صلاۃ الضحیٰ و إشراق کے احکام

0
106

از : مولانا عبدالقادر بن إسماعيل فیضان باقوی ، جامعہ آبادی ، بھٹکلی ، امام و خطیب جامع مسجد محمد عشیر علی سلیمان المزروعی ، ابو ظبی ، متحدہ عرب امارات .

اشراق ( اس کو ضحی بھی کہتے ہیں ، بعض علماء کہتے ہیں کہ اشراق اور ضحی الگ الگ نماز ہے ، ہمارے معتمد قول میں اشراق ہی ضُحَى ہے ، واللہ اعلم ) صبح پڑھی جانے والی نماز کو اشراق کہتے ہیں ، اس کا وقت آفتاب کے طلوع ہوکر ایک نیزہ کے برابر اوپر آنے کے بعد سے شروع ہو کر زوالِ آفتاب تک رہتا ہے .

اشراق یا ضحی کی نیت ” اَصَلِّيْ صَلَاةَ الضُّحَى ( اَوْ صلاةَ الاِشْرَاقِ ) رَكْعَتَيْنِ مُسْتَقْبِلًا اَدَآءً لِلَّهِ تَعَالَى “. میں ضحی ( یا شراق ) کی دو رکعتیں اللہ تعالیٰ کے لئے قبلہ رُخ ہوکر ادا کرتا ہوں .

اس میں کونسی سورتیں پڑھی جائیں یہ متعین تو نہیں ، تاہم علماء کرام ( وقت کے اعتبار سے ) سورہ فاتحہ کے بعد پہلی رکعت میں سورۃ الشمس اور دوسری میں سورۃ الضحی ، یا پہلی میں کافرون اور دوسری میں اخلاص پڑھنا سنت کہتے ہیں . یا زیادہ بہتر یہ ہے کہ پہلی میں الشمس کے ساتھ کافرون اور دوسری میں الضحی کے ساتھ اخلاص پڑھی جائے .

تعدادِ رکعات:

اس کی رکعات کی کچھ خاص تعداد تو متعین نہیں ، لیکن کم از دو رکعتیں پڑھنا ضروری ہیں ، زیادہ سے زیادہ آٹھ ، بعض علماء کہتے ہیں کہ بارہ تک پڑھ سکتے ہیں ، دو دو رکعت پر سلام پھیرا جائے ، اپنی سہولت کے اعتبار سے چار چھ یا آٹھ رکعتیں پڑھ سکتے ہیں ، بارہ رکعتوں سے زیادہ نہ پڑھی جائیں .

اس کی فضیلت:

اس کی فضیلت کے سلسلہ میں کافی احادیث آئی ہیں ، اس کی کم از کم دو رکعتیں پڑھنے سے انسان کے تین سو ساٹھ ( 360 ) جوڑوں کا صدقہ ادا کرنے کا ثواب ملتا ہے . آفتاب ایک نیزے کے برابر بلند ہونے کے بعد اس کی ( کم از کم ) دو رکعتیں ادا کرنے پر مصلی کو ایک حج اور عمرہ کا ثواب ملتا ہے . اس نماز کا پڑھنا باعثِ قُرْبَتِ رَبّ اور باعث برکتِ رزق ہے ، کیونکہ صبح صبح تقسیمِ ارزاق ہوتی ہے

اس کی فضیلت میں آئی ہوئی چند احادیث درجِ ذیل ہیں .

سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا! ” يُصْبِحُ عَلَى كُلِّ سُلاَمَى مِنْ اَحَدِكُمْ صَدَقَةٌ ، فَكُلُّ تَسْبِيْحَةٍ صَدَقَةٌ ، وَكُلُّ تَحْمِيْدَةٍ صَدَقَةٌ ، وَكُلُّ تَهْلِيْلَةٍ صَدَقَةٌ ، وَكُلُّ تَكْبِيْرَةٍ صَدَقَةٌ ، وَاَمْرٌ بِالْمَعْرُوْفِ صَدَقَةٌ ، وَنَهْيٌ عَنِ الْمُنْكَرِ صَدَقَةٌ ، وَيُجْزِئُ مِنْ ذَالِكَ رَكْعَتَانِ يَرْكَعُهُمَا مِنَ الضُّحَى “. تم میں سے ہر ایک کے جوڑ پر صبح ہونے کے ساتھ ایک صدقہ عائد ہوتا ہے ، پس ہر تسبیح ( سبحان اللہ کہنا ) صدقہ ہے ، ہر تحمید ( الحمد للہ کہنا ) صدقہ ہے ، ہر تہلیل ( لااله إلا الله کہنا ) صدقہ ہے ، اور ہر تکبیر ( الله اکبر کہنا ) ایک صدقہ ہے ، اچھے کاموں کا حکم دینا ایک صدقہ ہے ، اور برے کاموں سے روکنا ایک صدقہ ہے ، اور اس کی جانب سے ضحیٰ کی دورکعتیں پڑھنا کافی ہوں گی . ( مسلم )

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا! ” مَنْ صَلَّی الْغَدَاةَ فِیْ جَمَاعَةٍ ، ثُمَّ قَعَدَ یَذْکُرُ اللّٰهَ حَتَّیٰ تَطْلُعَ الشَّمْسُ ، ثُمَّ صَلّٰی رَکَعْتَیْنِ کَانَتْ لَهٗ كَاَجْرِ حَجَّةٍ وَ عُمْرَةٍ “. جس شخص نے صبح کی نماز جماعت سے پڑھی پھر بیٹھ کر اللہ کا ذکر کرتا رہا یہاں تک کہ سورج نکل آیا ، پھر دو رکعتیں نماز ادا کی ، تو اس کے لیے ایک حج اور ایک عمرہ کے برابر ثواب ہے ( ترمذی )

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کو جن تین چیزوں کے کرنے کا حکم دیا ہے اُن میں سے ایک نمازِ ضحی ہے ، کہتے ہیں کہ ” ازوْصَانِیْ خَلِیْلِیْ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِثَلَاثٍ ، صِیَامِ ثَلَاثَةِ اَيَّامٍ مِّنْ كُلِّ شَهْرٍ ، وَ رَكْعَتَيِ الضُّحٰی ، وَ اَنْ اُوْتِرَ قَبْلَ اَنْ اَنَامَ “. میرے دوست صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے تین چیزوں کے کرنے کا حکم دیا ہے ، ہر ماہ کے تین دنوں کے روزے ، اور ضحی کی دو رکعتیں اور یہ کہ میں سونے سے پہلے وتر ( کی نماز ) پڑھوں . ( بخاری )

--Advertisement--

اظہارخیال کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here