تحویلِ قبلہ کا بیان

0
2022

از : مولانا عبدالقادر فیضان بن إسماعيل باقوی ، جامعہ آباد ، تینگن گنڈی ، امام و خطیب جامع مسجد محمد عشیر علی سلیمان المزروعی ، ابو ظبی ، متحدہ عرب امارات .

ألحمدلله ، والصلوة والسلام علی رسول الله ، وعلی من والاہ .

تغییرِ قبلہ کی آیت کریمہ نماز ظہر میں دو رکعتیں ادا کی جانے کے بعد مسجد سلمہ میں جو مسجد قبلتین سے مشہور ہے ، مدینہ منورہ میں نازل ہوئی .

تحویل قبلہ کے بعد کامل ( پوری ) نماز نمازِ عصر ادا کی گئی .

بیت المقدس سے بیت الحرام کی طرف قبلہ کو تحویل ( تبدیل ) کئے جانے کا واقعہ اسلام میں ایک عظیم واقعہ ہے جس کا تذکرہ قرآن کریم ، سنت مطہرہ اور سِیَر کی کتابوں میں قدرے تفصیل کے ساتھ درج ہے .

مسلمانوں کا پہلا قبلہ خانہ کعبہ ہی تھا ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ( ہجرت کے ابتدائی ایام میں ) بیت المقدس کی طرف رخ کرکے نماز پڑھنے کا حکم دیا گیا ، آپ علیہ الصلوۃ والسلام اور صحابہ کرام نے سولہ یا سترہ ماہ بیت المقدس کی طرف رخ کرکے نمازیں ادا کیں ، اس دوران آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی برابر یہ تمنا رہی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا قبلہ ( دوبارہ ) ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام کا قبلہ خانہ کعبہ ہو ، اس کے لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے دونوں ( مبارک ) ہاتھوں کو اٹھا کر اللہ عزوجل کی بے انتہا عطا کرنے والی بارگاہ میں دعا تضرع اور ابتہال فرماتے اور بار بار آسمان کی طرف نگاہ اٹھا کر دیکھتے رہے ، اللہ عزوجل نے آپ کی اشتیاق بھری نظروں کو بار بار سوئے سماء اٹھانے کی منظر کشی یوں کی ہے ” قَدْ نَرَى تَقَّلُّبَ وَجْهِكَ فِي السَّمَاءِ فّلَنُوَلِّيَنَّكَ قِبْلَةً تَرْضَاهَا ، فَوَلِّ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَام ، وَحَيْثُ مَاكُنْتُمْ فَوَلُّوْا وُجُوْهَكُمْ شَطْرَهُ “. یقینا ہم تیرا چہرہ ( منہ ) آسمان کی طرف بار بار اٹھنا دیکھ رہے ہیں ، سو ہم تجھے تیری مرضی کے قبلہ کی طرف پلٹاتے ہیں ، پس تو اپنے چہرہ کو مسجد حرام کی جانب پلٹا ، اور جہاں کہیں تم ہوں ( رہو وہاں ) اپنے چہروں کو اس کی طرف پھیرو . ( سورۂ بقرہ/144 )

جب اللہ جل ذکرہ نے تحویل قبلہ کا حکم نازل فرمایا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بوقتِ ظہر خطبہ دے کر مسلمانوں کو یہ بات بتائی ، جیساکہ ابو سعید معلی سے روایت کردہ نسائی کی حدیث میں آیا ہے ۔

تحویل قبلہ کے ساتھ مسلمانوں کا اپنی اپنی جگہوں کو تبدیل کرنا

امیر المؤمنین فی الحدیث علامہ ابن حجر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ تحول ( ایک جگہ سے دوسری جگہ کی طرف جانے ) کی کیفیت کے بیان کا واقعہ حضرت سویلہ بنت اسلم رضی اللہ عنہا کی حدیث میں واقع ہے جس کو ابو حاتم نے روایت کیا ہے ، اس حدیث میں آپ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ عورتیں مردوں کی جگہ میں آئیں اور مرد عورتوں کی جگہ میں ، پھر ہم نے باقی دو سجدے ( رکعتیں ) مسجد حرام کی طرف رخ کرکے اداکیں .

حافظ علامہ ابن حجر اس کی صورت بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ امام مسجد کے اگلے حصہ سے نکل کر پچھلے حصہ کی طرف آیا ، اس لئے کہ جو شخص کعبہ کی طرف رخ کرکے نماز پڑھتا ہو اس کی پُشت بیت المقدس کی طرف ہوتی ہے ، امام اگر اپنی جگہ میں رہتے ہوئے ہی گھومتا تو اسکے پیچھے لوگوں کو صف بنانے کی جگہ نہیں رہتی،اور جب امام اپنی جگہ سے ہٹا تو مرد اپنی جگہ سے ہٹ کر امام کے پیچھے ہوگئے ، اور عورتیں ( اپنی جگہ سے نکل کر ) مردوں کے پیچھے ہوگئیں. ،لیکن ایسی صورت میں حالت نماز میں عمل کثیر کا صدرور ہوتا ، ( کہ جس سے نماز باطل ہوتی ہے ، ایسے میں اس کا جواب کیا ہے ؟ )

کہتے ہیں کہ تب اس بات کا احتمال ہے کہ یہ واقعہ نماز میں عملِ کثیر پر باطل ہونے کی حرمت آنے سے قبل ہو ، جیسا کہ یہ واقعہ نماز میں بات کرنا حرام ہونے سے قبل والا ہے ، ( ایسے میں کوئی اعتراض نہیں ) اور اس بات کا بھی احتمال ہے کہ مصلحت کی بنا پر مذکورہ عمل کثیر کو معاف کیا گیا ہو ، یا لوگوں نے جگہ بدلتے وقت مسلسل قدم نہیں ڈالے ہوں ، بلکہ الگ الگ . ( یعنی ایک قدم چلنے کے بعد تھوڑی دیر کے لئے رکے ہوں ، پھر دوسرا قدم ڈالے ہوں ، پھر تیسرا ، ایسے میں مصلی سے لگاتار حرکات ثلاثہ کا صدور نہیں ہوگا ، اور نماز نہیں ٹوٹےگی ) واللہ اعلم ، ( فتح الباری ) ، مراجع کتب : ابن کثیر کی ” البدایہ والنھایہ ” ابن حجر کی ” فتح الباری ” اور شرح مسلم .

دوسری قسط

علی بن برھان الدین حلبی رحمہ اللہ اپنی کتاب ” سیرةالحلبیہ ” میں رقمطراز ہیں کہ قبلہ کی تحویل ماہِ رجب سنہ ہجری ” دو ” میں عمل میں آئی ، ایک قول میں ” نصف شعبان ” میں ، اور اسی قول پر جمہور اعظم ( زیادہ علماء ) ہیں ، اور ایک قول میں جمادی الآخرہ میں ،

کہا گیا کہ ( ہجرت کے بعد ) مدینہ منورہ میں سولہ ماہ ، ایک قول میں سترہ ، اور ایک قول میں چوبیس ماہ تک بیت المقدس ( کی صخرہ چٹان ) کی طرف رخ کر کے نماز ادا کی گئی ، ایک اور قول میں ان کے علاوہ بھی اقوال ہیں ، ( لیکن چوبیس ماہ اور دوسرے اقوال ضعیف ہیں )

یہ بات گزرچکی کہ آپ علیہ الصلوۃ والسلام نے بیت المقدس کی طرف پندرہ ماہ تک رخ کرکے نماز ادا کرنے کے بعد ( یہ حلبی کے الفاظ ہیں ، ورنہ صحیح قول کے مطابق سولہ یا سترہ ماہ تک بیت المقدس کی طرف رخ کرکے نماز پڑھی ہے ) اپنی مسجد ( نبوی ) میں کعبہ کی طرف رخ کرکے کامل نماز ادا فرمائی .

تحویل قبلہ کا حکم کس نماز میں ہوا ؟

اکثر علمائے عظام اس بات پر ہیں کہ تحویل قبلہ نماز ظہر میں ہوئی ، ( یعنی ظہر کی دو رکعتیں ادا کرنے کے بعد ) اور ایک قول میں نماز عصر میں ، یعنی تحویل قبلہ کے بعد جو مکمل نماز کعبہ شریفہ کی طرف رخ کر کے ادا کی گئی وہ عصر ہے ،
بخاری ومسلم نے حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے نقل کیا ہے کہ ” رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کعبہ کی طرف رخ کرکے اداکردہ پہلی نماز ، نمازِعصر ہے “.

کہا جاتا ہے کہ ان دونوں قول کے درمیان کوئی تضاد نہیں ، یہ بات جائز ہونے کی وجہ سے کہ اس سے مراد کعبہ کی طرف رخ کرکے جو کامل نماز ادا کی گئی ہو ، وہ نماز عصر ہی ہو ، اس لئے کہ نماز ظہر کی آدھی نماز بیت المقدس کی طرف اور ( بعد والی ) آدھی نماز کعبہ کی طرف رخ کرکے ادا کی گئی تھی ، پھر میں نے ابن حجر ( کی تحریر ) کو دیکھا کہ انھوں نے ایسا ہی کہا ہے ، جہاں انھوں نے کہا کہ تحقیق یہی ہے کہ مسجد نبوی میں پہلی اداکردہ نماز نماز عصر ہی ہے ، یا یہ کہ تحویل قبلہ عصر میں انصار ( جو بنو حارثہ ہیں ) کی ایک دوسری جگہ میں ہوئی تھی ، ایک اور قول میں نماز صبح میں ، لیکن اس قول کو ( مسجد ) قُبا پر محمول کیا جائے گا ، اس لئے کہ اہلیانِ قبا کو اس کی خبر اسی ( صبح کے ) وقت حاصل ہوئی تھی ، جیسا کہ آئے گا .

تبدیلِ قبلہ کی آخر وجہ کیا تھی ؟

اس کی وجہ یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ بات پسند فرماتے تھے کہ آپ کا قبلہ ” کعبہ ” ہو ، خصوصاً اس وقت جب یہود کی یہ بات آپ صلی اللہ علیہ وسلم تک پہونچی کہ محمد ( آپ پر اللہ تعالیٰ کی صلوات وتسلیمات ہوں ) ہماری مخالفت کرتے ہیں اور ہمارے قبلہ کی اتباع کرتے ہیں ، ان ( اللہ کی لعنت ان پر ہو ) کے الفاظ یہ ہیں کہ انھوں نے مسلمانوں سے کہا کہ اگر ہم ہدایت پر نہ ہوتے تو تم ہمارے قبلہ کی طرف رخ کرکے نماز نہیں پڑھتے ، تم اس میں ہماری اتباع کرتے ہو . اور اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ” رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ابراہیم واسماعیل علیھما الصلوت والتسلیم کی موافقت کی محبت میں اور یہود ( کے قبلہ ) کی موافقت اور کفارِ قریش کا مسلمانوں کو طعنہ دینے کو ناپسند کرتے ہوئے کہ تم ابراہیم کے قبلہ کو چھوڑ کر یہود کے قبلہ کی طرف رخ کرکے نماز پڑھتے ہو ، پھر یہ کیوں کہتے ہو کہ ہم ابراہیم کے دین پر ہیں ؟ یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سخت معلوم ہوئی اور جبرئیل امین علیہ الصلوۃ والسلام کو سنائی تو انھوں نے کہا میں اس سلسلہ میں کچھ نہیں کرسکتا ، آپ اللہ ( سبحانہ و تعالیٰ ) سے دعا فرمائیے ، حدیث طویل ہے ، تو اس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شدید خواہش پر قبلہ کی تحویل کی گئی اور اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے آیت کریمہ نازل فرمانے کے ذریعہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کعبہ کی طرف منہ کر کے نماز ادا کرنے کا حکم دیا .

تیسری اور آخری قسط

مسجد قبلتین کی توجیہ

مسجد بنی سلمہ کو ” مسجد قبلتین ” کہنے کی وجہ یہ ہے کہ اس مسجد میں ایک ہی نماز کو ایک ساتھ دونوں قبلوں کی طرف منہ کر کے نماز ادا کی گئی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز ظہر پڑھارہے تھے کہ جبرئیل امین علیہ الصلوۃ والسلام حکمِ تحویلِ قبلہ لے کر بارگاہِ رسالت مآب میں تشریف لے آئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی حالت میں کعبہ کی طرف استقبال کر کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کو نماز پڑھائی ، پھر حضرت عباد بن بشر رضی اللہ عنہ جو رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں نماز ظہر ادا کرچکے تھے نکل گئے اور ان کا گذر انصار کی ایک قوم ( قبیلہ ) پر سے اس حال میں ہوا کہ وہ نماز عصر میں حالتِ رکوع میں تھے ، کہنے لگے میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ میں نے گھر یعنی کعبہ کی طرف رخ کر کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز ادا کی ہے ، پھر یہ بات اہل قبا کو دوسرے دن کی نماز صبح میں اس وقت پہونچی جب وہ ایک رکعت ادا کرکے ( دوسری رکعت کے ) رکوع میں تھے ، تب ایک آواز لگانے والے نے منادی کردی ، سنو !قبلہ کو کعبہ کی طرف تحویل کیا گیا ہے ، سو وہ اس کی طرف گھومے .

یہود کا مسلمانوں کے خلاف حسد

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے منقول ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل کتاب ( یہود ) کے تعلق سے فرمایا! ” وہ ہم پر اس حد تک کسی چیز میں حسد نہیں کرتے جس حد تک ہم پر یوم جمعہ کی وجہ سے کرتے ہیں کہ جس کو اللہ نے ہمارے لئے ہدایت بنایا اور وہ اس سے گمراہ ہوئے ، ( یہ جہنمی یہود جمعہ مبارکہ کو ” بلیک فرائدے کہتے ہیں ، اللہ کی لعنت ان پر ہو ) اور اس قبلہ پر جس کو اللہ ( جل مجدہ ) نے ہمارے لئے ہدایت اور ان کے لئے گمراہی ( کا سامان ) بنایا ، اور ہمارا امام کے پیچھے آمین کہنے پر “. ( اس حدیث کو امام احمد نے اپنی مسند ج/6 ، ص/134 ، 135 میں روایت کیا ہے )

قرآن میں سب سے پہلاحکمِ منسوخ قبلہ ہی کا ہے

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنھما کہتے ہیں کہ ” قرآن کا جو حکم پہلے منسوخ ہوا وہ قبلہ ہے “. ( نسائی ) اسی وجہ سے اللہ جل ذکرہ نے اس کو قرآن مجید میں تاکیدًا اور تقریرًا تین مرتبہ کہا ” فَوَلِّ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَام ، وَحَيْثُ مَاكُنْتٌمْ فَوَلُّوْا وُجُوْهَكُمْ شَطْرَۃ “. پس تو اپنے چہرہ کو مسجد حرام کی طرف پھیر ، ( گھما ) اور جہاں کہیں ( بھی ) تم ہوں تو اپنے چہروں کو مسجد حرام کی طرف گھماؤ . ( سورۃ البقرۃ/144 ) دوسری مرتبہ اپنے اس قول کے ذریعہ ” وَمِنْ حَیْثُ خَرَجْتَ فَوَلِّ وَجْھَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ ، وَاِنَّهٗ لَلْحَقُّ مِنْ رَّبِّكَ ، وَمَا اللّٰهُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُوْنَ “. اور جہاں سے تو نکلے وہاں سے اپنے چہرہ کو مسجد حرام کی طرف پلٹا ، اور بیشک تیرے رب کی جانب سے یہ حق ہے ، اور جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اس سے غافل نہیں ہے . ( سورۃ البقرہ/149 ) اور تیسری مرتبہ یہ آیت کریمہ نازل فرمائی ” وَمِنْ حَیْثُ خَرَجْتَ فَوَلِّ وَجْھَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ ، وَحَیْثُ مَاکُنْتُمْ فَوَلُّوْا وُجُوْھَکُمْ شَطْرَہٗ لِئَلَّا یَکُوْنَ لِلنَّاسِ عَلَیْکُمْ حُجَّةٌ إِلَّا الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مِنْھُمْ “. اور جہاں کہیں سے بھی تو نکلے تو اپنے چہرہ کو مسجد حرام کی طرف پلٹالے ، اور جہاں کہیں بھی تم ( لوگ ) ہوں تو اپنے چہروں کو اس کی جانب پلٹاؤ ، تاکہ لوگوں کے لئے ( پاس ) تمہارے خلاف کوئی دلیل نہ رہے ، بجز ان میں سے ظالموں کے . ( سورۃ البقرۃ/150 )

--Advertisement--

اظہارخیال کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here