ٹڈی اور مچھلی کے تفصیلی احکام شرعی نقطہِ نظر سے

0
2017

از : مولانا عبدالقادر بن إسماعيل فیضان باقوی ، جامعہ آباد ،تینگن گنڈی ، بھٹکل ، امام و خطیب جامع مسجد محمد عشیر علی سلیمان المزروعی ،ابو ظبی ، متحدہ عرب امارات .

الحمد لله رب العالمین ، والصلوة والسلام علی رسوله الکریم ، وعلی آله وصحبه أجمعین ، ومن تبعھم بإحسان إلی یوم الدین .

مردہ ٹڈی اور مچھلی کو کھانے کے شرعی احکام 

موجودہ دور میں ٹڈیوں کا بڑا زور ہے اور اس وقت یہ کھیت کھلیانوں کو بڑا نقصان پہونچا رہی ہیں ، وہیں کئی عرب ممالک میں انھیں ذبح کیے بغیر اور زندہ کھاتے ہوئے دکھایا گیا ہے ، لہذا ان کی حلت کے تعلق سے تفصیلات پیش خدمت ہیں .

عبد الرحمن بن زید بن اسلم نے اپنے باپ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنھما سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا! ” اُحِلَّتْ لَنَا مَيْتَتَانِ وَدَمَانِ ، فَاَمَّا الْمَيْتَتَانِ ، فَالْحُوُتُ وَالْجَرَادُ ، وَاَمَّا الدَّمَانِ ، اَلْكَبِدُ وَالطِّحَالُ ” ہمیں دو مری ہوئی چیزیں اور دو ( جمے ہوئے ) خون حلال کیے گئے ، رہی بات دو مری ہوئی چیزوں کی ، سو ( یہ ) مچھلی اور ٹڈی ہے ، اور بہر حال دو خون ( سو وہ یہ ہیں ) جگر اور تِلِّی “. ( شافعی ، احمد ، ابن ماجہ ، دارقطنی ، بیہقی عبد بن حمید اور بغوی نے شرح سنہ میں اس حدیث کو روایت کیا ہے ، یہ حدیث صحیح ہے ) .

مذکورہ حدیث شریف سے معلوم ہوا کہ مری ہوئی مچھلی اور ٹڈی حلال ہے ، خواہ کسی سبب سے مرے یا بغیر کسی سبب کے ، یہی جمہور کا مذہب ہے ، ان دونوں کو مرنے کے بعد بھی کھانا جائز ہے ، لیکن ان کے شکموں میں رہنے والی چیز نجس ہے ان کو نکالنا ضروری ہے ، نکالے بغیر ان کو کھانا حلال نہیں ہوگا ۔

ٹڈیوں کی کئی قسمیں ہیں ، ان میں سے بعض پیلی ، بعض سفید ، بعض ہری اور بعض سرخ ہوتی ہیں ، کھیتی باڑی کو تباہ کرنے کے تعلق سے یہ مفسد ترین حیوان ہے ، اس وجہ سے کاشتکار اس کو پسند نہیں کرتے .

مچھلی بڑی اور زیادہ دیر تک زندہ رہنے کی صورت میں اس کو ذبح کرنا سنت ہے ، لیکن ٹڈی اور چھوٹی مچھلی کو ذبح کرنا مکروہ ہے ، کیونکہ مچھلی چھوٹی رہنے کی صورت میں ذبح کرنے پر اس کو تکلیف ہوگی ، مچھلی کا پیٹ صاف کرنے سے قبل اور بگڑا ہوا گوشت نکالے بغیر مشوای کر ( تل ) نا اور زندہ مچھلی یا ٹڈی کو کھولتے ہوئے تیل میں ڈالنا مکروہ ہے . ( فیضان الفقہ ، ص/456 )

شیخ سلیمان بن محمد بن عمر البجیرمی شافعی ( متوفی ، ١٢٢١ھ ) خطیب شربینی کے حاشیہ میں بڑی انوکھی اور عمدہ باتیں ہیں وہ ایک واقعہ بیان کرتے ہوئے تحریر کرتے ہیں کہ جراد ( کا لفظ ٹڈی کا عربی لفظ ہے ) جَرد سے مشتق ہے ، یہ سمندری اور خشکی دونوں طرح کی ہوتی ہیں ، ان میں سے بعض پیلی ، بعض سفید اور بعض سرخ ہوتی ہیں ، بعض کبیر الجثہ اور بعض صغیر الجثہ ، جب یہ انڈے دینا چاہتی ہیں تو سخت زمین کو تلاش کر کے اس کو اپنی دم سے مار کر سوراخ کرتی ہے اور اس میں انڈے دیتی ہیں اور وہیں اپنے بچوں کی پرورش کرتی ہیں ، اس کے چھ پیر ہوتے ہیں ، دو ہاتھ جو اس کے سینہ پر ہوتے ہیں ، دو اونچے پیر اس کے درمیان میں اور دو پیر اس کے پیچھے ، اس کے پیر کے کنارہ پیلے ہوتے ہیں ، اس کی خلقت میں دس چیزوں کی ملاوٹ ہوتی ہے ، گھوڑے کا سر ، ہاتھی کی آنکھیں ، بیل کی گردن ، بارہ سنگھے ( یا ہرن ) کی سینگھیں ، شیر کا سینہ، بچھو کا پیٹ ، نسر ( شاہین نما ایک شکاری پرندہ ) کے دوبازو ، اونٹ کی ران ، شتر مرغ کے دو پیر اور بچھو کی دم ، کوئی حیوان اس سے زیادہ فساد کرنے والا نہیں .

اصمعی کہتے ہیں کہ میں ایک دیہات میں آیا ، وہاں میں نے ایک آدمی کو گیہوں کی کاشت کرتے ہوئے دیکھا ، پھر جب گیہوں کی فصل تیار ہوئی اور اس کے عمدہ خوشے نکل آئے تو ٹڈیوں نے ہلہ بول دیا ، وہ شخص وہیں کھڑا ہوا دیکھتا رہا ، سمجھ میں نہیں آیا کہ کیا کیا جائے ، پھر وہ یہ شعر پڑھنے لگا ،

مَرَّالْجَرَدُعَلَى زَرْعِيْ فَقُلْتُ لَهُ

لَا تَاْكُلُنَّ وَلَا تَشْغُلْ بِاِفْسَادٍ

فَقَامَ مِنْهُمْ خَطِيْبٌ فَوْقَ سُنْبُلَةٍ

اِنَّاعَلَى سَفَرٍ لَابُدَّمِنْ زَادٍ

میری کھیتی پر ( جب ) ٹڈیوں کا گذر ہوا تو میں نے ان سے کہا کہ تم ہرگز ( کھیتی ) نہ کھاؤ گی اور نہ ہی فساد برپا کرنے میں لگ جاؤ گی . تب ان کا خطیب خوشہ کے اوپر چڑھ کر کہنے لگا ( بھائی ) ہم تو سفر پر ہیں ، ایسے میں توشہِ راہ تو چاہئے ہی .

درختوں پر ان کا لعاب سمِ قاتل ہے ، جس چیز ( درخت وغیرہ ) پر وہ گر پڑتی ہیں اس کو برباد کردیتی ہیں . ( بجیرمی/230 ، بحوالہ برماوی )

طبرانی نے اس واقعہ کو سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما سے جوڑتے ہوئے لکھا ہے ، کہتے ہیں کہ ہم میں میرا بھائی محمد ابن الحنفیہ اور میرے چچازاد بھائی عبداللہ قاسم اور فضل عباس کی اولاد سفرہ پر بیٹھ کر کھانا کھا رہے تھے تبھی ایک ٹڈی دسترخوان پر آگری ، عبد اللہ نے اس کو اٹھایا اور مجھ سے پوچھا کہ اس پر کیا لکھا ہوا ہے؟ میں نے کہا کہ میں نے اس کے متعلق میرے باپ امیر المؤمنین سے پوچھا تھا ، انھوں نے کہا کہ میں نے اس کے تعلق سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا! اس پر یہ لکھا ہوا ہے ” انا الله لآ اله الا انا ، رب الجراد ورازقھا ، ان شئت بعثتھا رزقا لقوم ، وان شئت بعثتھا بلآء علی قوم “. میں اللہ ( رب العزت ) ہوں ، میرے علاوہ کوئی معبود نہیں ، ٹڈیوں کا مالک اور ان کا رازق ہوں ، اگر میں چاہوں تو ایک قوم کے لئے انھیں رزق کے طور پر بھیجوں اور اگر میں چاہوں تو کسی قوم پر بطورِ آمائش بھیجوں . ابن عباس رضی اللہ عنھما کہتے ہیں ک یہ علم مکنون میں سے ہے . نیز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا! ” ان الله عزوجل خلق الف امة ، ست مأة منھا فی البحر ، وأربع مأة منھا فی البر ، وان اول ھلاك ھذہ الامة الجراد ، فاذا ھلك الجراد تتابع ھلاك الأمة “. بیشک اللہ عزوجل نے ہزار ( قسم کی ) امتوں کو پیدا فرمایا ، جن میں سے چھ سو کو سمندر میں اور چارسو کو خشکی میں اور بیشک اس امت میں سب سے پہلے ہلاک ہونے والی ( امت ) ٹڈیاں ہوں گی ، پھر جب ٹڈیاں ہلاک ہوں گی تو ( بقیہ ) امتیں پے در پے ہلاک ہونا شروع ہوں گی “.

ٹڈیوں کے پہلے ہلاک ہونے کی حکمت یہ ہے کہ کیونکہ انھیں اس مٹی سے پیدا کیا گیا ہے جس کو آدم علیہ السلام کو پیدا کرنے کے ذریعہ فضیلت بخشی گئی ہے . ( بجیرمی علی الخطیب/231 ، 232 )

ٹڈی اور مچھلی کو بغیر ذبح کئے زندہ یا مردہ کھانے اور نگلنے کے شرعی احکام

درج ذیل صحیح مرفوع ( یا موقوف ) حدیث سے استدلال کرتے ہوئے ٹڈی ( اور مچھلی ) کو بغیر ذبح کئے کے زندہ یا مردہ کھانا اور نگلنا جائز ہے .

سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنھما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا! ” أحلت لنا میتتان ودمان ، ألمیتتان ، ألحوت والجراد ، والدمانِ ، ألْكَبِدُ والطِّحَالُ ” . ہمارے لئے دو مری ہوئی ( چیزیں ) اور دو ( جمے ہوئے ) خون حلال کردئے گئے ، دو مری ہوئی چیزیں ، مچھلی اور ٹڈی ، اور دوخون ، جگر ( کلیجی ) اور تلّی . ( شافعی ، احمد ، ابن ماجہ ، بیہقی ، دار قطنی )

اس حدیث کے مرفوع اور موقوف ہونے کے تعلق سے علماء کی مختلف آراء ہیں ، صحیح یہی ہے کہ یہ مرفوع حدیث ہے ، جن لوگوں نے اس حدیث کو موقوفا صحیح کہا ہے ، ( اس کا معنی یہ ہے کہ یہ الفاظ ابن عمر کے ہیں ، نہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ، ) ان میں امام احمد بن حنبل ابو زرعہ اور ابو حاتم ہیں .

علامہ حافظ ابن حجر تلخیص الحبیر میں رقمطراز ہیں کہ اس حدیث کو دار قطنی نے سلیمان بن بلال کے طریقہ سے انھوں نے زید بن اسلم سے ، انھوں نے ( ابن عمر پر ) موقوفا روایت کیا ہے ، اور یہی اصح ہے اور اسی طرح ابوزرعہ اور ابو حاتم نے موقوف ہونے کو صحیح بتایا ہے. ( تلخیص الحبیر ، ج/1 ، ص/161 ) . لیکن اس جیسی حدیث مرفوع کے حکم میں ہے .

شیخ الاسلام شہاب الدین ابن حجر ہیتمی (متوفی/ 974 ) اپنی تصنیف ” تحفةالمحتاج بشرح المنھاج ” میں لکھتے ہیں کہ اس حدیث کو ابن عمر پر موقوف کہنے کی علتیں بیان کرنا اس حدیث ( کے مرفوع ہونے ) پر کچھ اثر انداز نہیں ہوتیں ، اس لئے کہ صحابی سے یہ ( أُحِلَّ لَنَا ) صیغہ مرفوع کے حکم میں ہے . ( تحفةالمحتاج ، ج/4 ، ص/237 )

حافظ نیچے لکھتے ہیں کہ جی ہاں ! جس موقوف روایت کو ابو حاتم وغیرہ نے صحیح قرار دیا ہے وہ مرفوع کے حکم میں ہے ، کیونکہ صحابی کا یہ قول ” اُحِلَّ لَنَا ” ( فلاں چیز ہمارے لئے حلال کی گئی ) وَحُرِّمَ عَلَيْنَاكَذَا ( اور ہم پر اس طرح حرام ٹہرایا گیا ) اور اسی طرح اُمِرْنَا بِكَذَا ، وَنُهِيْنَا عَنْ كَذَا ، ( ہمیں اس طرح حکم دیا گیا ، اور اس طرح اس سے روکا گیا ) اس روایت سے استدلال حاصل ہوجاتا ہے ، اس لئے کہ یہ مرفوع کے معنی میں ہے ، واللہ أعلم . ( تلخیص الحبیر ، ج/1، ص/162 )

تلخیص الحبیر کے محقق ومعلق لکھتے ہیں کہ صحابی کا ” أُمرنا بکذا ، نُهِینا عن کذا ، اُحِلَّ کذا ” اور ” حُرِّم کذا ” کہنا جمہور فقہاء ، اصولیین اور محدثین کے پاس مختار ( مذہب ) پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک پہونچائی ہوئی حدیث کے حکم میں ہے . ( تدریب الراوی ، ج/1، ص/188 تا 190 کے حوالہ سے . ( تلخیص الحبیر ، ج/1 ، ص/162 )

حالیہ دنوں میں براعظم ایشیاء میں ٹڈیوں کا بڑا زور دیکھا جارہا ہے اور بہت ساری ایسی ویڈیوز آرہی ہیں جن میں لوگوں کا ٹڈیوں کو زندہ کھاتے ہوئے دکھایا جارہا ہے ، ان ویڈیوز کو دیکھ کر کافی لوگوں نے مجھ سے اسکو زندہ کھانے کے جواز کے سلسلہ میں سوال کیا اور ان ہی سوالات نے مجھے یہ تفصیل لکھنے کا محرک بنایا ، مذکورہ حدیث شریف اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ مری ہوئی ٹڈی کو کھانا حلال ہے ، خواہ وہ جس سبب سے بھی مری ہو ، کسی سبب سے یا بغیر کسی سبب سے ، حدیث ان لوگوں ( علماء ) کے خلاف حجت ہے جو یہ شرط لگاتے ہیں کہ ٹڈی عادی طریقہ سے مری ہو ، یا اس کے سر کو کاٹنے کے ذریعہ اس کو ہلاک کیا گیا ہو ، ورنہ وہ حرام ہوگی ، ٹڈی میں ایسی کسی چیز کا پایا جانا شرط نہیں ، جس طرح بھی ٹڈی ( یا مچھلی ) مری ہو وہ طاہر اور حلال ہے .

میتة الجراد کا معنی ہی یہی ہے کہ وہ آدمی کے ہاتھ سے نہ مری ہو ، بلکہ وہ ایسے ہی مری ہو بغیر کسی وجہ سے ، یا کسی وجہ سے ، مثلا ٹھنڈی سے ، پانی میں ڈوبنے سے ، کسی چیز کے نیچے دبنے سے یا کسی اور سبب سے ، ٹڈی اگر کسی آدمی کے ہاتھ سے مری ہو تو یہ وہ چیز ہے جس کی حلت پر نصوص آئے ہیں ، اور امت اس پر جمع ہوئی ہے . ہاں ٹڈی یا مچھلی کسی زہریلی چیز سے مری ہوں تو ان کو کھانا زہریلا ہونے کی وجہ سے حرام ہے کیونکہ یہ آدمی کو مار ڈالتا ہے ، نہ اس وجہ سے کہ وہ زہر سے مری ہیں .

علامہ حافظ ابن حجر ٹڈی کی حدیث کی تشریح کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ ( تمام ) علمائے کرام اس بات پر جمع ہوئے کہ ٹڈی کو ذبح کئے بغیر کھانا جائز ہے ، مگر مالکیہ اپنے مشہور ( مسلک ) کے مطابق اس کو ذبح کرنے کی شرط لگاتے ہیں .

اس کے کھانے کی صفت کے سلسلہ میں اختلاف کیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ اس کے سر کو توڑ کر کھایا جائے ، اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر اس کو کسی ہنڈی میں ڈال کر یا آگ میں ڈال کر کھایا جائے تو ہی حلال ہے ، ( اسی طرح اس کو زندہ کھانا یا منہ میں ڈال کر نگلنا بھی جائز ہے ، جیسا کہ تفصیل آئے گی )

ابن وہب کہتے ہیں کہ اس کو پکڑنا ہی اس کو ذبح کرنا ہے ، مطرف ان کے موافق ہوئے ، ان میں جمہور بھی اس بات پر موافق ہوئے کہ اس کو ذبح کرنے کی ضرورت نہیں ، سابق ابن عمر رضی اللہ عنھما کی حدیث ” أُحلت لنا میتتان ودمان ، ألسمك والجراد والکبد والطحال ” سے استدلال کرتے ہوئے جس کو احمد اور دار قطنی نے مرفوعا روایت کیا ہے اور ( دار قطنی ) نے کہا کہ موقوف ہی اصح ہے اور بیہقی نے بھی موقوف کو ترجیح دی ہے ، إِلَّا یہ کہ انھوں نے کہا کہ اس حدیث کے لئے مرفوع کا حکم ہے . انتھی .

امام نووی رحمہ اللہ شرحِ مہذب میں لکھتے ہیں کہ مچھلی اور ٹڈی جب مر جائیں تو وہ دونوں پاک ہیں ، نصوص اور اجماع کے ذریعہ ، اللہ تعالی نے فرمایا! ” أُحِلَّ لَكُمْ صَيْدُ البَحْرِ وَطَعَامُهُ “. تمھارے لئے سمندر کا شکار اور اس کا ( مرا ہوا ) کھانا حلال ٹہرایا گیا . ( المائدہ/96 )
اور حدیث ” ھو الطھور مآءہ والحل میتته “. وہ ( سمندر ) کہ اس کا پانی پاک ہے اور اس کا مردہ حلال ہے . ( ابوداؤد وغیرہ ) . اور عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ کی حدیث سے استدلال کرتے ہوئے ، کہتے ہیں کہ ” غزونا مع رسول الله صلی اللہ علیه وسلم سبع غزوات ناکل الجراد “. ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سات غزوے لڑے ، جن میں ہم ٹڈیاں کھاتے تھے . اور خواہ ہمارے نزدیک شکار کرنے سے وہ ( ٹڈی ) مری ہو کہ بغیر کسی سبب کے ، اور مچھلی خواہ مر کر پانی سے باہر آئی ہو یا سمندر ہی میں مری ہو ، اور خواہ ٹڈی کا سر کاٹا گیا ہو یا نہیں ، اور اسی طرح سمندر کے باقی حیوانات ، جب ہم نے تمام میں اصح پر یہ کہا ہو کہ وہ حلال ہیں تو وہ مرے ہوئے بھی پاک ہیں . ( جوکہ معتمد مذہب ہے ) .

ٹڈی کے کھانے کے طریقے اور اس کے ضمن میں مچھلی کے بعض احکام

بات آگے گذری کہ ٹڈی کو زندہ کھانا ، مردہ کھانا اور نگلنا جائز ہے ، لیکن کیا ٹڈی اور چھوٹی مچھلی کے پیٹ کی آلائش صاف کرنا ضروری ہے ؟ یا چھوٹے رہنے کی وجہ سے یہ معاف ہے ؟

شیخ الاسلام شہاب الدین ابن حجر ہیتمی لکھتے ہیں کہ ٹڈی اور چھوٹی مچھلی کے پیٹ میں رہنے والی آلائش کا مشکل ہونے کی وجہ سے صاف کرنا واجب نہیں . ( ج/4 ، ص/237 )

واجب نہیں ہے کے قول سے صاف کرنا اچھا ہے معلوم ہوتا ہے اور صاف کئے بغیر ان کو بھوننا فرائی کرنا اور سالن بنانا مکروہ ہے ، جیسا کہ ہمارے اس قول کی تائید صاحب فتح المعین کرتے ہیں ، اور تلی ہوئی مچھلی کو اس کو صاف کرنے اور اس کے اندر کی آلائش کو صاف کرنے سے پہلے کھانا مکروہ ہے . ( ج/2 ، ص/354 ) . (اور ٹڈی کا حکم بھی چھوٹی مچھلی کی طرح ہی ہے . )

ٹڈی اور مچھلی کو ذبح کرنا مکروہ ہے ، مگر اس وقت جب مچھلی کافی بڑی ہو اور ( پانی سے نکلنے کے بعد ) وہ بہت دیر تک زندہ رہتی ہو ، ( جیسے گوپّڑگا ، شارک کی ایک قسم جو پانی سے نکالے جانے کے بعد کئی گھنٹوں تک زندہ رہتی ہے ) تب آرام پہونچانے کے لئے اس کو ذبح کرنا مندوب ( سنت ) ہے.( تحفةالمحتاج ، ج/4 ، ص/237 ) نھایةالمحتاج ، ج/8 ، ص/114 ، الإقناع ، ج/5 ، ص/231 ، اور فتح المعین ، ج/2،ص/353 ، سے ملخص )

اور ذبح کرنے سے مراد یہاں پر کسی بھی جگہ کاٹنا ہے تاکہ وہ مرجائے اور اسے راحت مل جائے ، جیسا کہ شیخ الاسلام شہاب الدین لکھتے ہیں کہ اور ذبح کرنے سے مراد ظاہرًا اس کو قتل ( ہلاک ) کرنا ہے ، جیسا کہ ان ( فقہاء ) کی” اس کو راحت پہنچانا ” کی تعلیل اس کی طرف رہنمائی کرتی ہے ، ہاں! ذبح کرنے کا تعلق خصوصاً اگر کسی ایسی مچھلی سے ہو جس کی حلت اس کے ذبح کرنے پر ہی وابستہ ہو تو ان کے اختلاف سے نکلنے کے لئے ذبح کرنا ہی متعین ہوجاتا ہے ، ( جیسے مچھلی کے علاوہ مثلا گائے کی صورت والی مچھلی کو ذبح کرنا بعض ائمہ کے پاس شرط ہے ) . ( تحفہ/237 )

علامہ بجیرمی لکھتے ہیں کہ نیچے سے کاٹنا اچھا ہے ، کیونکہ یہ خون کو صاف کرنے میں زیادہ اچھا ہے . (231 )

فتح المعین کے محشی السید بکری اعانة الطالبین میں بجیرمی کے مذکورہ الفاظ کو نقل کرنے کے بعد لکھتے ہیں کہ جبکہ وہ ( مچھلی ) کسی ایسی شکل وصورت والے حیوان کی صورت والی مچھلی نہ ہو جس کو ذبح کیا جاتا ہو ، ورنہ اس کی گردن پر ہی ذبح کیا جائے گا . ( ج/2 ، ص/353 )

چونکہ ٹڈیاں کھیتی باڑی کو بری طرح نقصان پہونچاتی ہیں ، لہذا کسی دوا کے ذریعہ ان کو بھگانا یا مارڈالنا جائز ہے ، شیخ شہاب الدین رملی ” نہایة المحتاج ” میں لکھتے ہیں کہ اگر ٹڈیوں یا جوؤں کے ذریعہ کوئی نقصان پہونچتا ہو . انھیں بھگانے ( یا ہلاک کرنے ) کے لئے جلانے کے علاوہ کوئی اور طریقہ نہ ہو تو اسی طریقہ سے انھیں بھگانا جائز ہے . ( ج/8 ، ص/114 )

اگر کوئی مچھلی کسی دوسری ( مچھلی یا ٹڈی ) کے پیٹ میں سڑ کر ٹکڑے ٹکڑے ہوگئی تو اس کا کھانا حرام ہے ، اور ٹکڑے ٹکڑے کے اعتبار ( شمار ) کرنے میں اختلاف ( اعتراض ) کیا گیا ، جواب دیا گیا کہ یہاں پر اس کی علت اس کا روث ( لید ) کی طرح ہونا ہے ، اور یہ اسی وقت ہوتا ہے جب وہ پوری طرح ٹکڑے ٹکڑے ہوگئی ہو ، رہی بات اس کے صرف بگڑنے ( یا سڑنے ) کی ، سو یہ گوشت یا کھانے کے بدبودار ہونے( یا سڑنے ) کے مقام پر ہے ، اور یہ حرام نہیں . ( تحفہ ، اعانہ )

چھوٹی مچھلی یاٹڈی کے پیٹ کی آلائش صاف کئے بغیر ان کو بھوننا تلنا یا کھانا مکروہ ہے ، پر فتح المعین کے محشی اعانۃ الطالبین میں چند اہم مسائل لکھتے ہیں ، اس کلام کا ظاہری مفہوم یہ ہے کہ ان کے پیٹ میں رہنے والی آلائش کے ساتھ انھیں کھا سکتے ہیں اگر چہ کہ بڑی مچھلی ہو ، اور نجاست کے باب میں اس بات کی قید لگائی گئی کہ اگر وہ چھوٹی ہو تب جائز ہے ، وہاں پر یہ عبارت ہے ، اور جواہر میں اصحاب سے نقل کیا گیا ہے کہ نمک لگا کر محفوظ کی گئی مچھلی کو اگر اس کے پیٹ میں رہنے والی گندگی کو نکالے بغیر ہی محفوظ کیا گیا ہو تو اس کو کھانا جائز نہیں ، اس عبارت کے ظاہری مفہوم سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ چھوٹی اور بڑی مچھلی کے درمیان کوئی فرق نہیں ، لیکن شیخان ( رافعی اور نووی ) نے چھوٹی مچھلی رہنے پر اس کے پیٹ میں رہنے والی آلائش کے باجود کھانا جائز ہے کہا ہے ، کیونکہ اس کے اندر والی آلائش کو نکالنا دشوار ہے . انتھی . پھر ( عبارت میں ) مچھلی کے ساتھ قید کرنا اس بات کا فائدہ دیتا ہے کہ تلی ہوئی ٹڈی کو اس ( آلائش کو صاف کرنے ) سے پہلے کھانا مکروہ نہیں ، اور فتح الجواد کی عبارت اس کی صراحت کرتی ہے کہ وہ ( ٹڈی چھوٹی ) مچھلی کی طرح ہے ، ان کی عبارت ہے ، اور ان دونوں کے چھوٹوں کو ذبح کرنا اور ہر ایک کو اس کے پیٹ کی آلائش صاف کئے بغیر مشوی کرنا مکروہ ہے . ( إعانة ، ج/8 ، ص/354 ) اور زندی مچھلی یا ٹڈی کے کسی حصہ کو نہیں کاٹا جائے گا ، ( یعنی نہ کاٹنا سنت ہے ، ان ( مصنف نووی ) کے ( آنے والے ) قول حل الفعل ، ( کرنا حلال ہے ) کی دلیل سے . ( محشئ نہایہ ، شیخ ابوضیاء نورالدین علی بن علی شبراملسی ، 1087ھ ) یعنی ایسا کرنا مکروہ ہے ، جیسا کہ روضہ میں ہے ، اذرعی وغیرہ نے اس میں ریسرچ کرتے ہوئے اسکو حرام کہا ہے ، کیونکہ اس میں عذاب ہے ، ( معتمد کے خلاف ہے ) ان کو زندہ بھوننا اور تلنا بھی مکروہ ہے . پھر اگر کسی نے زندہ رہتے ہوئے ایسا کیا ، یعنی کسی حصہ کو کاٹا ، تو اس کو کھانا جائز ہے ، اس لئے کہ کسی زندہ حیوان کا کاٹا ہوا بعض حصہ اس کے مردار کی طرح ہے ، اور شکار سے جدا ہوا حصہ اس وجہ سے حرام ہے ، کیونکہ تمام شکار اسوقت تک حلال نہیں ہوتا جب تک کہ اس کی روح نکل نہ جائے ، اور بعض حصہ کو کاٹنا ایسا نہیں ہے ،( کیونکہ بعض حصہ کو کاٹنے سے پورا حیوان یا شکار نہیں مرتا ) مچھلی کے برخلاف ، کہ اس کا بعض حصہ حلال ہوتا ہے اگر چہ کہ وہ بغیر کسی سبب کے مری ہو . یا اگر کسی نے زندہ مچھلی یا ٹڈی کو چبا کر یا بغیر چبا کے نگل لیا تو اصح میں حلال ہے ، اس لئے کہ اس میں اس کو جان سے مار ڈالنے سے زیادہ عذاب ( تکلیف ) نہیں ہے ، اور یہ ( نگلنا ) جائز ہے . رہی بات مری ہوئی بڑی مچھلی کی ، سو اس کو نگلنا حرام ہے ، کیونکہ چھوٹی مچھلی کے برخلاف اس کے اندر کی نجاست ( گندگی ) کو صاف کرنا آسان ہے ، اور اسی سے چھوٹی اور بڑی مچھلی کے ضابطہ کو جانا جاتا ہے . اگر بعض حصہ کے کاٹنے ، یا دواء کے لئے اس کو نگلنے پر مچھلی مرگئی ، تو قطعی طور پر ( یعنی بغیر کسی اختلاف کے ) وہ حلال ہے .

خیر ہی سے موجودہ دور میں امت ٹڈی کے احکام اور اس کی غذائیت کو نہ پہچانتی ہو ، لیکن یہ حقیقت ہے کہ ان کے آباء واجداد اس کو اچھی طرح سے پہچانتے ہیں ، اور خیر القرون میں غذا کے طور پر اس کا خوب استعمال ہوا ہے ، جیسا کہ سیدنا عبداللہ بن ابی اوفی کی سابق حدیث میں ہے ، کہتے ہیں کہ ” ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سات غزوے لڑے ، تب ہم ٹڈیاں کھاتے تھے “. ( نسائی )

نر ٹڈیوں کے مقابلہ میں مادہ زیادہ فائدہ مند ہوتی ہیں .

علمائے اعشاب نے ذکر کیا ہے کہ ٹڈی مُقَوِّماتِ جنسیہ کی ایک بڑی غذائی چیز ہے ، اس لئے کہ یہ جسم میں نشاط پیدا کرتی ہے اور توانائی میں اضافہ ، کیونکہ یہ ہر درخت سے قسم قسم کا مواد حاصل کرتی ہے ، ہاں! ٹڈی کو مارڈالنے کی نہی آئی ہے ، کیونکہ یہ اللہ عزوجل کا بڑا لشکر ہے ، لیکن ٹڈیوں کے نکل پڑنے پر کسان کچھ اچھا شگون نہیں لیتے ہیں ، اس لئے کہ جب وہ اپنے لشکرِ جرّار کے ساتھ نکلتی ہیں تو کسی ہری اور سوکھی ہریالی پر سے نہیں گذرتی ہیں مگر اس کو پوری طرح چٹ کر جاتی ہیں ، اس لئے ایسی حالت میں ان کو کسی طرح بھگانا یا مار ڈالنا جائز ہے .

جمہور کے پاس ٹڈی کا تذکیہ یعنی ذبح کرنے کی ضرورت نہیں ، لیکن مالکیہ کہتے ہیں کہ ان کو ذبح کرنا ضروری ہے ، اس طرح کہ نیت اور بسم اللہ پڑھنے کے ساتھ ان کے ساتھ وہ کیا جائے جس سے وہ مر جائیں ، بات تفصیل سے آگے گذر چکی ہے کہ ہمارے ( شافعی ) نزدیک اس کو ہر طرح سے کھا سکتے ہیں ، چبا کر نگلنے ، بغیر چبا کر نگلنے ، زندہ بھوننے ، زندہ تیل میں ڈال کر فرائی کرنے وغیرہ کے ذریعہ ، ( لیکن مرنے تک صبر کیا جانا زیادہ بہتر ہے ، کیونکہ زندہ ہی آگ یا کھولتے تیل یا پانی میں ڈالنا مکروہ ہے ، اور بعض علماء کے پاس حرام ) حنابلہ کے نزدیک بھی ٹڈی کو زندہ ہی بھوننے کے لئے آگ اور تیل میں ڈالنا جائز ہے ، اور اس کو وہ عذاب میں نہیں شمار کرتے ، اس لئے کہ یہ ضرورت کے لئے عذاب دینا ہے ، کیونکہ ٹڈی کو اگر یونہی زندہ رہنے دیا جائے تو بسا اوقات اس کی زندگی طویل ہوتی ہے ، ایسے میں اس کی موت کا انتظار کرنا انسان پر دشوار گذار ہوتا ہے ، اور مالکیہ کا یہ قول کہ ہر اس فعل سے اس کو ذبح کرنا ضروری ہے جس سے اس کی موت واقع ہوتی ہو ، کسی ایسے سبب کا پایا جانا ضروری ہے جس سے اس کی موت واقع ہو ، مثلا اگر اس کا سر کاٹا ( یا توڑا ) جائے تو یہ اس کے ذبح کا سبب اور کھانے کا محل ہوگا ، بلکہ انہوں نے کہا کہ اس کے پیر اور بازووں کو توڑنا بھی جائز ہے تاکہ یہ اسکی موت کا ایک سبب بن جائے ، اور یہ اس کو عذاب دینے میں نہیں شمار ہوگا ، اور امام مالک کے نزدیک اس کو ذبح کرنے کی یہ علت ہے کیونکہ یہ خشکی کے حیوانوں میں سے ہے ، سو اس کو ذبح کرنا ضروری ہے ، اور اگر وہ شرعی ذبح کے بغیر ہی مرگیا تو اس کا میتہ حرام ہوگا .

ایک قاعدہِ کلیہ

شارع نے جس کھائی یا پئی جانے والی چیز سے سکوت اختیار کیا ہے اور اس کی تحریم کے سلسلہ میں کوئی نص وارد نہیں ہوا ہے تو متفق علیہ قاعدہ کی پیروی کرتے ہوئے وہ چیز حلال ہے ، اور اس کا سبب یہ ہے کہ اصل میں اشیاء کا مباح ہونا ہے ، اور یہ اسلام کے اصول میں سے ایک بنیادی قاعدہ ہے ، بہت سارے نصوص اس کو ثابت کرتے ہیں ، ان میں اللہ تبارک و تعالیٰ کا یہ قول بھی ہے ” هُوَالَّذِيْ خَلَقَ لَكُمْ مَّافِى الْاَرْضِ جَمِيْعًا . وہی ہے جس نے زمین میں رہنے والی تمام چیزیں تمہارے لیے پیدا فرمائیں “. ( البقرہ/29 )

سیدنا ابوثعلبہ رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا! ” اِنّ الله فرض فرآئِضَ فلا تضیعوھا،وحد حدودا فلا تعتَدُوْها، وسکت عن اشیاء رحمةً لکم غیرَ نسیان فلا تبحثوا عنھا “. بیشک اللہ نے چند فرائض فرض کئے ، سو تم انہیں ضائع نہ کرو ، اور چند حدود متعین کئے ، سو تم انھیں نہ پھلانگو ، ( ان کو پار نہ کرو ) اور چند چیزوں کے تعلق سے بغیر بھولے تم پر رحم کرتے ہوئے خاموش رہا ، پس تم ان کے تعلق سے بحث نہ کرو . ( دارقطنی )

سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ سے گھی ، پنیر اور زیبرے کے متعلق پوچھا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا! ” الحلال ما أحله الله فی کتابه ، والحرام ما حرمه اللہ فی کتابه ، وما سکت عنه فھو مما عفالکم “. حلال وہ ہے جس کو اللہ نے اپنی کتاب میں حلال ٹھہرایا ، اور حرام وہ ( چیز ) ہے جس کو اللہ نے اپنی کتاب میں حرام ٹھہرایا ، اور جس چیز کے تعلق سے اس نے خاموشی اختیار کی ہے سو وہ ان چیزوں میں سے ہے جو اس نے تمہارے لئے معاف رکھی ہیں . ( ابن ماجہ ترمذی ، اور کہا! یہ حدیث غریب ہے ہم اس کو اس وجہ کے علاوہ ( وجہ ) سے نہیں جانتے ، اور حاکم نے بھی اس حدیث کو بطور شاہد روایت کیا ہے )

سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا! ” إن أعظم المسلمین فی المسلمین جُرْما ، من سأل عن شیئ لم یُحَرَّمْ علی الناس فَحُرِّمَ من أجل مسألته “. بیشک مسلمانوں میں مسلمانوں کا عظیم ترین جرم یہ ہے کہ کوئی ایسی چیز کے متعلق سوال کرے جو لوگوں پر حرام نہ رہی ہو وہ اس کے سوال کرنے کی وجہ سے حرام کردی گئی .

سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما! ” ما أحل الله فی کتابه فھو حلال ، وما حرم فھو حرام ، وماسکت عنه فھو عفو ، فاقبَلُوا من الله عافیتَه، فإن الله لم یکن لِيَنْسَى “. اللہ نے اپنی کتاب میں جو حلال کیا وہ حلال ہے ، اور جو حرام کیا وہ حرام ہے ، اور جس سے خاموشی اختیار کی ہے سو وہ معاف ہے ، سو تم اللہ سے اس کی عافیت کے قریب ہوجاؤ ، پس بیشک اللہ کوئی چیز بھولنے والا نہیں ہے . اور آپ ( صلی اللہ علیہ وسلم ) نے یہ آیت کریمہ تلاوت فرمائی ” وماکان ربكَ نَسِيًّا ” اور تیرا رب بھولنے والا نہیں ہے . ( بزار ، اور کہا کہ اس کی سند صحیح ہے ، اور حاکم ، انھوں نے اس حدیث کو صحیح قرار دیا ہے )

بلاد اسلامیہ سے خارج ممالک سے آنے والا فریزر کا گوشت دو شرطوں کے ساتھ حلال ہوتا ہے .

گوشت وہ ہو جس کو اللہ تعالیٰ نے حلال ٹہرایا ہے اور شرعی لحاظ سے اس کو ذبح کیا گیا ہو . اگر گوشت میں یہ دو شرطیں نہ پائی جاتی ہوں اس طرح کہ گوشت حرام ہو ، جیسے سور کا ، یا جانور کو غیر شرعی طریقہ سے ذبح کیا ہو ، تو اس صورت میں اس گوشت کو کھانا حلال نہیں ہوگا .

فقہائے کرام نے اس سے پہلے ان جیسے مسائل میں فتوی دیا ہے ، کتب شافعیہ کی خطیب شربینی کی کتاب ” الإقناع ” میں آیا ہے کہ ” اگر کسی کتابی یا فاسق نے مثلا یہ بات بتائی کہ اس نے مثلا اس بکری کو ذبح کیا ہے ، تو اس کو کھانا جائز ہے ، اس لئے کہ وہ اہل ذبح میں سے ہے ، پس اگر شہر میں مجوسی اور مسلمان ہوں اور حیوان کو ذبح کرنے والا معلوم نہ ہو کہ اَیا وہ مسلمان ہے کہ مجوسی؟ تو حلال حیوان کے ذبح کرنے میں شک پائے جانے کی وجہ سے وہ حیوان حلال نہیں ہوگا ، اور اصل میں ذبح کا ( شرعی طریقہ سے ) نہ ہونا ہے . البتہ اگر مسلمان وہاں غالب ہوں ، جیسا کہ اسلامی ممالک میں ، تو سزاوار ہوتا ہے کہ حلال ہو ، اور مجوسی کے معنی میں وہ تمام لوگ آئیں گے جن کا ذبیحہ حلال نہیں ہوتا ہے “. ( ماخوذ من” فقہ السنہ ” للسید سابق ، ج/3 ، ص/186 ، 187 ) لیکن کوئی اس بات سے غافل نہ رہے کہ موجودہ دور کے ذبیحہ میں نوے فیصد شک ہے ، کیونکہ بھارت کی بہت ساری کمپنیاں مسلمانوں کا نام رکھ کر گایوں وغیرہ کا گوشت اسلامی ممالک میں برآمد کرتی ہیں جن کے صحیح اور شرعی حیثیت سے ذبح ہونے میں پورا شک ہی شک ہے .

ہم نے بہت ساری یوروپ اور ایشیاء وغیرہ کی ویڈیوز دیکھیں ہیں جن میں زندہ بکروں کو کھال کے ساتھ بغیر ذبح کئے کے ڈالا جاتا ہے اور مشین سے گوشت اور خیمہ بن کر نکلتا ہے ، اسی طرح گایوں وغیرہ کو جس طرح چاہے مار دیا جاتا ہے ، اور بہت سارے ممالک میں تو کرنٹ کے ذریعہ مشین کے توسط سے لوہے جیسی کوئی سلاخ اوپر سے ٹھونک دی جاتی ہے اور جانور سکینڈوں میں ہلاک ہو جاتا ہے . لہذا تمام مسلمانوں سے التماس ہے کہ ایسی چیزوں کو وہ دیکھ بھال کر استعمال کریں

10/شوال المکرم 1441 ھ ، مطابق 2/جون 2020 ء .

--Advertisement--

اظہارخیال کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here