المبرہ تعلیمی ورفاہی تنظیم، شیرور کے زیر اہتمام منعقدہ سمر کلاسس کے امتحانات کے نتائج کی خصوصی رپورٹ

0
326

رپورٹر : مولانا محمد زبیر ندوی شیروری ، نائب صدر جمعیت المبرہ تعلیمی ورفاہی تنظیم ، شیرور . 

مؤرخہ 8/صفر المظفر 1443 ھ مطابق 2021 ء بروز جمعرات بمقام جماعت المسلمین جمعہ مسجد خدیجۃ الکبری ، مسلم محلہ آرمے شیرور ، بعد نماز مغرب جمعیت المبرہ کے زیر اہتمام امسال سنہ 2021 کے سمر کلاسس کے نتائج اور تقسیمِ انعامات کے لئے ایک اہم نشست جمعیت ہذا کے کی زیر صدارت منعقد کی گئی ، جس میں سمر کلاسس کے طلبہ ، ممبران المبرہ اور بعض عوام الناس نے شرکت کی .

جلسہ کا آغاز محترم جناب مولانا مفتی محمد وسیم صاحب ندوی مزوکار کی مسحور کن تلاوت کلام پاک سے کیا گیا ، بعد ازاں ألمبرہ کے نائب سکریٹری مولانا حافظ تفسیر صاحب ندوی نے جلسہ کی غرض و غایت پر روشنی ڈالتے ہوئے سمر کلاسس کے طلبہ کی ہمت افزائی فرمائی ، اور اپنی خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جمعیت کی داغ بیل کے بعد سے اب تک تقریباً آٹھ سال مکمل ہونے جا رہے ہیں اور اور یہ تنظیم بنیاد ہی سے سمر کلاسس کے لیے فکریں کرتی رہی ہے . اسی فکر کے نتیجہ میں ہر درجہ کی مناسبت اور بچوں کی ذہنیت کو ملحوظ رکھتے ہوئے مکمل کتابیں تیار کی جا چکی ہیں . موصوف نے اپنے احساسات و جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ نسلِ نو کو دین پر باقی رکھنا اور انھیں عقائد ، ایمانیات ، سیرت اور قرآن و احادیث کی دعاؤوں وغیرہ سے واقف کرانا اور ان کی تربیت کرنا ہماری ذمہ داری اور وقت کی ایک اہم ضرورت ہے ، اگر ہماری نسل مادیت کی بنیادوں پر پروان چڑھتی رہی تو ان کا مستقبل دینی اعتبار سے باعث تشویش ہوگا.

اس بات کا لحاظ جمعیت ابتداء ہی سے رکھتی آئی ہے ، لہذا عصری طلبہ کی تعطیلات کو کارآمد بنانے کے لئے فکریں کی گئیں اور آج یہ فکریں رنگ لا رہی ہیں ، یہ محض رب کریم کی خصوصی رحمتوں اور علماء المبرہ کی کاوشوں کا ثمرہ ہے ، اِنہں اختتامی کلمات پر موصوف نے طلبہ کو مبارکباد پیش کی اور عوام الناس سے جمعیت کے تعاون کی اپیل کے بعد ان سے اچھی توقعات کی امید ظاہر کی .

بعد ازاں سکریٹری المبرہ مولانا مفتی محمد ثاقب صاحب ندوی نے اپنے وعظ میں کہا کہ یہ جمعیت شیرور کے لئے ایک قیمتی اثاثہ اور علمی سرچشمہ ہے ، اس کی تاسیس کا ایک اہم مقصد علمی فیوض کو عام کرنا ہے، لہٰذا عصری طلباء کی بنیادی دینی تعلیم کے لئے ان کے درجات کے معیار کو مد نظر رکھتے ہوئے چند مرکزی و ذیلی عناوين ، ایمانیات عقائد ، قرآن ، حدیث ، فقہ ، دعائیں ، سیرت نماز کے اذکار ، اسماء حسنیٰ وغیرہ کے تحت ایک جامع نصاب تیار کیا گیا ہے ، اس وقت ایسے بہت سارے بچے ہوں گے جنھیں سورہ فاتحہ صحیح سے یاد نہیں ہوگی اور وہ بنیادی دعاؤوں اور دیگر دینی معلومات سے عاری ہوں گے جنھیں صحیح اور دینی نہج پر ڈھالنا والدین اور ألمبرہ کی ذمہ داری ہے ، پھر موصوف نے دعائیہ کلمات پر اپنی بات ختم کی .

اس حسین موقعہ پر مہمان خاص ، محفل کے روح رواں محترم جناب مولانا حافظ جاوید صاحب ندوی سابق سکریٹری المبرہ تشریف فرما تھے ، موصوف فی الحال دبئ میں امامت و خطابت کے فرائض انجام دے رہے ہیں ، جس وقت آپ سکریٹری کے عہدہ پر فائز تھے اسی وقت سے ہی اس نصاب کو مرتب کرنے کا کام شروع ہو چکا تھا اور تین کتابیں اپنے تکمیلی مراحل تک پہنچ چکی تھیں کتابیں تیار کی گئیں،پھر موصوف کے بعد مزید تین،اس طرح جملہ دس مکمل ہوئیں .

موصوف نے حاضرین کی توجہات خصوصیت کے ساتھ اس بات کی طرف مبذول کرائی کہ ہم اس طرح کے پروگراموں میں اپنی شرکت کو یقینی بنانے کی کوشش کریں ، بالخصوص سرپرست تاکہ طلباء کے حوصلوں کو تقویت و ہمت ملے ، اس کے بعد موصوف نے علماء المبرہ کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ آج کے اس مادی دور میں بمشکل ہی کوئی چیز مفت حاصل کی جا سکتی ہے لہذا شیرور اور دیگر ملکوں میں بھی ایک ایک گھنٹہ تعلیم کے لئے اچھی خاصی رقم بطور معاوضہ دی جاتی ہے ، لیکن سوچنے کی بات یے کہ جمعیت ہذا کے علماء کرام بغیر کسی معاوضہ کے اپنی خدمات مفت انجام دے رہے ہیں جن سے استفادہ کرنا اور ان کی قربانیوں کی قدر کرنا بے حد ضروری ہے ، انہیں مفید کلمات پر مولانا نے اپنی بات ختم کی اور تماموں کے لئے دعاء خیر فرمائی .

بعد ازاں نائب صدر مولانا زبیر صاحب ندوی نے اپنے مفید خطاب میں بچوں کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے انھیں دینی تعلیم کے حصول کی ترغیب دی اور اس طرف سرپرستان کی توجہات مبذول کراتے ہوئے کہا کہ ہم حتی المقدور اپنے بچوں کی تربیت کی فکر کریں کیوں کہ یہی ہمارے مستبقل کا ایک اہم ذریعہ ہیں ، اگر ان کا بچپن نیک گذرا تو ان کی جوانی اور بڑھاپہ بھی ان شاء اللہ نیک گذرے گا ، حالات کے تناظر میں ایک بات یہ بھی کہی کہ بہت سے بچے شیرور میں مقیم ہیں مگر ان سبھوں میں مقام کے اعتبار سے وہ بڑے ہیں جنھوں نے اپنے اوقات و لمحات کو ضائع نہیں کیا ، آخیر میں دعائیہ کلمات پر اپنی بات ختم کی.

آخیر میں جمعیت اور اس پروگرام کے صدر محترم جناب مولانا بہاو الدین صاحب ندوی دامت برکاتہم نے اپنے مفید خطاب سے نوازتے ہوئے سب سے پہلے تماموں کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے ہمدردانہ انداز میں اپنے خیالات کا اظہار فرمایا اور کہا کہ طلباء اپنی تعطیلات کا صحیح فائدہ اٹھائیں اور والدین ہمیشہ اپنے بچوں کی دینی تربیت کے کوشاں رہیں اور انھیں جمعیت ألمبرہ کی سرگرمیوں سے فائدہ اٹھانے کی ترغیب دیں کیونکہ جمعیت ہذا کی کاوشیں اور علماء کرام کی محنتیں ان بچوں کی اعلی تعلیم و تربیت کے لئے ہی ہوا کرتی ہیں . ان ہی مختصراً کلمات پر موصوف نے اپنی بات ختم کی .

اس بات سے آپ بخوب واقف ہوں گے کہ ہر سال سمر کلاسس کے طلبہ کو تعلیم و تعلُّم کے لیے شہر شیرور کے مخصوص مساجد کو معین کیا جاتا رہا ہے اور من جانب المبرہ طلبہ کے لیے اساتذہ بھی مہیا کیے جاتے رہے ہیں.اعنی جملہ کیسرکوڈی شیرور اور مارکٹ شیرور وغیرہ میں کل چھ سینٹر.مگر سابقہ ۲ سالوں سے حالات کے پیش نظر گھروں میں ہی تعلیم دینے پر ترجیح دی گئی،نیز سابقہ سال آن لائن امتحانات لیے گئے تھے.مگر الحمدللہ امسال تساہل کو دیکھتے ہوئے مساجد کو مخصوص کیا گیا.اور امتحانات بآسانی لیے گئے.

واضح رہے کہ سابقہ کورس کی طرح امسال بھی 40 یوم کا کورس ہی تھا.مگر حالات کے پیش نظر اس میں مزید طول دی گئی تھی.جس پر تقریبا ۲ ماہ سے زائد عرصہ گزر چکا ہے جہاں طلبہ کے لئے ایک طرف بہترین مہلت اور موقع بھی مل چکا تھا….مگر صد افسوس کہ امسال شریک امتحان کی تعداد سابقہ سالوں کے مقابلہ میں بالکل ہی کم رہی.والدین سے گزارش ہے کہ توجہ فرمائیں نیز اپنے اولاد کی بہتر سے بہتر فکر کریں….طلبہ کے امتحانات کے لئے بطور اعزاز دیگر علاقوں (علماء بھٹکل/علماء ٹینگن گنڈی) وغیرہ سے لانے کا اہتمام کیا جاتا رہا ہے،مگر حالات کی سنگینی اس بات کی اجازت نہیں دیتی اور نہ ہی بڑے پیمانے پر اس کا التزام و انصرام کر سکتے ہیں نیز حکومتی تدابیر کے سامنے ہم عاجز و مجبور بھی ہیں.لہذا جمعیت نے اس بات پر اتفاق کر لیا کہ گزشتہ سال کی طرح امسال بھی علماء المبرہ ہی یہ ذمہ سنبھالیں گے .

نتائج امتحان برائے سمر کلاسس ، جمعیت ألمبرہ ، شیرور

حصہ اول میں

کامیاب اول : سدیم بن محمد صالح نیجی

کامیاب دوم : اشعار بن محمد ارشاد فراس

کامیاب سوم : عفان بن اشرف نیجی

حصہ دوم میں

کامیاب اول : سنان بن اشرف ننو

کامیاب دوم : عادل بن محمد زبیر کیوکا

کامیاب سوم : سمیع بن صادق خواجہ

حصہ سوم میں

کامیاب اول : محمد حسین بن نور الدین شیخ جی

کامیاب دوم : ہمشان بن ہاشم پری

کامیاب سوم : محمد ناظر بن عبد الغفور پرچی

حصہ چہارم میں

کامیاب اول : افشان بن فضل الرحمن کوتوال

کامیاب دوم : فضی بن فرید کرا

کامیاب سوم : محمد شکیب بن اسماعیل کرڈی

حصہ پنجم میں

کامیاب اول : رزان بن نصر اللہ بالا

کامیاب دوم : نظیف بن نوراللہ ڈانگی

کامیاب سوم : راحل بن یوسف شیخ جی

حصہ ششم میں

کامیاب اول : اذہان بن فضل الرحمن کوتوال

کامیاب دوم : زہیب بن عبد الغنی بڈو

حصہ ہفتم میں

کامیاب اول : صوام بن علی شیخ جی

کامیاب دوم : ارمان بن ابوبکر پری

حصہ ہشتم میں

کامیاب اول : ارشد بن اشرف نیجی

کامیاب دوم : عتید بن امین الدین کیوکا

حصہ نہم میں

کامیاب اول : صہیب عمان بن مولانا بہاو الدین ندوی شیخ جی

کامیاب دوم : عباد وسیم بن اسلم قادرو

کامیاب سوم : شماس بن الیاس ملا

حصہ دہم میں کسی نے بھی فرسٹ ڈویژن سے کامیابی حاصل نہیں کی .

ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنی اولاد کے ایمان و عقائد کی فکر کریں اور اپنے لئے ذخیرہ آخرت بنائیں . امید کہ اہلیان شیرور اس سے بھرپور استفادہ اٹھائیں گے اور نسل نو کے مستقبل کو روشن و تابناک بنائیں گے اور اہل مبرہ کو اپنی نیک دعاؤں سے نوازیں گے .

واضح رہے کہ یہ پروگرام بعد نماز مغرب تا عشاء کی آذان تک تھا . لہذا پروگرام کی جملہ کارروائیوں کو مختصراً وقت میں سمیٹنا ضروری تھا، اخیر میں کلمات تشکر اور دعائیہ کلمات پر یہ نشست اپنے اختتام کو پہونچی . الحمدللہ مجموعی اعتبار سے یہ پروگرام کامیاب رہا . اس کے اختتام پر شرکاء کے لئے تواضع کا بھی نظم کیا گیا تھا . لہذا تواضع کے بعد لوگ اپنے اپنے گھروں کو لوٹ گئے .

منجانب : المبرہ تعلیمی و رفاہی تنظیم ، شیرور

--Advertisement--

اظہارخیال کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here