صبر کی حقیقت اور اس کی اہمیت و فضیلت

0
1434

از : مولانا عبدالقادر بن إسماعيل فیضان باقوی ، جامعہ آباد ، تینگن گنڈی ، بھٹکل ، امام و خطیب جامع مسجد محمد عشیر علی سلیمان المزروعی ، ابو ظبی ، متحدہ عرب .

( پہلی قسط )

ألحمدلله رب العالمین ، والصلوة والسلام علی رسوله الکریم ، وعلی آله وصحبه أجمعین ، ومن تبعھم بإحسان الی یوم الدین .

اللہ جل مجدہ سورۂِ بقرہ کی ایک سو پچپنویں (155) آیت کریمہ میں ارشاد فرماتا ہے ” وَلَنَبْلُوَنَّكُمْ بِشَیْءٍ مِّنَ الْخَوْفِ وَالْجُوْعِ وَنَقْصٍ مِّنَ الْاَمْوَالِ وَالْاَنْفُسِ وَالثَّمَرَاتِ ، وَبَشِّرِ الصّاَبِرِيْنَ “. بخدا ہم تمھیں ضرور ( دشمن ، یا اللہ تعالیٰ کے ) کچھ خوف اور ( قحط ، یا صیام رمضان کی ) بھوک اور اموال ، جانوں اور پھلوں میں نقصان کرنےکے ذریعہ آزمائیں گے ، اور ( اے نبی ) انھیں ( مصیبتوں پر صبر کرنے کی وجہ سے جنت کی ) خوشخبری سنا دے . دوسری جگہ ارشاد فرماتا ہے ” صبر کرنے والوں کو تو ان کے اجر ( نیکی ) کا بےحساب پورا پورا بدلہ دیا جائے گا “. ( الزمر/10 )

حضرت ابو مالک الحارث بن عاصم الاشارہ رضی اللہ عنہ سے منقول ہے ، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا! ” پاکیزگی ( صاف ستھرایی ) آدھا ایمان ہے ، الحمد للہ ( کہنا ) ترازو کو بھرتا ہے ، سبحان اللہ والحمد للہ ( کہنا ) آسمانوں اور زمینوں کی درمیان والی ( تمام ) چیزوں کو بھرتے ہیں ، نماز نور ہے ، صدقہ ( صاحب صدقہ ) پر ایک دلیل ہے ، صبر روشنی ہے ، قرآن ( پڑھنا ) تمہارے حق میں یا تمہارے خلاف دلیل ہے ، سارے لوگ ( اپنی اپنی مصلحتوں کے لئے ) صبح کرتے ہیں ، سو وہ اپنے آپ کو ( اللہ کو ) فروخت کرتا ہے ، یا تو اس کو آزاد کرتا ہے ، یا ہلاک کرتا ہے “. ( مسلم )

حضرت ابوسعید سعد بن مالک رضی اللہ عنھما سے منقول ہے کہ انصار کے چند لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ مانگا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں عطا کیا حتی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس والی چیزیں ختم ہوئیں ، ،پھر آپ ( صلی اللہ علیہ وسلم ) نے اپنے ہاتھ میں رہنے والی چیزوں کے ختم ہونے کے بعد ان سے کہا! ” میرے پاس جو مال تھا میں نے اسے تمھیں ذخیرہ اندوزی کئے بغیر دیا ، سو جو شخص پاکدامنی ( مانگنے سے پرہیزگاری ) اختیار کرتا ہے تو اللہ ( عزوجل ) اسے پاکدامن بناتا ہے ، اور جو بے نیازی اختیار کرتا ہے تو اللہ اسے بے نیاز کر دیتا ہے ، اور جو صبر جھیلتا ہے ، تو اللہ ( تعالیٰ ) اس کو صبر کرنے کی ہمت دیتا ہے ، اور کسی شخص کو صبر سے زیادہ بہتر اور وسیع چیز نہیں عطا کی گئی “. ( بخاری و مسلم )

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے منقول ہے ، وہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایسی حالت میں گیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بخار کے شدید درد کی حالت میں تھے ، میں نے کہا! یارسول اللہ! ( صلی اللہ علیہ وسلم ) آپ تو سخت بخار کی شدتِ الم میں ہیں ، فرمایا! ” ہاں! میں ( بخار کی وجہ سے ) اتنی سخت تکلیف محسوس کررہا ہوں جتنی تم دو لوگ محسوس کرتے ہو ” میں نے کہا! اس سے کیا آپ کو دو اجر ملیں گے ؟ فرمایا! ” ہاں! یہ ایسا ہی ہے ، کسی مسلمان کو کوئی کانٹا یا اس سے زیادہ کوئی تکلیف نہیں پہونچتی ہے مگر اللہ اس ( مصیبت کی وجہ ) سے اس کے گناہوں کو مٹاتا ہے. ،اور اس سے اس کے گناہوں کو ایسے گرایا جاتا ہے جیسے درخت اپنے پتے گراتا ہے “. ( بخاری و مسلم )

دوسری قسط

ایک مؤمن کی شان آخرت کی طرف نسبت کرتے ہوئے بہترین ہوتی ہے ، کیونکہ صابر مومن کوئی تکلیف پونچنے پر بھی صبر کر لیتا ہے تو اس پر اس کو ثواب دیا جاتا ہے ، پھر یہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ خوشی حاصل ہونے پر تو وہ اللہ جل ذکرہ کا شکر ادا کرے گا ہی ، جیسا کہ مندرجۂ ذیل احادیث ہمیں بیان کرتی ہے،

194/4 حضرت ابو یحی صہیب بن سنان رضی اللہ عنہ سے منقول ہے ، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا! ” عَجَبًا لِاَمْرٍ الْمُؤْمِنِ ، اِنَّ اَمْرَهُ كُلَّه لَهُ خَيْرٌ ، وَلَيْسَ ذَالِكَ لِاَحَدٍ إِلَّا لِلْمُؤْمِنِ ، إِنْ اَصَابَتْهُ سَرَّاءُ شَكَرَ فَكَانَ خَيْرًا لَهُ ، وَاِنْ اَصَابَتْهُ ضَرَّاءُ صَبَرَ فَكَانَ خَيْرًا لَّهُ “. مومن کا معاملہ تو بڑا عجیب ( بڑا حیران کن ) ہے ، یقینا اس کا سارا معاملہ ہی بھلائی والا ہے ، اور یہ مؤمن کے علاوہ کسی اور کے لئے نہیں ہے ، اگر اس کو کوئی خوش کرنے والی بات پہونچتی ہے ( اور وہ اس پراللہ کا ) شکر ادا کرتا ہے تو وہ اس کے لئے بہتر ہوتا ہے ، اور اگر اس کو کوئی تکلیف پہونچتی ہے ( اور اس پر بھی ) وہ صبر کرتا ہے تو وہ اس کے لئے بہتر ہے .

چونکہ ایک آدمی کا انتقال کرجانا اس کے رشتہ داروں کے لئے ایک بڑی مصیبت ہے ، لہذا اس وقت صبر کا دامن ہاتھ سے چھوٹنے نہ پائے ، وفات کے وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی لخت جگر فاطمہ رضی اللہ عنھا کو تسلی دی .

199/5 حضرت انس رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ ( دنیا سے پردہ فرمانے کے وقت ) جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تکلیف میں اضافہ ہوا حتی کہ کرب کی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر غشی طاری ہونے لگی ، تو فاطمہ رضی اللہ عنھا نے کہا ، ہائے میرے باپ کی تکلیف! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا! ” تمہارے باپ پر ( کو ) آج کے بعد سے کوئی تکلیف نہیں پہونچے گی ” جب آپ وفات پاگئے تو فاطمہ کہنے لگیں ، اے میرے باپ ، رب نے آپ کی دعا قبول فرمائی ، اے میرے باپ ، جنت الفردوس آپ کی منزل ہے ، اے میرے باپ ، آپ ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کی وفات کی خبر ہم جبرئیل تک پہنچائیں گے ، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دفنایا گیا ، تو فاطمہ رضی اللہ عنھا نے کہا! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( کی قبر مبارک ) پر مٹی ڈال کر کیا تمہارے دل خوش ہوئے ؟ ( یہ ایک بیٹی کا اپنے باپ کائنات کے فخر سردار انبیاء کے تئیں اتاہ پیار ومحبت کا جذبہ تھا ) . ( بخاری )

ایک آدمی اگر دنیا میں بینائی سے بے نیاز ہو جائے تو اس کے بدلہ میں اللہ سبحانہ و تعالیٰ اسے جنت عطا کرے گا ، اللہ جل مجدہ نے آنکھوں کو کریمہ ، حبیبہ ، صفیہ اور بصر کہا ہے .

200/6 حضرت ابویریرہ رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا! ” اللہ تعالی فرماتا ہے ! میرے مومن بندہ کے لئے میرے پاس جنت کے علاوہ کوئی اور بدلہ نہیں جب میں اس کی صفیہ ( محبوب چیز کو جو آنکھیں ہیں ) کو دنیا والوں سے لیتا ہوں پھر اس کو روک لیتا ہوں”. ( بخاری )

201/7 حضرت انس رضی اللہ عنہ سے منقول ہے ، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے میں نے یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ” اللہ ( جل مجدہ ) نے فرمایا! جب میں میرے بندہ کو اس کی دو حبیب چیزوں ( آنکھوں ) سے آزماتا ہوں پس وہ اس پر صبر کر لیتا ہے ، تو ان دونوں کے عوض میں میں اس کو جنت عطا کرتا ہوں ، ( راوی کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان ( حبیبتین ) سے اس کی دو آنکھیں مراد لی ہیں “. ( بخاری ، ترمذی ، اور ترمذی کے الفاظ یہ ہیں ” رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا! اللہ عزوجل فرماتا ہے! جب میں میرے بندہ سے دنیا میں اس کی دو کریمہ ( آنکھوں ) کو لیتا ہوں تو اس کے لئے میرے پاس بطورِ جزا جنت کے علاوہ کچھ اور نہیں ہے “.

تیسری قسط

202/8 عن انس رضی اللہ عنہ قال! مَرَّ النَّبِيُّ صَلي الله عليه وسلم عَلَي امْرَاَةٍ تَبْكِيْ عِنْدَ قَبْرٍ فَقَالَ! ” اِتَّقِيْ الّلَهَ وَاصْبِرِيْ ” فَقَالَتْ! اِلَيْكَ عَنِّيْ فَاِنَّكَ لَمْ تُصَبْ بِمُصِيْبَتِي وَلَمْ تَعْرِفْهُ ، فَقِيْلَ لَهَا! اِنَّهُ النّبيُّ صلي الله عليه وسلم ، فَاَتَتْ بَابَ النبيَّ صلي الله عليه وسلم فَلَمْ تَجِدْ عِنْدَ بَوَّابِيْنَ فَقَالَتْ! لَمْ اَعْرِفْكَ ، فَقَالَ!” إِنَّمَا الصّبْرُ عِنْدَ الصَّدْمَةِ الْاُوْلَي “. حضرت انس رضی اللہ عنہ سے منقول ہے ، وہ کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا گذر ایک ایسی عورت پر سے ہوا جو ایک قبر کے پاس رو رہی تھی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا! ” اللہ سے ڈر اور صبر کر ” اس عورت نے کہا! مجھ سے دور رہیں ، اس لئے کہ مجھے پہونچی ہوئی مصیبت آپ کو نہیں پہونچی ہے ، اور وہ آپ ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کو پہچانتی نہیں تھی ، اس سے کہا گیا! وہ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم تھے ، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دروازہ کے پاس آئیں ، وہاں اس نے کسی دربان ( پہرے دار ) کو نہ پایا اور کہنے لگی! میں نے آپ ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کو پہچانا نہیں تھا ، تو آپ ( صلی اللہ علیہ وسلم ) نے فرمایا! ” صبر تو پہلے صدمہ ( مصیبت کے اچانک آنے ) پر ہی ہے . ( بخاری و مسلم ) مسلم کی ایک روایت میں” اپنے بچہ ( کے پاس ) پر رو رہی تھی ” آیا ہے .

203/9 حضرت انس رضی اللہ عنہ سے منقول ہے ، انھوں نے کہا! ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کا بیٹا بیمار تھا ، ابوطلحہ ( کسی کام کے لئے ) باہر نکل گئے ، بچہ کی وفات ہوئی ، پہر جب لوٹے تو پوچھا! میرا بچہ کیسا ہے؟ ام سلیم نے کہا! جو بچہ کی ماں تھی ، وہ پہلے سے زیادہ پرسکون ہے ، پھر انھوں نے عشائیہ پیش کیا ، انھوں ( طلحہ) نے عشائیہ کھایا ، پھر ان ( بیوی ) سے مصاحبت ( ہمبستری ) کی ، پھر جب وہ فارغ ہوئے تو کہنے لگیں ، انھوں (صحابہ ) نے بچہ کو چھپایا( دفنایا ) ہے ، پھر جب صبح ہوئی تو ابوطلحہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی خبر دی ، تب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا! ” کیا رات میں تم لوگوں نے مباشرت کی ہے؟ ” کہا! ہاں! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا! ” اَلَّلهُمَّ بَارِكْ لَهُمَا ” ان کی بیوی نے ایک لڑکا جنا ، ابوطلحہ نے مجھ سے کہا! اس کو لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جاؤ ، اور ان ( انس ) کے ساتھ چند کھجور دئے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا! ” کیا تمہارے پاس کچھ ہے؟ ” تو انھوں نے کہا! ہاں! کھجور ہیں ، پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں لے کر ان کو چبایا ، پھر اپنے ( مبارک ) منہ سے انہیں لیا اور انھیں بچہ کے منہ میں رکھا ، پھر اس ( بچہ ) تجربہ کرایا ( چٹایا ) اور اس کا نام عبداللہ رکھا “. ( بخاری ، مسلم )

بخاری کی ایک روایت میں آتا ہے ، ابن عیینہ ( رحمہ اللہ ) کہتے ہیں کہ انصار کے ایک شخص نے کہا! پھر میں نے نو اولاد دیکھیں جن تمام نے قرآن کو حفظ کیا تھا ، یعنی مولود عبداللہ کی اولاد نے .

چوتھی قسط

204/10 : ایک مؤمن مرد اور عورت کو اس کی ذات اس کی اولاد اور اس کے اموال سے آزمایا جاتا ہے ، حتی کہ جب اس کی وفات ہوتی ہے تو اس حال میں کہ اس کا کوئی گناہ بچتا ہی نہیں ، جیسا کہ مندرجہ ذیل حدیث میں آتا ہے .

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے منقول ہے ، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا! ” مَا يَزَالُ الْبَلَاءُ بِالْمُؤْمِنِ وَالْمُؤْمِنَةِ فَيْ نَفْسِهِ وَوَلَدِهِ وَمَالِهِ حَتَّي يَلْقَي اللَّهَ تَعَالَي وَمَا عَلَيْهِ خَطِیئَةٌ “. ایمان والے مرد اور ایمان والی عورت کی جان ، اس کی اولاد اور اس کے مال میں اس کو آزمایا ہی جاتا رہتا ہے یہاں تک کہ وہ اللہ تعالیٰ سے اس حالت میں ملاقات کرتا ہے کہ اس پر کوئی گناہ ہی نہیں رہتا . ( اس حدیث کو امام ترمذی نے روایت کرکے حسن صحیح کہا ہے ، اور حاکم نے ، اور کہا کہ شرطِ مسلم پر صحیح ہے )

205/11 : کسی مصیبت یا پریشانی پر صبر کرنے کا بدلہ جنت ہے ، حضرت عطاء بن ابو رباح رحمہ اللہ سے منقول ہے ، وہ کہتے ہیں مجھ سے ابن عباس رضی اللہ عنھما نے کہا! کیا میں تمہیں اہلِ جنت کی ایک عورت کو نہ دکھاؤں؟ میں نے کہا! ہاں! ( کیوں نہیں؟ ) کہنے لگے! اس کالی عورت نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے آکر کہا کہ میں پچھاڑی جاتی ہوں ، ( مجھے مرگی کی بیماری ہے ) اور میرے کپڑے کھل جاتے ہیں ، آپ میرے لئے اللہ سے دعا کیجئے ، فرمایا! ” اگر تم چاہو تو صبر کرو ، اور ( اس کے بدلہ میں ) تمہیں جنت ہے ، اور اگر تم چاہتی ہو تو میں اللہ (سبحانہ و تعالیٰ ) سے تمہارے لئے عافیت کی دعا کرتا ہوں ” اس نے کہا! میں صبر کر لیتی ہوں ، کہنے لگی! میرا ستر کھل جاتا ہے ، آپ ( علیہ الصلوۃ والسلام ) میرے لئے دعا کیجئے کہ میرا ستر نہ کھلے ، آپ ( صلی اللہ علیہ وسلم ) نے اس کے لئے دعا فرمائی ۔( بخاری ، مسلم )

206/12 : اللہ تعالیٰ نہ کرے ، کسی گاؤں یا ملک میں طاعون ( پلیگ ، plague ) کی بیماری پھیل گئی ہو اور وہ قضا وقدر پرصبر کرتے ہوئے اسی جگہ پر ٹہر گیا ہو تو اس کو شہید کے برابر ثواب ملے گا ، جیسا کہ بخاری کی حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت کردہ حدیث میں آتا ہے ، کہ انھوں نے طاعون ( کی بیماری ) کے تعلق سے پوچھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں بتایا کہ یہ ایک ایسا عذاب ہے کہ اللہ تعالیٰ جس پر چاہتا ہے اس عذاب کو بھیجتا ہے ، پھر اللہ تعالیٰ اس کو مؤمنین کے لئے ایک رحمت بناتا ہے ، سو کوئی بندہ ایسا نہیں جو طاعون میں گرفتار ہو کر اپنے شہر میں صبر کرتے ہوئے ثواب کی نیت سے ٹہرا رہتا ہے ، یہ جانتے ہوئے کہ اسے وہی کچھ پہونچےگا جس کو اللہ ( تعالیٰ ) نے اس کے لئے لکھ رکھا ہے ، مگر یہ کہ اس کے لئے شہید کے برابر اجر ملے گا . ( بخاری )

ایک نبی علیہ الصلوۃ والسلام کا واقعہ جن کو ان کی قوم نے پیٹ پیٹ کر خون آلود کردیا تھا ، اس کے باجود بھی آپ علیہ الصلوۃ والسلام اپنی قوم کے لئے مغفرت کی دعا مانگ رہے تھے ، یہ بہت بڑا صبر ہے ،

207/13 : حضرت ابو عبدالرحمان عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے منقول ہے ، وہ کہتے ہیں ، جیسے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو انبیاء صلوات اللہ والتسلیم علیھم میں سے کسی نبی کی حکایت بیان فرما رہے تھے کہ ان کی قوم نے انھیں مار کر خون آلود کر دیا ( اس کے باوجود بھی ) اور آپ تھے کہ خون پونچھتے ہوئے فرمارہے تھے ” اللھم اغفر لقومی فانھم لایعلمون” اے اللہ میری قوم کے گناہ بخش دے ، کیونکہ وہ نہیں جانتی . ( بخاری ، مسلم )

کسی آدمی کو کوئی پریشانی. ،کوئی غم ، کوئی تکلیف ، کوئی بیماری ، حتی کہ کوئی کانٹا بھی چبھتا ہو تو اللہ جل ذکرہ ان کی وجہ سے اس کے گناہ معاف کرتا ہے ، حضرت ابو سعید اور حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنھما نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا! ” مومن کو کوئی تھکاوٹ ، کوئی بیماری ، کوئی پریشانی ، کوئی رنج ، کوئی تکلیف ، کوئی غم نہیں پہونچتا ہے ، حتی کہ کوئی کانٹا چبھتا ہو تو تب بھی اللہ ( سبحانہ و تعالیٰ ) اس کے گناہوں کو مٹاتا ہے ،( بخاری ، مسلم ، اور ان کے یہ الفاظ ہیں” مومن کو جوبھی بیماری ، تھکاوٹ ،( طویل المدت ) بیماری ، رنج ، حتی کہ اس کو پہونچنے والی پریشانی پر بھی ( اس کے عوض میں ) اس کے گناہوں کو مٹایا جاتا ہے “. ( اور ابن ابو دنیا نے اس حدیث کو صرف ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے ہی نقل کیا ہے ) .

پانچویں قسط

208/14 : عَنْ اَنَسٍ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُ قَالَ! قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّي اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ” لَايَتَمَنَّ اَحَدُكُمُ الْمَوْتَ لِضُرٍّ اَصَابَهٌ ، فَاِنْ كَانَ لَابُدَّ فَاعِلًا فَلْيَقُلْ اَللّٰهُمَّ اَحْيِنِيْ مَا كَانَتِ الْحيَاةُ خَيْرًا لِّيْ ، وَ تَوَفَّنِيْ إِذَا كَانَتِ الْوَفَاةُ خَيْرًا لِّيْ “.

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے منقول ہے ، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا! ” کسی پہونچی ہوئی مصیبت کی وجہ سے تم میں سے کوئی ہرگز ( بالکل بھی ) موت کی تمنا نہیں کرے گا ، پس اگر اس کو کرنا ہی ہے تو چاہئے کہ وہ ( یہ ) کہے! اے اللہ ! اگر زندگی میرے لئے بہتر ہے تو تُو مجھے زندہ رکھ ، اور اگر وفات میرے لئے بہتر ہے تو تو مجھے وفات دے . ( بخاری و مسلم )

ہم لوگ ذرا ذرا سی تکالیف پر گھبرا اور بے صبرے ہوجاتے ہیں ، اور بہت جلد اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی مدد کے متمنی ہوتے ہیں ، حالانکہ صحابہ کرام اور سلف صالحین نے ہم سے زیادہ تکالیف اٹھائی ہیں اور صبر کیا ، اور اپنے ایمان پر پہاڑ کی طرح دٹے رہے .

209/15 : حضرت عبداللہ بن خَبَّاب بن ارَتّ رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ( کفار کی جانب سے پہونچائی گئی تکالیف کی ) شکایت کی ، آپ علیہ الصلوۃ والسلام اپنی بردہ ( چھینٹوں یا علامتوں کی ایک یمنی چادر ) میں تکیہ بنائے ہوئے کعبہ کے سایہ میں بیٹھے ہوئے تھے ، ( ایک روایت میں ” آپ بردہ کو تکیہ بنائے ہوئے تھے ، اور ہمیں مشرکین کی طرف سے سخت تکلیفیں پہونچی تھیں ” آیا ہے ) ہم نے کہا! کیا آپ ہماری مدد نہیں کریں گے ، ہمارے حق میں دعا نہیں فرمائیں گے ؟ آپ نے فرمایا! ” تم میں سے پہلے والوں میں آدمی کو پکڑ کر گڑھا کھودکر اس میں ڈالدیا جاتا تھا ، پھر آری منگا کر اس کے سر کو چیر کر آدھے آدھے دو حصے بنائے جانے تھے ، اس کے گوشت اور ہڈی کے علاوہ حصہ میں اس کی لوہے کی کنگھی سے کنگھی کی جاتی تھی ، ( ان تکالیف کے باوجود یہ چیزیں ) اس کو اس کے دین سے نہیں روک پاتی تھیں ، اللہ کی قسم! اللہ اس امر ( دین ) کو ضرور پورا کرے گا ، حتی کہ سوار صنعاء سے حضرموت کی طرف سفر کرےگا ، اللہ کے علاوہ کسی اور سے نہیں ڈرے گا ، اور نہ اپنی بکریوں کو بھیڑیوں ( کے کھانے ) سے ، لیکن تم تو ( بہت ) جلدی کرتے ہو “. ( بخاری )

210/16 : حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے منقول ہے ، انھوں نے کہا! جب ( جنگ ) حنین کا وقت تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چند لوگوں کو ( مال غنیمت کی ) تقسیم میں ترجیح دی ، آپ نے اقرع بن حابس کو سو اونٹ دئے ، اور عیینہ بن حصین کو بھی اتنے ہی ، اور عرب کے اشراف ( رؤساء ، یا شریفوں ) عرب کے چند لوگوں کو بھی اس دن کچھ خاص ترجیح دی ، تو ایک شخص نے کہا! بخدا! اس تقسیم ( غنیمت ) میں انصاف سے کام نہیں لیا گیا ہے ، اور نہ ہی اس سے اللہ ( عزوجل ) کی مرضی طلب کی گئی ہے ، ( قائل کوئی منافق رہا ہوگا ) میں ( راوی ) نے کہا! خدا کی قسم! اس کی خبر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ضرور پہنچاؤں گا ، میں آپ صلی اللہ کے پاس آیا اور اس شخص کی بات بتائی ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کاچہرہ ( مبارک ) تبدیل ہوا حتی کہ سرخ رنگ کی طرح ہوگیا ، پھر فرمایا! ” اللہ موسیٰ پر رحم فرمائے ، انھیں تو اس سے بھی زیادہ تکلیف پہونچائی گئی تھی ، پس انھوں نے صبر کیا ” ۔میں نے کہا! یقیناً اس کے بعد میں آپ کو کوئی ( ایسی ) خبر نہیں پہنچاؤں گا . ( بخاری و مسلم )

چھٹی قسط

211/17 : اللہ عزوجل کی یہ سنت رہی ہے کہ اس کے جتنے محبوب بندے رہے ہیں انھیں اسی حساب سے زیادہ سے زیادہ آزمائشوں میں مبتلا کرتا ہے ، تاکہ وہ ان کے مراتب اور بلند کرے ، یہ امتحانات اللہ جل ذکرہ اپنے رسولوں اور صحابہ سے لے کر ایک عام آدمی تک سے لیتا ہے ، اسی ضمن میں چند احادیث درجِ ذیل ہیں :

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا! ” مَنْ يُرِدِ اللهُ بِهِ خَيْرًا يُصِبْ ( يُصَبْ سے بھی محفوظ کیا گیا ہے ) مِنْهُ “. اللہ ( تعالیٰ ) جس سے بھلائی کا ارادہ کرتا ہے اس سے ( بدن یامال یا آنکھوں میں سے کوئی چیز ) لیتا ہے . ( یا اس کو کسی مصیبت کی طرف بھیجتا ہے ، یا اس کو کسی آزمائش میں مبتلا کرتا ہے ) . ( الترغیب والترھیب ، امام حافظ زکی الدین عبدالعظیم بن عبد قوی منذری کی )

212/18 : عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِیَ اللّٰهُ عَنْهُ قَالَ! قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ ” اِذَا ابْتَلَى اللَّهُ عَزَّوَجَلَّ الْعَبْدَ الْمُسْلِمَ بِبَلَآءِ فِيْ جَسَدِهِ ، قَالَ اللَّهُ عَزَّوَجَلَّ لِلْمَلَكِ ، اُكْتُبْ لَهُ صَالِحَ عَمَلِهِ الَّذِيْ كَانَ يَعْمَلُ ، وَاِنْ شَفَاهُ غَسَلَهُ وَطَهَّرَهُ ، وَاِنْ قَبَضَهُ غَفَرَلَهُ وَرَحِمَهُ “.

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے منقول ہے ، انھوں نے کہا! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا! ” اللہ عزوجل جب کسی مسلمان کے جسم میں کوئی مصیبت دے کر آزماتا ہے تو فرشتہ سے فرماتا ہے اس کے لئے وہ صالح عمل لکھو جو وہ کیا کرتا تھا ، اگر اس کو شفا دیتا ہے تو اس کو دھوتا اور اس ( کے گناہوں سے اس کی بیماری ) کو پاک کرتا ہے ، اور اگر اس ( کی روح ) کو قبض کرتا ہے تو اس کی مغفرت کرتا ہے اور اس پر رحم کرتا ہے “. ( احمد ، اس حدیث کے راوی بھروسہ والے ہیں )

213/19 : غصہ پی جانا ، اور کسی سے انتقام لینے کی قدرت رکھنے کے باوجود اس کو معاف کرنا ، اور جہاں تک ممکن ہو غصہ نہ کرنا بھی صبر کرنے میں داخل ہے ، جیسا کہ حدیثوں میں آتا ہے ، حضرت معاذ بن انس رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا! ” جو شخص غصہ کو اس حالت میں پی جائے کہ وہ انتقام لینے پر قادر تھا تو اللہ سبحانہ و تعالیٰ اس کو روز قیامت میں مخلوقات کے سرداروں کے سامنے بلائے گا ، حتی کہ اس کو جو چاہے اس حورِ عین ( کشادہ آنکھوں والی گوری عورت ) کو لینے کا اختیار دے گا “. ( ابوداؤد ، ترمذی ، انھوں نے اس حدیث کو حسن کہا ہے )

214/20 : حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے منقول ہے ، وہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا مجھے وصیت کیجئے ، فرمایا! ” تم غصہ نہ کرو ” اس نے بار بار ( اپنا کلام ) لوٹایا ، آپ علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا! ” تم غصہ نہ کرو “. ( بخاری )

215/21 : حضرت سلیمان بن صُرَد رضی اللہ عنہ سے منقول ہے ، وہ کہتے ہیں ، میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اس حالت میں بیٹھا ہوا تھا کہ دو شخص ایک دوسرے کو گالیاں دے رہے تھے اور ان میں سے تو ایک کا چہرہ سرخ ہوگیا تھا ، رگیں تن گئی تھیں ، تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا! ” یقیناً میں ایک کلمہ جانتا ہوں کہ اگر اس نے اس کو کہا تو اس سے وہ چیز ( غصہ ) نکل جائے گی ، اگر وہ ” أعوذ بالله من الشیطان الرجیم ” پڑھے گا تو موجودہ چیز ( غصہ ) اس سے نکل جائے گی ” صحابہ نے اس شخص سے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تمھیں ” شیطانِ رجیم سے پناہ مانگنے کے لئے فرما رہے ہیں “. ( بخاری ، مسلم )

ساتویں قسط

216/22 : کسی آدمی کا کسی کو گرانا پہلوانی نہیں کہلائے گا ، بلکہ پہلوان وہ شخص ہوتا ہے جو غصہ آنے پر غصہ پر قابو پائے ، جیسا کہ آنے والی حدیث میں ہے ،

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا! ” لَيْسَ الشَّدِيْدُ بِالصُّرْعَةِ ، إِنَّمَا الشَّدِيْدٌ الَّذِيْ يَمْلِكُ نَفْسَهُ عِنْدَ الْغَضَبِ “. طاقت پچھاڑنے کے ذریعہ نہیں ہے ، ( کسی کو زمین پر گرا دینا پہلوانی نہیں ہے ) طاقتور تو وہ ہے جو غصہ کے وقت اپنے نفس کو قابو میں رکھے . ( بخاری. ،مسلم )

217/23 : آخرت کے قریب ایسے رؤسا امراء وحکماء ہوں گے جو لوگوں کا استحصال کریں گے ، خود پر دوسروں کو ترجیح دیں گے ، ظلماً لوگوں پر ٹیکس وغیرہ لاگو کریں گے ، جیسا کہ حدیث میں آتا ہے ، حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا! ” یقیناً عنقریب میرے بعد ایسا استحصال ( ایسا دوسروں پر خود کو ترجیح دینے والا ) اور امور آئیں گے جن کو تم ناپسند کرو گے ” ، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین نے عرض کیا! رسول اللہ! ( ایسی صورت میں ) آپ ہمیں کیا حکم دیں گے؟فرمایا! ” تم ان لوگوں کا حق ادا کرو گے جو تم پر ( واجب ) ہے ، اور اللہ ( عزوجل ) سے وہ چیز ( حق ) مانگو گے جو تمہارے لئے ہے . ( جو تمہارا حق ہے ) . ( متفق علیہ )

218/24 : حضرت ابویحی اُسَيْدِ بِنِ حُضَيْر رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ انصار کے ایک شخص نے عرض کیا! یارسول اللہ! ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کیا آپ مجھے اس طرح استعمال نہیں کریں گے ( مجھ سے ویسا ہی کام نہیں لیں گے جیسا ) جس طرح فلاں ( شخص ) کو آپ نے استعمال فرمایا ؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا! ” میرے بعد تم عنقریب استحصال کرتا ہوا پاوگے ، ( اس وقت ) سو تم اس وقت تک صبر کرو جب تک مجھ سے حوضِ ( کوثر ) پر نہ ملو “. ( بخاری ، مسلم )

219/25 : حضرت علقمہ رحمہ اللہ سے منقول ہے ، کہتے ہیں کہ عبداللہ ( رضی اللہ عنہ ) نے کہا ( عبداللہ کئی ایک ہیں ، عبداللہ بن مسعود ، عبداللہ بن عباس ، عبداللہ بن جابر ، عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنھم کلھم ، صرف عبداللہ آنے پر عموماً ان سے مراد عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ہوتے ہیں ) صبر نصف ( آدھا ) ایمان ہے ، اور یقین ( یعنی انسان کا اس بات پر یقین رکھنا کہ اس پر جو بھی مصیبت آئے گی اس پر اس کو ثواب ملے گا ، اور اس بات پر یقین رکھنا کہ جو بھی کچھ ہوتا ہے وہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی جانب سے ) اس کا پورا ایمان ہے “. ( یعنی یہ دونوں چیزیں مل کر اس کے ایمان کو مکمل کرتے ہیں ) . ( اس حدیث کو طبرانی نے کبیر میں روایت کیا ہے ، اور اس کے راوی صحیح احادیث کے راوی ہیں ، اور یہ حدیث موقوف ہے ، بعض علماء نے اس کو مرفوع کہا ہے ) .

220/26 : عن ابی ہریرہ رضی الله عنه قال! قال رسول الله صلی الله علیه وسلم! ” مَثَلُ الْمُؤْمِنِ كَمَثَلِ الزَّرْعِ لَا تَزَالُ الرِّيَاحُ تُفِيْئُهُ ، وَلَا يَزَالُ الْمُؤْمِنُ يُصِيْبُهُ بَلَآءٌ ، وَمَثَلُ الْمُنَافِقِ كَمَثَلِ شَجَرَةِ الْاَرْزِ لَا تَهْتَزُّ حَتَّى تَسْتَحْصِدُ “.

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے منقول ہے ، انھوں نے کہا! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا! مؤمن کی مثال اس کھیتی کی طرح ہے جس کو ہوائیں ہلاتی ہی رہتی ہیں ، ایک مؤمن کو مصیبتیں پہونچتی ہی رہتی ہیں ، اور منافق کی مثال اس” أرز ( صنوبر ) درخت کی سی ہے جو کاٹنے تک ہلتا نہیں “. ( مسلم ، ترمذی ، الفاظ ترمذی کے ہیں ، اور کہا! حدیث حسن صحیح ہے ) .

آٹھویں قسط

221/27 : ایک مؤمن کی مثال ایسے ایک مادہ کی سی ہے جو اپنی حالت پر قائم رہتا ہے ، جیسا کہ حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کی حدیث میں آتا ہے ، کہتے ہیں! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا! ” مَثَلُ الْمُؤْمِنِ كَمَثَلِ الْخَامَةِ مِنَ الزَّرْعِ تُفِيْئُهَا الرِّيْحُ ، تَصْرَعُهَا مَرَّةً وَتَعْدِلُهَا اُخْرَى حَتَّى تَهِيْجَ “.

مومن کی مثال اس بوئی ہوئی کھیتی کی کونپل کی سی ہے ( وہ پہلا مادہ جو اپنی حالت پر رہتا ہے ) جس کو ہوا ہلا کر کبھی اس کو پچھاڑتی ( زمین کے قریب تک لے جاتی ، جھکاتی ) ہے اور کبھی سیدھا کرتی ہے یہاں تک کہ وہ بڑھتا اور سخت ہوتا ہے .

222/28 : مسلم کی ایک روایت میں آتا ہے ” حتی کہ اس کا وقت مقرر ( موت ) آتا ہے ، اور کافر کی مثال ( کہاوت ) اس جڑ سوکھے ہوئے چاول کے درخت کی سی ہے جس کے پاس کچھ نہیں پہونچتا ہے ، حتی کہ ایک ہی بار اس کا ٹوٹنا ہوتا ہے ، ( ایک ہی مرتبہ ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوجاتا ہے ) . ( مسلم )

223/29 : سب سے زیادہ سخت تکالیف انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام نے اٹھائی ہیں ، پھر ان کے دین اور مرتبہ کے حساب کے بقدر ، جس کا دین جس قدر مضبوط ہوگا اسی قدر اس کو تکالیف اٹھانی پڑی ہیں ، جیسا کہ حضرت علاء بن مسیب کی اپنے باپ سعد رضی اللہ عنہ سے روایت کردہ حدیث میں آتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا! سب سے زیادہ سخت مصیبت کن لوگوں کو اٹھانی پڑتی ہے ؟ فرمایا! ” انبیاء کو ، پھر ان جیسوں ( ان سے کم درجہ والوں ) کو ، پھر ان جیسے لوگوں کو ان کے دین کے اعتبار سے آزمایا جاتا ہے ، پس جس کا دین جتنا سخت ( پختہ ) ہے ، اسی قدر سخت اس کی آزمائشیں بھی ہوتی ہیں ، اور جس کا دین کمزور ہوتا ہے تو اس کی آزمائشیں بھی کمزور ( کم ) ہوتی ہیں ، اور ایک آدمی کو اتنی مصیبتوں سے آزمایا جاتا ہے کہ حتی کہ وہ لوگوں کے درمیان اس حال میں چلتا ہے کہ اس پر کوئی گناہ ہی باقی نہیں رہتا ” ( اس حدیث کو ابن حبان نے اپنی صحیح میں روایت کیا ہے )

224/30 : حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس داخل ہوئے ، آپ علیہ الصلوۃ والسلام شدید تکلیف میں تھے ، آپ پر ایک چادر تھی جس پر آپ نے اپنا ( مبارک ) ہاتھ رکھا ہوا تھا ، تو انھوں ( ابوسعید ) نے کہا! کس قدر سخت بخار میں ہیں آپ یا رسول اللہ! فرمایا! ” ہم پر اسی قدر سخت تکالیف آتی ( رہتی ) ہیں اور دوگنا اجر دیا جاتا ہے ” پھر انھوں نے کہا! یارسول اللہ! ( صلی اللہ علیہ وسلم ) لوگوں میں سب سے سخت بلائیں کن پر ہوں گی ؟ فرمایا! ” انبیاء پر ” پھر کن لوگوں پر ؟ فرمایا! ” علماء پر ” پھر کن لوگوں پر ؟ فرمایا! ” صالحون پر ” ان میں سے کسی کو جووں سے آزمایا جائے گا ، حتی کہ وہ ان کو مار ڈالیں گی ، کسی کو فقر ( وفاقہ ) کے ذریعہ ، حتی کہ ان کے پاس اس عباء ( کندورا ، جبہ وغیرہ ) کے علاوہ کوئی اور کپڑا نہیں ہوگا جس کو وہ پہنے ہوئے ہوں گے ، اور البتہ ( یقیناً ) ان میں سے ہر ایک اپنی مصیبتوں سے اس سے زیادہ خوش ہوگا جتنا تم میں سے کوئی عطاء سے خوش ہوتا ہے “. ( ابن ماجہ ، ابن ابی دنیا نے اس حدیث کو ” کتاب مرض اور کفارات ” میں ، اور حاکم نے روایت کیا ہے ، الفاظ اِنہی کے ہیں ، اور کہا شرط مسلم پر ( یہ حدیث ) صحیح ہے ، اور اس حدیث کے لئے بہت سارے شواہد ہیں )

نویں قسط

ایک آدمی کو اللہ سبحانہ و تعالیٰ اپنی نعمتوں سے مالا مال کرتا ہے اور اس پر وہ اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتا ہے ، آزمائشوں میں مبتلا کرتا ہے اس پر وہ صبر کرتا ہے ، کسی پر ظلم کرتا ہے پھر اللہ جل مجدہ سے اپنے گناہوں کی مغفرت طلب کرتا ہے ، کوئی اس پر ظلم کرتا ہے تو وہ اس کو معاف کرتا ہے ، تو ان لوگوں کے سلسلہ میں آقائے نامدار حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا! کہ یہ لوگ ہدایت یافتگاں میں سے ہوں گے .

225/31 :حضرت سخبرہ رضی اللہ عنہ سے منقول ہے ، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا! ” مَنْ اُعْطِيَ فَشَكَرَ ، وَابْتُلِيَ فَصَبَرَ ، وَظَلَمَ فاسْتَغْفَرَ ، وَظُلِمَ فَغَفَرَ ، ثُمَّ سَكَتَ ” فَقَالُوْا يارسولَ اللهِ مَالَهُ ؟ قَالَ! ” أُولَٰئِكَ لَهُمُ الْاَمْنُ وَهُمْ مُّهْتَدُوْنَ “.

جس شخص کو ( نعمتیں ) عطا کی گئیں سو اس نے شکر ادا کیا ، اس کو ( مصیبتوں سے ) آزمایا گیا سو اس نے صبر کیا ، اس نے ( کسی پر ) ظلم کیا پھر ( اللہ سے اپنے ظلم سے ) مغفرت طلب کی ، اس پر ظلم کیا گیا پس اس نے ( ظالم کو ) معاف کیا ، پھر آپ ( صلی اللہ علیہ وسلم ) خاموش ہو گئے ” صحابہ نے عرض کیا ، یا رسول اللہ! ( صلی اللہ علیہ وسلم ، ان تمام چیزوں پر ) اس کے لئے کیا ثواب ہیں ؟ فرمایا! یہ وہ لوگ ہیں جن کے لئے ( عذاب جہنم وغیرہ سے ) امن ( سلامتی ) ہے ، اور یہی ہدایت یافتہ لوگ ہیں . ( طبرانی ).

224/32 : حضرت ابو درداء رضی اللہ عنہ سے منقول ہے ، کہتے ہیں! میں نے ابو القاسم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ فرماتے ہوئے سنا! ” اللہ عزوجل نے فرمایا! اے عیسی! میں تیرے بعد ایک ایسی امت کو بھیجوں گا کہ اگر انھیں وہ چیز مل جائے جس کو وہ چاہتے ہیں تو وہ اللہ کی تعریفیں بیان کریں گے ، اور اگر انھیں ایسی چیز پہونچ جائے جس کو وہ ناپسند کرتے ہوں اور انھوں نے احتساب کیا ، ( اپنا معاملہ اپنے خالق کے سپرد کیا ) اور صبر ( برداشت ) کیا ، ( اس کے باوجود کہ ) نہ ان میں بردباری ( قوت برداشت ) تھی اور نہ علم ، عرض کیا ، یارب! یہ کس طرح ہوگا ؟فرمایا! میں انھیں میرا حلم اور علم عطا کروں گا “. ( حاکم نے روایت کیا ہے ، اور کہا! بخاری کی شرط پر یہ حدیث صحیح ہے )

227/33 : حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے منقول ہے ، کہتے ہیں! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا! ” ( دنیا میں ) عافیت کے ساتھ رہنے والے روز قیامت میں جب مصیبت والوں کو ثواب دئے جائیں گے تو کہیں گے کاش ( دنیا میں ) ان کی کھالیں قینچیوں سے کاٹی جاتیں ” ( ترمذی اور ابن ابو دنیا نے عبدالرحمان بن مغراء سے روایت کیا ہے ، اور اس حدیث کے بقیہ رُوات ثقات ہیں ، ترمذی نے اس حدیث کو ” حدیث غریب ” کہا ہے ، طبرانی نے بھی اس حدیث کو حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے موقوفاً روایت کیا ہے ، تاہم اس کی سند میں ایک ایسا شخص ہے جن کا نام معلوم نہیں )

228/34 : حضرت ابن عباس رضی اللہ عنھما نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا! ” روزِ قیامت میں شہید کو لایا جائے گا اور حساب کے لئے ٹہرایا جائے گا ، پھر صدقہ کرنے والے کے لئے اور اس کو حساب کے لئے کھڑا کیا جائے گا ، پھر مصیبت ( برداشت کرنے ) والوں کو ، تو ان کے لئے ترازو رکھی جائے گی اور نہ دیوان ( نامہ اعمال کی کتاب ) کو ، پھر ان پر خوب اجر ( ثواب ) انڈیلے جائیں گے ، یہاں تک کہ عافیت ( سے زندگی گزارنے ) والے تمنا کریں گے کہ ( کاش ) ان کے جسموں کو اللہ کے اچھے ثواب حاصل کرنے کے لئے قینچیوں سے کاٹا جاتا “. ( اس حدیث کو طبرانی نے مجاعہ بن زبیر کی روایت سے ” الکبیر ” میں روایت کیا ہے ، اور انھیں قابل بھروسہ راوی گردانا گیا ہے )

229/35 : جب کوئی آدمی بخار میں تپ رہا ہو تو وہ اس پر صبر کرے ، گالی گلوچ اور بے صبری کے الفاظ استعمال نہ کرے ، کیونکہ بخار کی وجہ سے اس کے گناہ اس طرح پاک وصاف ہوتے ہیں جس طرح آگ کی بھٹی سے لوہے کا زنگ ، جیسا کہ مندرجہ ذیل احادیث میں آتا ہے ، حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ام سائب یا ام مسیب کے یہاں تشریف لے گئے تو فرمایا! ” تمھیں کیا ہوا ہے ، تم کانپ کیوں رہی ہو ؟ ” کہنے لگیں! بخار ، اللہ اس میں برکت نہ دے ، ( اس میں زیادتی نہ کرے ) فرمایا! ” بخار کو گالی نہ دو ، اس لئے کہ وہ اولاد آدم کے گناہوں کو اس طرح لے جاتا ( مٹاتا ) ہے جس طرح دھونکنی لوہے کے زنگ کو “. ( مسلم )

230/36 : حضرت فاطمہ خزاعیہ رضی اللہ عنھا سے منقول ہے ، کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک انصار عورت کی اس حالت میں عیادت ( بیمار پرسی ) کی کہ وہ سخت درد میں مبتلا تھیں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا! ” خود کو کیسی پارہی ہو ؟ ” کہنے لگیں! بہتر ، مگر بخار ( ام ملدم ” کے الفاظ آئے ہیں ، بخار کو کہتے ہیں ) جاتا ہی نہیں ، تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا! ” صبر کرو ، اس لئے کہ وہ آدم کی اولاد کے زنگ کو اس طرح لے جاتا ہے جیسے دھونکنی لوہے کے زنگ کو “. ( طبرانی ، اور اس حدیث کے راوی صحیح حدیث کے راوی ہیں )

231/37 : حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے منقول ہے ، وہ کہتے ہیں کہ بخار نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آنے کی اجازت مانگی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا! کون ہے ؟ کہنے لگی! ام ملدم ہوں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اہل قبا کے پاس جانے کاحکم دیا ، وہ اس میں جب تک اللہ جانے مبتلا رہے ، پھر وہ آپ کے پاس آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کی شکایت کی ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا! ” جیسے تم چاہو ، اگر تم چاہو تو میں اللہ سے دعا کرتا ہوں ، وہ تم سے اس کو ہٹائے گا ، اور اگر تم چاہو تو وہ تمہارے لئے ( تمھارے گناہوں کو ) پاک کرنے والا ہوگا ، انھوں نے عرض کیا! کیا آپ ایسا کریں گے ؟فرمایا! ” ہاں ” کہنے لگے! آپ چھوڑ دیجئے ، ( یعنی بخار کو باقی رہنے دیجئے )( احمد ، اور اس کے روات صحیح ہیں ، ابو یعلی ، ابن حبان نے اپنی صحیح میں اس حدیث کو روایت کیا ہے ، طبرانی نے اس حدیث کو حضرت سلمان سے روایت کیا ہے ، اور اس میں انھوں نے کہا! انھوں ( صحابہ ) نے بخار کی شکایت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کی ، تو آپ نے فرمایا! ” جیسا تم لوگ چاہو اگر تم چاہتے ہو کہ میں اللہ سے دعا کروں ، تو اللہ ( تعالیٰ ) تم سے بخار دور کرے گا ، اور اگر تم چاہو تو اسی طرح چھوڑے رکھو ( بخار باقی رہے ) اور تمہارے بقیہ گناہ گر جائیں؟ ” ( تو ایسا ہی ہوگا ) انھوں نے کہا! یا رسول اللہ!چھوڑیئے . ( رہنے دیجئے ) .

232/38 : حضرت ابو ریحانہ رضی اللہ عنہ سے منقول ہے ، کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا! ” بخار جہنم کا شعلہ ہے ، اور یہ مؤمن کے آگ کا حصہ ہے “. ( ابن ابی الدنیا اور طبرانی ، دونوں نے شہر بن حوشب سے روایت کیا ہے )

233/39 : حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا! ” بخار جہنم کی دھونکنی ہے ، مؤمن کو اس سے جو کچھ ( تکلیف ) پہونچتی ہے وہ جہنم میں سے ہوتا ہے “.( امام احمد نے اس حدیث کو ایسی سند سے روایت کیا ہے جس میں کوئی حرج نہیں )

234/40 : حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا! ” بخار ہر مؤمن کے آگ کا حصہ ہے “. ( بزار نے اس حدیث کو اسناد حسن سے روایت کیا ہے )

--Advertisement--

اظہارخیال کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here