شیرور کی ایک گمنام اور دیندار و خوش اخلاق شخصیت اللہ کو پیاری ہو گئی

0
955

رپورٹر : مولانا محمد زبیر ندوی شیروری

اللہ سبحانہ تعالیٰ کا ایک عام دستور ” کل من علیھا فإن ” بھی ہے یعنی دنیا کی ہر چیز فنا ہونے والی ہے، لہٰذا وہ دنیا میں پیدا ہونے والے ہر فرد بشر کو موت کا مزہ چکھاتا رہا ہے . جس سے آج تک کوئی بھی سر منھ انحراف نہیں کر سکا. یہی وجہ ہے کہ ہر ایک اپنی پیدائش کے بعد موت کی طرف سفر کرنا شروع کر دیتا ہے اور اس کی عطا کردہ معین زندگی گذار کر اپنی اصلی و دائمی منزل مقصود تک پہنچ جاتا ہے . فرق صرف تقدیم وتاخیر کا ہے مگر منزل سب کی ایک ہی ہے جہاں ہم سب کو ایک نہ ایک دن ضرور جانا ہے .

علاقہ شیرور میں پچھلے ایک ماہ سے کئی اموات ہوتی آرہی ہیں جن کا ہمیں بے حد غم ہے . منجملہ ان میں سے ایک غمگین خبر جناب مرحوم حنیف صاحب کھوکا ، ساکن شیرور کی وفات کی بھی ہے .

مرحوم کی وفات 21/ستمبر 2020 ء بروز پیر ہوئی . انا لله وانا الیه راجعون .

مرحوم بہت سارے اوصاف حمیدہ کی حامل ایک گمنام ، دیندار ، خوش اخلاق اور نرم مزاج شخصیت تھی ، یہی وجہ تھی کہ آپ شہر بینگلور میں مسلسل ایک ہی دوکان پر بحیثیت کیشر پچیس سال تک ملازمت کرتے رہے جو آپ کے اندر موجود نیک صفات کا بین ثبوت ہے .

آپ ایک انصاف پسند امانتدار بھروسہ مند اور مثبت سوچ رکھنے والے انسان تھے ، لہٰذا آپ نے اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے اپنی ایک خاص پہچان اپنوں اور غیروں میں بھی قائم کی تھی .

آپ کی ایک امتیازی خوبی یہ بھی تھی کہ آپ نے صرف شبینہ مکتب کی تعلیم حاصل کی تھی جسے آپ نے پوری مضبوطی کے ساتھ تھام کر اس کی عظمت کو برقرار رکھا تھا ، لہذا قرآن سے آپ کو والہانہ محبت تھی . مسجد میں قبل از وقت پہونچتے اور نماز کے قبل و بعد کا کچھ وقت تلاوت میں گذارتے تھے . آپ جوانی میں بھی عبادت کے کافی شوقین تھے حالانکہ اس عمر میں انسان اکثر و بیشتر اپنے اوقات کو فضولیات میں ضائع کرتا ہے مگر آپ کا اس عمر میں بھی تلاوت قرآن کا معمول تھا . آپ کی یہ خوبی موجودہ نوجوانوں کے لئے ایک بہترین مثال اور نمونہ یے .

مرحوم اپنے علاقہ میں بہت کم چھٹیاں مناتے تھے ، جب بھی آتے تو بہت جلد کسب معاش کے لئے اپنی ملازمت پر لوٹ جاتے . جس کسی سے ملتے مسکراتے ہوئے خندہ پیشانی سے ملتے ، بات نرمی کے ساتھ دھیمی آواز میں کرتے ، کسی سے لڑنا جھگڑنے ، فضول باتیں کرنے اور بہت زیادہ کھل کھلا کر ہنسنے سے بالکل پرہیز کرتے تھے .آپ بہت زیادہ گفتگو کو ناپسند کرتے اور زیادہ تر اپنے دوست احباب اور رشتہ داروں ہی سے باتیں کیا کرتے تھے اور اپنے دوستوں سے خوب انسیت رکھتے تھے . آپ ” من صمت نجا ” کے آئینہ دار تھے ، لہٰذا اپنے زیادہ تر اوقات خاموشی میں گذارتے .

موصولہ اطلاعات کے مطابق ہو آپ کی وفات کی خبر پا کر ان کا شیرور میں مقیم ایک غیر مسلم دوست ان گھر آکر ان کی میت پر زار و قطار رونے لگا اور اس کی آنکھوں سے اشکوں کا ایک سیل رواں جاری ہوگیا . اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ مرحوم کے غیر مسلموں کے ساتھ بھی گہرے روابط رکھتے تھے .

مرحوم حنیف صاحب ابن موسیٰ کھوکا کو پانچ بھائی اور ایک بہن تھی ، جن میں سب سے بڑے بھائی محترم جناب اسماعیل صاحب کویت میں برسرِ روز گار مقیم ہیں اور جعفری و حافظ سعید صاحب شیرور میں مقیم ہیں اور جناب محمد علی صاحب کچھ سال قبل وفات پا چکے ہیں .اور ابھی حنیف صاحب نے وفات پائی ہے . اور ایک بہن ہے جو عالمہ ہے .

مرحوم اپنی طویل علالت کے بعد اہل دنیا اور اپنے متعلقین کو داغ مفارقت دے گئے .

بعض شخصیات دنیا میں زیادہ متعارف اور شہرت یافتہ نہیں ہوتیں لیکن پھر بھی وہ اپنی وفات کے بعد لوگوں کے دلوں میں اپنی یادوں کے نقوش چھوڑ جاتی ہیں.جس کی ایک مثال مرحوم کی بھی ہے .

آپ کی نعش تقریبا ساڑھے دس کے قریب اٹھائی گئی اور نماز جنازہ مسجدٍ نورانی میں ادا کی گئی اور تقریباً سوا گیارہ بجے ان کی جسد خاکی سپرد خاک کی گئی .

مرحوم کی مقبولیت کا اندازہ صرف اسی بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اس قدر ٹھنڈے موسم اور بارش کے باوجود بھی اہلیان شیرور کی ایک بڑی تعداد اور بینگلور سے مالک دوکان سمیت اس کے اسٹاف کے تمام لوگوں نے بھی شرکت کی .

تم گذرتے راہ سے ، نیچی نظر رکھتے ہوئے
ہر کوئی شاہد ہے اِس کا ، وہ زماں ہو یا مکاں

مسکراتا چل بسا تُو ، ہم کو روتا چھوڑ کر
جب تو آیا رو رہا تھا اور سب تھے شادماں

ہم نے یہ سوچا نہ تھ ا، بے یار چھوڑے جاؤ گے
پھر بھی کہتا ہوں کہ تم ہو ، ہر کسی دل میں نہاں

اللہ تعالیٰ مرحوم کی بال بال مغفرت فرمائے ، ان کے سیئات کو حسنات سے مبدل فرمائے ، تمام اخروی منزلوں میں رحم و کرم اور عفو و درگذر کا معاملہ فرما کر جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام نصیب فرمائے اور ان کے اہل خانہ کو صبر جمیل عطا فرمائے . آمین یا رب العالمین .

--Advertisement--

اظہارخیال کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here