تعلیمی فراغت کے موقعہ پر فردوس نگر،تینگن گنڈی،بھٹکل کے ایک طالبِ علم کے تاثرات

0
2154

بسم اللہ الرحمان الرحیم

الحمد للہ رب العالمین والصلاۃ والسلام علی رسولہ الکریم وعلی الہ واصحابہ اجمعین ومن تبعھم باحسان الی یوم الدین۔

: اما بعد

فاعوذ باللہ من الشیطان الرجیم۔ بسم اللہ الرحمان الرحیم۔ انما یخشی اللہ من عبادہ العلماء۔

وقال النبی صلی اللہ علیہ و سلم ان العلماء ورثۃ الانبیاء۔

محترم صدرِ جلسہ ، اساتذہِ کرام ، طلباءِ جامعہ اور میرے عزیز رفقاء

السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ

آج کی اس بابرکت اور پر رونق محفل میں،میں اپنی تعلیمی روداد پیش کرنے کے لئے آپ حضرات کے سامنے کھڑا ہوں لیکن وقت اس بات کی اجازت نہیں دے رہا ہے کہ میں اپنی تعلیمی رودادتفصیل سے بیان کروں لہذامیں اپنے تاثرات کوسمیٹتے ہوئےمختصرًا  آپ کے سامنے پیش کرنے کی کوشش کروں گا۔

حضرات : اس موقعہ پرمیں سب سے پہلے اس ذاتِ باری تعالی کا شکر بجا لاتا ہوں جس نے مجھےعلماء کی صف میں شامل فرمایا۔

معزز سامعین کرام : جب میں نے اپنی عمر کے چار سال مکمل کر لئے تو میرے والدین نے میرا داخلہ اردو ہائر پرائمری اردو اسکول حنیف آباد بھٹکل میں کیا۔ لیکن مجھے وہاں کا ماحول راس نہیں آ رہا تھا میں مختلف بہانوں سے اسکول سے نکل جاتا اور گھرآ کر دوبارہ نہ جانے کی ضد کرتا رہتا  تو اسی بنا پر میرا داخلہ انجمن ہائر پرائمری اسکول آزاد نگر بھٹکل  میں کرانے کی کوشش کی گئی لیکن وہاں داخلہ ممکن  نہیں ہو سکا  پھر میرے والدین کے ذہنوں میں یہ بات آئی کہ اپنے لختِ جگر کو دینی تعلیم سے آراستہ کیا جائے ۔ لہذا انھوں نے میرا داخلہ مدرسہ ابو ذر،بھٹکل میں کیا جہاں پروہ پہلے ہی سے مدرس کے فرائض انجام دے رہے تھے۔ میں نے اپنے والد کی سرپرستی میں ہی اپنے تعلیمی سفر کا آغاز کیا ۔جب میں نے وہاں سوم مکتب کی تعلیم مکمل کی تو چہارم مکتب کی تعلیم کے لئے مدرسہ عربیہ تعلیم القرآن تینگن گنڈی میں میرا داخلہ کرایا گیا جہاں میں نے مولانا محمد سعود ندوی کی سرپرستی میس اپنی تعلیم جاری رکھی وہاں سے فراغت حاصل کرنے کے بعد اعلی تعلیم حاصل کرنے کے لئے جامعہ اسلامیہ بھٹکل میں میرا داخلہ کرایا گیا دوران تعلیم شیطانی وساوسات میرے ذہن کو منتشر کرنے لگے لیکن مشفق اساتذہ کی نصیحتیں اور مہربان والدین کی دعائیں مجھے تعلیم مکمل کرنے پرآمادہ کرتی رہیں ۔انہی کی دعاؤں اور نصیحتوں کی بدولت میں آج آپ کے سامنے کھڑا ہوں اورعلماء کی فہرست میں شامل کیا جارہا ہوں۔ وللہ الحمد والشکر۔

اس تعلیمی دور میں ایک بڑا صدمہ جامعہ اور اہل جامعہ کو لاحق ہوا۔وہ صدمہ مولانا عبد الباری ندوی کی رحلت تھی ۔آج اس بزم میں مجھے ان کی یاد ستا رہی ہے۔ مولانا بڑے ہی محبت کرنے والےمشفق استاد تھے کبھی سخت جملہ کہہ کرطالب علم کو اپنے سے مایوس یا دور نہ کرتے  جی تو چاہتا ہے کہ مولانا کو اس محفل میں یاد کروں اور ان کی صفات  کو بیان کروں لیکن وقت اس کی اجازت نہیں دیتا۔ لہذا میں اللہ سے دعا کرتا ہوں کہ اللہ آپ کی ہرآن مغفرت فرمائے اور جنت الفردوس میں اعلی سے اعلی مقام عطا فرمائے۔ آمین ۔

اخیرمیں،میں ان تمام اساتذہ کا شکریہ ادا کرتا ہوں جنھوں نے میرے دل میں علم  الہی بھر دیا اوراپنی قیمتی نصیحتوں سے مجھے نوازا  ۔اور ساتھ ساتھ ان تمام ساتھیوں کا شکر گذار ہوں جنھوں نے ہر موڑپر میری رہنمائی فرمائی اور ہر مشکل گھڑی میں میرا ساتھ دیا ۔اور میں اپنے والدین کا بھی شکر گزار ہوں جنھوں نے میرے لئے دینی علم کو دنیوی علم پر ترجیح دی  اور ہر وقت میری تربیت کرتے رہے ۔جزاکم اللہ خیرًا ۔ چلتے چلتے پھر ایک مرتبہ میں اپنے تمام  اساتذہ،رفقاءاور والدین سے معافی کا طالب ہوں  کہ اگر میری ذات سے آپ کے دلوں کو ٹھیس پہونچی ہو یا میری حرکتوں سے ناراضگی ہوئی ہو تو مجھے معاف فرماتے ہوئے  اپنے دامن عفو میں جگہ دیں۔اب میں اپنے مادر علمی کے لئے دعا کرتے ہوئے آپ سے رخصت ہو رہا ہوں۔

اللہ سے دعا ہے کہ وہ  اس جامعہ کو تا قیامت آباد رکھے،اس سے دین ودنیا کا کام لے، نظربد سے بچائے اور دشمنان اسلام سے اسکی حفاظت فرمائے۔ آمین۔

واخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین۔

--Advertisement--

اظہارخیال کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here