حضور صلی اللہ علیہ وسلم بحیثیت فرد خانہ

0
1173

راقم الحروف : مامدو محمد صدیق ندوی  ، ساکن نیو کالونی شیرور

جس وقت یہ دنیاۓ آب و گل آج سے تقریباً ساڑھے چودہ سو سال قبل گمراہی کے دشت و بیابان میں بھٹک رہی تھی ، اس کی اخلاقی گراوٹ اور معاشرتی برائیاں اپنے حدود کو پار کر چکی تھیں ، انسانیت کی کشتی طوفان کے بھنور میں پھنس کر اپنا وجود ختم کرنے والی تھی ، پیغمبرانہ تعلیمات اور ہدایات پر دبیز پردوں نے اپنا قبضہ جمالیا تھا ، رسولوں کے ارشادات اور پند و نصائح کے چراغ مکمل طور پر بجھ چکے تھے ، لوگ درندہ صفت انسان بن کر اپنے سینوں میں بھیڑیوں کا دل اٹھاۓ ہوۓ تھے ، اور روحانی طاقت و قوت سے مکمل طور پر خالی ہوچکے تھے .اسی اثناء میں اللہ تعالیٰ نے سسکتی و بلکتی انسانیت پر رحم کیا ، اور انسانیت کی ڈانواں ڈول کشتی کو بھنور سے ساحل سمندر تک پہنچایا ، وہ اپنے بندوں کو گمراہی میں رکھنا پسند نہیں کرتا اور بندوں کو ہدایت سے ہم کنار کرنے کے لۓ انبیاء اور رسولوں کو بھیجتا رہتا ہے ، اسی سلسلہ کی آخری کڑی کے طور پر اس نے نبی آخر الزماں محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کو دنیا میں مبعوث کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو کفر کی ظلمت و تارکی اور شرک کی اندھی تقلید سے نکال کر اسلام کی روشنی کی طرف لانے میں کوئی دقیقہ فروگذاشت نہیں کیا .

آپ صلی اللہ علیہ وسلم داعی الی اللہ کے ساتھ ساتھ معلمِ انسانیت بھی تھے ، خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا! ” إنما بعث معلما “. آپ نے معلم ہونے کی حیثیت سے چھوٹی سے چھوٹی اور بڑی سے بڑی ہر چیز کو صراحت کے ساتھ بیان کیا ، کوئی مسٔلہ معمہ و پیچیدہ نہ چھوڑا ، اور ہر مسٔلہ کو دو دو چار کی طرح واضح کردیا .

آپ صلی اللہ علیہ وسلم پوری انسانیت کے لیے نمونہ ہیں ، چاہے وہ گھریلو زندگی ہو یا معاشرتی زندگی ، کسی شخص کی گھریلو زندگی اس کی سیرت و کردار کا حقیقی آئینہ ہوتی ہے ، ہو سکتا ہے کہ آدمی جب اپنے اہل خانہ سے نکلتا ہو تو اپنی بھیس بدل کر نکلتا ہو اور جب گھر لوٹتا ہو تو اپنی اصلیت دکھاتا ہو اور گھر میں شیر کی طرح اہل خانہ پر برس پڑتا ہو اور گھر سے نکلنے کے بعد لوگوں کو بھلائی کی نصیحت کرتا ہو ، اس لۓ ہر فرد بشر کی اصل زندگی گھریلو زندگی ہوتی ہے .

اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی گھریلو زندگی کا جائزہ لیا جائے تو یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہوجاتی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پہلے خود عمل کرتے ، پھر دوسروں کو عمل کرنے کی تلقین کرتے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس شعر کے مصداق تھے .

جو کہا کرو وہ کیا کرو   جو نہ کر سکو وہ نہ کہا کرو

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا! ” خيركم خيركم لأهله وأنا خيركم لأهلي ” ( ترمذي/3895 ) .

آپ صلی اللہ علیہ وسلم خود فرما رہے ہیں کہ تم میں سے بہتر وہ شخص ہے جو اپنے اہل خانہ کے لے بہتر ہو ، اور میں اپنے اہل خانہ کے لئے تم میں سب سے بہتر ہوں . یہ ایک سچی حقیقت ہے کہ آپ جو فرماتے اس پر سب سے پہلے خود عمل پیرا ہوتے .

آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی گھر میں داخل ہونے کی کیفیت

آپ صلی اللہ علیہ و سلم کا معمول تھا کہ جب گھر میں داخل ہوتے تو ” السلام علیکم ” خود فرمایا کرتے تھے ، رات کے وقت جب گھر میں داخل ہوتے تو اتنی آہستگی سے سلام کرتے کہ ازواج مطہرات میں سے کوئی اگر جاگ رہی ہوتی تو سن کر جواب دیتی اور اگر کوئی سو رہی ہوتی تو اس کی نیند میں کوئی خلل نہ پڑتا . آپ سلام کرکے دوسروں کو تکلیف دینا جانتے ہی نہ تھے اور نہ ہی کسی کے ساتھ ایذا رسانی کا تصور آپ کے قریب سے گذرا تھا ، بلکہ آپ ہمیشہ دوسروں کی نفع رسانی کے لئے کوشاں رہتے تھے ۔

ازواج مطہرات سے محبت

آپ صلی اللہ علیہ و سلم ازواج مطہرات سے بے انتہا عقیدت و مؤدت سے پیش آتے ، شاید ہی کوئی خاوند آج اس طرح کی محبت و الفت اپنے شریک حیات سے رکھتا ہو ، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم مجھے پیار سے یا عائش کہہ کر پکارا کرتے تھے . ( مسلم/6304 اور کبھی کبھار ” یا حمیرا ” ( گوری چٹی ) کہہ کر آواز دیتے تھے . ( ابن ماجہ/2474 )

کیا کوئی آج اپنی اہلیہ کو اتنے اچھوتے و البیلے انداز سے بلاتا ہے ، غور کیجئے کہ آپ کو ازواج مطہرات کے ساتھ کتنا لگاؤ تھا اور جہاں تک حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا سے محبت کا تعلق ہے اسے سمجھنے کے لئے اتنا کافی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے اس وقت تک شادی نہیں کی جب تک حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا بقید حیات رہیں . ( مسلم/6281 )

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ ایک مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم میرے حجرہ کے دروازے پر کھڑے رہے اور حبشہ کے لوگوں کو مسجد میں جنگی کرتب کرتے ہوئے مجھے دکھاتے رہے ، آپ صلی اللہ علیہ و سلم مجھے اپنی چادر سے پردہ کراتے رہے ، تاکہ میں ان کے کرتب کو دیکھوں ، اور میں آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے کندھے اور آپ کے کان کے درمیان سے دیکھ رہی تھی ، آپ صلی اللہ علیہ و سلم میری وجہ سے کھڑے تھے اور جب تک میرے نفس کو کرتب دیکھنے سے تسکین نہیں ہوئی اس وقت تک میں نہیں ہٹی ، آپ صلی اللہ علیہ و سلم بھی اس وقت تک کھڑے رہے ، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہے ” فاقدروا قدر الجارية ، حديثة السن الحريصة على اللهو ” ( بخاری/2906 )

آپ خود اندازہ کرلیں کہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم کتنی دیر تک میرے لۓ کھڑے رہے ہوں گے ، جب کہ میں کم سن تھی ، جس طرح کم سن بچی کھیل کی شوقین ہوتی ہے ، اسی طرح کھیل کا شوق مجھے بھی تھا .

حضرت ابن قیم علیه الرحمة رقم طراز ہیں کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا جس برتن سے پانی وغیرہ پیتی آپ صلی اللہ علیہ و سلم وہ برتن لیتے ، اور آپ اپنا منھ مبارک وہیں رکھتے جہاں پر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا اپنا منھ رکھتی ، مزید بر آں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا ہڈی چوس کر برتن میں رکھنے کی دیر ہوتی آپ صلی اللہ علیہ و سلم فورا اس ہڈی کو اٹھاتے اور وہیں سے چوستے جہاں سے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے چوسا تھا . ( ذاد المعاد ، ج/1 ، ص/152 )

ازواج مطہرات کی سہیلیوں سے والہانہ عقیدت

آپ صلی اللہ علیہ و سلم ایک طرف ازواج مطہرات سے محبت کرتے تو دوسری طرف ان کی سہیلیوں سے بھی والہانہ عقیدت رکھتے تھے ، اور ان کے درمیان تحفے تحائف بھیجتے تھے ، آپ صلی اللہ علیہ و سلم جب بھی بکری ذبح کرتے تو حکم دیتے کہ تم‌ اس بکری کے گوشت کو حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کی سہلیوں کے پاس بھیج دو ، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں اس دن آگ بگولا ہوگئی ، میں نے کہا خدیجہ! آپ نے جواب دیا ، میرے رگ و پے میں حضرت خدیجہ کی محبت سرایت کرادی گئی ہے ،( مسلم/6178 )

آپ صلی اللہ علیہ و سلم حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کی وفات کے بعد بھی ان کی سہلیوں کا خیال رکھتے تھے .

گھریلو غلطیوں پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی چشم پوشی

اگر ازواج مطہرات سے کوئی گھریلو غلطی سرزد ہوجاتی ، تو آپ صلی اللہ علیہ و سلم چشم پوشی سے کام لیتے ، عفو و درگذر کرتے اور بے جا ڈانٹتے نہیں تھے ، ایک مرتبہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا آپ صلی اللہ علیہ و سلم سے بلند آواز سے گفتگو کررہی تھیں ، اتفاقاً حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ آگئے ، اور اپنی بیٹی کو تھپڑ رسید کرنا چاہا ، آپ صلی اللہ علیہ و سلم دونوں کے درمیان آگئے ، اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو بچالیا ، اسی غصہ کی حالت میں حضرت ابوبکر گھر لوٹے ، اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے حضرت عائشہ سے کہا! ( مزاحیہ انداز میں ) دیکھا میں نے تم کوکس طرح بچایا .( ابوداؤد/4999 )

حالانکہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا چرب زبانی اور زبان درازی سے گفتگو کررہی تھی ، آپ ان کو سزا دینے پر قادر تھے ، اس کے باوجود بھی آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنے منھ سے ایک لفظ بھی نہیں نکالا .

اسی طرح کا ایک اور واقعہ ہے کہ حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا نے آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے لئے کچھ کھانا تیار کیا اور آپ کی خدمت میں بھیج دیا ، اس وقت آپ صلی اللہ علیہ و سلم حضرت عائشہ کے گھر تشریف فرما تھے ، تو کیا دیکھتے ہیں کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی غیرت بھڑک اٹھی ، انھوں نے ہاتھ جھٹک دیا تو پیالہ گر کر ٹوٹ گیا ، آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے از خود پیالہ کے ٹکڑوں کو اکھٹا کیا ، اور اس کے بدلہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا دوسرا پیالہ حضرت صفیہ کےگھر بھیج دیا ، ( بخاری/2481 )

 گھریلو خدمات

آج کل اگر اہلیہ کے ساتھ مل کر گھریلو کام کاج کیا جائے اور بیوی کے کاموں میں ہاتھ بٹھایا جائے تو لوگ کہنے لگتے ہیں کہ یہ کب سےبیوی کا نوکر بن گیا جس کے نتیجہ میں اسے طرح طرح کے طعنوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے ، حالانکہ محمد عربی صلی اللہ علیہ و سلم اللہ کے رسول ہونے کے باوجود گھر کے کاموں میں حصہ لیتے ، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے کسی نے پوچھا کہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی گھریلو زندگی کیسی تھی یعنی گھر میں کیا کیا خدمات انجام دیتے تھے ؟ تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے جواب دیا کہ اہل خانہ کی خدمت کرتے ، کپڑوں کو پیوند لگاتے ، دودھ دوہتے اور اپنی خدمت خود کیا کرتے تھے ۔ ( مسند احمد/126194 )

تفریح و مزاح

آپ صلی اللہ علیہ و سلم کبھی کبھار اپنی ازواج مطہرات کے ساتھ تفریح بھی کیا کرتے تھے ، ان کے دل بہلانے کا کام انجام دیتے تھے ، آپ صلی اللہ علیہ و سلم حضرت عائشہ کے ساتھ دوڑ کا مقابلہ کرتے تو حضرت عائشہ آپ سے ہمیشہ سبقت لے جاتی تھیں ، لیکن ایک مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم حضرت عائشہ سے سبقت لے گئے ، اس وقت حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا جسم کے اعتبار سے بھاری ہوگئی تھی ، ( ابو داؤد/4932 )

ایک مرتبہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا گڑیوں سے کھیل رہی تھی ان میں سے ایک گھوڑا ایسا تھا ، جس پر کاغذ کے پر تھے آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے پوچھا! کیسا گھوڑا ہے جس کے پر بھی ہیں ؟ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے جواب دیا! کہ کیا حضرت سلیمان علیہ السلام کے دو گھوڑوں کو پر نہیں تھے ؟ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے جواب سن کر مسکرایا . ( ابو داؤد/4932 )

راۓ مشورہ طلب کرنا

آپ صلی اللہ علیہ و سلم ہر کام مشورہ سے کیا کرتے تھے ، حتی کہ دینی امور میں بھی اپنی ازواج سے مشورہ طلب فرماتے تھے ، جب کہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم اس بات سے بخوبی واقف تھے کہ صنف نازک کم عقل ہوتی ہے ، اس کے باوجود بھی آپ ان سے مشورہ لیا کرتے تھے .

صلح حدیبیہ کے موقعہ پر آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے صحابہِ کرام کو حکم دیا کہ وہ ہدی کا جانور ذبح کریں ، صحابہ کرام نے اس حکم کی تعمیل نہیں کی ، تو اس لحاظ سے آپ صلی صلی اللہ علیہ و سلم کو گزند پہنچا ، اور الجھن میں پڑگئے ، آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے ام سلمہ سے شکایت کی اور مشورہ طلب کیا تو حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے مشورہ دیا کہ آپ خود پہلے ہدی کا جانور ذبح کیجۓ ، تو آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے ام سلمہ کی بات مان لی ، اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے پہلے ہدی کا جانور ذبح کیا ، پھر دیکھا دیکھی صحابہ کرام نے ہدی کے جانور ذبح کئے ، ( بخاری/2732 )

آپ صلی اللہ علیہ و سلم ازواج مطہرات سے بھی مشورہ لیتے ، اور خوشی سے اس پر عمل پیرا ہوتے ، اس میں بھی ہمارے لئے ایک بہترین اسوہ موجود ہے ، حالانکہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم کو مشورے کی چنداں ضرورت نہیں تھی ، بلکہ یہ سب آپ نے امت کی تعلیمات کے لئے کیا تھا ، جب کھبی خواتین سے بھی مشورہ لینے کی ضرورت پڑے ، تو ہمیں ان سے مشورہ کرنا چاہئے ، لیکن ان کو امیر نہیں بنانا چاہئے .

مزاج شناسی

ازدواجی زندگی میں منسلک ہونے کے بعد میاں بیوی کا ایک دوسرے کے مزاج کو سمجھنا اشد ضروری ہے ، بسا اوقات چھوٹی چھوٹی باتوں پر نوک جھونک کا سلسلہ طلاق تک پہنچا دیتا ہے ، آپ صلی اللہ علیہ و سلم اپنی ازواج مطہرات کی طبیعت سے خوب واقف تھے ، ایک مرتبہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا! کہ جب تو مجھ سے ناراض ہوتی ہے ، تو مجھے اس کا پتہ چلتا ہے ، پوچھا! کیسے ؟ فرمایا! جب تو ناراض ہوتی ہے ، تَو تُو رب ابراہیم کی قسم کہتی ہے ، اور جب تو مجھ سے ناراض نہیں ہوتی تو تو رب محمد کی قسم کہتی ہے ، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے اقرار کرتے ہوئے کہا! حضور میں تو صرف آپ کا نام چھوڑتی ہوں ، ( بخاری/5228 )

ازواج مطہرات کے مابین عدل و انصاف

آپ صلی اللہ علیہ و سلم عدل کے پیکر اور انصاف پسند تھے ، ہر چیز میں انصاف سے کام لیتے ، آپ صلی اللہ علیہ و سلم ناانصافی کو جانتے ہی نہیں تھے . آپ صلی اللہ علیہ و سلم لوگوں کو انصاف کی تعلیم دیتے تھے اور خود بھی انصاف کرتے تھے .آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے ازواج مطہرات کے لئے باریاں مقرر فرمائی تھیں ، ایک دن ایک اہلیہ کے گھر جاکر آرام فرماتے تو دوسرے دن دوسری شریک حیات کے یہاں جاکر رات گزارتے اور جب جب بھی آپ صلی اللہ علیہ و سلم رخت سفر باندھتے تو جمیع ازواج مطہرات کے مابین قرعہ اندازی کرتے تھے ، جس زوج اطہر کا نام قرعہ میں نکل آتا تو آپ اس کے ہمراہ سفر کرتے ، آپ صلی اللہ علیہ و سلم کسی بھی کام میں انصاف کا دامن ترک نہیں کرتے تھے ، جن حضرات کی ایک سے زائد شریک حیات ہیں وہ اپنے شریک حیات کے ساتھ انصاف کریں ، یہ بھی سنت نبوی ہے ، اگر انصاف کا دامن ہاتھ سے چھوٹ گیا ، تو قیامت کے دن اس کا ایک کندھا جھکا ہوا ہوگا ، اسی لۓ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے ہمیں انصاف کا عملی نمونہ پیش کیا ہے .

ازواج مطہرات کی دینی اصلاح کی فکر

اکثر و بیشتر عورتوں کے اندر فطرتاً بری خصلتیں پائی جاتی ہیں ان کی بری خصلتوں میں چغل خوری بھی پنہاں ہے اور اسی طرح کسی کا مذاق اڑانا اور دوسروں کی خامیوں کو بیان کرنا وغیرہ وغیرہ . حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کہہ دیا کہ ” حسبك من صفیة كذا و كذا تعني القصيرة “

آپ کو تو صرف حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا کی ایک صفت کافی ہے غالباً ہاتھ کے اشارہ سے بتایا کہ ان کا پست قد ہونا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا کہ تو نے اپنی زبان سے ایسا لفظ نکالا ہے کہ اگر اس کو سمندر میں ملا دیا جائے یے تو وہ لفظ بورے سمندر پر غالب آئے گا . ( ابو داود/4875 )

ازواج مطہرات بھی عورتیں ہی تو تھیں ، لیکن ان کا مقام آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شریک حیات بن کر دوبالا ہو گیا تھا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سنتے ہی اس بات کی نکیر فرمائی آئے اور اس قول کی شناعت بیان کی ۔حقیقی خاوند وہی ہے جو اپنے شریک حیات کو دنیا میں خوش کرنے کے ساتھ ساتھ اخروی زندگی میں بھی خوش رکھنے کی فکر کرے ، آپ صلی اللہ علیہ و سلم وقتاً فوقتاً ازواج مطہرات کو غلط کاموں سے روکتے اور ٹوکتے رہتے اور ان کی زبانوں کو ایسے الفاظ صادر ہونے سے باز رکھتے جو دوسروں کی دل شکنی کا ذریعہ بنیں اور آخرت میں میں اس کا عذاب سہنا پڑے ، کیا ہم نے اپنی ازواج کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جیسا سلوک کیا ؟ کیا ہم نے ان کی آخرت سنوارنے کی فکر کی؟ کیا ہم نے ان کو دین کی باتیں سمجھائیں ؟ حالانکہ اس بھی ہمارے لئے اسوہ تھا .

اولاد کے ساتھ محبت

دنیا کا یہ دستور چلا آرہا ہے کہ جو انسان خاوند ہوتا ہے ، وہ اکثر و بیشتر والد ماجد بھی بن جاتا ہے ، اس کی اولاد ہوتی ہے ، بالکل اسی طرح سرور کائنات محمد صلی اللہ علیہ وسلم بھی ہماری طرح انسان تھے اور اللہ نے ان کو بھی اولاد سے نوازا تھا۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہر ایک کے لئے نمونہ ہیں جب انسان والد ماجد بن جاتا ہے اس کے لئے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نمونہ ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی اولاد سے حد درجہ محبت رکھتے تھے ان کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آتے تھے اسی بنا حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی بھی اپنی اولاد پر ہاتھ نہیں اٹھایا اور نہ کسی اولاد کو زدوکوب کیا اور نہ کسی کو سخت سست کہا ، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وصف بیانی کرتے ہوئے ارشاد فرماتی ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی پر ہاتھ نہیں اٹھایا اور نہ کسی بچہ کو مارا ( سیرت النبی ، ج/2 ، ص/176 )

آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نرینہ اولاد بچپن میں ہی اللہ کو پیاری ہو گئی تھی ، لہذا ان کے ساتھ رہنے کا زیادہ موقعہ نہیں ملا تھا ، مگر صاحبزادیاں آپ ہی کے ساتھ پروان چڑھیں ، آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے ان کی شادیاں کرا دیں اور وہ بھی اپنی زندگی گزارنے لگیں ، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں کبھی نہیں ڈانٹا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا سے زیادہ محبت کرتے تھے ، ان کی محبت کا یہ حال تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک موقعہ پر ارشاد فرمایا! ” إنما فاطمة بضعة منى ، يؤذيني ما اٰذاها “.

حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا میرے جسم کا ٹکڑا ہے حضرت فاطمہ کو تکلیف دینا مجھے تکلیف دینے کے مترادف ہے .

آپ صلی اللہ علیہ وسلم صرف حضرت فاطمہ سے ہی محبت نہیں کرتے تھے ، بلکہ ان کی اولاد سے بھی محبت فرمایا کرتے تھے اور ان کو کندھے پر رکھ کر گھماتے تھے اور جب کبھی حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے گھر جاتے ، تو فرماتے میرے بچوں کو لے آؤ ، حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا حسن اور حسین دونوں کو لے آتیں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کو سونگھتے اور سینے سے چمٹا کر پیار کرتے ، ( ترمذی/3772 )

اس سے اندازہ لگایا جاسکتا کہ آپ کو نواسوں سے کس قدر محبت تھی اور اسی محبت کی وجہ سے یہاں تک کہہ دیا! ” من احب الحسن والحسين فقد احبني ومن ابغضهما فقد ابغضني ” ( ابن ماجہ/143 )

جس نے حسن اور حسین سے محبت کی اس نے حقیقتاً مجھ سے محبت کی اور جس نے ان دونوں سے بغض رکھا ، اس نے حقیقتاً مجھ سے بغض رکھا . ایک مرتبہ حضرت حسن کے متعلق فرمایا! ” اللَّهُمَّ إِنِّي أُحِبُّهُ فَأَحِبَّهُ وَأَحِبَّ مَنْ يُحِبُّهُ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏! وَضَمَّهُ إِلَى صَدْرِهِ . نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حسن رضی اللہ عنہ کے بارے میں فرمایا! اے اللہ! میں اس سے محبت کرتا ہوں تو بھی اس سے محبت کر اور اس سے بھی محبت کر جو اس سے محبت کرے . ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ یہ فرما کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو اپنے سینے سے لگا لیا . ( ابن ماجہ/142 )

ایک مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم حسن بن علی کو اپنے کندھے پر اٹھائے ہوئے تھے تو ایک آدمی نے کہا ہاں! اے غلام! تو بہترین سواری پر سوار ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا! سواری بھی کیسی اعلی ہے ( مشکوٰۃ ج/2 ، ص/571 )

یہ تھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وہ خانگی زندگی جو آپ نے اپنے اہل خانہ کے ساتھ بسر کی ، اگر آج بھی ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی گھریلو زندگی کو اپنا اسوہ بنائیں گے تو ہماری بھی خانگی زندگی خوشگوار ہوگی ، اور دنیا ہی میں جنت کا مزہ آنے لگے گا .

--Advertisement--

اظہارخیال کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here