صومِ شوال کے فضائل میں وار شدہ احادیث پر ایک علمی تبصرہ

0
1052
از : مولانا عبدالقادر بن إسماعيل فیضان باقوی ، جامعہ آباد ، تینگن گنڈی ، بھٹکل ، امام و خطیب جامع مسجد محمد عشیر علی سلیمان المزروعی ، أبوظبی ، متحدہ عرب امارات

ألحمد للہ ، والصلوة والسلام علی رسول اللہ ، ومن والاہ .

بعض حضرات نے یوٹیوب پر شوال کے چھ روزوں کی فضیلت میں آئی ہوئی صحیح اور حسن حدیث کو بھی ضعیف اور منکر کہا ہے ، لہذا علمی دائرہ میں ان کے قول کی تحقیق پیشِ خدمت ہے .

سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا! ” مَنْ صَامَ رَمَضَانَ ثُمَّ اَتْبَعَهُ سِتًّامِّنْ شَوَّالٍ كَانَ كَصِيَامِ الدَّهْرِ “. جس نے رمضان کے روزے رکھے پھر اس کے پیچھے ( بعد ) شوال کے چھ ( روزے ) ، تو ( یہ روزے رکھنا ) زمانہ بھر کے روزے رکھنے کی طرح ہے . ( مسلم ابوداؤد ، ترمذی ، ابن ماجہ ، بیہقی ، ابن حبان ، طحاوی ، طبرانی ، ابن خزیمہ ، خطیب ، ترمذی نے اس حدیث کو حسن صحیح کہا ہے ) .

طبرانی نے اپنی روایت میں ان الفاظ کی زیادتی کی ہے ، ( راوی ) کہتے ہیں کہ میں نے کہا! ” بِكُلِّ يَوْمٍ عَشَرَةٌ ” ہر دن ( کا روزہ ) دس ( دنوں ) کے برابر ؟ فرمایا! ” نَعَمْ! ہاں” ( اور ان کے راوی ثقہ ہیں ” الترغیب والترہیب ، ج/2 ، ص/28 “.

جمہور علماء کرام ، صحابہ ، سلف صالحین اور معظم فقہائے کرام ان روزوں کو مسنون مانتے ہیں جن میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنھما ، طاؤس ، شعبی ، میمون بن مہران ، ابن مبارک ، شافعی احمد اور اسحاق وغیرھم ( رحمھم اللہ وارضاھم ) بھی شامل ہیں .

بعض حضرات امام مالک ( رحمہ اللہ ) کا قول ” ما رایت احدا صام “. میں نے کسی کو شوال کے روزے رکھتے ہوئے نہیں دیکھا اور ابوحنیفہ ( رحمہ اللہ ) کا قول ” والکراھة مطلقا ” ایک ایک کرکے رکھے ، فاصلہ رکھے ، دو دو کرکے یا چھ اکھٹا کرکے ، ہر حال میں مکروہ ہے ، کو نقل تو کرتے ہیں ، لیکن وہ حضرت امام محمد کا وہ قول نقل نہیں کرتے جس میں انھوں نے ان روزوں کو مستحب کہا ہے ،

اسی طرح بعض حضرات اس حدیث کے ایک راوی ” سعد بن سعید ” کے متعلق کہتے ہیں کہ وہ ضعیف ہیں اور بطور دلیل بخاری کا قول بھی نقل کرتے ہیں کہ ان سے پوچھا گیا کہ ” آپ نے ست شوال کی روایت نہیں کی ہے ؟ تو انھوں نے کہا کہ میں سعد بن سعید کو جانتا ہوں ، ان کی روایتیں میں اپنی ” الجامع الصحیح ” میں نقل نہیں کروں گا “.

معلوم ہو کہ جس راوی کو انھوں نے انتہائی کمزور کہنے کی کوشش کی ہے وہ اتنے ضعیف نہیں ہیں ، بلکہ ان کو زیادہ تر نقادوں نے ثقہ قرار دیا ہے اور واضح ہو کہ اس سند میں ان کے علاوہ تین اور رواۃ ہیں جن میں سے دو انتہائی ثقہ ہیں جو سعد بن سعید کے بھائی ہیں ” یحیی بن سعید اور عبد ربہ بن سعید ” جو سعد بن سعید سے بھی زیادہ ثقہ ہیں ، اگر ہم ان کو ضعیف مان بھی لیں تب بھی مذکورہ حدیث کی صحت میں کسی طرح کی کمی اور نقص نہیں ، کیونکہ ان کے ساتھ اور تین ثقہ راویوں نے بھی اس حدیث کو روایت کیا ہے جن میں سے دو سعد بن سعید سے بھی زیادہ ثقہ ہیں .

راوی سعد بن سعید کو درج ذیل ائمہ حدیث نے ثقہ قرار دیا ہے ، ابن سعد ، عجلی ، ابن عمار ، ابن شاہین ، ابن معین نے ان کو “صالح ” کہا ہے ، ابن حبان ، ابن عدی ، ابن خلفون ، دار قطنی نے لیس بہ باس کہا ہے ، ذہبی نے ” المغنی ” میں ” حسن الحدیث ” کہا ہے ، ” الاکاشف ” میں صدوق کہا ہے ، ” سیر ” میں احد الثقات کہا ہے ، ابن ملقن نے ” فیہ خلاف مشھور ، بل الاکثر علی توثیقہ” کہا ہے اور ابن حجر نے ان کو ” صدوق سیئ الحفظ ” کہا ہے ۔

جن بعضوں نے انھیں ضعیف قرار دیا ہے ، ان میں یحیی بن معین احمد بن حنبل عقیلی اور نسائی بھی شامل ہیں اور ان کو ثقہ کہنے والوں کی تعداد ان کو ضعیف کہنے والوں سے زیادہ ہے ، لیکن ان کے ضعیف کہنے پر بھی مذکورہ راوی پر ضعیف ہونے کا حکم نہیں لگا جائے گا ، کیونکہ ان کا اس سند میں اپنے دونوں بھائیوں ” یحیی اور عبد ربہ ” سے ملنا ، یہ دونوں بلاخلاف ان ( سعد ) سے زیادہ اوثق اور اجل ہیں ، ( تیسرے ان کے ساتھ ملنے والے راوی صفوان بن سُلَيْم ” ہیں )

مالکیہ کے معتمد مسلک میں بھی شوال کے روزے سنت ہیں ، حالانکہ خود امام مالک رحمہ اللہ نے منہی عنہا دنوں کے علاوہ دہر کے روزوں کے جواز کو نقل کیا ہے ، یحیی اللیثی” نے مالک سے نقل کیا ہے کہ انھوں نے اہل علم سے یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ صیام دہر کے رکھنے میں کوئی حرج نہیں جب وہ ان دنوں میں روزہ رکھنے سے رک جائے جن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے روزے رکھنے سے منع کیا ہے ، اور یہ ایام منی یوم الاضحی اور یوم الفطر ” کے دن ہیں . ( ٨٦ ، موطا مالک بروایة یحیی اللیثی ، ٣٠٠ ، جلد اول )

اس حدیث کے صحیح اور بلا غبار ہونے پر یہ بات بھی دلالت کرتی ہے کہ امام مسلم رحمہ اللہ اپنی صحیح کے باب میں پہلے ان حدیثوں کو لاتے ہیں جو سب سے زیادہ صحیح ہیں اور امام مسلم نے ابو ایوب رضی اللہ عنہ سے اس حدیث کو روایت کیا ہے جو ان احادیث میں سب سے زیادہ قوی ہے ، اور اس کی وجہ یہ ہے کہ انھوں نے اس حدیث کو تین نظیف طریقوں سے روایت کیا ہے اور وہ تینوں سعد بن سعید پر گھومتے ہیں . چونکہ یہ حدیث شریف آٹھ یا اس سے بھی زیادہ صحابہ کرام کے طریقوں سے وارد ہوئی ہے ، ابو ایوب انصاری ، جابر بن عبداللہ ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام ثوبان ، ابن عباس ، ابن عمر ، براء بن عازب ، غنام ، عائشہ ابو ہریرہ ، شداد بن اوس ، اوس بن اوس رضی اللہ عنھم جمیعا سے ایک دوسرے کے قریبی الفاظ سے وارد ہوئی ہے اس وجہ سے بعض مصنفین نے اس حدیث کو احادیث متواترہ میں درج کیا ہے ، کنانی نے اپنی کتاب ” نظم المتناثر من الحدیث المتواترة ” میں اس کو حدیث متواتر میں ذکر کیا ہے اور علامہ سیوطی نے اپنی کتاب ” الازھار المتناثرة فی الاحادیث المتواترة ” میں مذکورہ بالا صحابہ میں سے پہلے ذکر کردہ آٹھ صحابہ کرام کے طریقہ سے اس کو حدیث متواتر میں شمار کیا ہے . ( نظم المتناثرمن الحدیث المتواتر ، صفحہ ١٤٦ ،/جلد اول ) ( ایسے میں حدیث کا منکر ہونا تو دور کی بات ، ضعیف ہونا بھی ھباء منثورا ہوجاتا ہے ) .

جن قدیم وحدیث جید علماء کرام کی جماعت نے مذکورہ حدیث کو صحیح قرار دیا ہے ان میں سے بعض یہ ہیں ، ترمذی ، ابن حبان ، دارقطنی ، نووی ، ہیثمی ، قرطبی ، ابن قیم ، خطیب تبریزی ، محمد بن مفلح المقدس اور مبارکپوری ہیں .

خلاصہِ کلام یہ ہے کہ ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ کی حدیث صحیح ہے اور استدلال کی صلاحیت رکھتی ہے ، اسی طرح ثوبان رضی اللہ عنہ کی حدیث ، اور باقی احادیث ان دونوں حدیثوں کو تقویت پہونچاتی ہیں اور ان کے لئے شواہد ہیں ۔

امام مالک رحمہ اللہ کے قول کہ ” انھوں نے اہل علم میں سے کسی کو یہ روزے رکھتے ہوئے نہیں دیکھا ہے ” کا جواب یہ ہے کہ کسی چیز کا علم نہ ہونا کسی چیز کے معدوم ہونے کا متقاضی نہیں ، ایسے میں جب کوئی صحیح حدیث موجود ہو تو اس پر عمل کرنا واجب ہے ۔

حافظ ابن رجب ( مالکی ) سے نقل کیا گیا ہے کہ انھوں نے کہا کہ ہر شخص پر جس کو کوئی صحیح حدیث پہونچی ہو اور جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی امر کا حکم دیا ہو اور وہ اس کو پہچانتا ہو تو اس کا اس حدیث کو امت تک پہونچانا واجب ہے ، انھیں اس پر عمل کرنے کی نصیحت کرے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کی پیروی کرنے کا حکم دے ، اگر چہ کہ امت کے کسی عظیم شخص کی رائے اس امر کی مخالفت میں ہو ، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم اس بات کا زیادہ حق رکھتا ہے کہ اس کی اس عظیم ہستی کی رائے سے زیادہ تعظیم کی جائے اور اس کی پیروی کی جائے خواہ کسی بھی بڑی ہستی کی رائے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے بعض اشیاء میں خطا کرائے . ( صلاة النبی ، صفحہ ٥٦ ، جلد اول )

ابن عبدالبر نے امام مالک رحمہ اللہ کی جانب سے اپنے اس قول سے عذر بیان کیا ہے کہ ابو ایوب رضی اللہ عنہ کی حدیث مالک رحمہ اللہ تک نہیں پہونچی ہے ، باوجود اس کے کہ حدیث مدنی ہے ،

امام مالک کے حدیث میں بلند مرتبہ ہونے پر اس بات کے احتمال کو بعید نہیں سمجھا جاتا کہ اگر یہ حدیث ان تک پہونچ جاتی تو وہ اپنی رائے سے رجوع کرلیتے ، اس لئے کہ وہ لوگوں میں سب سے زیادہ تقویٰ والے اور آثار کو مضبوطی سے تھامنے والے تھے .

ابن ابی حاتم نے ابن وہب کے مقدمہِ کتاب میں نقل کیا ہے کہ مالک سے وضو میں دونوں پیروں کی انگلیوں کا خلال کرنے کے سلسلہ میں پوچھا گیا تو انھوں نے کہا کہ یہ لوگوں پر نہیں ہے ، کہتے ہیں کہ میں نے اس کو ترک کیا حتی کہ لوگوں نے اس کو کم کیا ، میں نے ان سے کہا کہ ہمارے پاس یہ سنت ہے، انھوں نے پوچھا! اور یہ کس حدیث سے ؟ میں نے کہا کہ مُسْتَوْرِدْ ابن شداد القُرَشِيّ کی حدیث سے ، انھوں نے کہا کہ ” رایت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یدلك بخنصرہ مابین اصابعِ رِجلیہ “. میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی خنصر ( کرنگ انگلی ) سے اپنے دونوں پیروں کی انگلیوں کو رگڑتے ہوئے دیکھا ہے ” انھوں نے کہا کہ یہ حدیث حسن ہے ، میں نے اس کو اس وقت کے علاوہ پہلے نہیں سنا ، ابن وہب کہتے ہیں کہ پھر میں نے انھیں کسی کے سوال کئے جانے پر انگلیوں کے خلال کرنے کا حکم دیتے ہوئے سنا . ( الجرح والتعدیل ، ١/٣١.٣٢ ، حدیث کو بیہقی نے سنن کبری میں نقل کیا ہے ، ١/٧٦ )

جب بھی کوئی صحیح حدیث ثابت ہوجائے تو ائمہ کی رائے اور اجتہاد ساقط ہوجاتا ہے ، یہی ائمہ اربعہ کا مذہب ہے ، اس قسم کے معنی کے اقوال ان ائمہ اربعہ عظام سے وارد ہوئے ہیں کہ جب کوئی صحیح حدیث ہو تو یہی میرا مذہب ہے اور میرے قول کو دیوار پر مارو . ( تحفة الاحوذي،١/٤٥٦ ، تاریخ الاسلام ،١/١٥٦٤ ، بدایہ والنھایہ ،٢/٢١٣ ، حاشیہ ابن عابدین ،١/٣٨٥ ، صلاةالنبی ، ١/٤٦، الحدیث حجةبنفسہ ، ١/٨٠، وغیرھم )

امام احمد سے ان کا قول نقل کیا گیا ہے کہ نہ تم میری تقلید اختیار کرو ، نہ مالک کی نہ شافعی کی نہ اوزاعی کی اور نہ ہی ثوری کی اور انھوں نے جہاں سے اخذ کیا ہے وہاں سے اخذ کرو . ( اعلام الموقعین ، ٢/ ٢٠١ )

امام نووی کہتے ہیں کہ جب سنت ( حدیث ) ثابت ہو جائے تو بعض لوگوں کا یا ان میں سے اکثروں کا یا سارے لوگوں کا ترک کرنے پر ( بھی ) تم اس کو نہ چھوڑو . ( شرح النووی علی صحیح مسلم ، ٨/٥٦،٥٧ )

شوال کے چھ روزوں پر فقہاء کی آراء

پہلی رائے ، شوال کے چھ روزے مستحب ( سنت ) ہیں ، جمہور فقہائے شافعی ، حنبلی اور بعض حنفی اور مالکی ( کا مختار مذہب ) نے اسی کو اختیار کیا ہے . ( الشربینی ، محمد الخطیب ، ت:٩٧٧ھ ، مغنی المحتاج الی معرفة الفاظ المنھاج ، دارالفکر ، بیروت ، لبنان ، ٤ ، مجلدات ، ١/٤٤٧ ) والسید البکری حسن ، اعانة الطالبین ، دار الفکر ، بیروت ، لبنان ، ٤ ، مجلدات ، ٢/٢٦٨،

شوکانی اور عظیم آبادی کہتے ہیں کہ یہ بات مخفی نہیں کہ جب لوگ سنت کام کو ترک کرنے لگیں تو ان کا ترک کرنا اس بات پر دلیل نہیں کہ وہ سنت کو ہی رد کریں ۔

4/شوال المکرم 1440ھ مطابق 27/مئی 2020 ء

--Advertisement--

اظہارخیال کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here