فرد کی اصلاح معاشرہ کی اصلاح

0
2105

بقلم : محمد زبیر ندوی شیروری ، کرناٹکی

معاشرہ ، ماحول اور سماج یہ ایسے الفاظ ہیں جنھیں تعلیم یافتہ و غیر تعلیم یافتہ کثرت سے استعمال کرتے ہیں ، بالخصوص اس وقت جب وہ حیاء ، فطرت ، اصول و آدابِ دین اور اپنے مزاج و ذوق کے خلاف کوئی چیز دیکھتے ہیں تو فی الفور یہ کہتے ہیں کہ ماحول خراب ہو گیا ہے ، معاشرہ تباہ و برباد ہوا ہے اور اس کے اندر برائیوں کے بے شمار محرکات جنم لے چکے ہیں اور سماج تباہی کے دہانے پر پہنچ چکا ہے .

در حقیقت معاشرہ اولادِ آدم کے ایک ساتھ رہنے سہنے کا نام ہے ۔ یہ ایک طے شدہ حقیقت ہے کہ معاشرہ انسانوں کا ہوتا ہے جانوروں کا نہیں ، جہاں انسان نہ ہو اسے جنگل ، بیاباں ، صحراء ، سمندر اور خلا جیسے نام دئےجاتے ہیں ، لیکن کوئی اسے معاشرہ نہیں کہتا ، اور نہ ہی اس کو لفظ معاشرہ کے لفظ سے تعبیر کرتا ہے ۔ اگر چہ کہ وہاں کی آب و ہوا کتنی ہی پاکیزہ اور خوش گوار ہی کیوں نہ ہو ؟

انسان کی فطرت ، جبلت اور سرشت میں یہ چیز داخل ہے کہ وہ ایک دوسرے سے مل جل کر رہنا پسند کرتا ہے وہ مفارقت برداشت نہیں کر سکتا . کیونکہ زندگی کا لطف و سرور مل جل کر رہنے میں ہی پنہاں ہے ۔ انسان کی پیدائش کا جو نظام اللہ تعالیٰ نے رکھا ہے اس کے لیے بھی انسان کو دوسرے انسان کی ضرورت ہے . اس سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ جب ایک فرد معاشرہ کے خراب ہونے کا تذکرہ کرتا ہے تو اس کا اشارہ لوگوں کی طرف ہوتا ہے کہ لوگوں کا عمل خراب ہوگیا ہے ۔ معاشرہ کے اندر مختلف الألوان اطوار ، افکار و عادات اور نفسیات کے لوگ ہوا کرتے ہیں . کچھ تعلیم یافتہ تو کچھ غیر تعلیم یافتہ . جن کے باعث کبھی اچھی چیزیں معاشرہ میں رونما ہوتی ہیں تو کبھی حالات کشیدہ ہوا کرتے ہیں جن میں ہمیں اور آپ کو رہنا ہوتا ہے . اب سوال یہ ہے کہ معاشرہ کے اندر ہونے والی تمام برائیوں کے محرکات کا تدارک کس طرح ہو اور اس کی اصلاح کا آغاز کہاں سے کیا جائے ؟

کتابوں کے مطالعہ اور ورق گردانی سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ ہمیں پہلے یہ جاننا ضروری ہے کہ معاشرہ کے اصلاح کی شروعات گھر سے ہوتی ہے ، کیونکہ بچہ جب دنیا میں جنم لیتا ہے تو اس کے لئے معاشرہ اس کے والدین سے ہی شروع ہوتا ہے . انسان کی شخصیت دو ماحولوں کے اندر پرورش پاتی ہے ، ایک گھریلو ماحول اور دوسرا خارجی ماحول ۔ ہم کہہ سکتے ہیں کہ انسان کی شخصیت موروثی عوامل اور بیرونی عوامل سے مل کر تشکیل پاتی ہے . ماحول میں جو چیز سب سے پہلے انسان کی شخصیت کو متاثر کرتی ہے وہ اس کے والدین کا کردار ہے ۔ اسی حقیقت کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے ایک حدیث میں یوں بیان فرمایا ہے کہ ” ہر بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے ، پھر اس کے والدین اسے عیسائی ، یہودی یا مجوسی بنا دیتے ہیں ” دراصل یہ والدین ہی ہوتے ہیں جو انسان کی زندگی کے لئے سب سے پہلا ماڈل ہوتے ہیں ، بچے اپنے معصوم تخیل میں والدین کو اونچی مسند پر دیکھتے ہیں ، ان کی کائنات ہی گہوارۂ والدین ہوتی ہے ۔ ماں باپ کی ہر بات بچوں کے لئے اہم ہوتی ہے اور ان کا عمل تو گویا بچوں کے لیے قابل تقلید و نمونہ ہوتا ہے ۔ اس لحاظ سے میاں بیوی کے باہمی برتاؤ اور میل جول کے اثرات براہ راست بچوں پر اثر انداز ہوتے ہیں ۔ میاں بیوی جس طرح گھر میں رہتے ہوں ، اس رہن سہن کی چھاپ بچوں پر پڑتی ہے ۔لیکن ہمارا معاشرہ کی توجہ اس چیز پر اکثر نہیں ہوتی ۔حالانکہ اس اہم ذمہ داری کی طرف قرآن و حدیث میں جابجا واضح احکامات دئے گئے ہیں اور اولاد کی تعلیم و تربیت کی تاکید کر کے اس بات کو واضح کیا گیا ہے کہ اگر والدین نے بچوں کی تعلیم و تربیت کی طرف توجہ نہیں کی تو یہ بڑے خطرہ کی چیز ہو گی اور اس خطرناک نتائج کی ذمہ داری والدین پر ہوگی ۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ ” اپنے آپ اور اپنے اہل و عیال کو ( جہنم کی ) آگ سے بچاؤ “

اسی طرح ایک حدیث میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا ! ” کلکم راع و کلکم مسئول عن رعیته ” یعنی تم میں سے ہر ایک ’’راعی‘‘ یعنی ذمہ دار ہے اور وہ اپنی رعیت کے بارے میں پوچھا جائے گا .

بچوں کی اچھی تعلیم و تربیت کے ذریعہ اچھا سماج تشکیل دیا جا سکتا ہے . آج سماجی الجھنیں تعلیم و تربیت کی خامیوں کی پیدا کردہ ہیں ۔ موجودہ سماج میں دنیوی تعلیم پر توجہ دی جارہی ہے لیکن اسلامی اخلاق و تربیت پر توجہ نہ دینے کے باعث تعلیم یافتہ سماج ظلم ، ناانصافی اور حق تلفی کے گھناؤنے مرض کا شکار ہوتا جا رہا ہے ۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ و وسلم نے فرمایا ! ” کسی باپ نے اپنے بچہ کو کوئی عطیہ اور تحفہ ادب یعنی اچھی سیرت سے بہتر نہیں دیا ( رواہ الترمذی ) ۔دوسری جگہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کا یہ بھی ارشاد ہے کہ ’’ اپنے بچوں کا اکرام کرو اور انھیں اچھی تربیت دو ” ۔ بچوں کے اکرام کا مفہوم یہ ہے کہ بچوں کو پیار دیں اور ان کو تعلیم دینے کے لیے ادب سے بلائیں تاکہ وہ والدین کی جانب سے کسی توہین کا احساس نہ کریں ۔ والدین چونکہ پہلی درسگاہ ہوتے ہیں ، اسی لئے ان کا باعمل ، بااخلاق اور مضبوط کردار کا ہونا نہایت ضروری ہے ۔بچے ابتدائی سالوں میں والدین کی زیر نگرانی تربیت حاصل کرتے ہیں ، اس عرصہ کے دوران والدین کو چاہئے کہ بچوں کی تربیت پر اپنی توجہات مرکوز کریں ۔ اپنی تمام تر مصروفیات و مشاغل کے باوجود ان کی بہترین تربیت کی خاطر اپنی تربیت کریں ۔ جی ہاں ! اپنی تربیت ، یہ بہت ضروری ہے کیونکہ آپ بچوں سے ہزار مرتبہ بھی ایک اچھی بات کہیں تو وہ اتنا اثر نہیں رکھتی جتنا آپ کا ایک مرتبہ کا کیا ہوا معمولی سا عمل اثر رکھتا ہے . آپ کے بچوں کو بڑوں کے ادب پر کئی لکچرز دیں ، وہ کبھی بھی ادب نہیں کریں گے اگر آپ نہیں کرتے ۔ آپ والدین کے حقوق پر اسلام کا نقطۂ نظر بالکل واضح کر دیں مگر وہ کبھی آپ کے حقوق ادا نہیں کریں گے اگر انھوں نے آپ کو آپ کے والدین کی حق تلفی کرتے دیکھا ہو ۔ آپ بڑی رقم خرچ کرکے بچوں کو بڑے قاری سے تعلیم دلوائیں مگر اس کے دل میں قرآن سے محبت و اُنس شاید ہی پیدا ہو پائے ، اگر وہ آپ کو قرآن کے ساتھ وقت گزارتے نہیں دیکھتے ( الا ماشاء اللہ ) ۔ آپ بچوں کو کتنی بھی نماز کی تلقین کیجئے لیکن اگر آپ خود نماز کے پابند نہیں تو آپ کی تلقین بے اثر ثابت ہوگی ۔ بچے آپ کے عمل کو دیکھتے ہیں نہ کہ آپ کی باتوں کو ۔ آپ بچوں کے سامنے نماز پڑھیں آپ دیکھیں گے کہ وہ بھی آپ کی حرکات کی نقل کریں گے ۔ آپ گھر میں کسی کی غیبت کرتے ہیں تو وہ بھی ان ساری برائیوں کو دیکھ لیتے ہیں اور آگے چل کر وہ بھی وہی حرکات کرتے ہیں جو وہ اپنے گھر میں دیکھ چکے ہوتے ہیں ۔ غرض بچوں کی زندگی میں ہر وہ چیز اہمیت کی حامل نہیں ہوگی جو والدین کی زندگی میں اہمیت کی حامل نہیں تھی اور ہر وہ چیز اہمیت کی حامل ہوگی جو والدین کی زندگی میں اہمیت کی حامل تھی ۔ لہذا ہر ذی شعور ، صاحب فہم و فراست اور عقل ودانش پر ضروری ہے کہ وہ اپنی اولاد کی تربیت اسلامی نہج کے مطابق کرے تاکہ اولاد ان کے لئے دنیا اور آخرت میں فائدہ مند ثابت ہو اور معاشرہ میں اپنے والدین کے لئے باعث عزت بنے نہ کہ باعث ذلت ۔

یاد رہے کہ بچے صاف ورق کی طرح خالی الذہن ہوتے ہیں اور اپنے ماحول سے متاثر ہوتے رہتے ہیں . ان کے ذہنی ورق پر جو بھی رنگ چھاپ دیا جائے وہ اسی میں رنگ جاتے ہیں ۔ اس لئے ضروری ہے کہ بچوں کو ماحول و معاشرہ کے حوالہ کرنے سے پہلے ان کی نظریاتی تربیت کی جائے ۔ ممکن ہے کہ آپ بچوں کو گھر پر برائی سے بچائیں مگر وہی چیزیں بچے اسکول میں یا کسی دوسری جگہ دیکھ لیں تب آپ اسے بچانے کے لئے وہاں موجود نہیں ہوں . اسی لئے بچوں کو اچھائی یا برائی کا حکم دینے کے ساتھ اس کی عملی تصویر پیش کرتے ہوئے اس حکم کی حکمتیں اور فوائد بھی سمجھائیں ۔ اچھائی اور برائی کی بنیادی تمیز ان کے دلوں میں راسخ کریں تاکہ وہ کسی معتبر شخص کو بھی برائی میں مبتلا پائیں تو اس برائی کو برا ہی سمجھیں ، نہ کہ وہ ایسے کمزور ذہنیت کے حامل ہوں کہ ان کا نظریہ انسانوں کے ساتھ بدلتا رہے ۔ ہمیں چاہئے کہ ہم ان نرم و نازک شاخوں اور کونپلوں کا رُخ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کی طرف موڑ دیں اور ان کے بڑا ہونے کا انتظار نہ کریں تاکہ کل قیامت کے دن ہمارے لیے صدقۂ جاریہ بن سکیں ۔ بچوں کو معاشرہ کے حوالہ کرنے سے قبل ان کے اندر اسلام اور خیر و شر کے بنیادی نظریات راسخ کریں مگر اس کے لئے خود آپ کے اندر خیر و شر کی تمیز کا ہونا ضروری ہے ۔بچوں کی تربیت میں جو چیزیں معاون اور مددگار ثابت ہوتی ہیں ان کو اپنے علم میں رکھیں کیونکہ ایک فرد کی اصلاح معاشرہ کی اصلاح پر منحصر ہے .انسان کی ایک کمزور سوچ یہ بھی ہوتی ہے کہ وہ اوروں کی خامیوں کو مد نظر رکھتا ہے اور اصلاح چاہتا ہے جبکہ خود کو بھول جاتا ہے . حالانکہ کہ پہلے خود کے احتساب کی ضرورت ہوتی ہے . کیونکہ سچ تو یہ ہے کہ جب تک ہم نہیں بدلیں گے حالات نہیں بدلیں گے . پہلے ہمیں بدلنا ہوگا پھر ان شاء اللہ اس کے خیر و برکت والے اثرات سے معاشرہ کے حالات بدلیں گے .

اللہ ہمیں اپنی مسئولیات و ذمہ داریوں کو سمجھنے اور انھیں نبھانے کے لئے سب سے پہلے اپنی اصلاح کی توفیق عطا فرمائے . آمین .

--Advertisement--

اظہارخیال کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here