثال دے کر فرمایا کہ جس طرح ستارے روشنی اور ہدایت کا کام دیتے ہیں ٹھیک اسی طرح علماء بھی اپنی ملت کے لئے مانند کہکشاں ہیں . اس کے بعد موصوف نے سورۃ النحل کی پچیسویں آیت ” ادْعُ إِلَىٰ سَبِيلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ ۖ وَجَادِلْهُم بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ ۚ إِنَّ رَبَّكَ هُوَ أَعْلَمُ بِمَن ضَلَّ عَن سَبِيلِهِ ۖ وَهُوَ أَعْلَمُ بِالْمُهْتَدِينَ ” کی روشنی میں فرمایا کہ علماء کا رقیق القلب ہونا ، اپنے اخلاق درست رکھنا ، عوام کے سامنے اپنے آپ کو جھکائے رکھنا . زبان کا صاف گو ہونا اور تلخ مزاجی سے اپنے آپ کو بچانا از حد ضروری ہے ، تب کہیں جا کر لوگ علماء سے قریب ہوں گے اور ان کے گرویدہ بن کر انھیں عزت کی نگاہ سے دیکھیں گے . علماء کو دعوتی میدانوں کے مختلف پہلوؤں اور ان کے الگ الگ نتائج کو مد نظر رکھتے ہوئے ایک داعی کی حیثیت سے جینا چاہئے .

پھر موصوف نے علماء کو ان کی ذمہ داریوں کا احساس دلاتے ہوئے فرمایا کہ دنیا بھی دین ہے ، لہٰذا اسے دینی نہج اور اس کے اصولوں پر دعوت کے لئے استعمال کرنا چاہئے اور کام کے دوران پیش آنے والے زمانہ کے تقاضوں کے نئے نئے گوشوں کے مسائل کو باہمی مشوروں اور تجربات کی روشنی میں قرآن و حدیث کی تعلیمات کو مد نظر رکھتے ہوئے حل کرنے کی کوشش کرنی چاہئے . اس وقت عوام کو فقہ کی تعلیم کی اشد ضرورت ہے جس کے لئے درس حدیث اور درس قرآن اور روز مرہ کی دعائیں سکھانے کا معمول بنایا جائے اور ساتھ ہی ساتھ شبینہ مکتب کے استحکام کی فکر کرتے ہوئے امت محمدیہ کو مختلف ناحیوں سے تعلیم دی جائے . عبادات میں علماء مقدم رہیں اور دینی امور کے بجا لانے میں اپنی ذمہ داری کو خوب سمجھیں .

اس کے بعد ابنائے جامعہ کا مختصراً تعارف پیش کرتے فرمایا کہ ادارۂِ ابنائے جامعہ معاشرہ کی ترقی اور فوز و فلاح اور برائیوں کے ازالہ کے لئے فکر کرتا ہے . نسل نو کی تربیت کے لیے کوشاں اور سرگرم عمل ہے . بالخصوص دعوتی کام کے لئے ہر علاوقہ اور ہر خطے میں مختلف موضوعات کے تحت خطباء بھیجے جاتے ہیں ، جس کا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ متعدد طلباء جامعہ میں داخلہ لیتے ہیں اور اپنے گھروں تک دین پہونچاتے ہیں .حتی کہ مختلف علاقوں میں علماء کی ایک اچھی تعداد تیار ہو چکی ہے ، جن میں کچھ امام و خطیب ہیں اور کچھ مدرس بھی کیوں کہ اس سلسلہ میں ابنائے جامعہ کا خاص اور اہم رول رہا ہے ، وہ مختلف علاقوں میں دورے کرتے ہیں جن کے دوران بہت سارے حالات سامنے آتے ہیں تو ابنائے جامعہ تعلیمی تربیت کے ساتھ ساتھ مالی ضروریات کی بھی فکر کرتا یے . غریب و نادار بچوں کی تعلیم و تربیت کے لئے اپنا تعاون پیش کرتا ہے . لاک ڈاؤن میں تعلیم کے نقصان کو پُر کرنے کے لئے بھی کوششیں کی گئیں . ایک مجلہ بھی جاری ہے جو بچوں کی تربیت کے لئے معاون و ممد ثابت ہو رہا یے .

اسی اثناء میں ایک مرتبہ اس بات پر زور دیا کہ علماء کو اپنے مشن کے تحت انجام دی جائے والی خدمات کے نتائج کی فکر سے پرہیز کرتے ہوئے اللہ کے یہاں اس کے اجر کی امید رکھنی چاہئے ، کیوں کہ انبیاء کا بھی یہی طریقہ کار رہا ہے .

اسی کے ساتھ ساتھ اس بات کی بھی وضاحت فرمائی کہ پچھلی تاریخ آئندہ مشن کے لئے ہمت اور ڈھارس کا کام دیتی ہے جو ہمیں مستقبل کو روشن و تابناک بنانے میں تقویت کا سبب اور نسل جدید کے لئے فائدہ مند ثابت ہوتی ہے . لہذا جن جن کاموں کو معاشرہ میں وجود لا سکتے ہیں لاتے رہیں .اور نتائج اللہ پر چھوڑ دیں . اختلافات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے علماء اور عوام آپس میں اتحاد کے ساتھ دعوتی نقطہ نظر سے جڑے رہیں . علاقائیت و محلیت میں منتشر نہ ہوں . بلکہ ایک برادری میں جینا سیکھیں . حفاظ کے حفظ کو محفوظ اور تازہ رکھنے کی فکر کریں . مدارس میں بنات کا رجحان زیادہ ہے لہذا لڑکوں کی فکر کی جائے اور اس کے بنیادی اسباب پر غور و خوض کریں اور کبھی بھی اپنی جماعت یا اپنے ادارہ کے خیال کو دل میں نہ لائیں بلکہ وسیع پیمانہ پر کام کیا جائے اور حافظات کے حفظ کی فکر کی جائے .

اخیر میں اس اپیل کے ساتھ اپنی بات ختم کی کہ علماء شیرور بھی ابنائے جامعہ سے اپنے تعلقات استوار رکھیں اور ان سے استفادہ کرتے رہیں ان شاء اللہ ابنائے جامعہ ہر گھڑی آپ کے ساتھ ہوں گے .

اس پروگرام کی دوسری نشست کا انعقاد بعد نماز مغرب مدرسہ رونق الاسلام کیسر کوڈی شیرور میں ہوا جس میں محترم جناب مولانا مقبول صاحب ندوی مہتمم جامعہ. اسلامیہ بھٹکل کا خصوصی خطاب رکھا گیا تھا .

آپ نے علماء المبرہ سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ آپ کا اللہ کے نزدیک بہترین مقام ہے . انبیاء کے بعد سب سے معزز ترین شخصیات علماء ہوتے ہیں . داخلہ کے وقت ہمارے والدین کا مقصد خیر کے کاموں کے لئے ہمیں تیار کرنا تھا . ابتداءاً ہمارا کوئی مقصد نہیں ہوتا ، بلکہ ہم والدہن کی زبردستی مدرسہ میں پڑھتے ہیں اور رفتہ رفتہ علماء کرام کی فہرست میں داخل ہوتے ہیں یہ ہمارا کمال نہیں بلکہ اللہ ہی کا کمال ہے کہ اس نے پہلے سے ہی لاکھوں کروڑوں کی تعداد میں آپ کو چنا ہے جیسا کہ ارشاد باری ہے ” اللَّهُ يَجْتَبِي إِلَيْهِ مَنْ يَشَاءُ وَيَهْدِي إِلَيْهِ مَنْ يُنِيبُ ” یعنی اللہ جسے چاہتا ہے اسے اپنی منشا سے دین کی خدمت کے لئے منتخب کرتا ہے اور جسے نہیں چاہتا اسے لب باب پہونچ کر بھی محروم کرتا ہے . لیکن ” من یرد اللہ بہ خیرا یفقہہ فی الدین ” کے تحت اس کی توفیق اور نظر کرم ہمارے ساتھ رہی تو آج ہمارا شمار علماء میں کیا جا رہا ہے ، پھر آپ نے نہایت دردمندی سے فرمایا کہ اللہ کے فیصلہ پر یقین ہونا چاہئے .جس کام کی توفیق اللہ نے دی ہے اس میں کامیابی کی امید اور اس کی نعمت کا استحضار ہونا چاہئے .کار نبوت میں علماء کا حصہ یے . علم کے حصول پر شکر بھی بجالانا چاہئے . جس کے لئے بطور شکرانہ دو رکعت نماز بھی ادا کرنی چاہئے اور علوم کی قدر بھی کرنی چاہئے ، جو قدر دان ہوتا ہے وہ مسئولیات کو سمجھتا بھی ہے.پھر فرمایا کہ علماء اور مومنوں کے لئے تین کام عام ہیں . عبادت ، حکمت اور دعوت.یعنی اچھی زندگی ان تینوں کاموں سے مربوط ہوتی ہے. ہمارا سب سے بڑا مسئلہ عبادات کا یے . عبادت کے دو رکن ہیں ایک مامورات پر عمل اور دوسرا منہیات سے اجتناب . لیکن ہمارا سب سے بڑا المیہ عبادات سے دوری ہے . جس میں علماء بھی شامل ہیں . آج عوام کو بمقابل علماء کے عبادات کا زیادہ اہتمام ہے . علماء کو جماعت ، صوم و صلوٰۃ . تہجد ، تلاوت ، اذکار اور سنتوں وغیرہ کا اہتمام زیادہ سے زیادہ ہونا چاہئے
گھریلو اور لین دین کے معاملات صاف ہوں . والدین کے حقوق اور ازداواجی زندگی کی حق تلفی نہ ہو ، اسی طرح اپنا اور اپنے اہل خانہ کا لباس غیر شرعی نہ ہو.الغرض معاشرہ میں آپ کی شخصیت مثالی ہو .

دوسری چیز خدمت.خلق کا جذبہ اپنے اندر پیدا کرنا ، کیونکہ جس طرح پانی انسانیت اور ہر ذی روح کی بنیادی ضرورت ہے بالکل اسی طرح علماء کرام بھی اپنے معاشرہ کی بنیادی ضرورت ہیں . لہذا اس ضرورت کی تکمیلِ کا آسان طریقہ خدمت خلق ہے.ہم اپنے آپ کو قوم و ملت کے لئے نچھاور کریں اور اس کی ضرورتوں کو پورا کرنے والے بنیں .

تیسری چیز دعوت ہے جس میں مسلم و غیر مسلم دونوں شامل ہیں لہذا قدیم و جدید وسائل سے دعوت کا کام کریں .خطاب کے آخر میں فرمایا کہ کہ *حاسبوا قبل أن تحاسبوا.* یعنی سب سے پہلے اپنا محاسبہ ضرور کریں پھر اپنی عبادات ، عادات ، معاملات اور حقوق اللہ و حقوق العباد کا . محاسبہ میں اپنی خطاؤں پر توبہ کریں.اور کہا کہ یومیہ ، ہفتہ ، ماہ اور سال کے اعتبار سے انفرادی و اجتماعی ذاتی محاسبہ ہو یہ انسان کی تعمیر حیات کا سبب بنے گی . اصول کے طور پر فرمایا کہ آپس میں *المسلم مراۃ المسلم* کے تحت ایک مسلمان دوسرے مسلمان کی برائی بیان کرے اس سے ایک دوسرے کی خامیوں کا ازالہ ہوگا اسی طرح دشمنوں سے بھی اپنی اصلاح کریں.یعنی اگر آپ کو ایسا لگتا ہے کہ آپ کا کوئی دشمن بھی ہے جو آپ کے پیچھے آپ کی برائی کرتا پھرتا ہے تو آپ اس کی اس حرکت سے ناراض نہ ہوں بلکہ اسے اپنے لئے خیر و اصلاح کا سبب بنائے

اس کے بعد خصوصی طور پر دعاؤں کے اہتمام پر علماء کی توجہ مبذول کراتے ہوئے کہا کہ علماء صرف امام کی دعا پر ہی اختصار نہ کریں.بلکہ مقبول اوقات میں اپنے اور پوری امت مسلمہ کے لیے روئیں اور گڑگڑائیں ، انابیت کا دروازہ کھلا ہے جو علماء کا مخصوص ہتھیار ہے جسے حدیث میں *الدعاء مخ العبادۃ* اور *الدعاء ھو العبادۃ* کے الفاظ سے تعبیر کیا گیا ہے پھر ان شاء اللہ ہم اللہ تعالیٰ کی مدد و نصرت کو اپنی آنکھوں سے دیکھیں گے .

اخیر میں سودی لین دین سے پرہیز کرنے کی ترغیب دلاتے ہوئے اس کے بنیادی طریقوں پر مختصراً روشنی ڈالی .اور دعائیہ کلمات پر اپنی بات ختم کی .

اس نشست کے اخیر میں المبرہ کی طرف سے ابنائے جامعہ کے خصوصی وفد کا شکریہ ادا کیا گیا.اور عشائیہ کا طعام تناول فرمانے کے بعد انھیں دعاؤوں کے ساتھ رخصت کیا گیا . الحمدللہ مجموعی اعتبار سے دونوں نشستیں کامیاب رہیں .

--Advertisement--

اظہارخیال کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here