عید الفطر اور عید الاضحیٰ کے تفصیلی احکام

0
1193

از : مولانا عبدالقادر بن إسماعيل فیضان باقوی ، جامعہ آباد تینگن گنڈی ، بھٹکل ، امام و خطیب جامع مسجد محمد عشیر علی سلیمان المزروعی ، ابو ظبی ، متحدہ عرب امارات .

الحمدلله الذی ارسل الرسل مبشرین ومنذرین ، وأنزل معھم الکتاب بالحق المبین ، والصلوة والسلام علی سیدنا وحبیبنا خاتم الانبیاء و المرسلین ، وعلی آله وصحبه أجمعین ، ومن تبعھم بإحسان الی یوم الدین . امابعد :

لفظ عید عود سے مشتق ہے اور یہ تکرر یعنی بار بار لوٹنے کے معنی میں آتا ہے ، کیونکہ دونوں عیدیں ہر سال لوٹتی ہیں ، یا اس وجہ سے کہ ان دونوں کے لوٹنے پر خوشی لوٹتی ہے ، یا اس کی وجہ یہ ہے کہ ان دونوں عیدوں میں بندوں پر اللہ جل مجدہ کا احسان لوٹتا ہے .

عیدین کی نمازوں کے سنت ہونے کے دلائل

نماز عیدین کا سنت ہونا کتاب اللہ ، سنت اور اجماع سے ثابت ہے . عید کے لئے اصل ( بنیاد ) اجماع سے پہلے آئی ہوئی آیات کریمہ اور احادیث نبویہ ہیں ، اللہ سبحانہ و تعالیٰ اپنی پاک کتاب مکنون میں فرماتا ہے ” فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرْ “. پس تو اپنے رب کے لئے نماز پڑھ اور نحر کر . ( سورۃ الکوثر/2 )

کتب تفاسیر میں اس سے مراد عیدالاضحی کی نماز پڑھنا اور قربانی کے جانور کو نحر کرنا ہے . بہر حال عیدوں کے لئے سنت سے استدلال کرنا اس طرح سے ہے کہ دونوں عیدیں حدیثِ تواتر سے ثابت ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عیدین پڑھا کرتے تھے .

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنھما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، ابوبکر ، عمر اور عثمان ( رضی اللہ عنھم ) کے ساتھ میں عید کے لئے آیا ، یہ تمام لوگ خطبوں سے پہلے نماز عید ادا کیا کرتے تھے .

اجماعِ امت سے یوں استدلال کیا گیا ہے کہ تمام مسلمان عید کی نماز مشروع ہونے پر متفق ہوئے ہیں . ( حاشیہِ تہذیب ، ص/37 ) دوسری طرف اگر ہم مشروعیتِ عید کے تایخی پہلو پر نظر ڈالیں تو عیدالفطر کی مشروعیت سنہ ہجری دو کو عمل میں آئی اور اس کو ادا کیا گیا ، اور رمضان المبارک کے روزوں کا واجب ہونا بھی اسی سال شعبان میں تھا ، اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی اس کو ترک نہیں کیا .

نمازِ عیدین کا حکم

جمہور علماء کرام اور ائمہ ثلاثہ کے نزدیک عیدین کی نماز سنتِ مؤکدہ ہے ، ( احناف کے پاس واجب ) ان کا جماعت کے ساتھ ادا کرنا بھی سنت ہے ، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عیدین کی نمازیں باجماعت ادا فرمائی ہیں ۔

عیدین کی نمازیں منفرد ( اکیلا نماز ادا کرنے والے ) غلام ، عورت ، مسافر ، خواجہ سرا اور بچہ تمام کے لئے سنت ہے . احناف کے پاس ہر اس شخص پر نماز عیدین واجب ہیں جس پر جمعہ فرض ہوتا ہے ، یہی وجہ ہے کہ خواجہ سرا ، بچہ ، مسافر ، بیمار ، بیٹھے ہوئے شخص اور عذر والے پر عیدین واجب نہیں ، البتہ اگر انھوں نے عیدین کی نمازیں ادا کیں تو صحیح ہوں گی اور ثواب حاصل ہوگا . ( حاشیہِ تہذیب ، ص/37 )

مالکیہ کے پاس ہر اس شخص پر نماز عید سنت مؤکدہ ہے جس پر جمعہ واجب ہوتا ہے .

نماز عید کا وقت

عید کی نماز کا وقت طلوع آفتاب سے شروع ہوکر زوال آفتاب تک رہتا ہے ، تاہم آفتاب کا ایک معتدل نیزہ کے برابر اوپر آنے تک تاخیر کر کے ادا کرنا سنت ہے . عیدین کی نماز اجماعاً دو رکعات ہیں . ارکان وشروط میں اس کا حکم بھی دوسری نمازوں ہی کا سا ہے .

نیت و ترتیب نماز

عیدالفطر کی نیت اس طرح کریں ، أصلی سنة عيدالفطر ركعتين مع الإمام مستقبلا أداء لله تعالى . میں عیدالفطر کی سنت دو رکعت نماز اللہ کے لئے امام کے ساتھ قبلہ بہ رخ ہو کر ادا کرتا ہوں . ( نماز اگر عیدالاضحٰی کی ہو تو عیدالاضحٰی کا لفظ بولیں ) اس کے ساتھ ہی ” الله اکبر ” کہیں . ( احناف حضرات سنت کی جگہ میں واجب کا لفظ استعمال کریں ، ویسے عیدالفطر کے الفاظ تمام قسم کی نماز وں کی صلاحیت رکھتے ہیں ) پھر دعاءِ افتتاح ” وجهت ” يا ” أللهم باعد بينی ” الخ ، وغیرہ پڑھیں ، ( احناف حضرات ” سبحانك اللهم وبحمدك ” الخ ، پڑھیں ) پھر قرأت کا آغاز کرنے سے پہلے دونوں ہاتھ اٹھا کر تکبیر تحریمہ کے علاوہ سات تکبیریں کہیں ، کثیر بن عبداللہ کی اپنے باپ اپنے دادا سے روایت کردہ حدیث صحیح یا حسن سے استدلال کرتے ہوئے ، ( معتمد یہی ہے کہ یہ حدیث صحیح ہے ) کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے دو عیدوں میں تکبیریں کہیں ، پہلی ( رکعت ) میں قرأت سے پہلے سات ، اور دوسری میں قرأت سے پہلے پانچ . ( ترمذی ، ابن ماجہ ، دارمی )

حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا سے روایت کردہ حدیث ہے کہ ” رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم فطر اور اضحی میں تکبیر کہا کرتے تھے ، پہلی میں سات آور دوسری میں پانچ “. ( احمد ، ابوداؤد ، دارقطنی ، حاکم ، بیہقی ) . ( امام ابوحنیفہ کے پاس پہلی رکعت میں تکبیر تحریمہ کے بعد قرات سے پہلے تین ، اور دوسری میں قرأت کے بعد تین ) ان سات تکبیروں میں سے ہر دو تکبیروں کے درمیان ایک معتدل آیت کے بقدر ٹھہریں ، اور اس میں ” سبحان الله والحمد لله ولا إله إلا الله والله اكبر ” کہے . ( اگر اس سے زیادہ پڑھیں تو جائز ہے ، جیسا کہ ” بویطی” ( امام شافعی کی تصنیف کا نام ) میں اس کا تذکرہ ہے ، اگر وہ اذکار پڑھے جائیں جو لوگوں کی عادت ہے تو احسن ہے ، جو یہ ہیں ” الله أكبر كبيرا ، والحمدلله كثيرا ، وسبحان الله بكرة وأصيلا ، وصلي الله علي سيدنا محمد تسليما كثيرا ‘ اس کو ابن صباغ نے کہا ،( نہایة ، ج/2 ، ص/388 ) ( دو امام ، ابوحنیفہ اور مالک رحمھما اللہ کے پاس تکبیروں کے درمیان فاصلہ کئے بغیر متواتر تکبیرات کہنی ہیں ، ( فقہ السنہ ، ج/1 ، ص/242 ) لیکن بعض علماء نے خاموش رہنے کے جواز کے ساتھ ” سبحان الله ، والحمد لله ، ولا إله إلا الله والله اكبر ” کو کہنے میں کوئی حرج نہیں سمجھا ہے . ( دیکھئے ، الفقه علي المذاهب الأربعة ” کے ج/1 ، ص/365 پر ) پھر آخری تکبیر کے بعد دوسری نمازوں کی طرح تعوذ پڑھ کر سورہ فاتحہ اور کوئی سورت پڑھیں ، اور دوسری رکعت میں قیام کی تکبیر کے بعد پہلی رکعت کی طرح ہی تعوذ اور قرات سے پہلے پانچ تکبیریں کہہ کر اسی ترتیب سے نماز ادا کریں .

اس نماز کے لئے اذان وأقامت نہیں ہے ، امام مصلّیٰ پر جانے کے بعد ” الصلوۃ جامعه ” کہے ، اور نماز کا آغاز تکبیر سے کرے . ( تہذیب ، ج/2 ، ص/374 )

پہلی رکعت میں فاتحہ کے بعد پوری ” سورۂ قٓ ” یا ” سورہ اعلیٰ ” اور دوسری میں ” اقتربت ” یا ” غاشیہ ” اجماعاً جہرا پڑھیں .

نماز کے بعد اجماعاً دو خطبے دینا سنت ہے ، ان کے ارکان اور سنتیں جمعہ کے خطبوں کی طرح ہیں ، ان دونوں میں سے ہر ایک میں پہلی تین چیزیں ، الحمدلله ، والصلاة علي النبي اور تقوی کی وصیت کرنا ، اور دو خطبوں میں سے کسی ایک میں قرآن کی آیت ، اور دوسرے میں مؤمنین کے لئے دعا کرنا واجب ہے . البتہ جمعہ کے شروط یہاں پر واجب نہیں ، جیسے کھڑے ہو کر خطبے دینا ، دوخطبوں کے درمیان بیٹھنا ، طہارت کا حاصل کرنا ، اور ستر کرنا .

خطیب عیدالفطر میں لوگوں کو فطرہ کے احکام بتائے اور عیدالاضحٰی میں ( سنت ) قربانی کے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی اتباع کرتے ہوئے .

پہلے خطبہ کا آغاز لگاتار نو تکبیروں سے کرے ، اور دوسرے کا مسلسل سات تکبیروں کے ساتھ .

دونوں عیدوں کے لئے غسل کرنا سنت ہے . اس کا وقت نصف شب سے ہی داخل ہوتا ہے . خوشبو کا استعمال کرنا ، اپنے بہترین کپڑے پہننا ، زیب وزینت کرنا . اور مسجد وسیع ہونے پر اس کے شرف کی وجہ سے نماز عید کا مسجد میں پڑھنا ، صحراء ( کھلی جگہ ) میں پڑھنے کے مقابلہ میں افضل ہے .

ایک قول میں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی اتباع کرتے ہوئے نماز عید کاصحراء میں پڑہنا ہی افضل ہے . اس قول کو رد کیا گیا کہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نماز عید ادا کرنے کے لئے صحراء میں اس لئے گئے تھے کہ مسجد چھوٹی تھی . پھر یہ افضلیت کا اختلاف ، مسجد حرام ، مسجد نبوی اور بیت المقدس کے علاوہ مساجد میں ہے ، ورنہ تو ان مساجد میں نماز عید ادا کرنا کسی بھی دوسرے مساجد کے مقابلہ میں مطلقا افضل ہے .

ایک راستہ سے جانا اور دوسرے راستہ سے لوٹنا . بخاری کی حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کردہ حدیث سے استدلال کرتے ہوئے ، کہتے ہیں کہ ” جب عید کا دن ہوتا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم راستہ کے خلاف کیا کرتے تھے “. ( یعنی مخالف راستہ اختیار کیا کرتے تھے )

نماز عید کے لئے جاتے وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم لمبا راستہ اختیار کرتے ، آور لوٹتے وقت کم فاصلہ والے راستہ سے لوٹا کرتے تھے . ( اس کی حکمت یہ ہے ، چونکہ نماز کو جانے کا ثواب بہت بڑا ہے ، لہذا اس ثواب کو حاصل کیا جائے ) ام ( امام شافعی کی ایک ضخیم حدیث پر مشتمل کتاب ، جو دو جلدوں پر مشتمل ہے ) میں ہے اور اپنے لوٹنے کے راستہ میں امام کا قبلہ کی طرف کھڑے ہو کر دعا کرنا مستحب ہے ، اس میں حدیث آنے کی وجہ سے . ( نہایہ/2 ، ص/395 )

لوگوں کا فجر کے بعد صبح سویرے ( تڑکے ) نکلنا . ( سنت ہے ، تاکہ امام کے قریب رہنے اور نماز کے انتظار کا ثواب حاصل ہو ) تاہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی اتباع کرتے ہوئے امام کا نماز کے وقت ہی حاضر ہونا سنت ہے . ( متفق علیہ )

عیدالاضحٰی کی نماز کو جلدی ادا کیا جانا ، تاکہ ( سنت ) قربانی کرنے میں وقت زیادہ حاصل ہو اور عیدالفطر کو دیری سے ، تا کہ فطرہ نکالنے کے لئے وقت زیادہ حاصل ہو . حدیث مرسل میں اس کا حکم آنے کی وجہ سے .

عیدالفطر میں کچھ کھا کر یا پی کر نکلنا اور عیدالاضحٰی میں کچھ کھائے بغیر . رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی اقتداء کرتے ہوئے ، ابن حبان کی صحیح قرار دادہ حدیث سے استدلال کرتے ہوئے .

جمعہ کی طرح دونوں عیدوں کی نمازوں کے لئے بھی پیدل جانا . اگر کوئی عذر ہو تو سواری کے استعمال کرنے میں کوئی حرج نہیں . امام کے علاوہ کے لئے آفتاب بلند ہونے کے بعد نماز عید سے پہلے نفل پڑھنا مکروہ نہیں . واللہ تعالیٰ اعلم . بہرحال امام کے لئے عید سے پہلے اور بعد میں نفل پڑھنا مکروہ ہے .

” تقبل الله منا ومنكم ” کے ذریعہ تہنیت ( مبارکبادی ) پیش کرنا .

فائدہ : شامی نے اپنی سیرت میں نماز عیدین کے سلسلہ میں چوتھے باب میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کی سیرت کے ابواب کو جمع کرنے کے سلسلہ میں آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے عیدگاہ سے لوٹنے کے آداب کو بیان کیا ہے ، ان کی عبارت ہے طبرانی اور بیہقی نے علی سے نقل کیا ہے کہ انھوں نے کہا کہ عیدین میں نکلنے کے سلسلہ میں ( لوٹتے وقت ) مقبرہ کی طرف نکلنا سنت ہے . ( شبراملسی ، ج/2 ، ص/395 ) .

--Advertisement--

اظہارخیال کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here