قرآنی سورتوں کے فضائل احادیث مبارکہ کی روشنی میں

0
2093

از : مولانا عبدالقادر بن إسماعيل فیضان باقوی ، جامعہ آباد ، تینگن گنڈی ،بھٹکل ، امام و خطیب جامع مسجد محمد عشیر علی سلیمان المزروعی ، ابو ظبی ، متحدہ عرب امارات

الحمد لله والصلاة والسلام على رسول الله ومن والاه .

سورۂ یٰسین کی فضیلت

حضرت مَعْقِل بن يَسار المُزَنِيَّ رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا! ” قرآن کادل یٰسین ہے ، کوئی شخص اس کو اللہ ( تعالیٰ ) اور دارِ آخرت کے لئے نہیں پڑھے گا مگر یہ کہ اللہ ( تعالیٰ ) اس کی مغفرت فرمائے گا ، تم اس کو اپنے موتیٰ پر پڑھو ۔”. ( احمد ابوداؤد ، نسائی ، ابن ماجہ ، حاکم ، الفاظ نسائی کے ہیں ، حاکم نے اس حدیث کو صحیح قرار دیا ہے . بحوالہ الترغیب والترھیب للحافظ منذری/2270 ) ( ابوداود نسائی ابن حبان ، الاتقان فی علوم القرآن ، علامہ حافظ سیوطی کی ، ج/2 ، ص/ 432 )

اسی مفہوم کی ایک حدیث مشکواة میں حضرت معقل بن یسار رضی اللہ عنہ سے نقل کی گئی ہے ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا! ” جو شخص اللہ کی مرضی چاہتے ہوئے یٰسین پڑھے گا تو اس کے اگلے گناہوں کی مغفرت کی جائے گی ، سو تم اس کو اپنے موتیٰ ( موت کے قریب پہونچنے والے شخص ) کے پاس پڑھو”. ( امام بیہقی نے اس حدیث کو شعب ایمان میں روایت کیا ہے ،(2178) )

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے منقول ہے ، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا! ” ہر چیز کے لئے ایک دل ہے ، اور قرآن کا دل یٰسین ہے ، اور جو شخص یٰسین پڑھے گا تو اس کے پڑھنے پر اللہ ( عزوجل ) قرآن کو دس مرتبہ پڑھنے کا ثواب عطا فرمائے گا “. ایک روایت میں یٰسین کا لفظ نہیں آیا ہے ،( ایسے میں ترجمہ یوں ہوگا ، جو شخص اس کو پڑھے گا تو اس کے پڑھنے پر اللہ عزوجل الخ ) . ( ترمذی ، دارمی ، الإتقان ، حافظ منذری ترمذی کا حوالہ دے کر کہتے ہیں کہ انھوں ( ترمذی ) نے اس حدیث کو غریب کہا ہے ) .

حضرت جندب رضی اللہ عنہ سے منقول ہے ، انھوں نےکہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا! ” جو شخص کسی شب اللہ کی مرضی چاہتے ہوئے یٰسین پڑھےگا تو اس کی مغفرت کی جائے گی “. ( مالک ، ابن سنی ، اور ابن حبان نے اس حدیث کو اپنی صحیح میں روایت کیا ہے . الترغیب والترھیب ، یہی حدیث حافظ علامہ جلال الدین سیوطی رحمہ اللہ نے اپنی ” الاتقان ” میں روایت کرکے دارمی اور طبرانی کا حوالہ دیا ہے ، اور آگے ایک اور حضرت انس رضی اللہ عنہ کی حدیث درج کی ہے . کہتے ہیں کہ جو شخص ہر رات یٰسین کی قرأت پر برقرار رہا اور پھر انتقال کرگیا ، تو وہ شہید کی موت مرے گا “. ( طبرانی ) بظاہر یہ ، حدیث سے زیادہ اثر معلوم ہوتی ہے ، واللہ اعلم ۔

حضرت عطاء بن ابی رباح رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میرے پاس یہ حدیث پہونچی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا! ” جو شخص صدرِ نہار ( دن کے ابتدائی حصہ) میں یٰسین پڑھے گا تو اس کی ضروریات پوری کی جائیں گی”. ( دارمی اس حدیث کو مرسلاً نقل کیا ہے ) .

حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً حدیث ہے ، وہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ ” ہر چیز کے لئے ایک دلہن ہے ، اور قرآن کی دولہن ” الرحمان ” ہے “. ( بیہقی )

سورہ واقعہ کی فضیلت

حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے منقول ہے ، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا! ” جو شخص ہر شب سورہ واقعہ پڑھے گا ، تو اسے کبھی فاقہ نہیں پہونچے گا “. حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ اپنی بیٹیوں کو ہر شب اس کو پڑھنے کا حکم دیا کرتے تھے . ( بیہقی )

سورہ ملك کی فضیلت

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا! ” بیشک قرآن میں تیس آیات والی ایک ایسی سورت ہے جو ( اپنے پڑھنے والے کو ) اس وقت تک سفارش کرتی رہے گی تاآنکہ اس کی مغفرت نہ کی جائے ، اور یہ ” تبارك الذی بیدہ الملک ” ہے “. ( ابوداؤد ، ترمذی ، انھوں نے اس حدیث کو حسن قرار دیا ہے ، نسائی ، ابن ماجہ اور ابن حبان نے اس کو اپنی صحیح میں روایت کیا ہے ، اور حاکم نے بھی ، اور انھوں نے کہا ، یہ حدیث صحیح الاسناد ہے )

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنھما سے منقول ہے ، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعض اصحاب نے اپنا خیمہ ایک قبر پر نصب کیا ، اور وہ نہیں جانتے تھے کہ وہ قبر ہے ، تب ایک انسان کی قبر سورہ مُلك پڑہ رہی تھی حتی کہ اس کو ختم کیا ، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہا! یا رسول اللہ! ( صلی اللہ علیہ وسلم ) میں نے ایک قبر پر اپنا خیمہ نصب کیا تھا اور جانتا نہیں تھا کہ وہ قبر ہے ، تو اچانک ( میں کیا دیکھتا ہوں کہ ایک قبر ( والا ) سورہ ملك پڑھ رہی ہے حتی کہ اس نے اس کو ختم کر لیا ، تب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا! ” یہ مانع ہے ، ( یعنی عذاب قبر سے روکنے والی ) وہ نجات دینے والی ہے جو اس ( صاحب قبر ) کو عذاب قبر سے بچا رہی تھی “. ( ترمذی ، اور کہا کہ حدیث غریب ہے )

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے منقول ہے ، وہ کہتے ہیں کہ ” آدمی کو قبر میں لایا ( رکھا ) جائے گا ، تب اس کے دونوں پیروں کی جانب سے اس ( جہنم کی آگ ) کو لایا جائےگا ، تو وہ کہنے لگے گی ، تمہارے لئے میری جانب سے کوئی راستہ نہیں ،( کیونکہ ) وہ سورہ ملك پڑھا کرتا تھا ، پھر اس کے سینہ کی جانب سے لایا جائے گا ، یا ( کہا ) اس ( صاحب قبر ) کے پیٹ کی جانب سے ، تب وہ ( سینہ یا پیٹ ) کہے گا ، تمہارے لئے میری جانب سے کوئی راستہ نہیں ہے ، وہ سورہ ملک پڑھا کرتا تھا ، پھر اس کو اس کے سرکی جانب سے لایا جائے گا ، تو وہ کہے گا ، تمہارے لئے میری طرف سے کوئی راستہ نہیں ہے ، وہ سورہ ملک پڑھا کرتا تھا ، سو یہ ( سورت ) منع کرنے والی ہے ، عذاب قبر کو آنے سے منع کرتی ہے ، اور یہ تورات میں سورہ ملک ( سے جانی جاتی ) ہے ، سو جو شخص اس کو کسی شب میں پڑھے گا تو وہ ( اپنے لئے ) کثیر ( نیکیاں ) اور اچھا ( یعنی ایسے اچھے کام کرے گا جن پر اسے ثواب دیا جائے گا ) کرےگا “. ( حاکم نے اس کو روایت کرکے صحیح الاسناد کہا ہے ) اور نسائی میں یہ حدیث ان الفاظ سے مختصراً آئی ہے ” جو شخص ہر رات ” تبار ك الذی بیدہ الملك ” پڑھے گا تو اللہ عزوجل اس کے ذریعہ اس سے عذاب قبر کو منع کرےگا ، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ہم اس کو ” مانعہ ” کہتے تھے ، اور یہ اللہ عزوجل کی کتاب میں ایک ایسی سورت ہے کہ جو شخص اس کو ہر شب پڑھے گا تو وہ خوب اور اچھا کرے گا “. ( یعنی اپنے لئے خوب نیکیاں کمائے گا ، اور ایسے اچھے کام کرے گا کہ جن پر اسے ثواب دیا جائے گا ) . ( نسائی )

--Advertisement--

اظہارخیال کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here