مدرسہ عربیہ تعلیم القرآن تینگن گنڈی بھٹکل کا الوداعیہ جلسہ

0
1411

مدرسہ عربیہ تعلیم القرآن تینگن گنڈی بھٹکل،جنوبی ہند کی قومِ ناخدا کا اوائلِ پندرہویں صدی ہجری کا سب سے پہلا اورقدیم دینی ادارہ ہے۔ جس کے فارغین نے پوری ناخدا برادری کو دینی فیوض پہنچا کر برادری میں مختلف مدارس ومکاتب کو قائم کرنے میں اپنا ایک اہم رول ادا کیا ہے۔ لہذا اگر اس کوناخدا برادری کا ام المدارس ومکاتبِ دینیہ کہا جائے تو بیجا نہ ہوگا۔ اسی وجہ سے اس کو ہند وبیرونِ ملک کی مشہورومعروف شخصیت مولانا ابوالحسن علی ندویؔ رحمۃ اللہ علیہ کی سرپرستی حاصل رہی اور پوری  ناخدا برادری کے مدارس ومکاتبِ دینیہ میں سب سے پہلے اسی کو ہندوستان کی مشہورومعروف دینی درسگاہ دارالعلوم ندوہ العلماء لکھنؤ کی شاخ بننے کا اعزازحاصل ہوا۔

اسی کا الوداعیہ جلسہ انشاء اللہ مؤرخہ 14رجب المرجب 1439ھ مطابق یکم اپریل 2018ء بروزاتوارصبح نوبجے مدرسۃ المحصنات کی حافظات اورمدرسہ عربیہ تعلیم القرآن کے شعبۂِ عالمیت للبنات کی طالبات کے اعزاز میں مدرسۂِ ہذا کےوسیع و عریض میدان میں منعقد ہونے والا ہے۔

لہذا سبھی حضرات سے درخواست ہے کہ وہ اپنی مستورات کو اس پروگرام میں شریک فرمائیں۔ مرکزی جماعت المسلمین تینگن گنڈی کی سبھی مستورات کے لئے سواری کا نظم رہیگا۔

واضح رہے کہ امسال مدرسہ عربیہ تعلیم القرآن کے شعبۂِ عالمیت سے کل سترہ طالبات فراغت حاصل کر رہی ہیں جو اس شعبہ کی اب تک کی سب سے بڑی تعدا شمار کی جا رہی ہے۔ اوراسی کی شاخ مدرسۃ المحصنات سے سات طالبات حفظِ قرآن کی تکمیل  سے فراغت حاصل کررہی ہیں۔

اللہ سے دعا ہے کہ وہ انھیں مزیدعلمِ دین کی دولت سے مالا مال فرمائے،حافظات کے حفظ کوانکی پوری زندگی تک محفوظ رکھے اور سبھی فارغات سے دین کی خوب خدمت لے۔ آمین۔

--Advertisement--

اظہارخیال کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here