بسم اللہ اسپورٹس سینٹر تینگن گنڈی کی طرف سے منعقدہ سن 2018 ء کے سیرت النبی کے جلسہ کی تفصیلی تاریخی و دستاویزی رپورٹ

0
1368

محض اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم اور بسم اللہ اسپورٹس سینٹر کے عہدیداران واراکین کے دینی جذبہ اور حضور صلی اللہ علیہ و سلم سے محبت کے نتیجہ میں بسم اللہ اسپورٹس سینٹر تینگن گنڈی نے مؤرخہ 28/ربیع الاول 1440ھ مطابق 6/دسمبر 2018 ء بروز جمعرات بعد نماز عشاء بمقام جامع مسجد تینگن گنڈی جعفری بن علی بنگالی صدر بسم اللہ اسپورٹس سینٹر تینگن گنڈی کی زیرصدارت اور مہمان خصوصی مولانا مقبول احمد ندوی مدظلہ العالی مہتمم جامعہ اسلامیہ بھٹکل کی شمولیت میں ایک اہم دینی پروگرام سیرت النبی صلی اللہ علیہ و سلم کے عنوان پر منعقد کیا .

پروگرام کا آغاز ٹھیک نو بجکر پانچ (09:05) منٹ پر عاطف بن حسین بنگالی کی تلاوت اور فائز بن ابراہیم کلپتی کی نعت پاک سے مولوی طلحہ بن محمد علی علاؤہ کی نظامت میں ہوا .

بعد ازاں صدر جلسہ سمیت درج ذیل مہمانوں کو اسٹیج پر مدعو کیا گیا .
محترم جناب حافظ عبدالقادر صاحب ڈانگی ناظم مدرسہ عربیہ تعلیم القرآن تینگن گنڈی
محترم جناب مولانا محمد سعود بنگالی مہتمم مدرسہ عربیہ تعلیم القرآن تینگن گنڈی
محترم جناب مولانا اسحاق ڈانگی. نائب مہتمم مدرسہ عربیہ تعلیم القرآن تینگن گنڈی
محترم جناب علی آدم صاحب ابو نائب صدر ہیبلے گرام پنچایت
محترم جناب مولانا اسماعیل ڈانگی امام و خطیب جامع مسجد سیدنا ابراہیم جامعہ آباد
محترم جناب قبال احمد بنگالی سکریٹری مرکزی جماعت المسلمین تینگن گنڈی

اس پروگرام کی ایک اہم خصوصیت یہ تھی کہ ہر مقرر کی تقریر سے قبل اور بعد میں سیرت النبی کی مناسبت سے نعتیں پیش کی گئیں تاکہ سامعین ہشاش بشاش پروگرام سماعت فرماتے رہیں .

مقامی اہم شخصیات کو اسٹیج پر مدعو کرنے کے بعد سب سے پہلے مولانا اسحاق ڈانگی کو تقریر کے لئے مدعو کیا گیا تو موصوف نے سب سے پہلے بسم اللہ اسپورٹس سینٹر کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ آپ کی سیرت پوری دنیا کی انسانیت کے لئے بہترین اسوہ ہے لہذا آپ کی اتباع میں ہی ہماری دنیا وآخرت کی کامیابی ہے . کیونکہ آپ کی اتباع اصلاً اللہ تعالیٰ ہی کی اتباع ہے اور جنت کے دخول کا سبب ہے اسکے بعد آپ کی بعثت کو پوری دنیا کی انسانیت کے لئے ایک عظیم نعمت قرار دیتے ہوئے انکے پیغام کو عام کرنے پر زور دیا اور انکی امت میں ہونے کے ناطہ انکی سیرت کی تبلیغ کے بغیر اپنے ذاتی اعمال پر مطمئن ہونے کو غیر مستحسن قرار دیا اسی طرح حالیہ حالات کے تناظر میں آپ کے اخلاق کا عملی نمونہ دنیا کے سامنے پیش کرنے پر زور دیتے ہوئے آپ کی سیرت کی موجودگی میں غیر اقوام کی تقلید سے بچنے کی ترغیب دی اور ساتھ ہی ساتھ اپنے بچوں کو بھی آپ کی سیرت سے روشناس کرانے کی ترغیب دیتے ہوئے دعائیہ کلمات کے ساتھ اپنی جگہ لی .

مولانا اسحاق ڈانگی کی تقریر کے بعد محمد ارقم بن یوسف ڈانگی نے اپنی سریلی آواز میں ایک نعت پیش کی . ارقم ڈانگی کی نعت کے معاً بعد ایک اور نعت مقبول میراں کریم نے بھی پیش کی . اسکے بعد صدر جلسہ جعفری بنگالی سے جلسہ کی صدارت قبول کرنے کی درخواست کی گئی تو انھوں نے صدارت قبول فرماتے ہوئے اپنی جگہ لی .

بعدازاں مولانا اسماعیل ڈانگی کا خطاب ہوا موصوف نے پہلے اللہ کا شکر ادا کرتے ہوئے بسم اللہ اسپورٹس سینٹر تینگن گنڈی کا شکریہ ادا کیا اور پروگرام کے انعقاد پر اسکے ذمہ داران واراکین کو مبارکباد پیش کی.  اس کے بعد موصوف نے سب سے پہلے آپ کی سیرت سے اپنے رشتہ کو عارضی طور پر استوار کرنے کے بجائے دائمی طور پر استوار کرنے پر زور دیا اور دوسرے نمبر پر اچھے اخلاق کو زندگی کے تمام شعبوں میں اپنانے کی وضاحت کرتے ہوئے بطور خاص تین شعبوں کا تذکرہ کیا ایک رزق حلال کے حصول میں کیونکہ قرب قیامت میں آدمی حلال و حرام کی کوئی پرواہ نہیں کریگا . دوسرے اللہ کے محارم یعنی اسکی حرام کردہ چیزوں سے اجتناب کرنے میں اور تیسرے آدمی کا اپنے اہل و عیال پر خرچ کرنے اور انکے تعلق سےاسلامی حقوق کی ادائیگی میں وسعت رکھنے میں ۔

اس کے بعد انسان میں اچھے اخلاق کی نشانیوں میں سے چند نشانیوں کا تذکرہ کیا اور کہا کہ مصافحہ کی کثرت اور دشمنوں کی کمی اسی طرح دنیا کے مشکلات کی آسانی اور لوگوں کا اس کے ساتھ نرمی کا برتاؤ کرنا انسان کے اچھے اخلاق کی نشانیوں میں سے ہے .اور اخیر میں سیرت کے تمام شعبوں میں اپنے اخلاق کو پیش کرنے کی ابتدائی بات پر دوبارہ زور دیتے ہوئے اپنی بات جامع انداز میں مختصراً پیش کرکے اپنی جگہ لی .

اسکے بعد عبدالسميع بن اکبر علی بنگالی نے اپنی دل لبھاتی آواز میں ایک نعت پیش کی ۔

اسکے بعد مہمان خصوصی مولانا مقبول ندوی کی آمد کی مناسبت سے مولوی عتیق الرحمان ڈانگی نے مہمانوں کا تعارف کراتے ہوئے استقبالیہ کلمات پیش کئے . اور نظام الدین علی صاحب پوتکار نے بسم اللہ اسپورٹس سینٹر تینگن گنڈی کا ترانہ اپنی سریلی آواز میں بہترین انداز میں پیش کیا ۔ پھر اس کے معاً بعد بسم اللہ اسپورٹس سینٹر تینگن گنڈی کے سکریٹری مولوی حسن بن عبدالرحمان اسپو نے بسم اسپورٹس سینٹر کا تعارف پیش کیا . بعدازاں نظام الدین پوتکار اور ارقم بنگالی کو خصوصی انعامات سے نوازا گیا ۔

مذکورہ کاروائی کے بعد جلسہ کے مہمان خصوصی کو بڑے ہی ادب واحترام کے ساتھ تقرير کے لئے مدعو کیا گیا تو موصوف نے سب سے پہلے اس رات کو اللہُ کی یاد میں گذرنے پر اسکے مختلف پہلوؤں کی وضاحت کرتے ہوئے اللہ کا شکر ادا کرنے کی تلقین کی اور اسکو باعث اجر وثواب قرار دیا . پھر دوسرے پروگرام میں شرکت کی وجہ سے اس پروگرام میں تاخیر سے پہونچنے پر معذرت کرتے ہوئے اہلیان تینگن گنڈی کا اور بالخصوص بسم اللہ اسپورٹس سینٹر کے تمام ذمہ داران واراکین کو اس پروگرام کے انعقاد پر مبارکباد پیش کی اور قرآن میں سورہ برات کی آخر سے پہلے والی آیت میں آپ کے تعلق سے چار اہم واردشدہ صفات یعنی نبوت کے لئے خود انسانوں میں سے ہی ایک انسان کا انتخاب کرنا تاکہ وہ نبوت کے پیغام کو عام کرنے میں کوئی معقول عذر نہ پیش کر سکے . دوسرے آپ صلی اللہ علیہ و سلم کا امت کے حق میں مشقتوں کو برداشت نہ کرنا. تیسرے آپ کا امت کی خیر خواہی اور نفع رسانی پر حریص ہونا اور چوتھے رؤوف ورحیم کی صفات سے اپنے آپ کو مزین کرنے کی کوشش پر سیرت کے واقعات کی روشنی میں پوری وضاحت اور تفصیل سے گفتگو کر تے ہوئے انھیں اپنی زندگیوں میں اپنانے کی تاکید کی .
اخیر میں اسپورٹس سینٹر کے اراکین کو کھیل کے تعلقات کے ساتھ اپنے غیر مسلم برادران وطن کے ساتھ دینی تعلقات کو بھی استوار کرنے کی ترغیب دی اور دعوتی میدان میں کام کو اپنا مشن بنانے پر زور دیا اور اخیر میں پہلے کی بنسبت جامعہ اسلامیہ میں یہاں کے طلباء میں کمی پر اہلیان تینگن گنڈی کی توجہ مبذول کرائی ۔

مولانا کی تقریر کے اختتام پر مولانا کی خدمت میں بسم اللہ اسپورٹس سینٹر کی طرف سے مومینٹو پیش کیا گیا ۔

اسکے بعد مولوی یاسین عطاری نے اپنی دل موہ لینے والی آواز میں ایک نعت پیش کی ۔

اسکے بعد جلسہ کے آخری مقرر مولانا محمد سعود کو تقریر کے لئے مدعو کیا گیا تو موصوف نے سیرت النبی کے جلسہ میں حاضری کو باعث رحمت ومغفرت قرار دیا اور حاضرین کواس پرمبارکباد پیش کی ۔ اسکے بعد سیرت کے پیغام کو صرف ماہ ربیع الاول کے بجائے ہر وقت عام کرنے کی ضرورت پر عوام کی توجہ مبذول کرائی . اور آپ کی بعثت کو ایک عظیم نعمت قرار دیا . اور انکی زندگی کے تینوں مرحلوں بچپن جوانی اور بڑھاپے کو امت کے لئے بہترین اسوہ ہونے کی وضاحت کی ۔

اس کے بعد صدر جلسہ جعفری بنگالی نے صدارتی کلمات پیش کئے اور اقبال بنگالی نے کلمات تشکر ادا کرتے ہوئے جلسہ کے اختتام کا اعلان کیا ۔ اور حافظ عبدالقادر ڈانگی کی دعا پر جلسہ اختتام پذیر ہوا ۔ الحمدللہ مجموعی اعتبار سے جلسہ بہت کامیاب رہا ۔

--Advertisement--

اظہارخیال کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here