تعزیت نامہ بعنوان آہ! میر کارواں چل دئے

0
1397

از : مولانا محمد زبیر ندوی شیروری

تعزیت نامہ بر وفات جناب مرحوم محمد صاحب بن محمد علی بھومبا ، ساکن کیسرکوڈی شیرور

وَلِــكُـلِّ أُمَّــةٍ أَجَـــلٌ ۖ فَـــإِذَا جَاءَ أَجَلُهُـمْ لَايَسْتَأْخِرُونَ سَاعَةً ۖ وَلَا يَسْتَقْدِمُوْنَ ( سورۃ الاعراف )

خالق کائنات کے اختیارات میں کسی کو دَخل نہیں ، پوری کائنات خواہ وہ چرند ہو یا پرند ، انس ہو یا جن اسی کے قبضئہ قدرت میں ہے . جس نے جہانِ کُل کو پورے التزام و انصرام کے ساتھ چلایا ہے اور چلا رہا ہے . اس کے ہر کام میں ضرور کوئی حکمت پنہاں ہوتی ہے . وہ جب چاہے اپنی تخلیقات کو وجود بخشتا ہے اور جب چاہے ختم کر دیتا یے ، وہی جلاتا اور موت دیتا یے .

قدرت کا دستور ہے کہ انسان کے لئے آنے کی ترتیب ضرور ہے مگر جانے کی کوئی ترتیب نہیں ہوتی اس لئے کہ موت کا کوئی بھروسہ نہیں کہ وہ کب کس کو دنیا سے مفارقت اختیار کرنے پر مجبور کر دے . اور اس دنیائے فانی میں کسی کو موت سے مفر نہیں . قدرت کے قانون کے آگے کوئی بھی طاقت و قوت سود مند نہیں ہے کیونکہ وہ رب کائنات کی طرف سے ہوتا ہے . قرآن کا فرمان ہے ” کل من علیھا فإن ” یعنی ہر چیز کو فنا ہے .

آدم علیہ السلام سے لیکر اب تک اس دار فانی میں انسانوں کی آمد و رفت کا سلسلہ جاری ہے . روز افزوں ہزاروں کی تعداد میں لوگ آ رہے ہیں اور جا رہے ہیں . جن کا احصاء محال ہے اور یہ سلسلہ إن شاء الله تا قیامت جاری رہے گا . لیکن ان میں میں بہت ہی کم لوگ ایسے ہوتے ہیں جو اپنے بعد اپنے انمٹ نقوش بھی چھوڑ جاتے ہوں اور اپنی وفات کے بعد بھی لوگوں کے دلوں مین زندہ رہتے ہوں اور ان کی یادیں اور باتیں ان کے سینوں میں محفوظ رہتی ہوں . ان ہی چند شخصیات میں شیرور کی ایک دیندار مخلص اور نیک سیرت ہستی محترم جناب محمد صاحب بھومبا کیسرکوڈی شیرور کی بھی ہے .جس نے اپنے پیچھے اپنی یادوں اور اپنے نیک اعمال کے تابندہ نقوش چھوڑ کر اپنی عمر مستعار کو رب کے حوالہ کر کے بہتوں کو محزون و آب دیدہ کردیا ہے .

میری ملاقاتیں ان سے معدود چند ہی ہیں مگر وقتا فوقتا آپ سے مل کر کچھ انسیت ضرور حاصل ہوئی ہے ، مرحوم میرے اہلیہ کے قریبی رشتہ داروں میں سے ایک تھے اور انہی کے گھرانہ کے خاص رشتہ داروں میں شیرور کے مشہور شاعر جناب شہور محمد علی صاحب بھومبا بھی میرے خاص ساتھی ہیں . ان سے میرے خاص تعلقات ہیں . جس کے باعث مجھے مرحوم سے کچھ انسیت ضرور حاصل ہوئی ہے .

اللہ نے مرحوم کو سات اولاد کی نعمتوں سے نوازا تھا جن میں چار بیٹے اور تین بیٹیاں تھیں . آپ نے اپنی اہلیہ سمیت اپنے اہل وعیال کو اپنی تمام تر مسئولیات کے باوجود ایک بہترین و مشفق باپ کی طرح پالا پوسا . فی الحال آپ کے دو بیٹے بیرون ملک اور دو بیٹے وجے واڑہ آندھرا پردیش انڈیا میں کسب معاش کے غرض سے مقیم ہیں . مرحوم کی دو بیٹیاں شادی شدہ ہیں اور تیسری اور آخری بیٹی کا رشتہ بھی ہو چکا تھا .

آپ نے اپنی اولاد کی تربییت میں کوئی کسر نہ چھوڑی . بیٹوں کو دینی تعلیم و تربیت کے ساتھ عصری تعلیم سے بھی آراستہ کیا اور تین بیٹیوں میں سے سب سے بڑی کو حافظہ و عالمہ بقیہ دونوں کو عالمہ بنایا تھا . مرحوم اولاد کی تعلیم و تربیت کے لئے ہمیشہ متفکر رہتے اسی کا نتیجہ ہے کہ آج بھی ان کا گھر دینی تعلیم سے منور ہے .

مرحوم عبادت گذار تھے اور اہل خانہ کو بھی اس کی تعلیم دیتے . لوگوں سے مسکرا کر ملتے ، مسجد میں اذان سے قبل ہی پہونچتے اور نماز کے انتظار میں رہتے . علماء اور عوام الناس سے محبت سے ملتے . چہرہ پر ہمیشہ مسکراہٹ رہتی . ہمہ وقت گھر سے باوضو نکلتے ، ذکر و اذکار کے عادی تھے . میٹھی زبان اور دھیمی آواز میں بولتے . بات کرنے کا لہجہ دلوں کو چھو لیتا تھا . ہر ملنے والے سے الفت و محبت رکھتے تھے . آپ ہر دل عزیز تھے . علماء کرام سے آپ کو بہت الفت و محبت تھی ، چہرہ پر ہمہ وقت مسکراہٹ چھائی رہتی . ہر ملنے والے سے خندہ پیشانی سے ملتے . بوڑھاپے کی عمر میں بھی آپ جوانوں کی طرح مسجد پیدل جاتے کیوں کہ آپ کو عبادت کا شوق تھا ، لہذا اللہ نے آپ کی عمر میں برکت عطا فرمائی تھی . آپ کو تکبر پسند نہ تھا لہذا آپ بڑے متواضع ، ملنسار اور خوش مزاج تھے. ان کی ان ہی خصوصیات کی وجہ سے لوگوں کی زبانیں ان کی تعریف میں رطب اللسان ہیں .

مگر صد افسوس کہ یہ ستارہ اب ہمیشہ کے لئے بجھ گیا . آپ نے جتنی بھی عمر پائی ہے اس میں آخرت کی تیاری کے لئے اعمال صالحہ کرنے کی حتی المقدور کوشش کی ہے ، انشاء اللہ یقینا وہ آپ کے رفع درجات کا سبب بنے گی .

آپ کے جنازے کی نماز مسجد سلمان کیسرکوڈی شیرور میں بعد نماز ظہر متصلا ادا کی گئی . ماشاء اللہ مسجد عوام الناس سے کھچا کھچ بھری ہوئی تھی . اور لوگوں کا ہجوم دیکھنے کے قابل تھا .تدفین کے وقت بارش تیز ہواؤں کے ساتھ چل رہی تھی ، پھر بھی ماشاء اللہ لوگوں کی تعداد کثیر تھی . لوگوں نے تدفین کی اور میت کو مغفرت کی دعاؤں کے ساتھ سپرد خاک کیا .

اس افسوس و غم کے موقعہ پر اللہ سے دعا ہے کہ وہ مرحوم کی جملہ مساعی جمیلہ کو قبول فرمائے . آپ کے سیئات کو حسنات سے مبدل فرمائے . جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور آپ کی قبر کو نور سے بھر دے . آمین .

آسماں تیری لحد پر شبنم آفشانی کرے
سبزہ نورستہ اس گھر کی نگہبانی کرے

مؤرخہ 21/محرم الحرام 1442ھ مطابق 10/ستمبر 2020 ء بروز جمعرات

--Advertisement--

اظہارخیال کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here