صبر و شکیب

0
1684

 رشحات قلم : محمد زبیر ندوی شیروری

صبر اپنے نفس کو گھبراہٹ ، اضطراب و پریشانی کے اوقات میں کنٹرول میں رکھتے ہوئے مصائب و آلام کا ڈٹ کر خندہ پیشانی سے مقابلہ کرنے اور اپنے قدموں کو ڈگمگانے سے بچانے کا نام ہے .

انسان کو چاہئے کہ وہ مصیبت اور غم و پریشانی کو خدا کی آزمائش سمجھ کر راضی برضا اس پر اپنا سر تسلیم خم کرے اور اپنے اندر برداشت کی صفت پیدا کرے ، یہی وجہ ہے کہ اللہ نے اپنے کلام میں مؤمنوں کو صبر پر بشارت سنائی ہے اور فرمایا ہے کہ اگر اس پر صبر و استقامت سے جمے رہو گے تو اللہ تعالٰی کی رحمت تمہاری دستگیری فرمائے گی اور اللہ تعالٰی کی آزمائش مختلف شکلوں و صورتوں میں ہوا کرتی ہے ، چنانچہ ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ ” ولنبلونکم بشیء من الخوف والجوع و نقص من الاموال والانفس والثمرات وبشر الصابرين ” ( سورۃ البقرۃ/ 155 ) . اور ہم کسی نہ کسی طرح تمھاری آزمائش ضرور کریں گے ، دشمن کے ڈر سے ، بھوک پیاس سے ، مال و جان سے ، اور پھلوں کی کمی سے ، پس آپ صبر کرنے والوں کو بشارت سنا دیجئے .

اللہ نے انسان کی تخلیق کے بعد اسے موت و زندگی دی تاکہ اسے آزمایا جا سکے ، جس کو قرآن میں یوں بیان کیا گیا ہے ” الـذی خـلـق الـمـوت والـحـیـاۃ لـیـبـلـوکم أیـکم أحـسـن عـمـلا وھو العزیز الغفور “

لہٰذا دنیا انسان کے لئے امتحان گاہ ہے جہاں وہ اپنی زندگی کے لمحات گذار رہا ہے ، پھر اللہ نے اسی پر بس نہیں کیا بلکہ اسے اپنی بے شمار نعمتیں بطور انعام عطا کیا اور اس کے ہر دکھ سکھ کا سازو سامان بھی مہیا کیا ، منجملہ ان میں سے ایک یہ ہے کہ اس نے دنیا میں پہنچنے والے آلام و مصائب کو اس کے گناہوں کا کفارہ بنایا ، لیکن یہ تبھی ہوگا جب وہ صبر و استقامت سے کام لے اور صبر کا دامن اپنے ہاتھ سے نہ جانے دے ، اگر اس کے بالعکس وہ صبر کے بجائے جزع و فزع اور تقدیر الہی کا شکوہ و گلہ کرے تو دنیاوی تکالیف کے ساتھ ایک اور مصیبت یہ ہوگی کہ وہ اجر عظیم سے محروم ہوگا ، بلکہ مزید گناہوں کا بوجھ بھی اسے اٹھانا ہوگا ، یہ محض ہم ہی انسانوں تک خاص و محدود نہیں ہے ، بلکہ ابتداء ہی سے یہ سلسلہ چلتا آرہا ہے ، انبیاء کرام کو بھی طرح طرح کی اذیتیں دی گئیں مگر وہ اس پر ثابت قدم رہے اور شکوہ شکایت سے اپنی زبانوں کو پاک و صاف رکھا جس کے نتیجہ میں ان کے اجر وثواب میں اضافہ ہوتا رہا جس کا اندازہ احادیث مبارکہ سے بآسانی لگایا جا سکتا ہے ، یہی وجہ ہے کہ صبر کے تعلق سے احادیث میں بہت سی روایات و فضیلتیں وارد ہوئی ہیں ، چنانچہ ایک حدیث میں فرمایا گیا کہ ” ومن یتصبر یصبرہ اللہ ، وما اعطی احدا عطاء خیرا اوسع من الصبر ” جو صبر کی سعی کرتا ہے ، اللہ تعالٰی اسے صبر عطا فرما دیتے ہیں اور کسی کو صبر سے بہتر وسیع تر کوئی اور بھلائی عطا نہیں کی گئی . ( بخاری )

اسی طرح ایک اور روایت میں آتا ہے کہ ” عجبا لامر المومن ان امرہ کلہ خیرا ، و لیس ذالک لاحد الا لمؤمن ، ان اصابتہ سراء شکر فکان خیرا لہ ، وان اصابتہ ضراء صبر فکان خیرا لہ ” ( مسلم ) . مومن کا معاملہ بھی عجیب ہے ، اس کے سارے کام ہی اس کے لئے باعث رحمت اور سبب خیر ہوتے ہیں اور یہ وصف کسی غیر مومن کو نصیب نہیں ، اگر اسے کوئی خوشی و مسرت نصیب ہوتی ہے تو وہ اس پر اللہ کا شکر ادا کرتا ہے اور یہ ادائیگئِ شکر اس کے لئے اجر و ثواب اور بھلائی ہوتی ہے اور اگر اسے کوئی صدمہ و رنج پہونچتا ہے تو اس پر صبر کرتا ہے اور یہ بھی اس کے لئے بھلائی ہے . ( مسلم )

ایک اور روایت میں ہے کہ ایک صاحبزادی نے پیغام بھیجوایا کہ میرے بیٹے کا عالم نزع ہے ، آپ ذرا تشریف لائیں ، جواب میں آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے سلام کہلوا دیا اور فرمایا جو اللہ نے لے لیا وہ اسی کا تھا اور جو اللہ نے عطا کیا وہ بھی اسی کا ہے اور اس کے یہاں ہر شی کی مدت مقرر ہے ، اب تم صبر کرو اور اللہ سے اجر و ثواب کی امید رکھو ، اس کو حدیث کے الفاظ میں یوں بیان کیا گیا ہے کہ ” ان للہ ما اخذہ ، ولہ ما اعطی ، وکل شیء عندہ باجل مسمی فلتصبر و لتحتسب “

ایک اور روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کا ایسی عورت کے پاس سے گذر ہوا جو قبر پر بیٹھی رو رہی تھی تو آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا! بندی! اللہ سے ڈرو اور صبر کرو ، وہ کہنے لگی ، آپ اپنے کام سے کام رکھئے آپ کو وہ صدمہ نہیں ہے جو مجھے پہنچا ہے ، وہ عورت آپ کو پہچانتی نہ تھی ، پھر جب خبر ہوئی تو آپ کے مکان پر گئی اور کہنے لگی کہ حضور میں آپ کو پہچانتی نہ تھی ، تو آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا! ” انما الصبر عند الصدمۃ الاولی ” صبر تو صدمہ کے اول وقت میں ہوتا ہے .

اسی طرح ایک اور حدیث قدسی میں اللہ تعالٰی فرماتے ہیں کہ جب میں اپنے مومن بندے کی کوئی دنیاوی محبوب چیز لے لوں اور وہ اس پر صبر کرے اس کے لئے میرے پاس جنت کے سوا اور کوئی بدلہ نہیں ہے . چس کو حدیث میں یوں بیان کیا گیا ہے کہ ” ما لعبدی المؤمن عندی جزاء اذا قبضت صفیۃ من اھل الدنیا ثم احتسبہ الا الجنۃ ” ( رواہ البخاری )

اللہ تعالٰی اپنے بندوں کو مختلف پہلوؤں سے آزماتا رہتا ہے کبھی اس کو کچھ خوف ، بھوک اور مال و رزق میں کمی سے تو کبھی اسکی جان کی دو محبوب چیزوں سے ، جیسا کہ حدیث میں آتا ہے کہ جب وہ اپنے کسی بندہ کو اس کی دو محبوب چیزوں میں آزماتا ہے اور وہ اس ابتلاء پر صبر کرتا ہے تو وہ اسے ان دو چیزوں کے بدلہ جنت عطا کرتا ہے ، جس کو حدیث کے الفاظ میں یوں فرمایا گیا ہے کہ ” اذابتلیت عبدی بحبیبتیہ عوضتہ منھما الجنۃ “

اسی طرح ایک اور روایت میں آتا ہے ” وعن ابی سعید وابی ھریرۃ رضی اللہ عنہما عن النبی صلی اللہ علیہ و سلم قال! مایصیب المسلم من نصب ولا ھم ولا حزن ولا اذی ولا غم ، حتی الشوکۃ یشاکھا الا کفر اللہ بھا من خطایاہ ” ( متفق علیہ ) . حضرت ابو سعید اور حضرت ابو ھریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا! کہ مسلمان کو جو بھی تھکان ، بیماری ، فکر ، غم اور تکلیف پہنچتی ہے ، حتی کہ کانٹابھی چھبتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے بدلہ اس کے گناہوں کو معاف کر دیتا ہے .

لہذا دنیاوی تکالیف و آلام ، مصائب و بیماریوں ، جان ومال کے نقصان اور ہر قسم کی پریشانیوں میں مومن کے لئے بھلائی کا پہلو ضرور ہوتا ہے جیسا کہ دعاء والتجاء ، صبر کے ساتھ تقدیر پر ایمان اور اللہ کے فیصلوں پر راضی رہنے کے نتیجہ میں اس کے گناہوں کا معاف کیا جانا وغیرہ ، چنانچہ حدیث میں آتا ہے کہ اللہ تعالٰی جس مومن بندے کے ساتھ بھلائی کا معاملہ کرنا چاہتا ہے تو اس کو مصیبت سے دوچار کر دیتا ہے . لیکن ان مصائب میں مؤمن کا کیا شیوہ ہونا چاہئے اس کو حدیث کی روشنی میں ملاحظہ فرمائیں . ” لا یتمنین احدکم الموت لضر اصابہ ، فان کان لابد فاعلا فلیقل! اللھم احینی ما کانت الحیاۃ خیرا لی ، وتوفنی اذا کانت الوفاۃ خیرا لی” ( متفق علیہ )

 انسان کو چونکہ مستقبل کا علم نہیں ہوتا کہ آئندہ زندگی اس کے حق میں بہتر ہے یا نہیں ؟؟ اس لئے مطلق کسی تکلیف یا مصیبت سے گھبرا کر موت کی آرزو کرنا یا تو بےصبری کی علامت ہوگی یا اللہ کی رحمت سے مایوسی کی ، کیونکہ ممکن ہے کہ زندگی کا بقیہ حصہ اس کے دین و دنیا کے لئے بہتری کا سبب ہو .

اسی طرح ایک اور روایت میں اولاد کے تعلق سے فرمایا گیا ” عن ابی موسی رضی اللہ عنہ ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم قال! اذا مات الولد العبد ، قال! تعالٰی لملائکتہ ، فبضتم ولد عبدی فیقولون نعم! فیقول قبضتم ثمرۃ فؤادہ ، فیقولون! نعم! فماذا قال عبدی ؟ فیقولون حمدک واسترجع ، فیقول اللہ تعالٰی!ابنوا لعبدی بیتا فی الجنۃ ، وسمواہ بیت الحمد “

 ( رواہ الترمذی )

حضرت موسی رضی اللہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا! جب کسی کا بیٹا انتقال کر جائے ، تو اللہ تعالٰی ملائکہ سے پوچھتے ہیں کہ تم نے میرے بندے کی اولاد (بچہ یا بچی) کو اٹھا لیا ؟ تو ملائکہ کہتے ہیں کہ جی ہاں! پھر اللہ تعالٰی سوال کرتے ہیں ، تم نے اس کے جگر کے ٹکڑے کو لے لیا ؟ تو ملائکہ کہتے ہیں کہ جی ہاں! پھر اللہ تعالٰی سوال کرتے ہیں اس وقت میرے بندہ نے کیا کہا ؟ ملائکہ کہتے ہیں کہ اے پروردگار! اس نے آپ کی تحمید بیان کی اور انا للہ وانا الیہ راجعون پڑھا ، پھر اللہ تعالٰی ملائکہ سے فرماتے ہیں کہ تم میرے بندے کے لئے جنت میں ایک محل بناؤ ، جس کا نام بیت الحمد رکھو .

بچہ بیوی والدین وغیرہ یہ سب انسان کی محبوب ترین چیزیں ہیں ، ان کی وفات پر اللہ کا حکم سمجھ کر صبر کرنا کمال ایمان کی علامت ہے اور بے صبری ، جزع و فزع اور شکوہ و شکایت ضعف ایمان کی دلیل ہے .

لہذا مومن کا کردار یہ ہونا چاہئے کہ وہ عسر و یسر اور خوشحالی و تنگی میں بھی اللہ کا شکر ادا کرے ایسا نہ ہو کہ خوشحالی میں اس کی نعمتوں کے شکر کے بجائے ناشکری اور مصیبت وآلام میں صبر کے بجائے جزع وفزع اور اللہ کی قضاء وقدر پر ایمان کے بجائے برہمی کا اظہار اور گلہ و شکوہ کرنے لگے جو مومنانہ شان کے خلاف ہے .

قرآن و احادیث کی روشنی میں اس بات کو بآسانی سمجھا جا سکتا ہے کہ صبر ایک ایسا ہتھیار ہے جو انسان کو ہر مصیبت سے نکال کر کامیابی کی راہ پر گامزن کرسکتا ہے بشرطیکہ وہ تقویٰ اور صبر کی صفت سے مالا مال ہو جس کا بہترین نمونہ ہمارے لئے حضور صلی اللہ علیہ و سلم ، ابراہیم اور یوسف علیھم السلام جیسے دیگر اولو العزم رسولوں کی سیرتوں میں بآسانی مل سکتا ہے ، یہی وجہ ہے کہ جن لوگوں نے ایمان کے ساتھ تقوی ، صبر اور اخلاص کے ساتھ کام کیا وہ ہمیشہ کامیاب رہے ، اور اجر کے مستحق قرار پائے .

لہٰذا ہمیں بھی ہر مصیبت و پریشانی اور آزمائش کے موقعہ پر اللہ تعالٰی سے مدد و نصرت نماز کے ذریعہ سے حاصل کرنی چاہئے جیسا کہ ارشاد ربانی ہے کہ ” یا أیھا الذین اٰمنوا استعینوا بالصبر والصلوۃ ، إن اللہ مع الصابرين ” ( بقرۃ/153 )

اور صابرين کی اس بشارت کو بھی ملحوظ رکھنا چاہئے جو قرآن میں دی گئی ہے ” انما یوفی الصابرون اجرھم بغیر حساب ” ( سورۃ الزمر/10 ) . بیشک وہ صابرين کو ان کا اجر بے حساب دیتا ہے .

دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہم سبھوں کو ہر تکلیف و ألم ، حزن و ملال ، نازک حالات ، عسر و یسر اور فقر و فاقہ جیسی تمام آزمائشوں کے ہر موڑ پر صبر کی توفیق نصیب فرمائے اور ہمارا شمار صابرین میں فرمائے . آمین .

--Advertisement--

اظہارخیال کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here