حصولِ علم انسانی زندگی کی ایک اہم اور بنیادی ضرورت

0
2142

رشحات قلم : محمد زبیر ندوی شیروری

تعلیم زندگی ہے اور جہالت موت ، تعلیم سے زندگی سنورتی ہے اور جہالت سے امور بگڑتے ہیں ، جہاں تعلیم ہے وہاں روشنی ہے اور جہاں جہالت ہے وہاں اندھیرا ہے ، تعلیم سے انقلاب آتا ہے جبکہ جہالت سے بزدلی پیدا ہوتی ہے ، جب جب قوموں نے تعلیم سے اپنا رشتہ جوڑا تو ان کی ترقی ہوئی اور سماج میں ان کا مقام بلند ہوا . اور جب انھوں نے تعلیم سے کنارہ کشی کی تو وہ آسمان کی بلندی سے تحت الثری تک پہونچ گئیں ، اسی لئے مذہب اسلام نے تعلیم کو بنیادی سرچشمہ قرار دیا ہے ، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کی آ مد سے قبل سر زمینِ عرب میں دنیا کی تمام برائیاں موجود تھیں ، لہٰذا اہل عرب کفر وشرک کے دلدل میں پھنسے ہوئے تھے اور تین سو ساٹھ (360) خداؤں کی پوجا کرتے تھے ، عورتوں کی بے عزتی کرتے اور بچیوں کو زندہ درگور کرتے ، وہ شراب کے عادی اور ظلم و جور اور قتل وغارت گری کے خوگر تھے ، باتوں باتوں میں لڑنا جھگڑنا ، انکی فطرت بن گئی تھی ، غرض کوئی ایسی برائی نہ تھی جو اس سماج میں نہ پائی جاتی ہو ، مگر اس دور کو دورِ کفر وشرک اور دورِ ظلم وجور نہیں کہا گیا ، بلکہ دور جاہلیت سے اسے موسوم کیا گیا ، یعنی ان کی ساری برائیوں کی جڑ جہالت کو قرار دیا ، اسی لئے آ سمانی ہدایت کی ابتدا بھی اسی سے ہوئی اور سب سے پہلا پیغام جسے اللہ کی طرف سے حضرت جبرئیل لے کر آ ئے اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کے ذریعہ پوری انسانیت تک پہنچایا گیا وہ یہی تھا کہ پڑھو! اپنے رب کے نام سے جس نے سب کو پیدا کیا ، دیکھئیے کہ وحی کی ابتداء بھی تعلیم سے ہو رہی ہے ، توحید سے نہیں اور نہ ہی اس بات کے اعلان سے کہ ظلم چھوڑ دو ، قتل و قتال سے باز آؤ ، شراب مت پیو ، بلکہ اس بات سے کہ پڑھو ، چونکہ جب تعلیم آئے گی ، تو وحدانیت بھی آئے گی اور ایک خدا کا تصو ر ذہن ودماغ میں پیوست ہوگا ، ظلمت وتاریکی کا خاتمہ ہوگا ، روشنی آئے گی توبرائیاں خود بخود چھٹتی چلی جائیں گی اورپاکیزہ اور صالح معاشرہ کی تشکیل عمل میں آئے گی ،

سب سے پہلی وحی میں تعلیم کی تلقین کے ساتھ رب کے نام کا تذکرہ اس بات کو بتانے کے لئے ہے کہ علم وہ معتبر ہے جو انسان کو اپنے رب اور اس کی معرفت تک پہونچا دے ، یعنی علم وہ معتبر ہے جس کے ذریعہ اللہ کی رضا اور مخلوق خدا کی خدمت مقصود ہو ، اور یہ وہی علم ہے جس کا سیکھنا تمام مسلمانوں کے لئے ، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے ضروری قراردیا اور فرمایا! علم کا طلب کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے ۔ کوئی انسان عظیم الشان علوم وفنون کا ماہر ہو ، لیکن اس کے پاس وہ علم نہ ہو جس کے ذریعہ وہ اپنے رب کی مرضیات کو سمجھ سکے اور عبادت اور اس کے طریقہ کار کو جان سکے ، دنیا کی نظروں میں اس کا جو بھی نام ہو ، مگر دین وشریعت کی مزاج میں اس کا شمار جاہلوں میں ہی ہوگا ، چنانچہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا! اللہ تعالیٰ جس شخص کے ساتھ بھلائی کا ارادہ کرتا ہے تو اس کو دین کی سمجھ عطا کرتا ہے .

تخلیق انسانی کا مقصد اللہ تبارك و تعالیٰ نے عبادت قرار دیا ہے ، اور عبادات کو انجام دینے اور اس کے فرائض و واجبات کی رعایت ، علم کے حصول کے بغیر ممکن نہیں ہے ، اسی لئے امام بخاری ؒ نے اپنی کتاب صحیح البخاری میں کتاب الایمان کے بعد کتاب العلم کو بیان کیا ہے ، یہی بتلانے کے لئے کہ ایمان لانے کے بعد انسان کے ذمہ سب سے پہلا فریضہ علم کا حصول ہے ، علم ہی کے ذریعہ اسے اپنی ذمہ داری کا احساس ہوگا ، اور فرائض و واجبات کی ادائیگی میں مأمورات و منہیات کا بھی ، چونکہ اس کا پورا دارومدار علم پر ہوتا ہے ، لہٰذا بچوں ، نوجوانوں ، بوڑھے بزرگوں اور آنے والی نسلوں کے لئے دین کی بنیادی تعلیم انتہائی ضروری ہے ، اس کے بغیر نہ صالح اور پاکیزہ معاشرہ کی تشکیل ممکن ہے اور نہ ہی اسلامی معاشرہ کی بقاء کا تصور کیا جا سکتا ہے ، خاص طور سے آج کل کے چھوٹے بڑے سرکاری ، پرائیوٹ اسکولوں میں تعلیم حاصل کر رہے بچوں کو دینی تعلیم سے آراستہ کرنے کی کوشش اور جدوجہد انتہائی ضروری معلوم ہوتی ہے .

انسانوں نے اتنی ترقی کرلی کہ انسانیت کی باتیں کتابوں کی زینت بن کر رہ گئیں ، ارتداد کی آندھیاں چلنے لگیں ، الحاد وبے دینی کی مسموم فضاؤں میں بچوں کی پرورش ہونے لگی ، اسکولوں اور کالجوں میں شعائر اسلام کے خلاف مضامین داخل کئے جانے لگے ، ایسے میں ضروری ہے کہ دینی تعلیم کے تئیں لوگوں کو بیدار کیا جائے اور اس کی حساسیت ، ضرورت اور اہمیت سے روشناش کرایا جا ئے تاکہ عوام وخواص دینی تعلیم کی اہمیت سے متعارف ہو جائے ، اسی طرح دینی مکاتب کے قیام کی طرف بھی توجہ دلائی جائے اور جہاں پہلے سے مکاتب قائم ہیں اس کو مفید سے مفید تر بنانے کی کوششیں کی جائیں . اس کے لئے عوام وخواص اور علماء وائمہ کو آگے بڑھنے کی ضرورت ہے ، انشاء اللہ سبھوں کی کوششوں سے ہی سماج میں ایک نیا انقلاب آئے گا اور اس کے مفید اثرات ونتائج بھی سامنے آئیں گے .

تعلیم انسان کی بنیادی ضرورتوں میں سے ایک ہے اسے حاصل کئے بغیر ایک صالح اور پر امن معاشرہ کا تصور ناممکن ہے ، ملک و قوم کی ترقی و خوشحالی کا دارو مدار بھی تعلیم پر ہوتا ہے اور تعلیم ہی کے ذریعہ بنی نوع انسان شعور و فہم کی بلندی میں پرواز کرتا ہے ، تعلیم خواہ دینی ہو یا عصری دونوں ہی کردار سازی میں اپنا ایک اہم رول ادا کرتی ہے ، البتہ دونوں طرح کے علوم کا حصول اگر ایک ساتھ ہو تو یہ کسی نعمت عُظمی سے کم نہیں ، تعلیم انسان کے لئے ایک ایسا ہتھیار ہے جس سے دنیا کی ساری جنگوں میں فتح حاصل کی جاسکتی ہے ، تعلیم ترقی کے لئے سب سے طاقتور ذریعہ ہے جسے دنیا میں بھی تبدیلی لانے کے لئے استعمال کیا جاسکتا ہے ، تاریخ گواہ ہے دنیا میں ترقی اور عروج صرف ان ممالک اور اقوام کے حصہ میں آیا جن کے افراد تعلیم سے آراستہ ہوئے ، کسی ملک کی ترقی اور اس کے باشندوں کے ذہنی ارتقاء کا اندازہ وہاں کی تعلیمی حالت سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے .

تعلیم سے انسان دنیا میں جینے کا فن سیکھتا ہے اور تعلیم ہی کے ذریعہ وہ اگلی نسلوں تک اپنے اثاثہ کو منتقل کرنے میں کامیاب ہو پاتا ہے ، کوئی ایک چیز ایسی نہیں جس کو آپ تعلیم سے محرومی کے بعد آگے بڑھا سکیں اس لئے پوری انسانیت کی اولین ترجیح تعلیم ہونی چاہئیے ، اسلام نے تعلیم و تعلم پر جتنا زور دیا ہے شاید دنیا کے کسی مذاہب میں تعلیم کے حصول پر اتنی شدت برتی گئی ہو ،

آج جن قوموں کی ترقی کی داستان روز ہم خبروں کے ذریعہ دیکھتے ہیں ان لوگوں نے تعلیم کی اہمیت و افادیت کو سمجھا اور ایک ایسا پائیدار تعلیمی نصاب تیار کیا جس میں ملک و قوم کا مفاد پوشیدہ تھا ، اگر اسی طرح ہماری قوم کے اندر بھی حصول تعلیم کا جذبہ غالب آجائے تو یقیناً وہ دن دور نہیں کہ ہم دنیا کے ان ملکوں میں شمار کئے جائیں گے جو جدید علوم کی آگاہی رکھتے ہیں ، اسلام کی تاریخ گواہ ہے جب مسلمانون نے تعلیم و تربیت کو اپنے لئے عروج کا ذریعہ سمجھا تو وه دین و دنیا میں سربلندی اور سرفرازی سے نوازے گئے ، لیکن جب مسلمانوں نے اس بے بہا نعمت سے روگـردانی کی اور اس کے حصول سے دوری بناتے رہے تو زوال و انحطاط ان کا مقدر بن گیا ، پھر وہ غلام بنا لئے گئے اور بحیثیت قوم اپنی شناخت کھو بیٹھے ، تعلیم ہوا اور پانی کی طرح انسانی ضرورت ہے ، اس لئے نئی نسلوں میں تعلیم کے حصول کے لئے جذبہ اور نئی امنگ پیدا کرنا معاشرہ کی اہم ذمہ داری ہے .

قراں و حدیث کے علم میں وہ مادہ ، اتم درجہ میں موجود ہے جس سے تربیت کے سارے دروازے کھل جاتے ہیں جہاں بچوں میں فطری طور پر دینی مزاج پیدا ہونے کے ساتھ ان کے اندر زندگی گزارنے کا سلیقہ بھی پروان چڑھتا ہے اس لئے علماء نے لکھا ہے کہ بچوں میں تعلیم و تربیت کا آغاز ناظرہ قرآن پاک کے ساتھ ساتھ چھوٹی چھوٹی مسنون دعاؤں کے حفظ کے ساتھ کرایا جائے جس سے ان کی زبان کی شفافیت نکھر کر سامنے آئے گی .

بچہ جب جسمانی اور عقلی طور پر تعلیم و تعلم کے لائق ہوجائے تو اس کی تعلیم کی ابتدا قرآن کریم کی تعلیم سے کرنی چاہئے تاکہ اصل لغت اس کی گھٹی میں پڑے اور اس کے نفس میں ایمان اور اس کے صفات راسخ ہوجائیں مختلف اسلامی ملکوں میں تمام تدریسی طریقوں اور نظاموں میں قرآن کریم کی ہی تعلیم کو اساس اور بنیاد بتلایا گیا ہے اس لئے کہ قرآن کریم دین کے ان شعائر میں سے ہے جس سے عقیدہ اور ایمان راسخ و مضبوط ہوتا ہے ، اگر موجودہ وقت میں عصری ادارے یہ دعوی کرتے ہیں کہ ہم بچوں کو عصری تعلیم کے ساتھ اسلامی تعلیم بھی پوری ایمانداری سے دے رہے ہیں تو والدین کی بھی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ گاہے بگاہے بچوں کا ٹیسٹ لیتے رہیں تاکہ آپ کو اطمینان ہوسکے کہ آپ کے بچے دینی تعلیم سے بھی مستفیض ہو رہے ہیں کیوں کہ یہی وہ تعلیم ہے جس سے بچے شرعی ارکان اور اس کے احکام کو بہتر طریقہ سے اپنے ادراک میں لاسکتے ہیں اور اپنی زندگی میں اس پر عمل پیرا ہوسکتے ہیں اور اپنے اندر اسلامی تعلیم و تربیت کی اہمیت اور معاشرہ میں پنپ رہی غیر اسلامی سرگرمیوں اور مغربی افکار و اقدار کی اندھی تقلید سے اپنے آپ کو محفوظ رکھنے میں کامیاب ہو سکتے ہیں .

تربیت تعلیم کا لازمی جزء ہے ، صاحب علم اگر تربیت سے تہی دامنی کا شکار ہو جاتے تو سمجھو کہ وہ اخلاقی بگاڑ کا شکار ہو چکا ہے . معاشرہ کو ان سے اچھی امیدیں رکھنا مفید نہیں ہوگا ، کیوں صالح معاشرہ اسی وقت وجود میں آتا جب ان کے افراد تعلیم کے ساتھ تربیت و تہذیب اور ثقافت کی منہ بولتی تصویر ہوں اور ان کا کردار عوام کے سامنے ایک آئینہ کے مانند ایسا صاف وشفاف ہو جس میں ہر شخص اپنے کردار کی شفافیت کو بآسانی محسوس کر سکے . بہترین تربیت ہی ہمیں جانوروں سے ممتاز بناتی ہے کیوں کہ جانور اور انسانی بچوں میں یہی فرق ہے کہ جانور کے بچے اپنی جبلت سے زندگی میں آگے بڑھتے ہیں اور وہ اپنی آخری عمر پوری کرکے مر جاتے ہیں ، لیکن انسانوں کے بچے کو اپنی جبلت کی تطہیر و تنظیف کرنی پڑتی ہے انھیں آگے بڑھنے کے لئے تعلیم کے ساتھ تربیت کی بھی اشد ضرورت ہوتی ہے جس کی مدد سے وہ اپنی آنے والی زندگی میں اپنی تہذیب و تربیت کو بہترین طریقہ سے دنیا کے سامنے متعارف کروا سکتا ہے .

تعلیم ہر انسان کی بنیادی ضرورت ہے چاہے وہ آمیر ہو یا غریب ، مرد ہو یا عورت . یہ انسان کا حق ہے جسے کوئی چھین نہیں سکتا ، اگر دیکھا جائے تو انسان اور حیوان میں فرق تعلیم ہی کی بدولت ہے ، تعلیم کسی بھی قوم یا معاشرہ کے لئے ترقی کی ضامن ہے ، یہی تعلیم قوموں کی ترقی اور زوال کی وجہ بنتی ہے تعلیم حاصل کرنے کا مطلب صرف سکول ، کالج یونیورسٹی سے کوئی ڈگری لینا نہیں بلکہ اس کے ساتھ انسانی تعمیر و تہذیب کے امور کو بھی پروان چڑھانا ہے تاکہ انسان اپنی معاشرتی روایات اور اقتدار کا خیال رکھ سکے . تعلیم وہ زیور ہے جو انسان کا کردار سنوراتی ہے دنیا میں اگر ہر چیز دیکھی جائے تو وہ بانٹنے سے گھٹتی ہے مگر تعلیم ایک ایسی دولت ہے جو بانٹنے سے گھٹتی نہیں بلکہ بڑھ جاتی ہے اور انسان کو اشرف المخلوقات کا درجہ دیتی ہے . تعلیم حاصل کرنا ہر مذہب میں جائز ہے ، لیکن اسلام میں تعلیم حاصل کرنا فرض ہے آج کے اس پر آشوب و پرفتن دور میں تعلیم کی ضرورت بہت اہمیت کی حامل ہے ، کیونکہ آج کا دور کمپیوٹر ، ایٹمی ترقی اور سائنس و صنعتی ترقی کا دور ہے اس لئے اسکولوں میں بنیادی عصری تعلیم ، ٹیکنیکل تعلیم ، انجینئرنگ ، وکالت ، ڈاکٹری اور مختلف جدید علوم حاصل کرنا آج کے دور کا لازمی تقاضہ ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ دینی تعلیم کی بھی اپنی جگہ اہمیت ہے جو انسان کو انسانیت کے مقام پر لا کھڑا کرتی ہے .

اسلامی تاریخ گواہ ہے کہ مسلمانوں نے تعلیم و تربیت میں معراج پاکر دین و دنیا میں سربلندی اور ترقی حاصل کی لیکن جب بھی مسلمان علم اور تعلیم سے دور ہوئے وہ غلام بنا لئے گئے یا پھر بحیثیت قوم اپنی شناخت کھو بیٹھے اور ان کے بچوں کا مستقبل تاریک بن کر رہ گیا اور وہ تعلیم کی ریس میں پچھے رہ گئے . مغرب کی ترقی کا راز صرف تعلیم کو اہمیت دینا اور اس کے حصول کے لئے ہر ممکن کوشش کرنا ہے تاکہ وہ زندگی کے ہر میدان میں کامیابی سے اپنے آپ کو ہمکنار کر سکیں .

اگر کوئی بھی ملک چاہتا ہے کہ وہ ترقی کرے تو ان کو چاہئے کہ وہ اپنے تعلیمی اداروں کو مضبوط کریں ، آج تک جن قوموں نے ترقی کی ہے وہ صرف علم کی بدولت کی ہے علم کی اہمیت سے صرف نظر کرنا ممکن نہیں . زمانہ قدیم سے دور حاضر تک ہر متمدن و مہذب معاشرہ علم کی اہمیت سے واقف ہے فطرت بشری سے مطابقت کی بنا پر اسلام نے بھی علم حاصل کرنے کی حوصلہ افزائی کی ہے اس کے ابتدائی آثار ہمیں اسلام کے عہد مبارک میں ملتے ہیں چنانچہ غزوہ بدر کے قیدیوں کی رہائی کے لئے فدیہ کی رقم مقرر کی گئی تھی ان میں سے جو نادار تھے وہ بلا معاوضہ ہی چھوڑ دئے گئے لیکن جو لکھنا پڑھنا جانتے تھے انھیں حکم ہوا کہ دس دس بچوں کو لکھنا پڑھنا سکھا دیں تو چھوڑ دئے جائیں گے ، چنانچہ کاتب وحی سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے بھی اسی لئے لکھنا سیکھا تھا جس سے ہم تعلیم کی اہمیت کا بخوبی اندازہ لگا سکتے ہیں .

معاشرہ میں جو لوگ تعلیم حاصل کرتے ہیں خواہ وہ دینی ہو یا دنیاوی ، ان کا معاشرہ میں ایک الگ ہی مقام ہوتا ہے یہی وجہ ہے کہ اس کے عمر رسیدہ لوگ بھی اپنے تعلیم یافتہ نوجوانوں کی قدر صرف تعلیم کی وجہ سے کرتے نظر آتے ہیں .

اللہ ہم سبھوں کو مذکورہ باتوں پر عمل کی توفیق عطا فرمائے . آمین .

الہی دے مجھے طرز تکلم

میری آواز کو تو زندگی دے

مجھے افکار صالح بھی عطا کر

،میرے افکار کو تابندگی دے

--Advertisement--

اظہارخیال کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here